کشمیری اپنے محبوب پکوان ہریسہ کو ’باڈی ہیٹر‘ کیوں کہتے ہیں؟

    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اردو، سرینگر

تجارت پیشہ نوجوان عمر رفیقی سردیاں شروع ہوتے ہی عین فجر کے بعد سرینگر کی مشہور ہریسہ شاپ ’سلطانی ہریسہ‘ پر جاتے ہیں، وہاں ہریسہ کا لطف لیتے ہیں اور اپنے خاندان کے دوسرے افراد کے لیے ہریسہ گھر بھی لے جاتے ہیں۔ 

وہ کہتے ہیں کہ ہریسہ ذائقہ سے زیادہ تاثیر کے لیے کھایا جاتا ہے۔ ’مزہ تو ایسا ہے کہ سبھی پکوانوں پر بھاری ہے لیکن صبح صبح ہریسہ کھا کر میں دن بھر سردی اور بھوک سے بے فکر ہو جاتا ہوں، ہم تو ہریسہ کو ’باڈی ہیٹر‘ کہتے ہیں۔‘ 

عمر کی طرح ہزاروں کشمیری سردیوں کے دوران صبح صبح ہریسہ خانوں کا رُخ کرتے ہیں۔

ایک نوجوان فیضان نذیر نہایت معصوم لہجے میں کہتے ہیں کہ ’ہم صبح کی نماز کے لیے نکلتے ہوئے سوچ رہے ہوتے ہیں کہ نماز ختم ہوتے ہی ہریسہ کھائیں گے۔ بہت مزہ آتا ہے، میں سردیوں میں روز یہاں آتا ہوں۔‘

ہریسہ کیسے بنتا ہے؟

جو ہریسہ صبح صبح پروسا جاتا ہے، اس کی تیاری کا عمل ایک دن قبل شروع ہو جاتا ہے۔ قصائی سے گوشت لانے، اُسے کوُٹنے اور مختلف اقسام کے مسالے ملانے میں کئی گھنٹے لگتے ہیں۔

سرینگر کے فتح کدل علاقے میں واقع 150 سال پُرانی ہریسہ شاپ کے موجودہ مالِک عمر شفیع کہتے ہیں کہ ’بھٹی کے نیچے سوکھی لکڑی جلتی ہے اور اس میں پیوست مٹی کے بڑے برتن میں کشمیری چاول اور پانی ڈالا جاتا ہے اور تب تک اُبالا جاتا ہے جب تک چاول کی کھیر نہ بن جائے۔ پھر گوشت اور مسالے ڈال کر اسے رات کے تیسرے پہر تک بند کیا جاتا ہے اور صبح پانچ بجے کے قریب ہریسہ تیار ہو جاتا ہے۔‘

 یہ عمل کہنے میں آسان لگتا ہے لیکن اس میں محنت اور صبر کی ضرورت ہوتی ہے۔

عمر کہتے ہیں کہ ’چاول کی کھیر بناتے وقت یا مسالے ملاتے وقت تھوڑا سا ہیر پھیر بھی ہوا تو ہریسہ کا ذائقہ بگڑ سکتا ہے۔ اس میں صبر اور توجہ چاہیے۔‘

ہریسہ جسم کو گرم کیسے رکھتا ہے؟

کشمیر میں ہر سال دسمبر اور جنوری کے دوران 40 روز تک سخت ترین سردی ہوتی ہے اور درجہ حرات صفر سے نہایت کم رہتا ہے۔ عام زندگی کو تقریباً منجمد کر دینے والے اس عرصے کو ’چلّہٴ کلان‘ کہتے ہیں۔ 

سردی کے اس مشکل ترین مرحلے سے نمٹنے کے لیے لوگ طرح طرح کی چیزیں کرتے ہیں۔ گرم کپڑے اور کمبل تو ہیں ہی، مٹی سے بنے ایک چھوٹے برتن کو درختوں کی نرم شاخوں سے لپیٹ کر ’کانگڑی‘ بنائی جاتی ہے جس میں کوئلہ سُلگایا جاتا ہے لیکن جو لوگ باہر کام کرتے ہیں وہ ایسا نہیں کر سکتے۔

یہی وجہ ہے کہ صبح کام پر جانے سے پہلے ہریسہ کھانا نہ صرف پیٹ بھرنے کے لیے ہوتا ہے بلکہ لوگ جسم میں ایک طرح سے ’باڈی ہیٹر‘ نصب کر دیتے ہیں۔

’سلطانی ہریسہ‘ کے مالک عمر شفیع کہتے ہیں کہ ’گوشت میں پروٹین ہوتا ہے اور چاول میں کاربوہائیڈریٹس۔ لونگ، بڑی اور چھوٹی الائچی، دار چینی، سونف، لہسن اور دوسرے کئی گرم مسالے بھی ہیں جن کی تاثیر بہت گرم ہے۔‘

’یہ ایک ایسی ڈش ہے جو انسان کو جوش اور توانائی دیتی ہے۔ چونکہ ہریسہ آگ پر رات بھر پکتا ہے اور اس میں تیل یا گھی کا استعمال نہیں ہوتا، اس لیے گوشت اور مسالوں کی تاثیر نقصان دہ نہیں ہوتی۔‘

جدید ہریسہ خانے

کشمیر کی ثقافتی تاریخ پر گہری نظر رکھنے والے کالم نویس عبدالقیوم شاہ کہتے ہیں کہ چودھویں صدی کے دوران ایران اور مشرقِ وسطیٰ سے کشمیر آنے والے مسلم مبلغین نے ہریسہ یہاں متعارف کروایا تھا۔

ان کے مطابق ہمدان سے سیّد علی نام کے اعلیٰ درجے کے مبلغ یہاں سینکڑوں سادات کے ساتھ آئے تھے اور اُنھوں نے یہاں کے موسم کی مناسبت سے کئی پکوان متعارف کروائے جن میں ہریسہ اور زعفران قابل ذکر ہیں۔ 

اس طرح 600 سال سے ہریسہ کشمیریوں کا نہ صرف محبوب پکوان ہے بلکہ سردیوں کے خلاف ایک دفاعی حربہ بھی۔

یہی وجہ ہے کہ ہرسال ہریسے کی ڈیمانڈ میں اضافہ ہوتا ہے۔ نسل در نسل ہریسہ بیچنے والے تو نہایت مقبول ہیں لیکن اب جدید طرز کے ریستورانوں میں ہریسہ ملتا ہے۔

لال چوک میں ایسا ہی ایک ہریسہ خانہ ہے، جہاں کے مالک سبطین کہتے ہیں کہ انجینیئرنگ میں ڈگری لینے کے بعد اُنھوں نے ہریسہ بیچنے کو ہی ترجیح دی۔

وہ کہتے ہیں کہ ’مجھے کوئی کام اس سے بہتر نہیں لگتا۔‘ 

روایتی ہریسہ خانوں پر تو لوگوں کی قطاریں ہوتی ہیں لیکن جدید ہریسہ خانوں پر بھی تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی۔

اس کی وجہ پوچھنے پر سبطین نے بتایا کہ ’روایتی ہریسہ خانوں میں جوتے اتار کر فرش پر بیٹھ کر ہریسہ کھایا جاتا ہے لیکن اب وقت بدل گیا ہے۔ لوگ جلدی میں ہوتے ہیں، اُنھیں دفتر یا دکان پر پہنچنا ہوتا ہے۔ وہ کام پر جاتے ہوئے یہاں آتے ہیں، کرسی اور ٹیبل پر ہریسہ کھاتے ہیں اور نکل جاتے ہیں۔‘ 

جدید ہریسہ خانوں پر ہجوم کی ایک اور وجہ بھی ہے۔ روایتی ہریسہ خانوں پر فجر کے بعد چند گھنٹوں میں ہی ہریسہ ختم ہو جاتا ہے لیکن جدید ہریسہ خانوں پر یہ دوپہر تک ملتا ہے۔