قوت سماعت سے محروم نوجوان کشف: ’مجھے کہا گیا کہ بہرے لوگ نکمے ہوتے ہیں‘

کشف علوی
    • مصنف, کاشان اکمل گل
    • عہدہ, صحافی

’بچپن میں میرے ذہن میں بہت سوالات ہوتے تھے اور میں اپنے والد سے پوچھتا تھا کہ کیا پرندے آپ سے باتیں کرتے ہیں؟ کیا جب میں سینڈوچ کو بائٹ کرتا ہوں تو وہ چیختا ہے؟ یہ سب اس لیے ہے کہ میں کچھ مختلف ہوں کیونکہ میں سُن اور بول نہیں سکتا۔‘

یہ کہنا ہے 18 برس کے کشف علوی کا جو یہ سب کچھ اپنی کتاب ’لینگویج آف دی پیراڈائز‘ میں لکھ چکے ہیں جس کے لیے اُنھیں ’پرائڈ آف پاکستان‘ کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔

اسلام آباد کے کشف کی کہانی سنتے ہوئے ہمیں سائن لینگویج کے ماہر کی خدمات حاصل رہیں۔ کشف کہتے ہیں کہ یہ کتاب لکھنے کا مقصد اُس فاصلے کو ختم کرنا ہے جو قوت سماعت اور قوت گویائی سے محروم افراد اور اس معاشرے کے ’نارمل‘ طبقے کے درمیان موجود ہے۔

’میں اپنی کتاب سے معاشرے کو اُن مسائل اور چیلنجز سے آگاہ کرنا چاہتا تھا جس سے میرے جیسے لوگ ہر روز گزرتے ہیں۔ یہ بہت ضروری ہے کہ ہم جن لوگوں میں رہتے ہیں اُنھیں آگاہی ہو کہ ہم کیا سوچتے ہیں، روز مرہ کی زندگی کو کیسے دیکھتے ہیں۔‘

کشف اُن مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’ایک مرتبہ میں اپنے والد کے لیے شرٹ خریدنے گیا۔ میں نے ایک شرٹ لی اور کاؤنٹر پر جا کر یہ بتانے کی کوشش کی کہ مجھے اپنے والد کے سائز میں یہ شرٹ چاہیے، اُنھوں نے مجھے ایک شرٹ دی مگر وہ میرے والد کے نہیں بلکہ میرے سائز کی تھی۔ یہ بہت ہی چھوٹا سا واقعہ ہے جو میرے جیسے لوگوں کی زندگیوں میں تسلسل سے ہوتے رہتے ہیں۔‘

کشف کہتے ہیں کہ ٹیکنالوجی نے اُن کی مشکلات میں کچھ کمی تو کی ہے مگر پاکستانی معاشرہ ٹیکنالوجی کو اپنانے میں اُس سطح پر نہیں پہنچا کہ وہ اُس سے مکمل طور مستفید ہو سکیں۔

’میں اب مارکیٹ جاتا ہوں تو اپنے موبائل پر انگلش میں ٹائپ کر کے سپیچ آپشن کے ذریعے جو بھی چاہیے ہو وہ دکاندار کو بتانے کی کوشش کرتا ہوں، مگر وہاں مشکل یہ ہوتی ہے کہ زیادہ تر دکاندار انگریزی نہیں سمجھ پاتے۔‘

کشف اپنے ساتھ پیش آیا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ’میں اپنے والد کے ساتھ ایک مرتبہ بازار میں تھا، میں اُن سے الگ ہو کر ایک دکان میں گیا اور دکاندار سے کسی چیز کے بارے میں دریافت کیا تو دکاندار نے سمجھا کہ میں بھکاری ہوں اور مجھے دھکا دے کر دکان سے باہر نکال دیا۔ اسی وقت میرے والد آئے اور اُنھوں نے دکاندار کو سمجھایا کہ میں کیا پوچھ رہا تھا۔ یہ نہ صرف میرے لیے بلکہ میرے والد کے لیے بھی بہت تکلیف دہ تھا۔‘

کشف علوی

سُن اور بول نہ پانے والے افراد کے لیے موبائل ایپلیکیشن

کشف علوی اِن دنوں ایک ایسی موبائل ایپ پر کام کر رہے ہیں جس سے قوت سماعت اور قوت گویائی سے محروم افراد ضرورت کے وقت ہنگامی سروسز حاصل کر پائیں گے۔

’میں نے کئی ایسے واقعات کے بارے میں پڑھا ہے کہ حادثوں میں سن اور بول پانے کی صلاحیت نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کی جانیں چلی گئیں۔ میں اِس پر بہت سوچتا تھا، تو میں نے اپنے جیسے لوگوں کے لیے ایک ایسی ایپ ڈیزائن کی جس کے ذریعے وہ ہنگامی صورتحال میں ایدھی، ریسکیو 1122 اور پولیس کو مدد کے لیے بُلا سکتے ہیں۔‘

کشف بتاتے ہیں کہ ’اِس ایپ میں جو سروس چاہیے ہو گی اُس کے سمجھنے میں آسانی کے لیے ایموجیز کی مدد لی گئی ہے کیونکہ پاکستان میں قوتِ سماعت سے محروم افراد کی ایک بڑی تعداد ان پڑھ ہے، سائن لینگویج بھی وہی آتی ہے جو عمومی طور پر وہ گھر والوں کے ساتھ بات کرنے کے لیے روز مرّہ کی زندگی میں استعمال کرتے ہیں تاہم وہ اپنے اُس سرکل سے باہر بہت کم باتیں سمجھ اور بتا سکتے ہیں۔‘

اس موبائل ایپلیکشن کے علاوہ کشف ایک فلم پر بھی کام کر رہے ہیں۔

کشف علوی

ہراساں کیے جانے پر بہرے افراد کے لیے فلم کا آئیڈیا

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

کشف علوی کی ایک فلم بھی تکمیل کے آخری مراحل میں ہے جسے اُنھوں نے ’واک ود دی گاڈ‘ کا نام دیا ہے جس کی بنیاد وہ ایک تلخ واقعہ قرار دیتے ہیں۔

’میں آن لائن گیمز کھیلتا ہوں۔ ایک دن میں گیم کھیل رہا تھا وہاں براہ راست آڈیو پر بات کرنے یا لکھ کر پیغامات بھیجنے کا آپشن بھی ہوتا ہے۔ اُس دن چیٹ ونڈو میں بہت سے پیغامات آئے، لوگ مجھ سے پوچھ رہے تھے کہ کیا میں بہرہ ہوں؟ تو میں نے جواب دیا جی ہاں! میں سُن نہیں سکتا۔ پھر ایک میسج آیا کہ اوہ۔۔۔ بہرے لوگ تو نکمے ہوتے ہیں۔ اُس کے بعد وہاں موجود بہت سے لوگوں نے میرا تمسخر اُڑایا۔‘

کشف کہتے ہیں کہ ’میں وہ سب پڑھ کر اِس قدر صدمے سے دوچار ہوا کہ اپنے والد کے پاس گیا۔ میری آنکھوں میں آنسو تھے۔ میں نے اُن سے ایک سوال کیا کہ خُدا نے مجھے ایسا کیوں بنایا اور میں نے یہ بھی کہا کہ مجھے اِس سوال کا جواب مذہبی نہیں بلکہ منطق کی بنیاد پر چاہیے تاکہ میں اُن لوگوں کو جواب دے سکوں جنھوں نے میرا مذاق اڑایا ہے ۔‘

یہ بھی پڑھیے

کشف کے مطابق ’میرے والد میری بات سُن کر کچھ دیر خاموش رہے اور پھر بولے کے آپ اِس سوال پر ایک سروے کریں۔‘

یہ سوال لے کر اُن لوگوں سے بات کریں جو آپ کی طرح ہیں اور مختلف معاشروں سے تعلق رکھتے ہیں۔ تو پھر میں نے سری لنکا، ملائشیا اور بنگلہ دیش سمیت چھ ملکوں کے اُن لوگوں، جن میں اکثر مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے بات چیت کرتا رہتا تھا، ایک سوال کیا۔‘

’سوال یہ تھا کہ اگر آپ کو خُدا سے بات کرنے کا موقع ملے تو آپ کیا پوچھیں گے؟ تو 99 فیصد کا جواب یہی تھا کہ وہ پوچھیں گے کہ خُدا نے اُنھیں سننے اور بولنے کی صلاحیت کیوں نہیں دی؟‘

کشف بتاتے ہیں کہ ہراسانی کے شکار ہونے سے سروے کرنے تک یہ سارا عمل اتنا اہمیت اختیار کر چکا تھا کہ میں اُس کو کسی طرح دستاویز کی شکل دینا چاہتا تھا۔ سننے اور بولنے والے لوگوں کے سامنے رکھنا چاہتا تھا۔ پھر اُسے فلم کی شکل دینے کا فیصلہ کیا۔‘

کشف علوی

سُن اور بول نہ پانے والے بچوں کے والدین کی زندگی

کشف کے والد ندیم سلیم ’سنگل پیرنٹ‘ اور پیشے کے اعتبار سے ایک ریسرچر ہیں۔ بی بی سی کے ساتھ کشف کے انٹرویو کے دوران قریب بیٹھے کئی مواقع پر وہ زار و قطار روتے رہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’یہ سفر آسان نہیں تھا۔ میں نے بہت کچھ سُنا، بہت سی مشکلوں سے گزرا، کشف تک آنے والی مشکلات اور منفی رویوں کا راستہ روکنا بھی ایک کٹھن عمل تھا۔ جو بچہ سُن نہیں سکتا اُسے یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کھیلتے ہوئے یا کوئی بھی کام کرتے ہوئے کس قدر شور کرتا ہے۔‘

’میں نے ایک مرتبہ کسی کے گھر جانے پر یہ بھی سُنا کہ جب آپ یہاں آتے ہیں تو اِسے ساتھ مت لایا کریں تاہم آج کشف 18 برس کا ہو گیا ہے تو میں فخر سے بتاتا ہوں کہ میں اِس کا والد ہوں۔‘

ندیم سلیم کہتے ہیں کہ ’کیونکہ اپنے پیشے کی وجہ سے میں نے بہت سے ملکوں میں سفر کیا، ترقی یافتہ ملکوں میں کشف کی آسانی کا سامان ڈھونڈتا رہتا تھا۔ کشف کی کم عمر میں ہی مجھے یہ معلوم ہوا کہ پاکستان میں خصوصی بچوں کے سکولوں میں جو سائن لینگویج رائج ہے وہ بین الاقوامی معیار پر پوری نہیں اُترتی۔ سُن اور بول نہ پانے والے افراد کے لیے ملک کے نظام تعلیم میں اِس قدر مسائل ہیں کہ وہ معاشرے میں آگے نہیں بڑھ سکتے۔‘

کشف کے والد کہتے ہیں کہ ’پاکستان میں قوت سماعت اور گویائی سے محروم بچوں کے لیے سپورٹ سسٹم نہیں۔ سکولوں سے لے کر روز مرّہ کی زندگی میں اُن کے لیے وہ سہولیات نہیں کہ وہ آسان زندگی گزار سکیں۔ ہم اس سب کے لیے قانونی اصلاحات پر کام کر رہے ہیں۔‘

ندیم سلیم کے مطابق 'ہم نے حکومت سے درخواست کی ہے کہ خصوصی بچوں کے شناختی کارڈ پر معذوری کی قسم کا اندارج بہت ضروری ہے جس کے ذریعے حادثات میں بھی اُن کو مدد کی فراہمی میں آسانی ہو گی۔ ایک ایسے قانون کی اشد ضرورت ہے کہ پاکستان سائن لینگویج کو شیڈول لینگویجز کی فہرست میں شامل کیا جائے جس سے کشف جیسے لاکھوں لوگ مترجم کی سہولت حاصل کر پائیں گے۔‘

’ہم ایسا چارٹ ترتیب دے رہے ہیں جو صحت کے شعبے کے لیے مخصوص ہو گا اور جس کی مدد سے سُن اور بول نہ پانے والے افراد ڈاکٹر کو اپنی بیماری اور علامات سے متعلق آگاہ کر سکیں گے تاہم یہ سب وہ ہے جس کی تیاری سے لے کر عملدرآمد تک ریاستی سرپرستی ناگزیر ہے۔‘