اس شخص کی دلچسپ کہانی جس پر یوکرین میں سیکس ورکر بھرتی کرنے اور روس میں غداری کا الزام لگا

BBC
    • مصنف, سرگئے گوریاشکو
    • عہدہ, بی بی سی روسی سروس

بی بی سی کو سیتھن ارچاکوف نامی ایک شخص کی کہانی کا پتا چلا ہے جن پر روس میں غداری کے الزامات کے تحت مقدمہ چل رہا ہے۔ روسی حکام نے سرکاری سطح پر ماسوائے اُن کے نام کی تصدیق کے علاوہ اُن کے بارے میں کچھ نہیں بتایا ہے۔

سیتھن ارچاکوف داغستان سے تعلق رکھنے والے پناہ گزین ہیں اور روس میں غداری کے مقدمے سے پہلے اُن پر یوکرین میں جسم فروشی کی غرض سے سیکس ورکرز کو بھرتی کرنے کے الزام پر مقدمہ چلایا گیا تھا جس کے بعد انھیں ملک بدر کر دیا گیا تھا۔

اب روس میں ارچاکوف پر یوکرین کی مسلح افواج اور یوکرین میں لڑنے والی چیچن بٹالین سے تعلق رکھنے کا الزام ہے۔ غداری کے الزام میں باقاعدہ گرفتاری سے قبل انھوں نے ماسکو کے خصوصی حراستی مراکز میں چار ماہ گزارے ہیں۔

ذیل میں اُن کی دلچسپ کہانی تفصیل سے پیش کی جا رہی ہے۔

جولائی 2022 میں جب یوکرینی شہروں پر روسی طیاروں کی بمباری جاری تھی تو اُس دوران یوکرین نے اپنی ویزہ پالیسی میں سختی کرتے ہوئے روسی نژاد شہریوں کو ویزے دینے لگ بھگ بند کر دیے تھے۔

یوکرین میں مقیم روس سے آنے والے پناہ گزینوں پر بھی سختیاں بڑھا دی گئی تھیں اور جنگ کے بیچ و بیچ غیر قانونی پناہ گزینوں کو بلک بدر کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا۔

37 سالہ ارچاکوف چھ سال سے یوکرینی شہر دنیپرو میں بغیر رجسٹریشن مقیم تھے یعنی وہ غیرقانونی طور پر وہاں رہ رہے تھے۔ انھیں جرمانہ کیا گیا اور یوکرین چھوڑ کر روس یا کسی اور ملک جانے کو کہا گیا۔ مگر وہ پھر بھی یوکرین میں ہی رہے۔

یوکرین میں سیکس ورکر بھرتی کرنے کا الزام

16 اگست 2022 میں انھیں یوکرین میں غیر قانونی شہریوں کے لیے بنائے گئے خصوصی حراستی مرکز بھیجا گیا تاکہ ان کو جلد از جلد ملک بدر کیا جا سکے۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ارچاکوف نے یوکرینی حکام کو درخواست کی کہ انھیں روس بھیجنے کے بجائے یورپ کے کسی اور ملک جانے کا موقع دیا جائے کیونکہ روس میں اُن پر سیاسی وجوہات کی بنا پر تشد کا خطرہ ہے اور اس بات کا بھی کہ یوکرین کی حمایت کے نام پر ان پر غداری کا مقدمہ چلایا جائے۔

یوکرین کی عدالت کے ایک فیصلے کے مطابق اپنے ٹرائل سے قبل انھوں نے مبینہ طور پر یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کو درخواست لکھ کر اُن سے اس معاملے میں مدد مانگی، مگر انھیں کوئی جواب نہیں ملا۔ بی بی سی نے اُن کی وکیل سے رابطہ کیا جنھوں نے 2022 میں یوکرین میں اُن کا مقدمہ لڑا تھا تاہم ان کی طرف سے بھی کوئی جواب نہیں ملا۔

دنیپرو کی عدالت نے ارچاکوف سے متعلق اپنے حکمنامے میں کہا کہ 2016 میں جب پہلی بار یوکرین نے ارچاکوف کو حراست میں لیا تھا تو اس وقت بھی انھوں نے یہی بہانہ بنایا تھا اور یہ کہ عدالتی کارروائی کے دوران ارچاکوف یوکرین کی حمایت یا روسی جارحیت کی مذمت سے متعلق کوئی شواہد یا سوشل میڈیا پوسٹس کا حوالہ نہیں دے سکے۔

ارچاکوف نے دوران سماعت یہ گلہ بھی کیا کہ انھیں روس میں اپنے دو سابقہ پڑوسیوں سے بات کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی، جو یہ گواہی دے سکتے ہیں کہ وہ روس میں پولیس کو مطلوب ہیں۔ تاہم عدالت نے اُن کا یہ دعویٰ بھی مسترد کر دیا۔

بی بی سی کو بھی ارچاکوف کا ایسا کوئی بیان سوشل میڈیا پر نہیں ملا جس سے ثابت ہو کہ وہ روس کو کوئی مطلوب تھے۔

سنہ 2016 میں ارچاکوف کے یوکرین میں داخلے کی تین سال کی پابندی عائد کی گئی اور انھیں رضاکارانہ طور پر یوکرین چھوڑنے کا کہا گیا، مگر انھوں نے ایسا نہ کیا۔

اس واقعے کے لگ بھگ تین سال بعد سنہ 2019 میں انھیں اور دنیپرو کی رہائشی ایک خاتون نتالیہ لدنیوا کو جسم فروشی کی غرض سے خواتین کو بھرتی کرنے کے کیس میں دوبارہ حراست میں لے لیا گیا۔

اس مقدمے کی دستاویز کے مطابق وہ ’بھاری رقوم کے عوض‘ لڑکیوں کو ڈھونڈتے اور بھرتی کرتے تھے اور ’قحبہ خانہ فلیٹس‘ میں سروسز مہیا کرتے تھے۔ اس پورے معاملے کی تشہیر انٹرنیٹ پر کی جاتی تھی۔ سیکس ورکر نصف رقم ارچاکوف اور اُن کی پارٹنر کو دیتے تھے۔

اس مقدمے میں ٹرائل سے قبل دونوں ملزمان کو جیل بھیج دیا گیا۔

دو ماہ بعد دنیپرو کی ایک عدالت نے انھیں گھر میں نظر بند کرنے کے احکامات جاری کیے۔ مقدمے میں دوران سماعت انھوں نے صحت جرم کا اعتراف کیا اور 2019 میں انھیں سزا سنائی گئی۔

bbc

سزا مکمل ہونے پر امیگریشن حکام نے سنہ 2022 میں ارچاکوف کا کیس تیار کیا اور انھیں غیر قانونی طور پر یوکرین میں رہنے اور اور قحبہ گری کے الزام میں ڈی پورٹ کر دیا گیا۔ تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ انھیں کس ملک بھیجا گیا ہے۔

ملک بدری کے بعد ارچاکوف مالدووا سے دوبارہ اُبھرے۔ انھوں نے مالدووا سے ٹک ٹاک ویڈیوز لگانا شروع کر دیں جس میں وہ کبھی کسی کنسرٹ میں نظر آتے تو کبھی کسی فٹبال میچ میں۔

ان کے ایک دوست رستم (فرضی نام) کے مطابق ایک روز ارچاکوف نے مالدووا سے نکل کر ماسکو جانے کا فیصلہ کیا۔ وہ یوکرین سے نکالے جانے کے تین سال اور تین ماہ بعد روس میں داخل ہوئے۔

’بھائی، میں گھر جا رہا ہوں‘

رستم نے بتایا کہ ایک روز انھیں ارچاکوف کا پیغام آیا کہ ’بھائی میں گھر جا رہا ہوں۔‘ اس کے کچھ عرصے بعد انھیں معلوم ہوا کہ ارچاکوف کو روس میں پکڑ لیا گیا ہے۔

اچاکوف کے پاس روس میں داخلے کا سرٹیفکیٹ تھا جو روس کی طرف سے ان لوگوں کو جاری کیا جاتا ہے جن کے پاسپورٹ کی معیاد ختم ہو چکی ہوتی ہے یا یہ کھو گیا ہوتا ہے۔

یوکرین میں ہونے والی عدالتی کارروائی کے دوران ارچاکوف کے پاس جو روسی پاسپورٹ تھا اس کی مدت 2025 تک تھی۔ ہو سکتا ہے وہ روسی حکام کے سامنے اسے ظاہر نہ کرنا چاہتے ہوں کیونکہ اس پاسپورٹ پر اُن کے یوکرین داخلے کی مہر لگی ہوئی تھی۔ سرٹیفیکیٹ کے باوجود روسی حکام اُن کی طرف متوجہ ہوئے۔

سرحدی محافظوں کے احکامات نہ ماننے جیسے جرم اُن کے خلاف ایک رپورٹ تیار کی گئی۔ ان پر الزام تھا کہ روس داخلے کی غرض سے ان سے بارہا پوچھے گئے سوالات کا انھوں نے جواب نہیں دیا۔

روسی دستاویزات میں ’یوکرین سے آنے والے اس مسافر‘ کی شناخت پاسپورٹ کنٹرول پر 26 دسمبر کو صبح سات بجے کی گئی ہے، تاہم فلائٹ ریڈار سروس کے مطابق جس فلائٹ پر وہ آئے تھے وہ طیارہ صبح تقریباً ایک بجے ماسکو میں اُترا تھا۔

یہ ثابت کرتا ہے کہ ارچاکوف کا چیک اِن تقریباً ایک دن تک جاری رہا۔ اس وقت کے دوران روسی سکیورٹی فورسز ارچاکوف کے ساتھیوں تک ان کے موبائل کے ذریعے رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ اُن پر الزام لگا کہ وہ یوکرین کی مسلح افواج کی طرف سے روس کے خلاف فوجی کارروائیوں میں حصہ لینے کا ارادہ رکھتے تھے۔

bbc

انسانی حقوق کے منصوبے ’فرسٹ ڈیپارٹمنٹ‘ سے منسلک وکیل ایوگینی سمرنوف نے بی بی سی کو بتایا کہ ’روس میں تمام سرحدی چیک پوائنٹس اب روسی اور اسرائیلی ساختہ موبائل فرانزک سسٹم سے لیس ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ ’اس طرح کا سسٹم آپ کو مختصر وقت میں مشکوک شخص کی دلچسپی کے موضوعات پر فون میں موجود تمام معلومات کو کاپی اور تجزیہ کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔‘

ان کے مطابق روس آنے اور جانے والے بہت سے لوگوں نے بھی اطلاع دی ہے کہ اب سرحد پر موبائل فونز سے ڈیٹا نکالا جاتا ہے اور حکام کی جانب سے اس کا جائزہ لیا جاتا ہے۔

روسی حکام کے الزامات کے مطابق واٹس ایپ اور سگنل میسنجرز میں ارچاکوف نے مبینہ طور پر یوکرین کی مسلح افواج کے اہلکاروں کے ساتھ پیغامات کے تبادلے کے ساتھ ساتھ مسلح تنظیم ’شیخ منصور بٹالین‘ میں شرکت کے حقائق سے متعلق بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا۔

واضح رہے کہ یہ بٹالین چیچنیا کے لوگوں نے تشکیل دی تھی جو سنہ 2014 سے یوکرین میں روس کے خلاف لڑ رہی ہے۔

اس بٹالین میں 'شرکت' کے بارے میں حکام کے الفاظ سے یہ واضح نہیں ہے کہ آیا سکیورٹی فورسز کو یقین ہے کہ آرچاکوف نے اس بٹالین میں شمولیت اختیار کی تھی اور اگر ایسا ہوا تو کب ہوا تھا۔ پروٹوکول میں کہا گیا ہے کہ آرچاکوف نے روسی قوانین کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس معاملے کی وضاحت دینے سے انکار کر دیا۔

ابتدا میں عدالتی کارروائی کے بعد ایک جج نے ارچاکوف کو سرحدی محافظوں کی بات نہ ماننے پر 13 دن کے لیے خصوصی حراستی مرکز بھیج دیا۔

’میں خوشی کی تلاش میں رہا‘

bbc

آرسن (فرضی نام) کا اپنے دوست ارچاکوف کے بارے میں کہنا تھا کہ ’وہ کہاں نہیں گیا، وہ بہت سی جگہوں پر گیا۔ وہ چیچن، انگوش، روسی زبان جانتا تھا اور انگریزی میں بھی مہارت رکھتے تھے۔ وہ ایک ایسا شخص ہے جس نے زندگی کو دیکھا اور انجوائے کیا ہے۔‘

ارچاکوف 1984 میں انگوش کے دارالحکومت نذران میں پیدا ہوئے تھے جو اس وقت چیچن انگوش اے ایس ایس آر کا حصہ تھا۔ سوشل میڈیا پر وہ اکثر ویناخ کے فرضی نام کے ساتھ سائن اپ کرتے۔ آرسن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اُن کے بچپن کے بارے میں بتایا کہ وہ بغیر والد کے بڑے ہوئے اور ان کی اُن سے پہلی بار ملاقات اس وقت ہوئی جب ان کی عمر 18 سال تھی۔

آرچاکوف نے باکو (آذربائیجان) اور ترکی میں بھی تعلیم حاصل کی۔ ارچاکوف نے خود سوشل نیٹ ورکس پر اس بات کا اظہار کیا تھا کہ انھوں نے ماسکو ہیومینیٹیرین یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی ہے اور 2009 میں ان کی پوسٹ کردہ تصاویر کو دیکھتے ہوئے پتا لگ سکتا ہے کہ انھوں نے وہاں کے میگا شاپنگ سینٹر میں بھی کام کیا۔

بی بی سی ذرائع کے مطابق ماسکو میں ارچاکوف نے اپنی ہونے والی اہلیہ سے ملاقات کی جو اصل میں داغستان سے تعلق رکھتی تھیں۔ ارسین آرچاکوف کے بارے میں کہتے ہیں کہ ’وہ ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے، ہمارے مسلم رسم و رواج کے مطابق اس نے شادی کی اور پھر وہ اپنی اہلیہ کے گاؤں چلے گئے تھے۔‘

وہ اُس وقت کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’ہم بہت قریبی دوست تھے، آپ کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے ایک ہی پلیٹ میں کھانا کھایا کرتے تھے۔‘ اُن کا مزید کہنا ہے کہ ’میں نے ہمیشہ اسے بڑا بھائی سمجھا، ہم نے ہر چیز میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا۔ وہ ایک سپر مارکیٹ میں عام مزدوروں کے طور پر کام کرتے تھے۔ کام کے دوران ملنے والے آرڈر یعنی ساز و سمان کو گاڑیوں سے اُتارتے اور چڑھاتے تھے۔‘

ان کے دوست یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ’اس وقت تنخواہ 800 روبل یومیہ تھی جو آپ کو صبح نو بجے سے شام پانچ بجے تک کام کرنے پر ملتی تھی اور بس سب کے لیے یہ ایسا ہی تھا۔‘

ارسین نے اپنے دوست کے بارے میں بی بی سی کو بتایا کہ ’داغستان سے ارچاکوف نے روس کے دیگر علاقوں کا سفر کیا تاکہ پیسہ کمایا جا سکے، مثال کے طور پر سوچی میں اولمپک کھیلوں سے متعلق عمارتوں کی تعمیر کے لیے۔ 2014 میں انھوں نے پھلوں اور سبزیوں کی تجارت کے لیے داغستان میں کمپنی ’فروکٹووک‘ کو رجسٹر کیا۔ لیکن ایک سال بعد وہ اس کے مالک نہیں رہے اور مارچ 2016 میں وہ یوکرین چلے گئے جہاں وہ ڈینیپر شہر میں رہتے تھے۔

ان کے دوست ارسین نے بی بی سی کو بتایا کہ ’مجھے نہیں معلوم کہ کیا ہوا مگر یہ شخص غائب ہو گیا۔ وہ خوشی کی تلاش میں کہیں چلا گیا تھا۔ انھوں نے یہاں گاؤں میں دو بیٹوں کو چھوڑ دیا۔ مجھے نہیں معلوم کہ وہ کیا حاصل کرنا چاہتے تھے۔ میں اس سے ناراض ہوں اس آدمی کے پاس سب کچھ تھا ایک گھر، وہ کبھی بھوکا نہیں تھا، اُس کے پاس اچھا لباس تھا، اس کی ایک اچھی بیوی تھی اور پیارے بیٹے، ایک عام آدمی کو اور کیا چاہیے؟‘

bbc

یوکرین کے قانون کے مطابق ارچاکوف کو وزٹ ویزا پر تین ماہ سے زیادہ ملک میں رہنے کی اجازت نہیں تھی۔ لیکن وہ یوکرین میں غیر قانونی طور پر رہے۔ عدالتوں میں جب ان پر جسم فروشی کے لیے خواتین بھرتی کرنے کا مقدمہ چلایا گیا تو انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ ان تمام سالوں میں ’غیر سرکاری‘ طور پر یوکرین کی انتظامیہ کے لیے کام کر رہے تھے۔

اُن کے دوست رستم کہتے ہیں کہ ’وہ سات، آٹھ سال پہلے پیسہ کمانے کے لیے چلے گئے تھے۔ میں نے سنا ہے کہ یوکرین میں ان کی ایک اور فیملی ہے اور میرے خیال میں ان کا ایک بچہ بھی ہے۔‘

اُن کے مطابق سب سے پہلے ارکوچاف پیسے کمانے کے لیے ماسکو گئے تھے اور داغستان میں ان کی اہلیہ اس وقت اپنے دوسرے بچے کو جنم دینے والی تھیں۔ ’انھوں نے بچوں کو پیسے بھیجے، پھر اُن کا اور اُن کی بیوی کے درمیان جھگڑا ہوا جس کے بعد اُن کا آپ میں رابطہ ختم ہو گیا۔‘

ماسکو میں گرفتاری کے وقت ارچاکوف طلاق یافتہ تھے۔ سنہ 2022 میں یوکرین میں جلاوطنی کے مقدمے کی سماعت کے دوران انھوں نے شکایت کی تھی کہ سول رجسٹری آفس نے ان کے ’حقیقی ازدواجی تعلقات‘ کو رجسٹر کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ 2019 اور 2020 میں ان کا ایک بیٹا اور ایک بیٹی پیدا ہوئے تھے۔

’غدار کہلانے کے لیے آپ کو کیا کرنا پڑے گا؟‘

روس واپس آنے کے بعد ارچاکوف نے ماسکو کے قریب خصوصی حراستی مراکز میں تقریباً چار ماہ گزارے۔ آرچاکوف کا مقدمہ سب سے طویل عرصے تک جاری رہا۔

انھیں مبینہ طور پر سکیورٹی فورسز کے احکامات نہ ماننے اور دیگر آٹھ الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا۔ انھوں نے کبھی کبھی عدالت میں اپنے جرم کا اعتراف نہیں کیا لیکن ان کو قید رکھا گیا۔

بعدازاں انھیں ہتھیار لہرانے، جارحانہ طرز عمل اختیار کرنے اور سرکاری گاڑی کا تعاقب کرنے، فرار ہونے کی کوشش کرنے جیسے الزامات کے تحت مجرم قرار دیا گیا۔ ان پر یہ الزام بھی تھا کہ انھوں نے روسی ’پولیس افسران کو تنازعات پر اُکسایا۔‘

فروری کے آخر میں انتظامی بنیادوں پر کی جانے والی گرفتاریوں کا ریکارڈ منظر عام پر لایا گیا۔ وزارت داخلہ امور کے اس ڈیٹا بیس میں غیر ملکیوں کے بارے میں معلومات موجود ہیں جن میں ارچاکوف بھی شامل ہیں۔ ارچاکوف کی فائل وہاں کیسے پہنچی یہ واضح نہیں۔

bbc

ماسکو سٹی کورٹ نے جون میں ان کی گرفتاری کے خلاف اپیل مسترد کر دی تھی۔ بی بی سی اس اپیل تک رسائی حاصل میں کامیاب رہا۔

اس فیصلے کے مطابق تحقیقات میں اصرار کیا گیا تھا کہ ارچاکوف کے مبینہ طور پر ’غیر ملکی انٹیلیجنس سروسز کے ملازمین کے ساتھ مجرمانہ روابط ہیں‘۔

آخری بار میشچنسکی عدالت نے ستمبر میں آرچاکوف کی حراست میں توسیع کی تھی۔ یہ معلوم نہیں ہے کہ وہ کس حراستی مرکز میں موجود ہیں۔ ارچکوف کے وکیل ذیلوف نے ایک معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

ماسکو کی عدالت کی ویب سائٹ پر کیس فائل میں صرف ان کا آخری نام، ابتدائی نام اور غداری سے متعلق ضابطہ فوجداری کے آرٹیکل 275 کی تفصیلات درج ہیں۔ لیکن ماسکو سٹی کورٹ کے جون کے اپیلیٹ فیصلے سے پتہ چلتا ہے کہ اس وقت آرچاکوف پر صرف غداری کی کوشش کا الزام تھا۔ اگر الزام وہی رہتا ہے تو انھیں 15 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ اگر اس شخص پر غداری کا الزام عائد کیا جاتا ہے تو انھیں 20 سال قید یا عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

انسانی حقوق کے منصوبے فرسٹ ڈپارٹمنٹ کے وکیل ایوگینی سمیرنوف نے اکتوبر کے آخر میں پروگرام 'لائیو نیل' میں کہا کہ روس میں آئے روز غداری یا جاسوسی کا ایک نیا کیس سامنے آتا ہے۔ جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان مقدمات کی تعداد سالانہ 200-250 ہوتی ہے۔

روسی جوڈیشل ڈپارٹمنٹ کے مطابق صرف 2024 کی پہلی ششماہی میں عدالتوں نے 52 روسیوں کو غداری کے آرٹیکل کے تحت اور 18 غیر ملکیوں کو جاسوسی کے آرٹیکل کے تحت سزائیں سنائی ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر کو 10 سال سے زیادہ قید کی سزا سنائی گئی، آٹھ افراد کو 15 سے 20 سال قید کی سزا سنائی گئی۔

سنہ 2023 اور 2024 میں پہلی دو سزائیں عمر قید سنائی گئیں لیکن دونوں افراد کی غیر موجودگی میں۔ یہ الزامات روس میں مختلف شعبوں سے وابستہ روسیوں پر عائد کیے جاتے ہیں جن میں سائنسدانوں اور صحافیوں سے لے کر کاروباری افراد اور سکول کے بچے بھی شامل ہیں۔