کیا پرتگال کے سپر سٹار رونالڈو کا سورج غروب ہونے والا ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, فل میکنالٹی
- عہدہ, بی بی سی نامہ نگار
قطر فٹ بال ورلڈ کپ کے دوران سوئٹزر لینڈ کے خلاف میچ میں پرتگال کے سٹار کھلاڑی کرسٹیانو رونالڈو کو نہیں کھلایا گیا تو یہ بحث کا موضوع بن گیا ہے۔
اس سے قبل ان کے انگلش کلب مانچسٹر یونائیٹڈ نے عندیہ دیا تھا کہ انھیں اب رونالڈو کی ضرورت نہیں رہی۔ اب قطر میں جاری ورلڈ کپ میں پرتگال نے انھیں باہر بٹھا کر ایسا ہی اشارہ دیا ہے۔
پرتگال کے کوچ کا رونالڈو کو بینچ پر بٹھانے کا تجربہ بھی کامیاب رہا اور پرتگال نے سوئٹزرلینڈ کو 6-1 سے شکست دی۔ اب سنیچر کی رات ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل میں پرتگال کا مقابلہ مراکش سے ہو گا۔
کوچ سانتوس نے جنوبی کوریا کے خلاف آخری گروپ میچ میں رونالڈو کی جگہ نوجوان کھلاڑی گونکالو راموس کو شامل کیا۔ اس فیصلے پر بہت تنقید کی گئی لیکن راموس کو کھلانا کوچ کے لیے جیک پاٹ بن گیا۔
راموس نے سوئٹزرلینڈ کے خلاف شاندار ہیٹ ٹرک سکور کر کے کافی تعریفیں سمیٹیں۔
گذشتہ کچھ عرصے سے 37 سالہ رونالڈو مشکل میں ہیں۔ مانچسٹر یونائیٹڈ کے ساتھ ان کا تعلق ایک جھگڑے میں ختم ہوا۔
اور اب پرتگال کی ٹیم نے وہ کر دکھایا جس کے بارے میں کبھی سوچنا بھی ممکن نہیں تھا۔
پرتگالی کوچ کا جرات مندانہ فیصلہ
منگل کو پرتگال نے رونالڈو کو فٹ بال کے سب سے بڑے ٹورنامنٹ کی ابتدائی لائن اپ سے دور رکھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یقیناً یہ ورلڈ کپ میں کسی کھلاڑی کے انتخاب کے حوالے سے اب تک کا سب سے دلیرانہ فیصلہ تھا۔ یہ پرتگال کے کوچ کی حیثیت سے سانتوس کے آٹھ سالہ کوچنگ کیریئر کا سب سے بڑا فیصلہ بھی تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
سینتوس کو یورو 2016 کی جیت کا کریڈٹ بھی حاصل ہے۔ ان کو اس بات کا ضرور اندازہ ہو گا کہ وہ کتنی بڑی تبدیلی کرنے جا رہے ہیں۔ اگر پرتگال ہار جاتا تو ورلڈ کپ سے باہر ہونے کا الزام کرسٹیانو رونالڈو پر نہیں سینتوس پر ہوتا۔
اس کے باوجود میچ کے دوران سینتوس کے چہرے پر عزم نمایاں تھا۔ دوسری جانب پرتگال میچ میں زیادہ چست اور خطرناک نظر آیا۔ جب کہ اس طرح کے میچوں میں اکثر سب کی نظریں رونالڈو پر ہوتی ہیں۔
سوئٹزرلینڈ کے خلاف میچ میں برنارڈو سلوا اور برونو فرنینڈس جیسے مڈ فیلڈرز کے بل بوتے پر پرتگال شاندار کھیل کا مظاہرہ کر رہا تھا۔
بینفیکا کے 21 سالہ سٹرائیکر راموس اب تک نامعلوم کھلاڑی تھے۔
اس سے قبل قدرے دب کر کھیلنے والے انتہائی باصلاحیت جواؤ فیلکس کو بھی آزادی سے کھیلتے دیکھا گیا تھا۔ راموس کی ہیٹ ٹرک بہت صاف انداز میں سامنے آئی۔
اس کھیل سے پہلے رونالڈو نے ورلڈ کپ ناک آؤٹ فٹ بال میں 514 منٹ کھیلا تھا اور ایک بھی گول نہیں کیا تھا۔ لیکن راموس نے صرف 67 مقابلوں میں تین گول داغے۔
39 سالہ پیپے نے بھی دکھایا کہ سینتوس کے لیے عمر کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ جبکہ اس نے دو گول کیے، راموس نے دکھایا کہ وہ گول کرنے کے ساتھ ساتھ سکور بھی کر سکتے ہیں۔ رافیل گوریرو نے چوتھا گول کر کے اسکور کو 4-0 کر دیا۔
رونالڈو کیا سوچ رہے تھے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس دوران کیمرے کی نظریں رونالڈو کے چہرے کے تاثرات پر جمی ہوئی تھیں۔ پرتگال کے قومی ہیرو کے چہرے پر پہلی بار یہ نظر آ رہا تھا کہ مانچسٹر یونائیٹڈ کے بعد پرتگال کی ٹیم کے ساتھ ان کا کیرئیر بھی ختم ہو سکتا ہے۔
پرتگال کا قومی ترانہ جیسے ہی ختم ہوا، انھیں سینکڑوں کیمروں نے گھیر لیا۔ یہ لمحات بتا رہے تھے کہ ان کی غیر موجودگی میں پرتگال کی ٹیم نے سوئٹزرلینڈ کو بری طرح شکست دے کر کیا ثابت کر دیا ہے۔
راموس کی بدولت جب پرتگال 5-1 تک پہنچا تو سٹیڈیم رونالڈو-رونالڈو سے گونجنے لگا۔ گول کرنے کے بعد، رونالڈو 'Siyu-Siyu' کہہ کر جشن مناتے ہیں۔ سٹیڈیم ان کے انداز سے گونج رہا تھا۔
ایسا لگ رہا تھا کہ ان شائقین کی جانب سے نعرے لگائے گئے جو پیسے خرچ کر کے رونالڈو کو دیکھنے آئے تھے۔
ان میں سوئس شائقین بھی ضرور ہوں گے، جو شاید امید کر رہے تھے کہ سینتوس راموس کو ہٹا دیں گے۔ آخر کار جب صرف 16 منٹ باقی تھے تو رونالڈو نے جواؤ فیلکس کی جگہ لے لی اور ان کا استقبال کسی پاپ سٹار کی طرح کیا گیا۔
یہ عجیب لگ رہا تھا۔ رونالڈو کے لیے ناک آؤٹ میچ اس طرح ختم ہونا بے معنی لگ رہا تھا۔ یہ زوال پذیر کیریئر کی علامت تھی۔
تاہم جواؤ فیلکس کی جگہ آنے والے رونالڈو کو جب بھی گیند ملی تو لوگ یہی سمجھتے تھے کہ اب کچھ ہو گا۔ اندر بیٹھے لوگ رونالڈو کا پرانا جادو دیکھنے کے لیے بے تاب تھے۔ ایسا جادو اس وقت ہونے والا تھا جب وہ ایکبار گیند کے ساتھ آگے بڑھے لیکن ریفری نے آف سائیڈ کر دیا۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کیا یہ رونالڈو کا زوال ہے؟
رونالڈو کی تھوڑی دیر کے لیے میدان میں آنے کی کشش بھی ایک نوجوان پرتگالی سٹرائیکر رافیل لیو نے چُرا لی۔ رونالڈو میدان میں تھے لیکن چھٹا گول لیو نے کیا۔
رونالڈو اب بھی اس ٹورنامنٹ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
اگرچہ ایسا نہیں لگتا کہ وہ مراکش کے خلاف پہلے 11 کھلاڑیوں میں نظر آئیں گے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
شاید ان کے ذہن میں یہ بات بھی آ رہی ہو گی کہ اب ان کے لیے پرتگال کی ٹیم میں وہ جگہ نہیں رہی جو پہلے تھی۔
ایک زمانے میں رونالڈو کو پرتگال کا مستقبل کہا جاتا تھا۔ لیکن وہ تیزی سے ماضی کا قصہ بنتے جا رہے ہیں۔
مستقبل اب راموس اور لیو جیسے ابھرتے ہوئے ستاروں کا نظر آتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک کلب اور ملک کے کھوئے ہوئے ہیرو کا مقام کیا ہوگا؟ ابھی تک ایسا لگتا ہے کہ مراکش کے خلاف میچ میں وہ جگہ ایک بار پھر بینچ بنے گی۔













