’شاہین نے پاکستان کا فخر بحال کر دیا‘: سمیع چوہدری کا کالم

پاکستان

،تصویر کا ذریعہPAKISTAN CRICKET

    • مصنف, سمیع چوہدری
    • عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار

بالآخر شبِ غم تمام ہوئی اور پاکستان کے لیے اس جیت کی سحر طلوع ہوئی جو ناصرف ٹیم کے مورال کے لیے اشد ضروری تھی بلکہ بعض ’مبصرین‘ کی ٹی وی سکرینوں سے اٹھتے دھوئیں کا بھی شافی جواب تھی۔

اگرچہ سیمی فائنل تک پاکستان کی رسائی کے رستے ابھی بھی ان گنت اگر مگر سے اٹے پڑے ہیں مگر مسلسل چار میچز گنوانے کے بعد اس جیت نے پاکستان کو کچھ بھرم بحال کرنے کا موقع فراہم کیا اور امیدوں کو یکسر بجھنے سے بچا لیا۔

بنگلہ دیشی کپتان شکیب الحسن تو خود ہی دو روز پہلے واضح کر چکے تھے کہ حالیہ ورلڈ کپ ان کی تاریخ کی بدترین مہم جوئی ثابت ہوئی ہے اور اگرچہ سیمی فائنل کی دوڑ لاحاصل ہو چکی تھی مگر چیمپیئنز ٹرافی تک رسائی ابھی بھی کچھ نہ کچھ مقصدیت کا جواز تھی۔

خور شناسی بڑی نعمت ہے۔ شکیب الحسن بالآخر سمجھ ہی گئے کہ جس فارم کے ساتھ وہ بیٹنگ کرتے آ رہے تھے، بیٹنگ آرڈر میں تنزلی محمود اللہ کی نہیں، بلکہ ان کی اپنی ہونا چاہیے تھی۔ اور محمود اللہ کو بیٹنگ آرڈر میں ترقی دینے کا نتیجہ بھی واضح رہا کہ انھوں نے بیچ کے اوورز میں بنگلہ دیشی اننگز کو سنبھالا دیے رکھا۔

کرکٹ

،تصویر کا ذریعہTWITTER/@BCBTigers

محمود اللہ اور لٹن داس کی ساجھے داری وہ لمحہ تھا کہ جہاں ناصرف بنگلہ دیش کا یہ ڈراؤنا سپنا ختم ہو سکتا تھا بلکہ چیمپیئنز ٹرافی کی کوالیفکیشن کے امکانات بھی روشن ہو سکتے تھے۔ لیکن لٹن داس حسبِ ماضی اچھے آغاز کو بہتر انجام میں بدلنے سے قاصر رہ گئے۔

محمود اللہ کی البتہ بدقسمتی رہی کہ ایک مستحکم اننگز جوڑنے کے بعد وہ اس بولر کے دوسرے سپیل کے سامنے آ گئے جس نے پہلے سپیل میں بھی بنگلہ دیشی اننگز کے بخیئے ادھیڑ کر رکھ دیے تھے۔

جس لینتھ سے شاہین نے اس گیند میں معمولی سی جنبش پیدا کی، وہاں محموداللہ کی جگہ وراٹ کوہلی بھی ہوتے تو شاید یہی انجام مقدر ہوتا۔

شاہین آفریدی کا یہ بہترین دن تھا۔ پہلی ہی گیند سے انھوں نے نہ صرف وکٹ کی چال بھانپ لی بلکہ اپنی لینتھ میں بھی وہ ڈسپلن پیدا کیا کہ حریف ٹاپ آرڈر جائے رفتن نہ پائے ماندن کی تصویر بن کر رہ گیا۔ اور شاہین کا بہترین واپس آتے ہی پاکستانی فیلڈنگ میں بھی کھویا ہوا اعتماد لوٹ آیا۔

پاکستان

،تصویر کا ذریعہPAKISTAN CRICKET

اپنے پہلے سپیل ہی کی طرح ان کا دوسرا سپیل بھی درستی اور مہارت سے بھرپور تھا۔ اور جب گیند نے ہلکی سی ریورس سوئنگ کا بھی اشارہ دیا تو ان کے ہمراہ محمد وسیم نے شاندار سپیل پھینکتے ہوئے بنگلہ دیشی بیٹنگ کا قصہ مختصر کر دیا۔

اس ورلڈ کپ میں تاحال پاکستان کی بیشتر کسمپرسی پہلے پاور پلے سے وابستہ رہی ہے۔ اگر بولنگ پہلے پاور پلے میں وکٹیں حاصل کرنے سے معذور نظر آ رہی تھی تو بیٹنگ بھی پہلے پاور پلے میں فیلڈنگ کی قیود کا صحیح فائدہ اٹھانے سے چُوک رہی تھی۔

اور پھر میڈیا کے محاذ پر جاری مارا ماری نے پاکستان کی آن فیلڈ کاوشوں سے بڑھ کر آف فیلڈ چہ میگوئیوں کا بازار گرما رکھا تھا۔ اس ہاہاکار کا ایک نتیجہ تو یہ نکلا کہ انضمام الحق 'مفادات کے ٹکراؤ' کے پے در پے الزامات پر اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے۔

اور پھر ٹیم سلیکشن میں بھی پاکستان نے حیران کن طور پر امام الحق کو ڈراپ کرنے کا صحت مندانہ فیصلہ کر ڈالا، جس کی بدولت فخر زمان الیون میں واپس آئے اور انہی کی جارحیت نے ابتدا میں ہی بنگلہ دیشی بولنگ کے اوسان خطا کر دیے۔

پاکستان

،تصویر کا ذریعہPAKISTAN CRICKET

فخر زمان ایک ایسے کھلاڑی ہیں کہ اگر اپنی روانی میں آ جائیں تو کسی بھی حریف کا قصہ تمام کر دیتے ہیں۔ گو ابتدا میں وہ قدرے محتاط رہتے ہیں مگر جونہی پچ کی چال سے ہم آہنگ ہو جائیں، اس کے بعد انھیں روکنا بہت محال رہتا ہے۔

یہاں شاہین نے پاور پلے میں جو دام بنگلہ دیشی بیٹنگ کے لیے بچھایا، اسی کی فراہم کردہ تقویت سے فخر نے بنگلہ دیشی بولنگ پر یوں حملہ کیا کہ شکیب الحسن بوکھلا کر رہ گئے۔ بحیثیتِ مجموعی تینوں شعبوں میں پاکستانی ٹیم حریف کیمپ پر یکسر حاوی نظر آئی اور اسی بدولت یہ سبقت بھی پاکستان کا مقدر ٹھہری۔

یہ جیت اگرچہ بہت دیر سے آئی اور شاید ورلڈ کپ کے سیاق و سباق میں اس قدر سودمند بھی ثابت نہ ہو پائے مگر جس دباؤ کا شکار بابر اعظم پچھلے دو ہفتوں میں رہے ہیں، ان کے لیے بہرحال یہ ایک تازہ سانس سی فرحت بخش ہو گی۔