حازم بنگوار: ’وہ قابلیت کی بنا پر اسسٹنٹ کمشنر بنے، ان سے فیشن پر نہیں صرف کارکردگی پر سوال ہو گا‘

،تصویر کا ذریعہFacebook
کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آباد میں اسسٹنٹ کمشنر کا چارج سنبھالنے والے حازم بنگوار نے چند دنوں میں ہی سوشل میڈیا کی توجہ حاصل کر لی ہے تاہم یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ ان کی بے مثال شخصیت کو وائرل ہونے میں اتنا عرصہ کیوں لگا۔
صرف ٹوئٹر پر نظر دوڑائی جائے تو کوئی انھیں ’سٹائلش‘ کہہ رہا ہے تو کوئی ’فیشن ایبل‘۔ بعض صارفین نے یہ بھی کہا کہ ایک ایسی شخصیت کو سرکاری عہدے میں دیکھ کر خوشی ہوئی ہے۔
وہ کراچی کی ضلعی انتظامیہ کا حصہ ہوتے ہوئے صفائی ستھرائی، تجاوزات کے خاتمے اور پرائس کنٹرول وغیرہ کے لیے دورے کرتے ہیں اور ساتھ ساتھ اپنے شوق کے لیے موسیقی اور فلاحی کاموں کو بھی وقت دیتے ہیں۔
مگر کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو ان کی کارکردگی اور قابلیت کے بجائے سوشل میڈیا پر ان کی تصاویر پر سوال اٹھا رہے ہیں اور بظاہر ان کے کپڑوں نے انھیں ’کلچرل شاک‘ دیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہFacebook
’اگر میں ماڈرن ہوں بھی تو کون ماڈرن نہیں ہونا چاہتا؟‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
حازم بنگوار نے بیرون ملک فیشن ڈیزائن اور مارکیٹنگ کے شعبے میں گریجویشن کی اور بعد میں موسیقی کی صنعت سے وابستہ ہوگئے۔ تاہم ان کے ایک فیصلے نے ان کی زندگی کا رُخ پلٹ دیا۔
مقامی میڈیا کو دیے انٹرویوز میں وہ بتاتے ہیں کہ ’میرے ڈیڈ ڈی آئی جی رہ چکے ہیں، انھیں کافی شوق تھا کہ ان کا ایک بچہ گورنمنٹ میں جائے۔‘
ان کے والد علی اکبر بنگوار پولیس کے سابق ڈی آئی جی رہ چکے ہیں جبکہ ان کی والدہ فیروز اکبر کا تعلق عراق سے ہے اور وہ آرکیٹیکٹ ہیں۔
حازم بنگوار کا کہنا ہے کہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد جب وہ پاکستان واپس آئے تو ’لوگ کہتے تھے تم یہاں نہیں رہ سکو گے، تم یہاں ٹِک نہیں سکو گے۔ مگر مجھ میں اب یہ ضد آ گئی تھی۔ مجھ میں ضد آ گئی تو ایس پی ایس سی (سندھ میں مقابلے کے) امتحانات دیے اور پہلی ہی باری میں پاس ہو گیا۔‘
موسیقی میں اپنے کریئر کے حوالے سے انھوں نے کہا ہے کہ ’لندن میں یونیورسٹی کے دوران سٹوڈیو جاتا تھا۔ وہاں ایک پروڈیوسر کو میرا گانا پسند آیا، نیو یارک میں ایک ریکارڈ لیبل سے کال آئی کہ آ جاؤ۔ والدہ کے ساتھ لندن سے امریکہ گئے، پہلی ڈیل سائن کی۔‘
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہFacebook
وہ کہتے ہیں کہ امریکہ میں انھوں نے پِٹ بُل، جیسی جے اور نِکی میناج جیسے گلوکاروں کے ساتھ کام کیا مگر پھر ’اچانک دماغ میں بات آئی کہ دوسروں کے لیے کر سکتا ہوں تو اپنے لیے کیوں نہیں کرتا۔ یہاں میں نے پہلا گانا ’حرام‘ ریلیز کیا۔ کافی لوگوں نے اسے پسند کیا۔‘
تو یوں ’صبح سیکریٹریٹ اور شام کو سٹوڈیو‘ ان کی زندگی کا معمول بن گیا۔ تاہم وہ کہتے ہیں کہ ’دونوں چیزیں بیلنس ہو رہی ہیں۔‘
ان کی فلاحی تنظیم ساحلی علاقوں کی صفائی سمیت دیگر ماحولیاتی منصوبوں پر کام کرتی ہے۔
خود کو ماڈرن کہے جانے پر وہ کہتے ہیں کہ ’یہاں مجھ سے زیادہ دوسرے لوگ ماڈرن ہیں، میں نے تو ایسا کچھ نہیں کیا۔ اگر ماڈرن ہوں بھی تو کون ماڈرن ہونا نہیں چاہتا۔‘
’ہم دن، رات کام کرتے ہیں۔ ڈی سی سمیت تمام سینیئرز حمایت کرتے ہیں۔ ہم عوام کو سہولت دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم تجاوزات ہٹاتے ہیں، اشیا کی قیمتیں کنٹرول کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ہسپتالوں کے دورے کرتے ہیں۔ کسی کو ناجائز تنگ نہیں کرتے۔‘
اس سے قبل وہ اسسٹنٹ کمشنر ریوینیو سینٹرل بھی رہ چکے ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
سوشل میڈیا پر بھی گذشتہ روز سے ان کے چرچے جاری ہیں۔
صحافی ابصا کومل نے ان کے فیشن سینس کی تعریف کرتے ہوئے لکھا کہ ’وہ نارتھ ناظم آباد کے اسسٹنٹ کمشنر ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی سٹائل گیم کو اٹھا کر رکھتے ہیں۔ اس انتخاب پر سندھ حکومت کو شاباش۔‘
خوشبو چانڈیو ان کے حوالے سے کہتی ہیں کہ ’ہمارے تعلیمی نظام نے ذاتی تعصب اور عقائد چھوڑ کر میرٹ کا انتخاب کیا ہے۔‘
سعدیہ مظہر کہتی ہیں کہ ’مجھے بے حد خوشی ہے کہ ہمارے پاس ان جیسے آرٹ سے محبت کرنے والے لوگ موجود ہیں۔ بدقسمتی سے تنگ نظر اب بھی ان کی پسند نا پسند کو جواز بنا کر ان پر تنقید کر رہے ہیں۔ جبکہ مجھے یقین ہے یہ انسانیت سے محبت کرنے والے بھی ہیں۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 3
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 4
جبکہ مخالفین کو جواب دیتے ہوئے زیب النسا نے کہا کہ ’اگر آپ ان کی بُرائی کر رہے ہیں تو آپ کو نئی زندگی کی ضرورت ہے۔‘
مقدس فاروق نے کہا کہ ’محنت اور قابلیت کی بنیاد پر اسسٹنٹ کمشنر بننے والے حازم بنگوار کے لیے نیک خواہشات۔۔۔ ان پر تنقید کرنے والے انتہائی چھوٹی سوچ کے مالک ہیں۔ خود تو زندگی میں کچھ نہیں کر پاتے لیکن ان کے لیے سوشل میڈیا پر دوسروں کی ذات کا تمسخر اڑانا بہت آسان ہوتا ہے۔‘
ادھر ایمن عباسی نے حازم کو مشورہ دیا ہے کہ ’اگر آپ نے اپنی صلاحیت کا 30 فیصد کام بھی کیا تو نارتھ ناظم آباد میں تبدیلی آ جائے گی۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ کیا آپ صرف دکھاوا ہیں یا واقعی تبدیلی لانے کی طاقت رکھتے ہیں۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 5
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 6
احمد فرہاد کا کہنا ہے کہ وہ ’محنت اور قابلیت کی بنیاد پر اس نوکری تک پہنچے۔ اس سے سوال صرف اس کی کارکردگی اور فرض منصبی کا بنتا ہے۔ ان کا فیشن، ان کے کپڑے۔۔۔ ذاتی مسٸلہ ہے۔
’بنگوار نہ تو مفتی لگا ہے اور نہ کسی مسجد کا پیش امام۔ وہ ایک انتظامی عہدے پر بیٹھا افسر ہے۔۔۔ کیٹ واک کر کے اس سیٹ تک نہیں، محنت کر کے پہنچا ہے۔ اس سے تقاضے پروفیشنل رکھیے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 7












