اسرائیلی فوجی کا فلسطینی قیدی کے ساتھ سیکس سکینڈل، خواتین فوجیوں کی جیلوں میں تعیناتی پر پابندی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, یولینڈ نیل اور ایلکس بنلے
- عہدہ, بی بی سی نیوز
اسرائیل میں ہائی سکیورٹی جیلوں میں خدمات انجام دینے والی خواتین فوجی اہلکاروں پر جیل گارڈز کے طور پر خدمات انجام دینے پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
حکام کی جانب سے یہ فیصلہ ایک خاتون فوجی اہلکار اور ایک فلسطینی قیدی کے درمیان جنسی تعلقات کے الزامات سامنے آنے کے بعد کیا گیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق ایک خاتون فوجی نے قید میں موجود ایک فلسطینی شخص کے ساتھ جنسی تعلقات کا اعتراف کیا ہے۔
واضح رہے کہ اسرائیل کی ہائی سکیورٹی جیل میں موجود اس قیدی پر اسرائیلی شہریوں پر جان لیوا حملہ کرنے کے الزامات ہیں۔
اسرائیلی فوجی خاتون واقعے کے وقت فوجی سروس کے دوران اسرائیلیوں کی اکثریت کے لیے لازمی قرار دی جانے والی خدمات سرانجام دے رہی تھی۔
اس لازمی سروس میں خواتین کو کم از کم دو سال اور مردوں کو دو سال آٹھ ماہ تک خدمات سرانجام دینا ہوتی ہیں۔
خاتون فوجی اور عمر قید کی سزا پانے والے قیدی کا نام صیغہ راز میں رکھا گیا ہے۔
عدالت میں کیس کی سماعت کے دوران یہ حکم بھی دیا گیا کہ جیل کے مقام سمیت دیگر تفصیلات بھی سامنے نہیں لائی جائیں گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اسرائیلی میڈیا کے مطابق گرفتاری کے بعد پوچھ گچھ کے دوران خاتون فوجی اہلکار نے دعویٰ کیا کہ چار دیگر خواتین کے بھی اسی قیدی کے ساتھ گہرے تعلقات رہے ہیں۔
اسرائیلی جیل سروس (آئی پی ایس) نے بتایا کہ فلسطینی قیدی کو پوچھ گچھ سے قبل اس کے سیل سے الگ دوسرے ونگ میں منتقل کر دیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہREUTERS
جمعے کو آئی پی ایس کی سربراہ کیٹی پیری اور قومی سلامتی کے وزیر اتمار بین گویر نے اعلان کیا کہ خواتین فوجی فلسطینی ’دہشت گردوں‘ کو قید رکھنے والی ہائی سکیورٹی جیلوں میں مزید خدمات انجام نہیں دیں گی۔
اسرائیلی میڈیا نے بین گویر کے بیان کے حوالے سے بتایا کہ ’سنہ 2025 کے وسط تک ایک بھی خاتون فوجی سکیورٹی قیدیوں کے ونگ میں میں نہیں رہے گی۔‘
انتہائی سکیورٹی والی اسرائیلی جیلوں میں خواتین اسرائیلی فوجیوں کی خدمات کو روکنے کا بارہا مطالبہ کیا گیا ہے تاہم عملے کی کمی کو وجہ بناتے ہوئے اس پر عمل نہیں کیا گیا تھا۔
پچھلے سال اسرائیلی وزرا نے ایک جیل میں ایک سکینڈل کے بعد تحقیقات کا حکم دیا تھا جس میں فلسطینی قیدیوں پر جیل کے محافظوں کے طور پر خدمات انجام دینے والی خواتین فوجی سپاہیوں پر جنسی حملے اور ان کا ریپ کرنے کے الزام عائد کیے گئے تھے۔
اس معاملے میں یہ اطلاعات بھی سامنے آئیں کہ جیل کے کچھ سینئر افسران نے قیدیوں کے ساتھ جنسی روابط اور تعلقات میں معاونت فراہم کی تھی۔










