کولکتہ نائٹ رائڈرز کے آئی پی ایل کے فائنل میں پہنچنے پر شاہ رخ خان کی تعریفیں کیوں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا میں جاری انڈین پریمیر لیگ (آئی پی ایل) کے پہلے کوالیفائر میچ میں کولکتہ نائٹ رائڈرز نے سن رائزر حیدرآباد کو آٹھ وکٹوں سے شکست دے کر فائنل میں جگہ بنا لی ہے۔
حیدرآباد نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 159 رنز بنائے۔ جس کے جواب میں کولکتہ نائٹ رائڈرز کی ٹیم نے دو وکٹوں کے نقصان پر 160 رنز کے ہدف کو 13.4 اوورز میں ہی حاصل کر لیا۔
کولکتہ کے لیے وینکٹیش ایئر اور کپتان شریاس ایئر نے چوتھی وکٹ کے لیے 97 رنز کی میچ وننگ پارٹنرشپ کھیلی، ان دونوں نے نصف سنچریاں سکور کیں اور کولکتہ کو چوتھی بار آئی پی ایل فائنل میں پہنچنے میں مدد کی۔
اس سے قبل سنہ 2021، سنہ 2014 اور سنہ 2012 میں اس ٹیم نے فائنل میں اپنی جگہ بنائی تھی۔ سنہ 2021 میں اسے چنئی سپر کنگز سے شکست ہوئی تھی جبکہ سنہ 2014 اور 2012 میں یہ ٹیم آئی پی ایل کی فاتح رہی تھی اور اسے نے چنئی سپر کنگز اور کنگز پنجاب الیون کو شکست دی تھی۔
جہاں اس ٹیم کی شاندار کارکردگی اور اچھا کھیل پیش کر کے فائنل تک رسائی حاصل کی وہیں اس ٹیم کے شریک مالک اور انڈیا کے مقبول ترین اداکاروں میں سے ایک شاہ رخ خان کی موجودگی نے میچ کو چار چاند لگا دیے تھے۔
سوشل میڈیا پر جہاں کولکتہ نائٹ رائڈرز ٹرینڈ کر رہی ہے وہیں شاہ رخ خان پر بھی مداح قربان ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔
مگر اس کی کیا وجہ ہے کیونکہ شاہ رخ خان تو اکثر ٹیم کے میچز کے دوران سٹیڈیم میں دکھائی دیتے ہیں لیکن اس بار بات صرف شاہ رخ خان کے سٹارڈم کی نہیں بلکہ اپنی ٹیم کے ساتھ تعلق اور رویے کی تھی۔

،تصویر کا ذریعہSocial media
آئی پی ایل کے اس سیزن میں ٹیم کے مالکان کا اپنی ٹیم کے ساتھ مختلف میچوں کے دوران برتاؤ مناسب نہیں دیکھا گیا جس میں لکھنؤ سپر جائنٹس کے مالک سنجیو گوئنکا کا میچ ہارنے کے بعد ٹیم کے کپتان کے ایل راہول کے ساتھ سخت انداز میں بحث کرنے کا واقعہ اور ممبئی انڈینز کی مالک نیتا امبانی کا بھی روہت شرما کو کپتانی سے ہٹا کر ہاردک پانڈیا کو ٹیم کی کمان سونپنا اور اس کے بعد ٹیم کی بری کارکردگی پر روہت شرما اور ہاردک پانڈیا کے ساتھ نامناسب رویہ رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سوشل میڈیا پر لوگ اس سب کا موازنہ شاہ رخ خان سے کر رہے ہیں اور ٹیم کو سپورٹ کرنے اور ان پر بھروسہ کرنے پر ان کی تعریف کر رہے ہیں۔
شاہ رخ نے کولکتہ نائٹ رائڈرز کی کامیابی کے بعد جہاں اپنے روایتی انداز میں گراؤنڈ کا چکر لگا کر اپنے مداحوں کو ہاتھ ہلایا اور داد وصول کی وہیں انھوں نے اپنے آئیکونک انداز میں باہیں پھیلا کر جیت کا جشن منایا۔

،تصویر کا ذریعہhttps://x.com/ShahkiSaira
اکثر افراد نے یہ ویڈیو دیکھ کر شاہ رخ حان کی تعریف کی اور لکھا کہ ’ان کے پاس لوگوں کو سپیشل محسوس کروانے کا طریقہ موجود ہے۔‘
ایک اور صارف نے لکھا کہ شاہ رخ خان کرکٹر نہیں لیکن پورے سٹیڈیم میں موجود مداحوں کی نظریں شاہ رخ خان پر تھیں۔ یہ میگا سٹارڈوم کہلاتا ہے۔
ایک صارف نے لکھا کہ ’شاہ رخ کا سنہری دور چل رہا ہے، گذشتہ ایک سال سے وہ ہر چیز میں کامیاب ہو رہے ہیں، پہلے ان کی فلم پٹھان، پھر جوان اور ڈنکی اور اب کولکتہ نائٹ رائڈرز فائنل میں جا رہی ہے۔ ان کے مخالفین کی رات کی نیندیں اڑی ہوئی ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہhttps://x.com/KhopchaArmy
ایک صارف نے شاہ رخ خان کی اپنی ٹیم کی حمایت اور ان پر اعتماد کے بارے میں ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا ’کوئی اس شخص سے کیسے نفرت کر سکتا ہے۔‘
ایک صارف نے لکھا کہ ’وہ کولکتہ نائٹ رائڈرز کے 12ویں کھلاڑی ہیں۔‘
ایک اور صارف نے کولکتہ نائٹ رائڈرز کے سابق کپتان اور موجودہ کوچ گوتم گمبھیر کے ایک انٹرویو میں دیے گئے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ’2011 میں جب مجھے کولکتہ نائٹ رائڈرز کے لیے منتخب کیا گیا تو شاہ رخ خان نے مجھ سے جو پہلی بات کہی تھی کہ مجھے یہ پسند نہیں کہ کوئی مجھے یہ بتائے کہ اداکاری کیسے کرنی ہے اور مجھے یقین ہے کہ آپ کو یہ پسند نہیں آئے گا کہ کوئی آپ کو بتائے کہ کرکٹ کیسے کھیلنی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہhttps://x.com/IamBarunSRK
کولکتہ نائٹ رائڈرز کے آفشیل ٹوئٹر ہینڈل پر بھی شاہ رخ خان کی گراؤنڈ پر موجودگی کی ایک تصویر لگاتے ہوئے لکھا کہ ’ہمارے کنگ خان ہماری لیے خوش قسمتی کی علامت ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہ@KKRiders
کے کے آر کے اکاؤنٹ سے جاری ایک اور ویڈیو میں ٹیم کے کھلاڑی ان کے ٹیم پر اعتماد، حمایت اور اس کی ہمیت بندھانے پر تعریف کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
اس سے قبل بھی شاہ رخ خان آئی پی ایل سیریز میں شہ سرخیوں میں رہے ہیں۔ گذشتہ برس چیلنجرز بینگلور اور کلکتہ نائٹ رائڈرز کے درمیان کھیلے گئے میچ میں وہ سنہ 2018 کے آئی پی ایل کے بعد پہلی مرتبہ اپنی ٹیم کی ایڈن گارڈنز میں سپورٹ کے لیے آئے تھے۔
اس سے قبل سنہ 2012 میں ممبئی کے وانکھڈے سٹیڈیم میں گراؤنڈ میں داخلے پر تنازعے اور سکیورٹی گارڈ کے ساتھ جھگڑا کرنے پر ممبئی کرکٹ ایسوسی ایشن (MCA) کی طرف سے ان پر سٹیڈیم میں داخلے پر پانچ سال کے لیے پابندی عائد کر دی گئی تھی۔












