آئی پی ایل میں غیرملکی کھلاڑیوں کا بول بالا، سیم کرن ریکارڈ قیمت میں فروخت

آئی پی ایل نیلامی

،تصویر کا ذریعہWisden/twitter

دنیا کی امیر ترین کرکٹ لیگ یعنی انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) میں انگلینڈ کے آل راؤنڈر سیم کرن مہنگے ترین کھلاڑی کے طور پر سامنے آئے ہیں۔

انھیں آئی پی ایل کی ٹیم ’پنجاب کنگز‘ نے ساڑے 18 کروڑ روپے میں خریدا ہے۔ ان کا مقابلہ آسٹریلیا کے آل راؤنڈر کیمرون گرین اور انگلینڈ کے ٹیسٹ کپتان بین سٹوکس سے تھا۔

کیمرون گرین اس نیلامی میں دوسرے مہنگے ترین کھلاڑی رہے۔ آئی پی ایل کی اہم ٹیم ممبئی انڈینز نے 17.5 کروڑ روپے میں ان کی خدمات حاصل کیں۔

جبکہ انگلینڈ کے ٹیسٹ کپتان بین سٹوکس آئی پی ایل کے لیے ہونے والی نیلامی میں تیسرے مہنگے ترین کھلاڑی ثابت ہوئے جنھیں چنئی سپر کنگز نے 16.25 کروڑ روپے میں خریدا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل جنوبی افریقہ کے کرس مورس اب تک کے مہنگے ترین کھلاڑی تھے اور ڈالر کے حساب سے وہ آج بھی مہنگے ترین کھلاڑی ہیں۔ اگر چہ انڈین روپے کے حساب سے اب سیم کرن کو سب سے زیادہ قیمت ملی ہے لیکن اگر بات ڈالر اور روپے کے بیچ حساب سے کریں وہ اب بھی کرس مورس سے کم ہیں کیونکہ گذشتہ سال کے مقابلے میں انڈین روپے کی قدر میں ڈالر کے مقابلے میں کمی آئی ہے۔

اس سے قبل بین سٹوکس سنہ 2017 میں ساڑے 14 کروڑ روپے میں فروخت ہوئے تھے جو کہ اس وقت ریکارڈ قیمت تھی۔ اس کے بعد سنہ 2018 میں راجستھان رائلز نے ساڑھے 12 کروڑ روپے میں ان کی خدمات حاصل کی تھی۔

انگلینڈ کے کھلاڑی ہیری بروکس نے پاکستان کے خلاف سیریز میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور شاید اسی وجہ سے انھیں سنرائزرز حیدرآباد نے سوا 13 کروڑ روپے میں خریدا۔

سیم کرن نے آئی پی ایل میں اس سے قبل پہلی بار پنجاب کی نمائندگی کی تھی۔ انھوں نے پنجاب کی جانب سے خریدے جانے پر ٹویٹ کیا: ’جہاں سے سب شروع ہوا تھا وہیں واپس آ گیا! اب آگے کی جانب دیکھ رہا ہوں۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

کرن ورلڈ کپ میں ٹورنامنٹ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے تھے۔ انھیں ٹی 20 میں آخری اوورز کا بہترین بولر سمجھا جاتا ہے۔ وہ پہلی بار آئی پی ایل میں سنہ 2019 میں آئے تھے اس کے بعد چنئی سپرکنگز نے ان کی خدمات حاصل کی تھیں۔

کنگز ایلون پنجاب کے ڈائریکٹر نیس واڈیا نے سیم کرن کے بارے میں کہا: ’وہ ورلڈ کلاس کھلاڑی ہیں۔ وہ اتنے اچھے ہیں کہ وہ کسی بھی ورلڈ 11 کا حصہ بننے اور کسی بھی صورتحال میں کھیلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔۔۔ وہ اگر بہترین آل راؤنڈر نہیں تو کم از کم بہترین آل راؤنڈرز میں ایک ہیں۔ ان کی وجہ سے ٹیم کو اچھا توازن ملے گا۔'

جبکہ گرین نے ممبئی انڈینز میں شامل ہونے پر احسان مندی کے جذبے کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ ’میں یقین نہیں کر پا رہا کہ واقعی یہ سب ہوا ہے۔ یہ عجیب احساس تھا کہ آپ خود اپنی بولی لگتے دیکھ رہے تھے۔‘

بین سٹوکس کے بعد سب سے زیادہ پیسے ویسٹ انڈیز کے کھلاڑی نکولس پورن کو ملے۔ لکھنؤ کی ٹیم نے 16 کروڑ روپے میں ان کی خدمات حاصل کی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

اس سے قبل ہونے والی بڑی نیلامی میں انڈیا کے زیادہ تر اہم کھلاڑی پہلے سے ہی کسی نہ کسی ٹیم کا حصہ ہیں۔ اس نیلامی میں مینک اگروال کو گجرات ٹائٹنز نے سوا آٹھ کروڑ روپے میں خریدا۔ اجنکیا ریہانے کو چنئی سپر کنگز نے ان کی بیس پرائس 50 لاکھ میں ہی خرید لیا۔ جبکہ بنگلہ دیش کے کھلاڑی اور معروف آل راؤنڈر شکیب الحسن کو کولکتہ نائٹ رائڈرز نے خریدا جبکہ ویسٹ انڈیز کے آل راؤنڈر جیسن ہولڈر کی خدمات راجستھان رائلز نے حاصل کیں۔ ان دونوں کو پونے چھ کروڑ روپے میں خریدا گیا۔

آئی پی ایل نیلامی

،تصویر کا ذریعہANI

نیلامی میں کتنے کھلاڑیوں نے حصہ لیا؟

یہ چھوٹی نیلامی تھی لیکن اس کے لیے 991 کھلاڑیوں نے رجسٹریشن کرائی تھی۔ ان میں سے 714 انڈین جبکہ 277 بین الاقوامی کھلاڑی تھے۔

سکریننگ کے عمل کے بعد 10 ٹیموں کے لیے کل 369 کھلاڑیوں کو شارٹ لسٹ کیا گیا۔ بعد ازاں ٹیموں کی درخواست پر مزید 36 کھلاڑیوں کو شامل کیا گیا۔ نیلامی میں مجموعی طور پر 405 کھلاڑیوں نے حصہ لیا۔

ان میں سے 273 انڈین اور 132 غیر ملکی کھلاڑی تھے جبکہ اتحادی ممالک کے چار کھلاڑی میدان میں تھے۔

ان میں افغانستان (8)، آسٹریلیا (21)، بنگلہ دیش (4)، انگلینڈ (27)، آئرلینڈ (4)، نیوزی لینڈ (10)، جنوبی افریقہ (22)، سری لنکا (10)، ویسٹ انڈیز (20)، زمبابوے (2) متحدہ عرب امارات (1)، نامیبیا (2)، نیدرلینڈز (1) کے کھلاڑی شامل رہے۔

کل کیپڈ کھلاڑی 119 تھے جبکہ 282 ان کیپڈ کھلاڑی رہے اور 4 کھلاڑی ایسوسی ایٹ ممالک کے رہے۔

زیادہ سے زیادہ 87 سلاٹس دستیاب تھے جن میں سے 30 غیر ملکی کھلاڑیوں کے لیے تھے۔