مریم نواز کا ’لیکڈ‘ انٹرویو کلپ: ریکارڈنگ روکنے کی درخواست کے باوجود کیمرہ آن رکھنے پر صحافتی اصول کیا کہتے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہMansoor Ali khan/ social media
- مصنف, آسیہ انصر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
منصور علی خان: ’اس وقت گاڑی خریدنا الاؤڈ (اجازت) نہیں تھا۔‘
مریم نواز: ’گاڑی خریدنا الاؤڈ نہیں تھا، یہ کس نے بتایا آپ کو؟‘
منصور علی خان: ’گاڑی الاؤڈ نہیں تھی، رولز یہ کہتے ہیں۔‘
مریم نواز: ’لیکن یہ۔۔ ایک منٹ۔ ذرا اس کو کاٹیں آپ (سامنے کی جانب کسی کو اشارہ کرتے ہوئے) نہیں مجھے بتائیں اس کا فیکٹ کیا ہے؟‘
(پس منظر سے جواب ملنے کے بعد) مریم نواز نے منصور علی خان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: سنو
منصور علی خان: ’رولز کو یوسف رضا گیلانی نے نواز شریف صاحب کے لیے ریلیکس کیا انھوں نے آصف علی زرداری کے لیے بھی ریلیکس کیا۔‘
پسِ منظر کی آواز ’اس کو ریکارڈنگ میں نہ ڈالیں۔‘
منصور علی کا جواب ’نہیں نہیں۔۔۔ نہیں ڈالتے۔ انھوں نے آصف علی زرداری کو بھی تین گاڑیاں دیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
مریم نواز بات کاٹتے ہوئے: ’لیکن میں آپ کو ایک آنسٹ (سچی) بات بتاؤں۔ مجھے آنسٹلی اس بات کا نہیں پتا لیکن میں فیکٹ اینڈ فگر چیک کروں گی۔‘
منصور علی خان: ’آپ ضرور چیک کر لیجیے گا‘
مریم نواز سامنے اشارہ کرتے ہوئے: ’یہ پلیز کائنڈلی۔۔۔ یہ نہیں۔۔۔‘
منصور علی خان: ’ڈونٹ وری، ڈونٹ وری۔ (فکر نہ کریں)‘
سوشل میڈیا پر وائرل یہ مکالمہ اینکر پرسن منصور علی خان کی جانب سے مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائزر مریم نواز سے لیے گئے اس انٹرویو کا ’لیکڈ‘ کلپ ہے جو گذشتہ روز سے سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔
اپنے یوٹیوب چینل کے لیے کیے گئے انٹرویو میں اس کلپ کو مریم نواز کی جانب سے مکالمے کے دوران درخواست کرنے پر آن ایئر نہیں کیا گیا تھا تاہم اب اس کے لیک ہونے کے بعد سے سوشل میڈیا پر صحافتی اقدار کے حوالے سے بحث چھڑ گئی۔
مریم نواز نے بھی اس معاملے پر تحریک انصاف کے حامی اکاؤنٹس کی جانب سے ہونے والی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’وہ جھوٹ بولنے کے عادی ہیں اور دوسروں سے بھی ایسا کرنے کی توقع کرتے ہیں۔ میرے پاس مطلوبہ معلومات نہیں تھیں اور میں نہیں چاہتی تھی کہ کوئی ایسی بات کروں جو حقیقت میں درست نہ ہو۔‘
تاہم اس کے باوجود ایک جانب پی ٹی آئی کے حامی سوشل میڈیا صارفین اس انٹرویو میں توشہ خانہ سے لی جانے والی مرسڈیز اور بی ایم ڈبلیو سے متعلق سوال اٹھا رہے ہیں، وہیں یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ انٹرویو میں یقین دہانی کے باوجود ریکارڈنگ جاری کیوں رکھی گئی اور کیا انٹرویو دینے والا صحافی سے ریکارڈنگ روکنے کا کہہ سکتا ہے۔
تاہم اسی بارے میں ہم نے خود منصور علی خان سے مؤقف جاننے کے علاوہ چند صحافیوں سے بھی بات کی ہے تاکہ یہ جان سکیں کہ اس معاملے پر صحافتی اصول اور صحافتی اخلاقیات کیا کہتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’جس کمپیوٹر پر یہ انٹرویو محفوظ تھا اس پر پانچ سے زائد افراد کی رسائی ہے‘
صحافت میں ’آف دی ریکارڈ‘ گفتگو کے سلسلے میں رازداری شرط ہوتی ہے اور اسی اعتماد اور بھروسے پر صحافی ’اندر کی خبر‘ نکالی جاتی ہے۔
تاہم اس انٹرویو میں اینکر کی یقین دہانی کے باوجود یہ کلپ لیک کیسے ہوا؟ اسی پر بات کرتے ہوئے منصور علی خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ’مریم نواز کے انٹرویو کے وقت چھ کیمرے ریکارڈنگ کر رہے تھے جس پر انھوں نے اس مرحلے پر کیمرہ بند کرنے کا اشارہ کیا۔
’جب یہ بات ہوئی تو میں نے بھی کیمرہ پرسنز کو اشارہ کیا کہ ریکارڈنگ بند کر دیں اور میرے علم میں یہی بات تھی کہ کیمرے بند ہو چکے ہیں لیکن انٹرویو ختم کرنے کے بعد جب ہم لوگ آئے اور فوٹیج دیکھی تو پتہ چلا کہ اس میں سے چند کیمرے بند ہوئے تھے لیکن کچھ نہیں۔
’پھر جب ہم نے فوٹیج دیکھی اور اس میں وہ واضح کہہ چکی تھیں کہ اس کو مت چلائیے گا تو ہم نے اس حصے کو انٹرویو کا حصہ نہیں بنایا۔‘
انٹرویو کا حصہ نہ بننے والی فوٹیج کا ایک کلپ وائرل کیسے ہوا؟
اس سوال کے جواب میں منصور علی خان نے کہا کہ ’را فوٹیج (بغیر ایڈیٹنگ کے مکمل ریکارڈنگ) کو آرکائیو میں رکھا جاتا ہے لیکن لگ رہا ہے کہ یہاں (ضابطہ اخلاق کے) قواعد کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’جس طرح ابھی مجھ سے فون پر بات کرتے ہوئے آپ نے واضح کیا کہ ہم ریکارڈ کر رہے ہیں تو یہی صحافتی ضابطہ اخلاق ہے جسے فالو کرنا ضروری ہوتا ہے اس لیے ہم نے ان کی ریکویسٹ پر اس بات کو انٹرویو کا حصہ نہیں بنایا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمارے پاس مکمل را فوٹیج تھی۔ اب اس کے اوپر دو رائے ہیں کہ اس کو مکمل ڈیلیٹ کر دینا چاہیے تھا لیکن ہمارے پاس آرکائیو کے طور پر سب پروگرام کی مکمل فوٹیج ہوتی ہے تاکہ اپنا ریکارڈ رکھ سکیں۔‘
’جس کمپیوٹر پر یہ انٹرویو محفوظ تھا وہاں تک پانچ سے چھ افراد کی رسائی تھی تو ہم ان سے پوچھ گچھ کر رہے ہیں۔ وہاں لگے سی سی ٹی وی کیمروں سے بھی مدد لے رہے ہیں اور اس کمپیوٹر پر انٹرنیٹ بھی تھا تو ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ کہیں کمپیوٹر ہیک تو نہیں ہو گیا اور کیا اس پر لگی فائر والز وغیرہ موثر طریقے سے کام کر رہی تھیں کہ نہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہCourtesy Kamal Siddique
’لیزی جرنلزم میں کیمرے خفیہ ریکارڈنگ کرتے ہیں جو صحافتی اقدار کے منافی ہے‘
پاکستان میں ہر چند روز بعد کوئی نہ کوئی آڈیو یا وڈیو لیکس سامنے آنا اب معمول بنتا جا رہا ہے۔
جوں ہی کوئی آڈیو یا ویڈیو لیک ہو کر منظر عام پر آتی ہے تو عموماً سات پردوں میں کی گئی گفتگو یا ’آف دی ریکارڈ‘ بات لمحوں میں جنگل کی آگ کی طرح ہر طرف اس طرح پھیل جاتی ہے گویا اصل بات تو یہی تھی سارے فسانے میں۔
سینیئر صحافی اور سینٹرل آف ایکسیلینس آف جرنلزم کے سابق ڈائریکٹر کمال صدیقی سے ہم نے یہی جاننے کی کوشش کی کہ جب انٹرویو دینے والے افراد اینکر سے ریکارڈنگ بند کرنے کا کہیں تو صحافتی اقدار اس بارے میں کیا کہتے ہیں۔
کمال صدیقی کا کہنا تھا کہ ’صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں صحافت اور میڈیا میں کچھ ایسی پریکٹیسز شامل ہو گئی ہیں جو نہیں ہونا چاہییں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’جب ہم انٹرویو کر رہے ہیں اور اس میں مہمان کہے کہ کیمرہ بند کر دیں یا روک دیں تو اس میں اس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ جب اینکر یا انٹرویو لینے والا ان کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے ریکارڈنگ روکنے کی یقین دہانی کروائے۔
’یا تو اس وقت اینکر کہے کہ میں نہیں روک سکتا تو مہمان کا حق ہے کہ وہ اس بات چیت کو ختم کر دے لیکن جب بند کرنے کی یقین دہانی کے باوجود کیمرہ رول پر رہے تو یہ انتہائی غیراخلاقی بات ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’لوگ چھپے ہوئے کیمروں کا استعمال کرتے ہیں جس کو لیزی جرنلزم بھی کہا جاتا ہے کہ جہاں آپ کیمرے کو رول کرنے دیتے ہیں جو جرنلزم میں اخلاق سے گری ہوئی بات سمجھی جاتی ہے۔‘
کمال صدیقی نے کہا کہ ’صحافتی اصولوں کے مطابق چھپے ہوئے کیمروں سے ریکارڈنگ صرف اسی صورت قابل عمل سمجھی جاتی ہے جب کوئی شخص انٹرویو سے بھاگ رہا ہوتا ہے یا گرفت میں نہیں آتا تو اس وقت ان کو استعمال کیا جاتا ہے جو اس کیس میں نہیں تھا۔‘
اہم بات یہ ہے کہ اس کیس میں گیسٹ واضح کہہ رہی ہیں کہ انٹرویو روکیں تاکہ میں فیکٹ چیک کر لوں اور انھوں نے یقین دہانی کے باوجود کیمرہ نہیں روکا تو یہ صحافتی اخلاقیات کے برخلاف ہے جو انہوں نے کیا۔‘
’ یقین دہانی کے باوجود ریکارڈنگ جاری رکھنا گیسٹ اور اینکر دونوں کے ساتھ بداعتمادی اور بددیانتی ہے‘
ایک عام غلط فہمی جو سوشل میڈیا کے آنے سے قبل عام تھی وہ یہ کہ سادہ لوح افراد ٹی وی کی سکرین پر دکھائی دینے والے نیوز یا پرروگرام اینکر کو بولتے دیکھ کر عموماً سمجھتے تھے کہ تحقیق سے لے کر خبر نکالنے تک کا سارا سہرا اس ایک اینکر کے سر ہے جو سکرین پر سامنے دکھائی دے رہا ہے جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔
ایک گھنٹے سے کم کا آن ایئر جانے والے انٹرویو کو براہ راست کے بجائے اگر ریکارڈ کیا گیا ہو تو اس میں کئی گھنٹے کی محنت بھی ہوتی ہے اور اس میں پروڈیوسر، ریسرچر سمیت تکنیکی عملہ بھی شامل ہوتا ہے۔
اب دوبارہ آتے ہیں اپنے موضوع پر اور اس بار ہم نے رخ کیا صحافی اور اینکر عاصمہ شیرازی کی جانب اور ان سے جانا کہ اینکر کے منع کرکے باوجود اگر کیمرہ رول پر رہے تو قصور کس کا ہوسکتا ہے۔
اپنے تجربات کو ہم سے شیئر کرتے ہوئے عاصمہ شیرازی نے کہا کہ ’اینکر انٹرویو کرتا ہے اور ٹیکنیکل سائٹ پر دوسری ٹیم ہوتی ہے جن کی اصل زمہ داری ہے کہ جب اینکر کہے کہ کیمرہ بند کرو تو بند کرنا چاہئے تھا تو اس پر ٹیکنیکل ٹیم سے پوچھنا چاہیے۔‘
یہ بھی پڑھیے
عاصمہ شیرازی کے مطابق پروگرام میں مواد تو اینکر کا ہوتا ہے تاہم ٹیم میں بہت سے لوگ شامل ہوتے ہیں لہٰذا جب انٹرویو ہو جاتا ہے تو پروڈیوسر، اینکر اورایڈیٹر مل کر اس کو ایڈٹ کرتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’اس میں سے بہت سی چیزیں رکھی جاتی ہیں اور غیر اہم چیزیں ڈیلیٹ کر دی جاتی ہیں تاہم اس سے پہلے اس پر اتنا محتاط نہیں ہوا جاتا تھا کہ کیا کاٹنا ہے کیا محفوظ رکھا جانا ہے بلکہ بہت سی چیزیں ٹیکنیکل سٹاف پر چھوڑ دی جاتی ہیں۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’یہ نارمل سی بات ہے کہ کسی وقت آپ کا مہمان روک دیتا ہے اور کبھی کبھار تو اینکر بھی روک دیتا ہے۔ یہ بھی ہوتا ہے کہ گیسٹ سے بعض اوقات پوچھا جاتا ہے کہ ہم آپ سے یہ سوال پوچھنا چاہ رہے ہیں تو ایک انڈرسٹینڈنگ پیدا کرنا ہوتی ہے گیسٹ اور اینکر کو تاکہ اچھا انٹرویو ہو۔ بہت بار بریک کے دوران بہت سی آف دی ریکارڈ باتیں ہوتی ہیں۔‘
عاصمہ شیرازی کے مطابق ’اینکر کی بات کو سنا جاتا ہے جب وہ انٹرویو کر رہا ہوتا ہے کیونکہ وہ کانٹینٹ جنریٹ کر رہا ہوتا ہے تو اس کی بات سب سے مقدم ہوتی ہے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’اگر وہ ریکارڈنگ بند کرنے کا کہے اور کیمرہ رول پر کوئی جان بوجھ کر کھلا چھوڑے تو یہ بددیانتی میں آتا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اینکر کہے کہ کیمرہ بند ہے اور آپ کو پروڈیوسر یا ٹیکنیکل ٹیم کیمرے کو جان بوجھ کرآن چھوڑ دے اور گیسٹ کو تاثر دیا جائے کہ سب بند ہے تو یہ بداعتمادی اور بددینتی بھی ہے اور اینکر کے ساتھ بھی ذیادتی ہے جس نے یقین دہانی کروا دی ہے۔‘









