’پاکستان کا پرچم انڈیا کے ترنگے سے بڑا اور اونچا کیوں؟‘ یہ فلیگ کوڈ کی خلاف ورزی ہے‘

ورلڈ کپ کھیلنے والی ٹیم کے پرچم

،تصویر کا ذریعہsocial media

،تصویر کا کیپشنورلڈ کپ کھیلنے والی ٹیم کے پرچم

ان دنوں انڈیا میں جشن کا ماحول ہے۔ جہاں ایک جانب کرکٹ کا ورلڈ کپ جاری ہے وہیں آن لائن خریداری پر زبردست ڈیلز دی جا رہی ہے۔ ایسے میں اگر آپ کی فیڈ پر لولو مال کا اشتہار نظر آ جائے تو آپ اسے دیکھنے سے خود کو نہیں روک پاتے۔

آج ایسا ہی ہوا میرے موبائل پر پہلی ہی فیڈ لولو مال کی تھی۔ جو لوگ لولو مال کو جانتے ہیں انھیں اچھی طرح پتا ہے کہ خلیجی ممالک کے ساتھ اس کے مالز انڈیا میں بھی اپنی مثال آپ ہیں۔

لیکن یہاں بات کچھ اورتھی اور وہ یہ تھی کہ ورلڈ کپ کی مناسبت سے کیرالہ کے لولو مال نے اپنے ایک مال کو سجایا تھا جس میں ان تمام ممالک کے پرچم لہرا رہے تھے جو کہ ورلڈ کپ میں شرکت کر رہے ہیں۔

تنازع اس بات پر ہے کہ اس میں انڈیا کا قومی پرچم ترنگا پاکستان کے قومی پرچم سے سائز میں چھوٹا ہے اور اسے پاکستانی پرچم سے نیچے بھی رکھا گيا ہے۔

صحافی پردیپ بھنڈاری نے لولو مال کی تصویر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’یہ تصویر کیرالہ کے لولو مال کی ہے۔ جاری کرکٹ ورلڈ کپ کا جشن منانے کے لیے پاکستان کا جھنڈا، انڈین ترنگے کے اوپر لگایا گیا ہے۔ یہ انڈین پرچم کے قانون کی خلاف ورزی ہے، متعلقہ حکام اس کا نوٹس لیں۔‘

جھنڈا

،تصویر کا ذریعہsocial media

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام, 1

اس طرح کے بہت سارے ٹویٹس ہیں جن میں لولو مال کو اس بات کے لیے نشانہ بنایا گیا ہے اور تصاویر پوسٹ کی گئی ہیں۔

مہارتھی نامی ایک صارف نے لولو مال میں آویزاں پرچموں کی تصویر ڈالتے ہوئے لکھا کہ ’یہ لاہور، پشاور یا اسلام آباد میں نہیں، یہ کیرالہ میں ہے!! یہ تصویر کوچی کے لولو مال میں لی گئی ہے جہاں ورلڈ کپ کا جشن منانے کے لیے مختلف ممالک کے جھنڈے آویزاں ہیں۔‘

انھوں نے مزید لکھا کہ فلیگ کوڈ یعنی پرچم کے قانون کے مطابق ’کوئی دوسرا جھنڈا ترنگے کے اوپر، اس سے اونچا یا اس کے ساتھ نہیں لگایا جانا چاہیے۔ دوسرے جھنڈوں کے ساتھ بیک وقت ڈسپلے کی اجازت نہیں ہے۔‘

انھوں نے لولو مال کے مالک یوسف علی کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھا کہ ’پاکستان کا جھنڈا انڈیا کے جھنڈے سے اوپر اور بڑا کیوں ہے؟ اس کے ذریعے آپ اپنے صارفین کو کیا پیغام دینے کی کوشش کر رہے ہیں؟ کیا آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ پاکستان آپ کے لیے ترجیح ہے؟‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام, 2

لیکن دیگر لوگوں ان اعتراضات کا واضح الفاظ میں جواب دیا ہے۔ سری کانت کے ایم آر نے بی جے پی پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ ’بی جے پی کا آئی ٹی سیل دنیا کی بڑی فیک فیکٹری ہے۔ جلد ہی اس کا خاتمہ ہوگا۔ اس میں وقت لگ سکتا ہے لیکن مستقبل میں ان پر کوئی یقین نہیں کرے گا۔ در حقیقت سارے پرچم ایک ہی سائز کے ہیں۔‘

جبکہ دھرمیش جٹ نامی صارف نے لکھا کہ تمام پرچم ایک ہی سائز کے ہیں اور ایک ہی سطح پر لگے ہیں۔ آپ اسے دوسرے زاویے سے دیکھیں تو دوسرے پرچم بڑے نظر آئيں گے۔ یہ اس بات پر منحصر ہے کہ آپ اسے کس زاویے دیکھتے ہیں۔ کس طرح تصویر لیتے ہیں۔ اور آپ کس فلور سے تصویر لے رہے ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

X پوسٹ نظرانداز کریں, 3
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام, 3

فیکٹ چیک کرنے والی ویب سائٹ آلٹ نیوز کے شریک بانی محمد زبیر نے بھی اسے فیک قرار دیا ہے۔ انھوں نے لکھا کہ ’بہت سے دائیں بازو کے انفلوئنسروں نے کیرالہ میں کوچی کے لولو مال کی تصویر شیئر کی ہے جہاں ایک پاکستانی پرچم انڈین پرچم سے اوپر اور بڑا نظر آ رہا ہے۔ لیکن حقیقت یہ نہیں ہے۔ تمام پرچم ایک ہی سائز کے ہیں اور ایک ہی سطح پر ہیں۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 4
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام, 4

انھوں نے دوسرے ٹویٹس میں کئی تصاویر ڈالی ہیں اور اس کے ذریعے اپنی بات ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ بہت سے لوگوں نے انھیں سچائی بتانے کے لیے شکریہ ادا کیا ہے تو کئی لوگوں نے انھیں ٹرول بھی کیا ہے۔

دی انٹینٹ ڈیٹا نامی ہینڈل نے لکھا ہے کہ لولو مال کی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ انڈین پرچم پاکستانی پرچم کے نیچے نہیں لگایا گيا ہے۔ جبکہ انٹینٹ نے اپنا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’سوشل میڈیا انفلوئنسرز خاص ایجینڈے کے تحت پاکستانی پرچم کو کسی خاص زاویہ سے بڑا دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 5
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام, 5

لولو مال کیرالہ کے تاجر ایم اے یوسف علی نے سنہ 2000 میں شروع کیا تھا۔ اس کا ہیڈکوارٹر ابوظہبی میں ہے جبکہ اس سوپر مارکیٹ کی برانچز کئی ممالک میں ہیں۔ صرف خلیجی ممالک میں اس کے 238 سٹورز ہیں۔ اس کے 13 مالز خلیجی ممالک میں ہیں جبکہ پانچ مالز انڈیا میں ہیں۔ تازہ ترین مال اترپردیش کے دارالحکومت لکھنؤ میں کھلا ہے جو کہ انڈیا میں لولو کا سب سے بڑا مال ہے۔ اس کے علاوہ ملائیشیا اور انڈونیشیا میں بھی اس کی برانچز ہیں۔