زیلنسکی پر وائٹ ہاؤس میں سوٹ نہ پہننے پر تنقید: کیا ٹرمپ سے بحث کی ایک وجہ یہ تھی؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, مائیک وینڈلنگ
- عہدہ, بی بی سی نیوز
جب یوکرینی صدر زیلنسکی ٹرمپ سے ملاقات کے لیے اوول آفس پہنچے تو وہ فوجی طرز کی سیاہ شرٹ زیبِ تن کیے ہوئے تھے۔ اس پر یوکرین کا قومی نشان بھی بنا ہوا تھا۔
جیسے ہی زیلنسکی گاڑی سے اترے تو ڈونلڈ ٹرمپ نے ان کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ ’آج تو آپ بڑا تیار ہو کر آئے ہیں۔‘
یوکرین پر روس کے 2022 میں باقاعدہ حملے کے بعد سے زیلنسکی نے شرٹ، کوٹ پینٹ اور ٹائی پہننا ترک کر دیا ہے۔ وہ اب غیر ملکی رہنماؤں کے ساتھ ہونے والی اہم ملاقاتوں کے لیے بھی سوٹ نہیں پہنتے۔ زیلنسکی، جو کہ سیاست میں آنے سے پہلے ایک کامیڈین ہوا کرتے تھے، کہتے ہیں کہ ان کا فوجی طرز کے کپڑے پہننے کا مقصد اپنے ملک کی افواج کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنا ہے۔
اہم ملاقاتوں کے دوران غیر رسمی اور روزمرہ استعمال کے کپڑے پہننے پر زیلنسکی کو قدامت پسندوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔
لیکن عالمی سطح پر اس کا بھرپور اظہار پہلی مرتبہ زیلنسکی اور ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے نائب جیمز وینس کے درمیان اوول آفس میں ہونے والی میٹنگ کے دوران سامنے آیا۔
اس ملاقات کے بعد ایک صحافی نے زیلنسکی پر الزام لگایا کہ سوٹ نہ پہن کر انھوں نے اس موقع کی تضحیک کی ہے۔ وہاں موجود بی بی سی کے رپورٹرز کے مطابق اس سوال نے اس کمرے کے ماحول کو یکسر بدل دیا۔
اور کچھ ہی دیر بعد، احترام اور شکر گزاری کے مسائل نے زیلنسکی، ٹرمپ اور وانس کے درمیان غیر معمولی بحث کو ہوا دی۔
جب ملاقات کے بعد صحافیوں کی جانب سے سوالات کا سلسلہ شروع ہوا تو قدامت پسند کیبل نیٹورک ریئل امیریکاز وائس کے صحافی برائن گلین نے زیلنسکی سے پوچھا کہ ’وہ سوٹ کیوں نہیں پہنتے ہیں؟‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’آپ اس ملک کے سب بڑے دفتر میں بیٹھے ہیں، اور آپ سوٹ پہننے سے انکاری ہیں۔‘
’کیا آپ کے پاس سوٹ ہے؟‘
گلین نے زیلنسکی سے کہا کہ بہت سارے امریکیوں کو ان کی جانب سے اوول آفس کے تقدس کا احترام نہ کرنے پر ان سے مسئلہ ہے۔
اس سے قبل زیلنسکی اور ٹرمپ کے درمیان کسی حد تک دوستانہ ماحول میں گفتگو ہو رہی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وہاں موجود بی بی سی کے نامہ نگاروں کے مطابق یہ پہلا موقع تھا جب زیلنسکی تھکے تھکے اور چڑچڑے دکھائی دیے۔
زیلنسکی نے جواب دیا کہ جب یہ جنگ ختم ہو جائے گی تو اس کے بعد وہ سوٹ پہنیں گے۔
پھر یوکرینی صدر نے رپورٹر کو طنز کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’شاید جیسا آپ پہنے ہیں ویسا کچھ، یا اس سے بہتر، پتا نہیں۔‘
کمرے میں گونجتے قہقہوں کے درمیان انھوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے مزید کہا، ’یا شاید اس سستا [سوٹ]۔‘
گلین کے سوال نے ٹرمپ کے حامیوں میں پائی جانے والی اس شکوے کو آواز دی کہ ایسا لگتا ہے کہ جیسے زیلنسکی امریکہ کی جانب خاطر خواہ تشکر یا احترام کا مظاہرہ نہیں کرتے۔
ڈیلاس سے تعلق رکھنے والے گلین ایک لمبے عرصے سے ٹرمپ کے حامی ہیں۔ اس سے قبل وہ ایک ٹرمپ حامی چینل رائٹ سائیڈ براڈکاسٹنگ نیٹورک سے منسلک تھے۔ گذشتہ سال انھوں نے اخبار پولیٹیکو کو بتایا تھا کہ ’وہ 100 فیصد ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے سب سے پہلے امریکہ کے ایجنڈے کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘
ایسی اطلاعات ہیں کہ ان کے جارجیا سے کانگریس کی رکن مارجوری ٹیلر گرین سے رومانوی تعلقات ہیں۔ خیال رہے کہ مارجوری گرین ٹرمپ کے سب سے بڑے حامیوں میں سے ایک ہیں۔
سنہ 2020 میں شروع ہونے والا چینل ریئل امیریکاز وائس حالیہ برسوں میں شروع ہونے والے کئی ٹرمپ حامی چینلوں میں سے ایک ہے۔ اس چینل پر آنے والے مہمان اور میزبانوں نے 2020 کے صدارتی انتخابات، 2021 کیپٹل ہل فسادات اور کیو اینون (QAnon) سمیت متعدد موضوعات کے بارے میں سازشی نظریات پھیلائے ہیں۔
اس چینل بطور مہمان آنے والوں میں کئی بڑے نام شامل ہیں ججن میں ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق ایڈوائزر سٹیو بینن، سابق موسیقار اور سیاستدان ٹیڈ نیوجینٹ اور قدامت پسند گروپ ٹرننگ پوائنٹ کے بانی چارلی کرک شامل ہیں۔ بی بی سی نے اس نیٹورک سے ان کا تبصرہ جاننے کے لیے رابطہ کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اوول آفس میں ہونے والی میٹنگ کے بعد گلین نے آن لائن اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انھیں ’یوکرین کے لوگوں سے بے حد ہمدردی ہے‘۔ تاہم انھوں نے زیلنسکی پر الزام لگایا کہ زیلنسکی کا سوٹ نہ پہننا ان کے دل میں امریکہ کے خلاف پائی جانے والی ہتک کی عکاسی کرتا ہے۔
دوسری جانب زیلنسکی کے حامیوں نے ان کے دفاع میں ونسٹن چرچل کی دوسری عالمی جنگ کے دوران کی تصویر شیئر کی جس میں وہ غیر رسمی قسم کے کپڑے پہنے ہوئے ہیں۔
اس دور کی تصاویر میں برطانوی رہنما کو اس وقت کے امریکی صدر فرینکلن روزویلٹ کے ساتھ ملاقات کے دوران جمپ سوٹ کی طرز کا لباس پہنے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ عالمی رہنماؤں کے ساتھ ملاقات میں چرچل فوجی وردی اور سوٹ بھی پہنا کرتے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
گلین کے سوال کے بعد نیوز کانفرنس کا رخ اس جانب مڑ گیا کہ آیا امریکہ مزید ہتھیار یوکرین بھجوائے گا یا نہیں۔ ایک سوال کے آخر میں صدر ٹرمپ نے یوکرینی صدر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’مجھے آپ کا لباس پسند ہے۔‘ انھوں نے زیلنسکی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’میرے خیال میں یہ بہت اچھے سے تیار ہوئے ہیں‘۔
اطلاعات کے مطابق، پسِ پردہ شاید ٹرمپ کا رویہ کافی مختلف ہو۔
امریکی خبر رساں ادارے ایگزیوس نے دعویٰ کیا ہے کہ ملاقات سے قبل وائٹ ہاؤس کے عملے نے زیلنسکی سے سوٹ پہننے کی درخواست کی تھی۔ عملے نے ان کی جانب سے انکار پر کافی برا منایا تھا۔
ٹرمپ اور زیلنسکی تقریباً 20 منٹ تک خوشدلی سے سوالات کا جواب دیتے رہے۔ تاہم غیر معمول بحث کی ابتدا نائب صدر جے ڈی وینس کی مداخلت کے بعد ہوئی۔
وینس زیلنسکی کو ’جناب صدر‘ کہہ کر پکار رہے تھے جبکہ یوکرینی رہنما نے انھیں ’جے ڈی‘ کہہ کر مخاطب کر رہے تھے۔ امریکی نائب صدر نے بارہا ’احترام‘ کا موضوع اٹھایا۔
ان کا کہنا تھا، ’میرے خیال میں آپ کا اوول آفس میں آنا اور امریکی میڈیا کے سامنے ایسے جرح کرنا کافی ہتک آمیر ہے۔‘
اس کے بعد گفتگو میں خرابی پیدا ہو گئی۔ جلد ہی بنا سوٹ پہنے زیلنسکی کو وائٹ ہاؤس سے نکال دیا گیا اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات جنگ کے وقت کی نچلی ترین سطح پر پہنچ گئے۔













