انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے نوجوان جو پن بجلی کے منصوبوں سے توانائی بحران ختم کر رہے ہیں

    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سونہ مرگ کشمیر

’60 کروڑ روپے مالیت کے بجلی کے منصوبے کی فائل لے کر جب میں متعلقہ دفتر پہنچا تو افسروں نے مجھے دیکھ کر حیرت سے کہا یہ کل کا لونڈا اتنا بڑا پروجیکٹ کیسے مکمل کرے گا۔‘

چھ سال پرانی اس بات کو دہراتے ہوئے 35 سال کے مُحسِن فیاض بٹ جذباتی ہو گئے۔

دفتری طوالت، پہاڑوں کے درمیان راستے بنانے اور آٹھ ہزار فٹ کی بلندی پر دیو ہیکل مشینیں پہنچانے جیسے کٹھن مراحل سے گزر کر محسِن نے بالاخر چھ میگاواٹ کی صلاحیت والے نجی پن بجلی گھر کا پروجیکٹ تیار کر لیا ہے۔

مُحسِن سرینگر کے ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ انھوں نے جب لندن سے مینجمینٹ میں گریجویشن اور پوسٹ گریجویشن مکمل کی تو انھیں لندن میں ہی ایک ملٹی نیشنل کمپنی نے ملازمت کی پیشکش کی تھی۔

’میں بہت خوش ہوا۔ میں نے ڈیڈی (والد) کو فون کیا۔ انھوں نے مبارکباد تو دے دی لیکن اُن کے لہجے میں مایوسی تھی۔ دراصل وہ چاہتے تھے کہ میں کشمیر میں ہی کوئی کاروبار کر لوں۔ کئی راتیں میں جاگتا رہا اور ایک صبح میں نے ملازمت کے آفر لیٹر کے جواب میں لکھا کہ میں یہ ملازمت نہیں کروں گا اور ڈیڈی کو فون کر کے اطلاع دی تو وہ بہت زیادہ خوش ہوئے۔‘

کشمیر واپسی پر محسن نے دیگر دو دستوں کے ہمراہ پن بجلی منصوبوں کی تعمیر سے متعلق ایک کمپنی کی بنیاد رکھی اور اسی دوران حکومت نے ہائیڈرو پاور کی پیدوار کو نجی کمپنیوں کے لیے کھول دیا۔

کئی مشکلات کے بعد محسن کی کمپنی کو ایک پن بجلی گھر کے منصوبے کی تیاری کا ایک ٹھیکہ مل گیا اور حکومت نے انھیں اس مقصد کے لیے سطح سمندر سے آٹھ ہزار فٹ کی بلندی پر سرینگر کے مشرق میں سونہ مرگ کے قریب ایک دشوار گزار پہاڑی قطعہ الاٹ کر دیا۔

’پہلے تو یہ ناممکن لگا تھا‘

محسن بٹ اپنے اس کھٹن اور مشکل منصوبے کو مکمل کرنے پر جہاں فخر محسوس کر رے ہیں وہیں اس سب کے دوران پیش آنے والی مشکلات کا بھی ذکر کرتے ہیں۔

’ہم یہاں آئے تو ہمیں کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔ یہاں تک کہ جب ہم نے چار چار ٹن وزنی پائپ یہاں پہنچائیں تو مجھے ایک وقت میں لگا کہ پہاڑ کی چوٹی تک گلیشئیر کے قریب انھیں پہنچانا تو ناممکن ہے لیکن ہم نے ہمت نہیں ہاری اور آج آپ دیکھ رہے ہیں کہ ہم نے یہ سب بھی مکمل کر لیا ہے۔‘

پانی سے بجلی پیدا کرنے کے لیے پانی کا منبع نہایت اونچائی پر ہونا لازمی ہے لیکن ’بٹ کُلن‘ پہاڑ کی چوٹی تک پہنچنا ایک چیلنج تھا۔

محسن بتاتے ہیں کہ ’اس کے لیے پہاڑ کاٹ کر سڑک بنانی تھی اور پھر پہاڑ کاٹنے کے لیے بلاسٹنگ (دھماکہ کرنا) ضروری تھی۔ پوچھیے مت بلاسٹنگ کی اجازت اور دھماکہ خیز مواد جیلاٹین راڈز یہاں پہنچانا کس قدر طویل اور مشکل کام تھا۔‘

واضح رہے کہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں علیحدگی پسند گروہوں کی کارروائیوں کے باعث حکومت کی جانب سے دھماکہ خیز مواد کے استعمال کا اجازت نامہ حاصل کرنا انتہائی مشکل اور پیچیدہ مرحلہ ہے۔

 مُحسن جیسے کئی دیگر نوجوان بھی انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں نجی پن بجلی کے منصوبے قائم کر چکے ہیں اور ان منصوبوں سے تقریباً 100 میگاواٹ بجلی پیدا ہونے کا امکان ہے۔

ان نجی بجلی گھروں میں پیدا ہونے والی بجلی حکومت کی ترسیلی لائنوں کے ذریعہ سرکاری گرِڈ میں جمع ہوتی ہے اور پھر اسے مقامی حکومت یا کشمیر سے باہر کارپوریٹس یا حکومتوں کو فروخت کیا جاتا ہے۔

 واضح رہے کہ کشمیر پانی کے ذخائر سے مالامال ہے اور ماہرین نے تخمینہ لگایا ہے کہ یہاں 20 ہزار میگاواٹ سے زیادہ بجلی بنانے کے واضح امکانات موجود ہیں۔

تاہم حکومت کے پن بجلی کے منصوبوں سے فی الوقت اڑھائی ہزار میگاواٹ سے بھی کم بجلی پیدا کی جارہی ہے جو سردیوں میں ہزار میگاواٹ سے بھی کم رہ جاتی ہے جبکہ بجلی کی ڈیمانڈ سردیوں میں دستیاب پیداوار سے کئی گنا زیادہ بڑھ جاتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ دہائیوں سے کشمیر میں بجلی کا بحران ایک حل طلب مسئلہ بنا ہوا ہے۔

حالانکہ انڈین حکومت کے ادارے شمالی پن بجلی کارپوریشن یا این ایچ پی سی نے کئی پروجیکٹس کو حاصل کر لیا ہے لیکن وہاں پیدا ہونے والی بجلی شمالی انڈیا کی مختلف ریاستوں کو فراہم کی جاتی ہے۔

اس مسئلے پر سیاسی حلقوں میں دہائیوں سے ناراضگی پائی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

نجی پاور پلانٹس کا مستقبل

’بٹ کُلن‘ پہاڑ کی مخالف سمت میں گُنڈ گاؤں کے قریب ایک اور پہاڑ پر نوجوان صنعت کار عمر فاروق نے دو میگاواٹ صلاحیت والا پن بجلی گھر قائم کیا ہے جو کامیابی کے ساتھ دو سال سے چل رہا ہے۔

عمر کہتے ہیں کہ ’یہ وہ تجارت نہیں جس میں مارکیٹ کا خطرہ ہو۔ خام مال تو پانی ہے جو مفت مہیا ہے اور پھر بجلی کی ڈیمانڈ پوری دُنیا میں سپلائی سے زیادہ ہے۔ ہم نے اِدھر بجلی بنائی اُدھر وہ خریدار تک پہنچی۔ پروجیکٹ قائم کرنے میں جو دقتیں ہیں وہ اپنی جگہ لیکن جب منصوبہ شروع ہو جائے تو آپ پیچھے مُڑ کر نہیں دیکھتے۔‘

یہی وجہ ہے کہ عمر نے ایک اور منصوبے کے لیے کاغذی کارروائی شروع کر دی ہے۔

کشمیر میں پڑھے لکھے نوجوانوں کی بڑی تعداد بے روزگار ہے اور پچھلے کئی سال سے حکومت کارخانے لگانے کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔

لیکن کشمیر کو بیرونی دنیا سے ملانے کے لیے واحد زمینی راستہ ہمالیائی پہاڑی سلسلے سے ہو کر گزرتا ہے جو برفباری کی وجہ سے کئی کئی ماہ تک بند رہتا ہے۔

عمر کہتے ہیں کہ ’توانائی سیکٹر ہمارا مستقبل ہے۔ پوری دنیا اس وقت ماحول دوست انڈسٹری کی بات کرتی ہے۔ پن بجلی منصوبے سے کوئی ماحولیاتی آلودگی نہیں پھیلتی اور پانی سے توانائی حاصل کی جاتی ہے اور پانی واپس ندی نالوں میں جاتا ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ اگر حکومت دفتری کاغذی کارروائی کو آسان بنا دے تو نجی پن بجلی کے منصوبے ہمیں بجلی کے بحران سے بھی نجات دے سکتے ہیں اور بے روزگاری سے بھی۔‘