طورخم سرحد پر درجنوں افغان بچوں کی دراندازی پر تنازع: وہ بچے جو ’چند سو روپے کے لیے‘ اپنی جان پر کھیل جاتے ہیں

طورخم، افغان، پاکستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنپولیس نے ان بچوں کو حراست میں لے لیا لیکن مقامی عمائدین اور نمائندوں کی کوششوں سے مقدمہ درج نہیں کیا گیا
    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو

پاکستان افغانستان سرحد پر طورخم کے مقام پر ایک مرتبہ پھر اس وقت کشیدگی بڑھ گئی جب پچاس سے زیادہ افغان بچوں کو غیر قانونی طور پر پاکستان میں داخل ہونے پر حراست میں لیا گیا تھا لیکن عمائدین کی مداخلت کے بعد انھیں واپس افغانستان بھیج دیا گیا ہے۔

مقامی قبائلی عمائدین نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ان بچوں میں نوعمر لڑکے اور بچیاں شامل ہیں اور یہ سرحد پر مختلف قسم کا سامان سمگل کرتے ہیں۔

یاد رہے کہ افغانستان اور پاکستان کے بیچ طورخم سرحد کو قریب ایک ماہ تک بند رکھنے کے لیے گذشتہ بدھ کو کھولنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ طورخم کو دونوں ملکوں کے درمیان تجارت اور سفر کے لیے مرکزی گزرگاہ سمجھا جاتا ہے۔ افغانستان سے پاکستان آنے والے افراد کو جمعے سے پیدل آنے کی اجازت دی گئی تھی۔

طورخم سرحد پر زیرو پوائنٹ یا مرکزی گزرگاہ کے آس پاس کے علاقوں سے کم عمر بچے جن کی عمریں آٹھ سال سے 14 سال کے درمیان بتائی جاتی ہے اکثر سامان سے بھرے تھیلے افغانستان سے پاکستان اور پاکستان سے افغانستان کی جانب سمگل کرتے ہیں۔

یہ بچے بڑی گاڑیوں کے نیچے یا گاڑیوں کے اوپر چڑھ کر خفیہ طور پر سرحد پار کرتے ہیں اور اس سے روزگار حاصل کرتے ہیں لیکن حکام کا کہنا ہے کہ سمگلرز کی جانب سے ان کا استحصال سے بھی کیا جاتا ہے اور انھیں کم اجرت پر انتہائی پُرخطر اور غیرقانونی کام کرنے کے لیے بھیج دیا جاتا ہے۔

سنہ 2023 کی یونیسیف کی رپورٹ میں ادارے کے افغانستان کے ننگرہار صوبے میں چائلڈ پروٹیکشن آفیسر عزیز نور نے کہا کہ ’سروے کے مطابق گذشتہ سال مارچ میں 2500 سے زیادہ بچے طورخم سرحد پر انتہائی خطرناک چائلڈ لیبر کر رہے ہیں۔‘

،ویڈیو کیپشنچلتے ٹرکوں کے نیچے چھپ کر پاکستان سامان سمگل کرنے والے افغان بچے۔ بی بی سی کی 2021 کی رپورٹ

پاکستان آنے والے افغان بچوں کو کیسے حراست میں لیا گیا؟

لنڈی کوتل تھانے کے ایس ایچ او عدنان خان آفریدی نے بی بی سی کو بتایا کہ پچاس کے لگ بھگ بچے اور نو عمر لڑکے غیرقانونی طور پر سرحد پر لگی باڑ توڑ کر داخل ہوئے تھے جنھیں حراست میں لے لیا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ بچے غیرقانونی طریقے سے مختلف قسم کا سامان سمگل کرتے ہیں جن میں سگریٹ اور دیگر اشیا شامل ہوتی ہیں۔

پولیس نے ان بچوں کو حراست میں لے لیا تھا جن کے خلاف 14 فارن ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا جا رہا تھا لیکن مقامی عمائدین اور نمائندوں کی کوششوں سے مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔

عدنان خان آفریدی نے بتایا کہ ان بچوں کو تنبیہ کر دی گئی ہے کہ آئندہ اگر اس طرح سے آئے تو ان کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا۔

torkham

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنیہ بچے بڑی گاڑیوں کے نیچے یا گاڑیوں کے اوپر چڑھ کر خفیہ طور پر سرحد پار کرتے ہیں۔ علامتی تصویر

لنڈی کوتل تحصیل کے چیئرمین شاہ خالد شنواری نے بتایا کہ پچاس بچوں کو تو حراست میں لیا گیا تھا لیکن 30 بچے اور بھی تھے جنھیں اتوار کی رات افغان حکام کے حوالے کر دیا گیا تھا۔

عدنان آفریدی نے بتایا کہ طور خم سرحد پر کوئی 700 کے لگ بھگ بچے ہیں جو سرحد پر اِدھر کا سامان اُدھر اور اُدھر کا سامان اِدھر کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مقامی عمائدین اور جرگہ اراکین نے ان کی رہائی اور واپسی کے لیے کوششیں کیں اور ماہِ رمضان میں جذبۂ خیر سگالی کے تحت انھیں جرگہ اراکین کے حوالے کر دیا گیا۔

مقامی قبائلی رہنما ملک تاج الدین نے بی بی سی کو بتایا کہ ’سرحد کھلنے کے بعد یہ واقعہ پیش آیا ہے جس پر عمائدین اور جرگہ اراکین نے ان کی رہائی کے لیے کوششیں کیں اور رہائی کے بعد ان بچوں کو زیرو پوائنٹ پر افغان حکام کے حوالے کر دیا گیا تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ گرفتار ہونے والے بچوں میں 17 بچیاں شامل تھیں جبکہ 33 بچے اور نوعمر لڑکے تھے۔

unicef children

،تصویر کا ذریعہCourtesy UNICEF

طورخم پر سمگلنگ کے لیے بچوں کا استعمال

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

پاک افغان سرحد پر ماضی میں بڑے پیمانے پر مختلف اشیا کی سمگلنگ کی جاتی تھی لیکن سرحد پر باڑ لگنے سے سمگلنگ میں کمی واقع ہوئی ہے لیکن اب بھی سرحد پر بچے مختلف اشیا سمگل کرتے رہتے ہیں جن میں سگریٹ، نشہ آور اشیا، مختلف قسم کی ادویات اور دیگر اشیا شامل ہیں۔

یہ بچے ماضی میں بڑی گاڑیوں اور ٹرکوں کے اوٹ میں چھپ کر یا ان کنٹنیرز اور ٹرکوں کے نیچے چل چل کر سامان سمگل کیا کرتے تھے۔

لنڈی کوتل تحصیل کے چیئرمین شاہ خالد شنواری نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ ایک المیہ ہے کہ بڑی تعداد میں بچے انتہائی خطرناک راستوں یا ان بڑی بڑی گاڑیوں کے نیچے اور ان گاڑیوں کے اطراف چھپ کر آتے ہیں اور ان بچوں کے پاس مختلف قسم کا سامان ہوتا ہے جو یہ افغانستان سے ادھر پاکستان کی جانب لاتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اکثر یہ بچے جب اس طرف آ جاتے ہیں اور واپس نہیں جا سکتے تو رات پھر یہ سڑکوں پر یا ہوٹلوں کے آس پاس یا بازار میں کہیں چھپ کر گزارتے ہیں جس سے ان بچوں کی زندگی کو نقصان بھی پہنچ سکتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ایسا بھی ہوا ہے کہ ان بڑی دیوہیکل گاڑیوں کے نیچے اور اطراف میں چھپ کر آنے سے بچے زخمی بھی ہوئے ہیں لیکن اس کے باوجود یہ اس کام سے منع نہیں ہوتے حالانکہ اس کام کے لیے انھیں چند سو روپے ہی ملتے ہیں۔‘

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اب یہ بچے باڑ توڑ کر آتے ہیں اور ان بچوں کو معلوم نہیں ہوتا کہ انھیں ان تھیلوں میں کیا سامان دیا جاتا ہے اور اس سے مقامی سطح پر مسائل بڑھ رہے ہیں اس لیے افغان حکام کو بھی کہا گیا ہے کہ اس کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

اقوامِ متحدہ کے بچوں کی امداد کے ادارے (یونیسیف) کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ بچے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر سگریٹس، ہاتھ سے بنائی گئی اشیا اور پھل سمگل کرتے ہیں اور انھیں بیچ کر اپنے خاندان کی مالی امداد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ادارے کی رپورٹ کے مطابق یہ اشیا بوریوں میں رکھ کر ایک بیک پیک میں ڈالی جاتی ہیں اور ان کا سائز اتنا ہی ہوتا ہے جتنے یہ بچے خود ہوتے ہیں۔

رپورٹ میں ایسے بچوں کی کہانیاں بھی درج ہیں جو ان بھاری بھرکم ٹرالوں کے نیچے گر کر ہلاک ہو جاتے ہیں اور ہر بوری کے عوض انھیں صرف چند سو سے چند ہزار روپے رقم ملتی ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ ان بچوں کو سامان فراہم کرنے والے لوگ ان بچوں کو استعمال کرتے ہیں اور ان بچوں کے لیے اگرچہ مقامی سطح پر نرم گوشہ رکھا جاتا ہے لیکن ان بچوں سے یہ کام کروانے والے افراد کی نشاندہی کرنا ضروری ہے۔

مقامی قبائلی رہنماؤں نے بتایا کہ اس بارے میں افغان حکام کو آگاہ کیا ہے اور ان سے کہا ہے کہ ان بچوں کے لیے کوئی انتظامات کیے جائیں جس پر حکام نے یہی کہا ہے کہ ان بچوں کے لیے وظیفہ مقرر کیا گیا ہے اور اس کی روک تھام کے لیے وہ کوششیں کر رہے ہیں۔

سنہ 2021 میں بی بی سی نے ان بچوں پر ایک رپورٹ میں بچوں سے بات چیت کی تھی تو ان بچوں کا کہنا تھا کہ وہ غربت کی وجہ سے کام کرتے ہیں۔

ایک بچے نے بتایا تھا کہ ’میں غربت کی وجہ سے مجبور ہو کر یہ کر رہا ہوں، میرے والد بیمار ہیں۔ فارغ رہنے اور وقت ضائع کرنے سے اچھا ہے کچھ کمایا جائے۔‘

unicef

،تصویر کا ذریعہCourtesy UNICEF

اس بچے نے مزید بتایا کہ ’ہمیں سپلائرز سامان دیتے ہیں اور جگہ بتا دیتے ہیں کہ اسے کہا پہنچانا ہے۔ سامان پہنچانے کے بعد ہم دکانداروں سے رسیدیں لیتے ہیں اور یہ رسیدیں واپس کرنے پر ہمیں معاوضہ ملتا ہے۔‘

ایک اور بچے نے بی بی سی کو خطرات کے بارے میں بتایا کہ ’مجھے چوٹ تو نہیں لگی لیکن کچھ دن پہلے یہاں ایک بچی ہلاک ہو گئی تھی۔ وہ انجن پر بیٹھی تھی، میں انجن کے پاس نہیں بیٹھتا، پیچھے بیٹھتا ہوں۔

’اس بچی کی انتڑیاں باہر نکل آئی تھیں، اس کا آپریشن بھی کیا گیا لیکن وہ نہیں بچ سکی۔‘

انھیں پلاسٹک کے تھیلوں میں سامان دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ وہاں پہنچا کر رسید لے آؤ اور پھر ہمیں اس کا معاوضہ دیا جاتا ہے۔

مقامی عمائدین کے مطابق مسلسل جنگ سے متاثرہ افغانستان میں بھوک اور بے روزگاری کی وجہ سے یہ بچے اس طرح خطرناک طریقوں سے روزگار حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

شاہ خالد شنواری نے کہا کہ اس کے لیے افغان حکومت اور غیر سرکاری تنظیموں کو آگے آنا چاہیے تاکہ ان بچوں اور ان کی فیملیز کے لیے کوئی باعزت روزگار کا انتظام کیا جا سکے۔

پاکستان افغانستان سرحد طورخم کے مقام پر 22 فروری سے بند کر دی گئی تھی جب افغانستان کی جانب ایک متنازع مقام پر چوکی تعمیر کی جا رہی تھی۔

یہ سرحد 26 روز تک بند رہنے کے بعد ابتدائی طور مال بردار گاڑیوں کے لیے کھول دی گئی تھی اور گذشتہ روز پیدل راستہ بھی کھول دیا گیا تھا۔

اس سرحد کی بندش سے مقامی سطح پر کاروبار بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔