شی جن پنگ کے تیسرے دور کے آغاز کے ساتھ چینی شیئرز کی امریکی مارکیٹ میں گراوٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, اینا بیل لیانگ
- عہدہ, بزنس رپورٹر،
- مقام, بی بی سی نیوز
امریک بازارِ حصص (سٹاک مارکیٹ) میں لسٹڈ چینی کمپنیوں کے حصص ان خدشات کی وجہ سے گروٹ کا شکار ہیں کہ صدر شی جن پنگ اقتصادی ترقی کی قیمت پر اپنے نظریات پر مبنی اپنی پالیسیاں جاری رکھیں گے۔
چینی ٹیکنالوجی کمپنیاں علی بابا اور بیدو کے حصص کی نیویارک کی مارکیٹ میں 12 فیصد سے زیادہ گر گئیں۔
سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت اس کی سخت کورونا وائرس پابندیوں کی وجہ اس کی نمو میں کمی آ سکتی ہے۔
ایک تجزیہ کار نے کہا کہ بیجنگ میں ترقی کو فروغ دینے کے اقدامات اور اس کی صفر کوویڈ پالیسیوں کے درمیان ایک ’طاقت کی کشمش‘ جاری ہے۔
پیر کو ٹیکنالوجی کی ایک بڑی کمپنی ’علی بابا‘ کے حصص کی قیمتیں نیویارک سٹاک ایکسچینج میں 12.5 فیصد گر کر بند ہوئیں، جو دن کے اوائل میں 52 ہفتے کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے تھے۔
انٹرنیٹ کمپنی بیدو (Baidu) کو 12.6 فیصد کا نقصان ہوا، جبکہ ای کامرس پلیٹ فارم ’پنڈوڈو‘ (Pinduoduo) کے حصص کی قیمتوں میں تقریباً 25 فیصد کمی ہوئی۔
چینی کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں یہ کمی چین کی حکمراں کمیونسٹ پارٹی کے اتوار کو ایک دہائی میں ہونے والی دو بار کانگریس کے اجلاس کے اختتام کے بعد سامنے آئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
ایک ہفتہ تک جاری رہنے والے اس اس اجلاس کے دوران صدر شی جن پنگ نے تیسری مدت کے لیے صدارتی عہدے کی ذمہ داریاں سنبھالی ہیں، جو کہ خود اپنی جگہ ایک تاریخ ہے۔ انھوں نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو کم کرنے کے لیے ملک کے سخت اقدامات میں نرمی کے لیے کوئی ٹائم لائن پیش نہیں کی۔
مالیاتی، مینوفیکچرنگ اور شپنگ کے شنگھائی کے مرکز سمیت چین کے کچھ بڑے شہروں پر لاک ڈاؤن عائد کیے جانے پر صفر کوویڈ پالیسیوں کے دباؤ کا سامنا ہے۔
بی این پی پریباس اثاثہ جات کی منیجمنٹ سے تعلق رکھنے والے مینیو لیو نے بی بی سی کو بتایا کہ چین کی معیشت کو ’پالیسی محرک اور متعدد اقسام کی نمو کے چیلنجوں کا سامنا ہے جس میں کوویڈ پابندیاں، پراپرٹی مارکیٹ میں مندی اور برآمدات میں کمی‘ شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم توقع کرتے ہیں کہ (چینی) حکومت اپنی صفر کوویڈ پالیسی پر مسلسل داخلی دباؤ کا سامنا کرے گی۔‘
برطانوی بینک ایچ بی ایس سی کے گریٹر چائنا کے ماہر اقتصادیات، ارِن زِن نے سرمایہ کاروں کو ایک نوٹ میں کہا کہ اگرچہ پیر کو شائع ہونے والے سرکاری اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ جولائی اور ستمبر کے درمیان معیشت نے توقع سے بہتر شرح پر ترقی کی تاہم ’ابھی بھی تناؤ کے آثار موجود ہیں کیونکہ کوویڈ-19 کی جاری وبا کے پھر سے بھڑک اٹھنے اور پراپرٹی مارکیٹ کی کمزوری کی وجہ سے کھپت کمزور رہی ہے‘۔
نیٹیکسس کے سینئر ماہر اقتصادیات ترِن نگوین نے بی بی سی کو بتایا کہ ’وضاحت کی کمی کے ساتھ، لوگ یہ فرض کر رہے ہیں کہ ہم نے جو سمت دیکھی ہے وہ اور زیادہ مضبوط ہو گی۔ یہی سبب ہے جس کی وجہ سے حصص کی فروخت میں اضافہ ہوا اور چینی معیشت کی بڑھتی ہوئی توقعات آگے بڑھ رہی ہیں‘۔
منگل کو ہانگ کانگ اور مین لینڈ چین میں اسٹاک مارکیٹیں گزشتہ روز کی گراوٹ کے بعد قدرے نیچے آگئیں۔
ہانگ کانگ کے سٹاک ایکسچینج کا بینچ مارک ’ہینگ سینگ انڈیکس‘ پیر کو 6 فیصد سے زیادہ گرا، جبکہ شنگھائی کمپوزٹ 2 فیصد کم ہوا۔











