انڈیا کے یومِ آزادی پر مودی کی ’سب سے طویل‘ تقریر اور سندھ طاس معاہدے کا ذکر

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے پاکستان کے ساتھ سنہ 1960 میں طے پانے والے سندھ طاس معاہدے کو ’غیر منصفانہ اور یکطرفہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے انڈین کسانوں کو بہت نقصان ہوا ہے۔
جمعے کو انڈیا کے یوم آزادی پر دلی کے لال قلعے میں منعقدہ تقریب سے خطاب میں وزیراعظم مودی نے سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان اور انڈیا کے درمیان پانی تقسیم کو تنقید کا نشانہ بنایا اور پاکستان کا نام لیے بغیر کہا کہ انڈیا ’ایٹمی دھمکیوں کے آگے جھکنے والا نہیں ہے۔‘
مودی نے تقریبا دو گھنٹے پر محیط اپنی تقریر میں مئی کے ’آپریشن سندور‘ میں انڈین افواج کی کامیابی، آر ایس ایس کے اغراض و مقاصد، خلائی مشن، سیلز ٹیکس میں کمی اور معشیت سمیت مختلف موضوعات پر بات کی۔
گذشتہ روز پاکستان کے یوم آزادی کے موقع پر پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ ’ہماری ایٹمی طاقت جارحانہ سوچ نہیں بلکہ انڈیا کی جوہری جارحیت کے توازن کے لیے ہے۔‘ انھوں نے الزام لگایا کہ انڈیا بھارت نے ’جھوٹ کی بنیاد پر پاکستان پر حملہ کیا۔‘
شہباز شریف گذشتہ دنوں یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ اگر پاکستان کا پانی روکا گیا تو انڈیا کو ’ایسا سبق سکھایا جائے گا جو وہ کبھی نہیں بھولے گا۔‘
مودی کے خطاب کے اہم نکات
پاکستان اور انڈیا کے مابین حالیہ کشیدگی اور فوجی لڑائی کے بعد یوم آزادی کے موقع پر اپنے خطاب میں مودی نے ایک بار پھر پاکستان میں مئی کے دوران شدت پسندوں کے ٹھکانے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا اور انڈین فوج کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت میں ملک نے ’طے کر لیا ہے کہ وہ جوہری دھمکیوں کے آگے جھکنے والے نہیں۔‘
انڈیا کے پریس انفارمیشن بیورو کی جانب سے شیئر کردہ تقریر میں پاکستان کا ایک بار بھی ذکر نہیں ہے۔
مگر اس کے باوجود مودی نے خطاب کے دوران کہا کہ 'ایٹمی بلیک میل ایک عرصے سے چلا آ رہا ہے۔ انڈیا اب اسے مزید نہیں سہے گا۔ اگر دشمن نے پھر ایسی (پہلگام جیسی) حرکت کی تو فوج اس کا اپنے طریقے سے منھ توڑ جواب دے گی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مودی نے یہ جملہ بھی دہرایا کہ ’پانی اور خون ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
پاکستان اور انڈیا کے مابین مئی میں ہونے والی حالیہ جنگ میں دونوں ممالک کامیابی کا دعوے کر رہے ہیں۔
رواں سال اپریل میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں دہشت گرد حملے کے بعد انڈیا نے پاکستان کے مختلف علاقوں میں فضائی حملے کیے جس کے جواب میں پاکستان نے انڈیا کے رفال سمیت متعدد طیارے مار گرانے کا عویٰ کیا۔ چار دن تک جاری لڑائی کے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے دونوں ممالک کے درمیان سیز فائر کا اعلان کیا تھا۔
پہلگام حملے کے کچھ دن بعد انڈیا نے سنہ 1960 میں طے ہونے والے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا اعلان کیا تھا۔ یہ دونوں ملکوں کے درمیان دریاؤں کے پانی کی تقسیم کا معاہدہ ہے۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ انڈیا یکطرفہ طور پر اس معاہدے کو ختم نہیں کر سکتا ہے۔ ایک طرف اسلام آباد کے مطابق ایک عالمی ثالثی عدالت نے پاکستان کے موقف کو درست قرار دیا ہے تو وہیں نئی دہلی نے اس ایوارڈ کو مسترد کیا ہے۔
یومِ آزادی کی تقریب میں انڈین وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’انڈیا کی ندیوں کا پانی دشمن کے کھیت تک پہنچ رہا ہے اور ہماری دھرتی پیاسی ہے۔
’ہندوستان کے حق کا جو پانی ہے اس پر حق صرف اور صرف ہندوستان کا ہے، ہندوستان کے کسانوں کا ہے۔ یہ اب اور نہیں سہا جائے گا۔ کسانوں کے مفاد میں یہ سمجھوتہ ہمیں منظور نہیں۔‘
اپنے طویل خطاب میں وزیراعظم نریندر مودی نے انڈیا کی معیشت، اندرونی سیاست، ٹیکنالوجی اور آر ایس ایس کے نظریے پر بھی بات کی۔
انھوں نے کہا کہ وہ خود انحصاری کی جانب بڑھنا چاہتے ہیں اور اس لیے سمندروں کے اندر تیل اور گیس کے ذخائر کی تلاش کے لیے کام شروع کرنے کی ضرورت ہے۔
انڈین وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم اپنا خلائی سٹیشن بنانے کی سمت میں کام کر رہے ہیں اور انڈیا کے پاس جنگی طیاروں کے لیے اپنے میڈ ان انڈیا جیٹ انجن ہونے چاہییں۔‘
وزیراعظم مودی نے سرحدی علاقوں میں ’تبدیل ہوتی ہوئی ڈیموگرافی‘ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔‘ انھوں نے اس کی روک تھام کے لیے ’ڈیموگرافی مشن‘ بنانے کا اعلان کیا۔
انھوں نے کہا کہ انڈیا میں جنرل سیلز ٹیکس میں ہونے والی اصلاحات اس بار دیوالی کی خوشیاں دوبالا کر دیں گی۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
سوشل میڈیا پر تبصرے
وزیراعظم نریندر مودی کے خطاب کے بعد سوشل میڈیا پر اُن کی تقریر پر بحث جاری ہے۔
کوئی یومِ آزادی پر نریندر مودی کی بحیثیت وزیر اعظم ’سب سے لمبی‘ تقریر پر بات کر رہا ہے تو بعض صارفیں نارنجی پگڑی کے ذریعے ’ٹیلی پرامٹر چھپانے‘ پر بات کر رہے ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
سنہ 2014 میں وزیراعظم بننے کے بعد یوم آزادی پر اُن کی پہلی تقریر 64 منٹ کی تھی جبکہ آج 2025 کی تقریر 103 منٹ یعنی ایک گھنٹہ 43 منٹ لمبی تھی۔
اخبار انڈین ایکسپریس نے ایکس پر لکھا کہ مودی لال قلعہ میں 12ویں لگاتار تقریر نے سابق وزیراعظم اندرا گاندھی کا ’ریکارڈ توڑ دیا۔‘
صحافی علی شان جعفری نے مودی کی تقریر کے دوران وزیر داخلہ امت شاہ کے ردعمل پر تنقید کی۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 3
انھوں نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ مودی کا دعویٰ ہے کہ دراندازوں کی وجہ سے ڈیمو گرافی میں بڑے پیمانے پر تبدیلی آئی ہے۔ ’وزیر داخلہ امت شاہ کا کیا جواب تھا؟ انھوں نے تالی بجائی۔ کوئی اپنی نااہلی پر اس طرح پردہ ڈالتا ہے۔‘
ایکس پر ایک صارف مسٹر ڈیموکریٹوک نے لکھا کہ خطاب میں سب کچھ بہت اچھا ہے لیکن ’سب پر عملدرآمد بھی ہونا چاہیے۔‘
ایک انڈین صارف نے مودی کی دو گھنٹے طویل تقریر کا موازنہ اپوزیشن رہنما راہل گاندھی سے کیا جو ’قومی ترانے کے دوران بارش میں کھڑے تھے۔‘












