’خاتون کو گھورنے‘ پر تین دلت افراد کا قتل: وجہ زمین کا تنازع تھا یا کچھ اور؟

مدھیہ پردیش

،تصویر کا ذریعہShuriah Niazi

    • مصنف, شوریا نیازی
    • عہدہ, بی بی سی ہندی کے لیے

مدھیہ پردیش کے ضلع داموہ کے گاؤں دیوران میں پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے اور کئی سینیئر انتظامی افسران بھی یہاں موجود ہیں۔ 

منگل کو دیوالی کے ایک دن بعد تین دلت افراد کو مبینہ طور پر ’ایک عورت کو گھورنے‘ پر گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ پولیس اور انتظامیہ یہاں اس تنازعے کے پیچھے موجود وجوہات کا تعین کرنے کے لیے کئی مرتبہ آئے ہیں۔ 

پولیس سپرنٹنڈنٹ ڈی آر تنیوار نے بی بی سی کو بتایا کہ چار لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ تین دیگر کی تلاش جاری ہے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ یہ افراد بھی جلد گرفتار کر لیے جائیں گے۔ 

مقامی پولیس کے مطابق منگل کی صبح جگدیش پٹیل اور گھنڈی اہروار کے خاندانوں کے درمیان دیوران گاؤں میں تنازع پیدا ہوا۔ 

یہ معاملہ اس قدر بڑھ گیا کہ جگدیش پٹیل کے خاندان نے گھنڈی خاندان پر فائرنگ کر دی جس کے باعث تین افراد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے اور دو دیگر سخت زخمی ہوئے۔ زخمی افراد کو ضلعی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ 

ساٹھ سالہ گھنڈی اہروار، 58 سالہ رام پیاری اہروار اور ان کے 32 سالہ بیٹے مانک لال اہروار موقع پر ہلاک ہو ئے جبکہ 30 سالہ مہیش اہروار اور 28 سالہ ببلو اہروار کو تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ 

مقامی پولیس نے جگدیش پٹیل، سوربھ پٹیل، منیش پٹیل، شبھم پٹیل، کوڈو پٹیل اور گھنشیام پٹیل کے خلاف قتل اور شیڈول ذاتوں کے خلاف جرائم کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔ 

یہ تمام ملزمان واقعے کے بعد فرار ہو گئے تھے مگر اب ان میں سے چار کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ 

مدھیہ پردیش

،تصویر کا ذریعہShuriah Niazi

قتل کی وجہ اب بھی واضح نہیں 

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

کہا جا رہا ہے کہ مانک لال اہروار نے مرکزی ملزم جگدیش پٹیل کی اہلیہ کو گھورا جس پر یہ تنازع شروع ہوا۔ 

اس کے علاوہ جنسی استحصال سمیت زمین کے تنازعے کو بھی وجہ قرار دیا جا رہا ہے مگر پولیس کا کہنا ہے کہ قتل کی وجہ اب بھی واضح نہیں ہے۔ 

پٹیل خاندان اس گاؤں میں بلند رتبے کا حامل ہے اور ان کے پاس ایک لائسنس والی پستول بھی ہے جس کا استعمال اس مبینہ قتل میں کیا گیا۔ 

دونوں خاندانوں کے گھر اور زمینیں قریب ہی ہیں۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ پٹیل خاندان کا مقصد دلت خاندان کی زمین پر قبضہ کرنا تھا اسی لیے یہ تنازع ہوا۔ 

یہ بھی پڑھیے

گاؤں کے لوگ واضح طور پر کوئی بات نہیں کر رہے۔ اسی دوران پولیس سپرنٹنڈنٹ ڈی آر تنیوار نے کہا ہے کہ فی الوقت تنازعے کی وجہ گھورنا ہی لگ رہی ہے۔ 

اُنھوں نے کہا کہ ’ہم تفتیش کر رہے ہیں کہ کہیں اس کے پیچھے کوئی اور وجہ تو نہیں۔‘ 

تاہم اُنھوں نے اس بات کی تردید کی کہ پٹیل خاندان نے قتل اس لیے کیا کیونکہ وہ دلت خاندان کو وہاں نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔ 

تنیوار نے کہا کہ ’یہ خاندان یہاں پر نسلوں سے آباد ہے، اچانک کوئی انھیں کیوں ہٹانا چاہے گا؟‘

مدھیہ پردیش

،تصویر کا ذریعہShuriah Niazi

گذشتہ الزامات 

پٹیل خاندان پر پہلے بھی سرکاری زمین پر قبضہ کرنے کے الزامات ہیں۔ اسی لیے انتظامیہ نے ان کے گھر پر اس حوالے سے نوٹس چسپاں کر رکھا ہے۔

قتل کے بعد دلت برادری کے لوگوں اور اہروار خاندان نے ضلعی ہسپتال کے باہر لاشیں رکھ کر سڑک بھی بند کر دی جس کے بعد پولیس اور انتظامیہ کے اہلکاروں نے وہاں پہنچ کر ان سے مذاکرات کیے۔ 

پوسٹ مارٹم کے بعد تمام تین لاشیں تین مختلف گاڑیوں میں رکھ کر گاؤں بھیج دی گئیں جہاں پولیس کی بھاری نفری کی موجودگی میں ان کی آخری رسومات ادا کی گئیں۔ 

اب اس معاملے پر سیاست بھی ہونے لگی ہے۔ بہوجن سماج پارٹی کی رہنما مایاوتی نے اس معاملے پر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ مدھیہ پردیش میں دلت اور قبائلی برادریوں کے خلاف جرائم کا سلسلہ جاری ہے۔ 

اُنھوں نے لکھا کہ ’داموہ ضلعے کے گاؤں دیوران میں ڈکیتوں نے دلت خاندان کا بے دریغ قتل کیا اور انھیں پتھروں سے کچل دیا۔ باقی کے لوگ جان بچانے میں کامیاب رہے۔ اس معاملے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ سیاہ ادوار جیسا یہ واقعہ مدھیہ پردیش کی بی جے پی حکومت کی امن و امان قائم کرنے اور غریبوں، قبائلیوں، دلتوں اور خواتین کو محفوظ بنانے میں ناکامی کا مظہر ہے۔‘ 

اسی طرح سابق وزیرِ اعلیٰ کمال ناتھ نے بھی اس معاملے پر ٹویٹ کرتے ہوئے اعلیٰ سطحی انکوائری کا مطالبہ کیا۔ 

اُنھوں نے کہا کہ ’یہ بہت افسوس ناک ہے کہ دلت خاندان کے تین افراد کو قتل اور دو کو زخمی کر دیا گیا۔ میں حکومت سے اس واقعے کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتا ہوں۔‘ 

داموہ کے ضلعی کلیکٹر ایس کرشن چیتنیا نے کہا کہ انتظامیہ متاثرین کو تمام ممکن امداد سمیت سکیورٹی فراہم کر رہی ہے اور کسی ملوث شخص کو نہیں چھوڑا جائے گا۔ 

انڈیا کے نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو کے مطابق مدھیہ پردیش میں روزانہ دلتوں پر مظالم کے تقریباً 20 مقدمات درج ہوتے ہیں۔ 

سنہ 2021 میں یہ ریاست دلتوں کے خلاف درج مقدمات میں بھی سرِفہرست تھی جہاں ہر ایک لاکھ کی آبادی میں 64 مقدمات درج کیے گئے تھے۔