شی جن پنگ تیسری بار چین کے صدر بن گئے، اعلیٰ سطحی کابینہ میں شامل افراد کون ہیں؟

،تصویر کا ذریعہEPA
- مصنف, وین یان سونگ اور ٹیسا وونگ
- عہدہ, بی بی سی نیوز
چین کے صدر شی جن پنگ تیسری مرتبہ صدر کے عہدے پر براجمان ہو گئے ہیں اور انھوں نے صدر کے عہدے پر منتخب ہوتے ہی اپنی اعلیٰ سطحی کابینہ کا اعلان کیا ہے جس کے ارکان اب چین کے نئے حکمران ہوں گے۔
ان میں شنگھائی سے پارٹی کے سابق سربراہ لی قیانگ بھی شامل ہیں جو اب چین کے نئے وزیر اعظم ہوں گے۔
چین کی پولیٹبرو سٹینڈنگ کمیٹی صدارتی کابینہ کے برابر قرار دی جاتی ہے۔ اس کے ارکان نہ صرف پارٹی کے اعلیٰ ترین اور اشرافیہ طبقے سے تعلق رکھتے ہیں بلکہ یہاں تک پہنچنے والوں کو اکثر نہ صرف ایک شاندار سیاسی ٹریک ریکارڈ کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ پارٹی کی اندرونی دشمنیوں سے نمٹنے کے لیے ہوشیاری سے بھی کام لینا پڑتا ہے۔
چین میں صدارتی مدت ختم ہونے کے بعد اس قائمہ کمیٹی میں بڑے پیمانے پر ردوبدل ہونا کوئی غیر معمولی بات نہیں اور اس مرتبہ بھی کچھ ایسا ہی ہوا ہے۔
چینی صدر کی خود منتحب کردہ اس قائمہ کمیٹی کے ارکان میں ژاؤ لیجی اور وانگ ہننگ کے علاوہ زیادہ تر نئے چہرے ہیں جن میں سے بیشتر کو چینی صدر کا وفادار سمجھا جاتا ہے۔
درج ذیل میں ان افراد کی تفصیل ہے، جو چینی صدر شی جن پنگ کی سربراہی میں چین کی سیاسی طاقت کا مرکز رہیں گے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
لی قیانگ
63 سالہ لی قیانگ اس وقت شنگھائی سے پارٹی سیکرٹری ہیں۔ انھیں چینی صدر شی جن پنگ کا سب سے قابل اعتماد ساتھی سمجھا جاتا ہے۔
جب شی جن پنگ صوبہ جیانگ سے پارٹی سربراہ تھے، تو اس وقت لی قیانگ نے ان کے چیف آف سٹاف کے طور پر خدمات انجام دیں تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے قبل رواں برس شنگھائی میں کووڈ وبا کے پھلاؤ کے دوران ان کی ٹیم کے وبا سے نمٹنے کے اقدامات متنازع تھے اور وہاں کے شہریوں نے ان پر تنقید کی تھی۔
یہ بھی قیاسی آرئیاں کی جا رہی تھیں کہ یہ معاملہ ان کے سیاسی مستقبل پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
لیکن پولیٹبرو قائمہ کمیٹی میں ان کی تقرری کے ساتھ ہی یہ واضح ہو گیا ہے کہ چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ وفاداری نے انھیں ان کے سامنے اچھا مقام دے رکھا ہے۔
قائمہ کمیٹی کے ارکان کے عہدوں کی تصدیق اگلے سال ہو جائے گی اور بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ لی قیانگ اگلے وزیر اعظم اور صدر شی جن پنگ کے بعد سیکنڈ ان کمانڈ ہوں گے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
ژاؤ لیجی
65 سالہ ژاؤ لیجی کے پاس اس وقت مرکزی کمیشن برائے نظم و ضبط کے سربراہ کا سیاسی عہدہ ہے۔
ژاؤ کو چینی قیادت میں ایک ابھرتے ہوئے ستارے کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور ان کا بھی چینی صدر شی جن پنگ کی طرح شانزی صوبے سے قریبی تعلق ہے۔
شنگھائی کی صوبائی حکومت میں شامل ہونے کے بعد، وہ تیزی سے سیڑھی چڑھتے ہوئے 42 سال کی عمر میں گورنر بن گئے تھے اور اس طرح وہ سب سے کم عمری میں صوبائی گورنر بننے والے شخص ہیں۔
انسداد بدعنوانی کے ادارے کے سربراہ کے طور پر ژاؤ پارٹی میں نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے ذمہ دار ہیں اور انھوں نے کئی برسوں کے دوران متعدد سینئر افسران کی رشوت لینے کی اطلاع دی ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
وانگ ہننگ
چین کی کمیونسٹ پارٹی کے سیکریٹریٹ کے فرسٹ سیکرٹری 67 سالہ وانگ سابق پروفیسر اور سکالر سنیئر سیاستدانوں کی نظروں میں آنے کے بعد تیزی سے بڑھتے ہوئے اعلیٰ عہدوں تک پہنچے ہیں۔
ان کی سفارش اس وقت کے صدر جیانگ زیمن کو کی گئی تھی اور انھیں ترقی دے کر جیانگ کا مشیر بنایا گیا تھا۔
پارٹی کے سیاسی نظریہ ساز کے طور پر، وانگ کو کمیونسٹ پارٹی کے بہت سے منصوبوں کے پیچھے کا دماغ سمجھا جاتا ہے، جن میں تین رہنماؤں کے نظریات شامل ہیں: یعنی ہوجن تاؤ کا ترقی کے بارے میں سائنسی نقطہ نظر اور شی جن پنگ کی سوچ کا عکاس چین کا میگا پروجیکٹ بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو بھی ان کا خیال ہی سمجھا جاتا ہے۔
ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کی پارٹی میں سب سے بنتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
کائی چی
66 سالہ کائی چی اس وقت بیجنگ کے میئر ہیں اور چینی صدر شی جن پنگ کے اس قریبی ساتھی نے فوجیان اور ژی جیانگ صوبوں میں چینی رہنما کے ماتحت کام کیا ہے اور ان سے مکمل وفاداری کا اظہار کیا۔
ان کی زیر قیادت اس سال کے شروع میں کووڈ وبا کے عروج کے دوران بیجنگ کی سرمائی اولمپکس کی میزبانی کو پارٹی کے اندر ایک کامیابی کے طور پر دیکھا گیا اور ان کو سراہا گیا تھا۔
لیکن وہ اس وقت تنازعات کا شکار ہوئے تھے جب انھوں نے دارالحکومت کی آبادی کو کم کرنے کے لیے سنہ 2017 میں ایک منصوبہ شروع کیا، جس نے بالآخر بہت سے کم آمدنی والے افراد کو شہر سے باہر نکالنے پر مجبور کر دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہReuters
ڈنگ زوجیانگ
صدارتی دفتر اور جنرل سیکرٹری کے ڈائریکٹر ڈنگ زوجیانگ کی عمر اس وقت 60 برس ہے اور وہ ایک تربیت یافتہ انجینئر ہیں۔
ڈنگ نے اپنے سیاسی کیرئیر کا آغاز شنگھائی میں حکومت سے الحاق شدہ ایک ریسرچ سینٹر سے کیا تھا۔
اگرچہ ان کے پاس صوبائی سطح کے پارٹی سیکریٹری یا گورنر کے طور پر تجربے کی کمی تھی، جسے عام طور پر اقتدار کی سیڑھی پر اوپر چڑھنے کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے لیکن وہ سنہ 2007 میں شی جن پنگ کے سیکریٹری بنے۔
وہ سنہ 2014 سے صدارتی دفتر کے سربراہ ہیں اور مؤثر طریقے سے شی کے چیف آف سٹاف کے طور پر کام کر رہے ہیں۔
وہ چینی صدر کے خیالات اور سوچ کے بڑے حمایتی ہیں اور شی جن پنگ کے سب سے قابل اعتماد معاونین میں سے ایک ہیں۔
وہ چین کے اندر اور بیرون ملک کئی دوروں میں چینی صدر کے ساتھ رہے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ انھوں نے حالیہ برسوں میں کسی دوسرے عہدیدار کے مقابلے میں شی کے ساتھ سب سے زیادہ وقت گزارا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
لی شی
چین کے صوبے گوانگ ڈونگ سے پارٹی سیکرٹری 66 سالہ شی جن پنگ کے وفادار ہیں اور ان کے خاندان کے ساتھ ان کے قریبی تعلقات ہیں۔
لی کو لیاؤننگ صوبے میں سنہ 2017 میں جھوٹے معاشی اعداد و شمار کے ایک سکینڈل سے نمٹنے کے لیے ایک بحران حل کرنے والے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
وہ سیاسی طور پر چین کے اہم شہر یانان میں پارٹی کے رہنما تھے، جسے ماؤ زے تنگ نے دوسری عالمی جنگ کے دوران پارٹی کے ہیڈ کوارٹر کے طور پر استعمال کیا تھا اور جہاں شی نے سات سال سخت محنت میں گزارے تھے۔
گوانگ ڈونگ میں لی شی نے ٹیکنالوجی کی صنعت کی ترقی اور معاشی اصلاحات پر زور دیا۔ انھوں نے نئی تجارتی پالیسیاں بھی جاری کیں اور خطے میں علاقائی انضمام کو فروغ دیا۔










