افغان بچوں میں غذائی قلت: ’پاکستان میں بھی زندگی مشکل تھی لیکن اگر وہاں ہوتے تو علاج کروا سکتے تھے ‘

،تصویر کا ذریعہBBC/Imogen Anderson
- مصنف, یوگیتا لمائے
- عہدہ, بی بی سی نیوز، جلال آباد
انتباہ: اس مضمون کے آغاز پر کچھ تفصیلات قارئین کے لیے تکلیف دہ ہو سکتی ہیں
’یہ میرے لیے کسی قیامت سے کم نہیں۔ میں بہت زیادہ تکلیف محسوس کر رہی ہوں۔ کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ اپنے بچوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے مرتے دیکھ کر مجھ پر کیا گزری ہو گی؟‘
یہ افغانستان کی ایک ماں امینہ کے الفاظ ہیں۔ وہ اب تک اپنے چھ بچے کھو چکی ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی تین سال کی عمر سے زیادہ زندہ نہیں رہا اور اب ان کا ایک اور بچہ اپنی زندگی کی جنگ لڑ رہا ہے۔
امینہ کی سات ماہ کی بچی بی بی حاجرہ شدید غذائی قلت کا شکار ہے اور افغانستان کے مشرقی صوبہ ننگرہار کے جلال آباد ریجنل ہسپتال کے ایک وارڈ میں بستر پر پڑی ہے۔ وہ غذائی قلت کے باعث اپنی عمر سے چھوٹی لگتی ہے۔
امینہ چیختے ہوئے کہتی ہیں کہ ’میرے بچے غربت کی وجہ سے مر رہے ہیں۔ میں انھیں صرف سوکھی روٹی اور پانی ہی دے سکتی ہوں جسے میں باہر دھوپ میں رکھ کر گرم کرتی ہوں۔‘
اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ یہ صرف ایک کہانی نہیں ہے۔
بی بی حاجرہ افغانستان کے ان 32 لاکھ بچوں میں سے ایک ہیں جو شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔ اس صورت حال نے افغانستان کو کئی دہائیوں سے پریشان کر رکھا ہے۔ اس کے پس پشت بہت سے عوامل کارفرما ہیں جن میں 40 سال سے جاری جنگ، انتہائی غربت اور ديگر عوامل شامل ہیں۔
لیکن طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے تین سال بعد اس صورتحال میں غیر معمولی حد تک اضافہ ہوا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کسی کے لیے یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ 32 لاکھ بچے شدید غذائی قلت کا شکار کیسے ہو سکتے ہیں لیکن ہسپتال کے صرف ایک چھوٹے سے وارڈ کی کہانیاں اس تباہی کی عکاسی کر سکتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہBBC/Imogen Anderson
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
ہسپتال کے وارڈ کے سات بستروں پر 18 چھوٹے بچے موجود ہیں اور یہ سب کسی موسمی بیماری کی وجہ یہاں داخل نہیں ہیں بلکہ یہ یہاں کے لیے ایک عام بات ہے۔
ہسپتال کے اس وارڈ میں نہ رونے کی کوئی آواز نہ کسی بچے کی قلقاریاں، بس بے چین کرنے والی ایک خاموشی ہے جو کہ صرف پلس ریٹ مانیٹروں کی تیز آواز سے ٹوٹتی ہے۔
وہاں موجود زیادہ تر بچے نہ تو بے ہوش ہیں اور نہ ہی انھیں سانس کے لیے آکسیجن لگی ہوئی ہے۔ وہ جاگ رہے ہیں لیکن وہ اس قدر کمزور ہیں کہ کسی قسم کی حرکت کرنے یا آواز نکالنے کے قابل نہیں۔
بی بی حاجرہ کے ساتھ ایک اور تین سالہ بچی ثنا ان کے ساتھ ہسپتال کے بستر پر موجود ہے۔
جامنی رنگ کا لباس پہنے ہوئے ثنا کے ننھے بازو نے اس کا چہرہ ڈھانپ رکھا ہے۔ ثنا کی والدہ چند ماہ قبل اسے جنم دیتے ہوئے فوت ہوگئی تھی، اس لیے ثنا کی خالہ لیلیٰ اس کی دیکھ بھال کر رہی ہیں۔ لیلیٰ میرے بازو کو چھو کر ہاتھ کے اشارے سے مجھے بتاتی ہیں کہ وہ سات بچے کھو چکی ہیں۔
ان دونوں بچیوں کے ملحقہ بستر پر تین سالہ الہام ہے۔ جس کی غذائی قلت کی وجہ سے اپنی عمر کے لحاظ سے مناسب نشو و نما نہیں ہو سکی اور وہ اپنی عمر سے بہت کم عمر دکھتا ہے۔ غذائی قلت کے باعث اس کے بازوؤں، ٹانگوں اور چہرے کی جلد سوکھ گئی ہے۔ تین سال پہلے اس کی دو سالہ بہن بھی مر گئی تھی۔
ایک سالہ اسما کو دیکھنا بھی بہت تکلیف دہ ہے۔ اس کی خوبصورت آنکھیں اور گھنی پلکیں ہیں۔ لیکن وہ غدائی قلت کے باعث پھٹی ہوئی ہیں اور وہ کمزوری کے باعث بمشکل پلکیں جھپکتی ہیں۔ اس کو آکسیجن ماسک لگا ہے جس سے وہ سانس لے رہی ہے اور یہ اس کے چہرے کو ڈھانپے ہوئے ہے۔
اس کے سر کے پاس کھڑے ڈاکٹر سکندر غنی سر ہلاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’مجھے نہیں لگتا کہ وہ زندہ رہے گی۔‘ اسما کا ننھا جسم سیپٹک شاک میں چلا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC/Imogen Anderson
ان حالات کے باوجود اس وقت تک کمرے میں ایک قسم کی بے پروائی یا بے نیازی تھی، نرسیں اور مائیں اپنے کام میں لگی تھیں، بچوں کو کھانا کھلا رہی تھیں، انھیں تسلی دے رہی تھیں۔ لیکن ڈاکٹر کی بات سن کر سب کچھ رک جاتا ہے اور بہت سارے چہروں پر مایوسی کے آثار نظر آنے لگتے ہیں۔
اسما کی والدہ نصیبہ رو رہی ہیں۔ وہ اپنا حجاب اٹھاتے ہوئے اپنی بیٹی کو چومنے کے لیے اس پر جھک جاتی ہیں۔ وہ روتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’ایسا لگتا ہے کہ میرے جسم کا ایک حصہ کٹ کر گر رہا ہے۔ میں اسے اس تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی۔‘
نصیبہ پہلے ہی تین بچوں کو کھو چکی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’میرے شوہر ایک مزدور ہیں۔ جب انھیں کام ملتا ہے تو ہم کھاتے ہیں۔‘
ڈاکٹرسکندر غنی نے ہمیں بتایا کہ اسما کو کسی بھی وقت دل کا دورہ پڑ سکتا ہے۔ہمارے اس وارڈ سے نکلنے کے تقریباً ایک گھنٹے بعد اطلاع ملی کہ وہ نہیں رہی۔
ننگر ہار میں طالبان کے محکمہ صحت نے ہمیں بتایا کہ پچھلے چھ مہینوں میں سات سو بچے ہسپتال میں مر چکے ہیں۔ اس حساب سے روزانہ تین سے زیادہ اموات ہوئيں۔
حیران کن طور پر یہ زیادہ تعداد ہے لیکن اگر اس ہسپتال کو ورلڈ بینک اور یونیسیف کی فنڈنگ سے جاری نہ رکھا جاتا تو اور بھی زیادہ اموات ہوتیں۔
پچھلی حکومت کو براہ راست دیے گئے بین الاقوامی فنڈز نے اگست 2021 تک افغانستان میں صحت عامہ کی تقریباً تمام دیکھ بھال کی مالی اعانت فراہم کی۔
لیکن جب طالبان نے اقتدار سنبھالا تو ان کے خلاف بین الاقوامی پابندیوں کی وجہ سے فنڈنگ روک دی گئی۔ اس نے صحت کی دیکھ بھال کو بری طرح متاثر کیا، یہاں تک کہ وہ ختم ہونے لگی۔ ایسے میں امدادی ایجنسیوں نے انھیں جاری رکھنے کا مطالبہ کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہBBC/Imogen Anderson
ایک ایسی دنیا میں جہاں پہلے ہی بہت کچھ ہو رہا ہے، افغانستان کے لیے فنڈنگ مزید کم ہو گئی ہے۔ اسی طرح طالبان حکومت کی پالیسیوں، خاص طور پر خواتین پر پابندیوں، کا مطلب یہ ہے کہ ڈونرز فنڈز دینے میں ہچکچا رہے ہیں۔
طالبان حکومت کے نائب ترجمان حمد اللہ فطرت نے ہمیں بتایا کہ ’ہمیں غربت اور غذائی قلت کا مسئلہ وراثت میں ملا، جو قدرتی آفات جیسے سیلاب اور موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے بدتر ہو گیا ہے۔ بین الاقوامی برادری کو انسانی امداد میں اضافہ کرنا چاہیے، انھیں اسے سیاسی اور اندرونی مسائل سے نہیں جوڑنا چاہیے۔‘
پچھلے تین سالوں میں ہم ملک میں ایک درجن سے زیادہ صحت کی سہولیات کا دورہ کر چکے ہیں اور اس دوران ہم نے صورتحال کو تیزی سے بگڑتے دیکھا ہے۔ ہسپتالوں کے ہمارے پچھلے چند دوروں میں سے ہر ایک کے دوران ہم نے بچوں کو مرتے دیکھا ہے۔
لیکن جو کچھ ہم نے دیکھا ہے اس سے یہ پتا چلا ہے کہ صحیح علاج بچوں کو بچا سکتا ہے۔ ڈاکٹر غنی نے ہمیں فون پر بتایا کہ بی بی حاجرہ اب کافی بہتر ہیں اور انھیں ڈسچارج کر دیا گیا ہے۔ لیکن جب ہم ہسپتال کا دورہ کیا تھا تو ان کی حالت نازک تھی۔
انھوں نے کہا کہ ’اگر ہمارے پاس زیادہ ادویات، سہولیات اور عملہ ہوتا تو ہم مزید بچوں کو بچا سکتے تھے۔ ہمارا عملہ بہت پر عزم ہے۔ ہم انتھک محنت کرتے ہیں اور مزید کچھ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ میرے بھی بچے ہیں۔ جب کوئی بچہ مرتا ہے تو ہمیں بھی تکلیف ہوتی ہے۔ میں جانتا ہوں کہ ایسے میں والدین کے دلوں پر کیا گزرتی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہBBC/Imogen Anderson
غذائی قلت اموات میں اضافے کی واحد وجہ نہیں ہے۔ جن بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے اور جو قابل علاج بیماریاں ہیں وہ بھی بچوں کی جان لے رہی ہیں۔
غذائیت کے وارڈ سے ملحق انتہائی نگہداشت والے وارڈ میں چھ ماہ کی عمرہ شدید نمونیا کا شکار ہیں۔ جب کوئی نرس انھیں ڈرپ لگاتی ہے تو وہ زور زور سے روتی ہے۔ عمرہ کی والدہ نسرین اس کے پاس بیٹھی رو رہی ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’کاش میں اس کی جگہ مر جاتی۔ میں بہت خوفزدہ ہوں۔‘
ہسپتال سے ہمارے واپس آنے کے دو دن بعد عمرہ کی وفات ہو گئی۔ یہ ان لوگوں کی کہانیاں ہیں جنھیں ہسپتال لایا گیا ہے۔ بے شمار دوسرے ایسے بھی ہیں جو ہسپتال تک پہنچ ہی نہیں سکے۔
اگر پانچ بچوں کو ہسپتال میں علاج کی ضرورت ہے تو ان میں سے صرف ایک بچہ ہی جلال آباد ہسپتال میں جگہ حاصل کر پاتا ہے۔ ہسپتال پر دباؤ اتنا شدید ہے کہ اسما کی موت کے تقریباً فوراً بعد تین ماہ کی ایک ننھی بچی عالیہ کو اسما کے خالی کردہ آدھے بستر پر منتقل کر دیا گیا۔
کمرے میں موجود کسی کے پاس وقت نہیں تھا کہ دیکھے کیا ہوا کیونکہ وہاں ایک اور شدید بیمار بچے کو نگہداشت کی ضرورت تھی۔

،تصویر کا ذریعہBBC/Imogen Anderson
جلال آباد ہسپتال پانچ صوبوں کی آبادی کا بوجھ اٹھا رہا ہے۔ طالبان حکومت کے اندازے کے مطابق ان صوبوں میں تقریباً پچاس لاکھ لوگ آباد ہیں۔ اور اب اس پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔
گذشتہ سال کے اواخر سے پاکستان کی طرف سے زبردستی ملک بدر کیے گئے 700,000 سے زائد افغان مہاجرین میں سے زیادہ تر ننگرہار میں مقیم ہیں۔
اقوام متحدہ کی جانب سے رواں سال جاری اعداد و شمار کے مطابق ہسپتال کے آس پاس کی آبادی میں پانچ سال سے کم عمر کے 45 فیصد بچوں کا قد ان کی عمر سے کم ہے یعنی وہ چھوٹے رہ گئے ہیں۔
روبینہ کا دو سالہ بیٹا محمد ابھی تک کھڑا نہیں ہو سکتا اور وہ اپنے عمر کے لحاظ کے قد کاٹھ سے بہت چھوٹا ہے۔
روبینہ نے بتایا کہ ’ڈاکٹر نے مجھے بتایا ہے کہ اگر اگلے تین سے چھ ماہ تک اس کا علاج ہو تو وہ ٹھیک ہو جائے گا۔ لیکن جب ہم دو وقت کا کھانا بھی کھا نہیں سکتے تو ہم علاج کے اخراجات کیسے برداشت کر سکتے ہیں؟‘
روبینہ اور ان کے خاندان کو گذشتہ سال پاکستان چھوڑنا پڑا تھا اور اب وہ شیخ مصری کے علاقے میں رہتی ہیں۔ یہ بستی جلال آباد سے تھوڑی دیر کی مسافت پر واقع ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC/Imogen Anderson
روبینہ کہتی ہیں کہ ’مجھے ڈر ہے کہ وہ معذور ہو جائے گا اور وہ کبھی چل نہیں سکے گا۔ پاکستان میں بھی ہماری زندگی مشکل تھی لیکن کام تھا۔ یہاں میرے شوہر کو مزدوری بھی شاذ و نادر ہی ملتی ہے۔ اگر ہم اب بھی پاکستان میں ہوتے تو ہم اس کا علاج کروا سکتے تھے۔‘
اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کا کہنا ہے کہ اسٹنٹنگ (عمر سے کم بڑھنا) شدید ناقابل واپسی جسمانی اور ذہنی نقصان کا باعث بن سکتا ہے، جس کے اثرات زندگی بھر رہ سکتے ہیں اور اس سے اگلی نسل بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
ڈاکٹر غنی پوچھتے ہیں کہ ’افغانستان جو کہ پہلے ہی معاشی طور پر مشکلات کا شکار ہے اگر ہماری آنے والی نسل کا بڑا حصہ جسمانی یا ذہنی طور پر معذور ہوگا تو ہمارا معاشرہ ان کی مدد کیسے کر سکے گا؟‘
اگر علاج میں بہت تاخیر نہ کی جائے تو محمد کو مستقل نقصان سے بچایا جا سکتا ہے۔ لیکن افغانستان میں امدادی ایجنسیوں کے ذریعے چلائے جانے والے کمیونٹی نیوٹریشن پروگراموں میں ڈرامائی کٹوتیاں دیکھنے میں آئی ہیں اور بہت سے معاملوں میں مطلوبہ میں سے ایک چوتھائی مل سکا ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC/Imogen Anderson
شیخ مصری کی گلیوں میں ہم ان خاندانوں سے ملے جن کے ہاں غذائی قلت کے شکار یا سٹنٹڈ بچے ہیں۔
سردار گُل کے ہاں دو ایسے بچے ہیں جو غذائی قلت کا شکار ہیں۔ ان میں سے ایک تین سالہ عمر ہے جبکہ دوسرا آٹھ ماہ کا مجیب۔ چمکتی آنکھوں والے چھوٹے بیٹے مجیب کو سردار گُل نے گود میں بٹھا رکھا ہے۔
سردار گل کہتے ہیں کہ ’ایک ماہ قبل مجیب کا وزن تین کلو سے بھی کم ہو گیا تھا۔ جب ہم اُسے ایک امدادی ایجنسی کے ساتھ رجسٹر کرانے میں کامیاب ہو گئے تو ہمیں کھانے کے تھیلے ملنا شروع ہو گئے۔ ان لوگوں نے واقعی اس کی مدد کی ہے۔‘
مجیب کا وزن اب چھ کلو ہے تاہم اب بھی اپنی عمر کے حساب سے دو کلو وزن کم ہے، لیکن اس میں نمایاں طور پر بہتری آئی ہے۔
یہ اس بات کے شواہد ہیں کہ بروقت امداد سے بچوں کو موت اور معذوری سے بچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اس مضمون کے لیے اِموجِن اینڈرسن اور سنجے گانگولی نے اضافی رپورٹنگ کی ہے۔











