لنڈی کوتل میں لڑکیوں کے سائیکلنگ کیمپ کے خلاف احتجاج پر تنقید: ’بچیوں نے سائیکل پر چھوٹا سا راؤنڈ لگایا تو اس پر بھی اسلام خطرے میں پڑ گیا‘

ثمر خان

،تصویر کا ذریعہTWITTER/@SKhanAthlete

    • مصنف, عمیر سلیمی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام

سابقہ قبائلی ضلع خیبر کے علاقے لنڈی کوتل میں اپنی نوعیت کا پہلا خواتین کا سائیکلنگ کیمپ لگا جس کے منتظمین کے مطابق اس میں 15 لڑکیوں نے حصہ لیا تاہم بعض حلقوں نے اسے ’قبائلی روایات‘ کے منافی قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف احتجاج کیا ہے۔

امریکی تنظیم گلوبل سپورٹس مینٹورنگ کی مدد سے جمعے کو پاکستانی سائیکلسٹ ثمر خان اور سماجی کارکن جمائمہ آفریدی نے تحصیل لنڈی کوتل میں اس سائیکلنگ کیمپ کا اہتمام کیا جس میں 15 لڑکیوں نے شرکت کی۔

منتظمین کے مطابق نوجوان خواتین کی حوصلہ افزائی کے لیے منعقد کیے گئے اس کیمپ میں شامل ہونے والی تمام لڑکیوں کے والدین سے اجازت لی گئی تھی اور بعض والدین تو اس میں شامل بھی ہوئے تھے۔

سائیکلسٹ ثمر خان نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ بعض خواتین نے حجاب اور مقامی لباس میں سائیکلنگ کی مگر کچھ لوگوں کو اس میں ’بے حیائی‘ نظر آئی ہے۔

’ریپ، قتل، تیزاب کے حملے اور ناانصافی کے خلاف کوئی احتجاج کیوں نہیں کیا جاتا؟ ہمیں تباہ کرنے کے لیے کسی بین الاقوامی ایجنڈے کی ضرورت نہیں۔ ہماری جہالت کافی ہے۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام, 1

سائیکلنگ کیمپ کے بعد اتوار کو جماعت اسلامی نے لنڈی کوتل میں ایک احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں درجنوں کارکنان نے شرکت کی۔

اس دوران بعض پلے کارڈز پر لکھا تھا کہ ’فحاشی اور عریانی نامنظور‘ اور ’ہمیں پانی اور بجلی دو۔ سائیکل نہیں۔‘

احتجاجی مظاہرے کے شرکا اور مقامی رہنماؤں نے اس سائیکلنگ کیمپ کو قبائلی اور اسلامی روایات کے خلاف قرار دیا۔

ان کا دعویٰ تھا کہ خواتین کی سائیکلنگ کے نام پر علاقے میں ’بے حیاتی‘ پھیلائی جا رہی ہے۔

لنڈی کوتل میں جماعت اسلامی کے رہنما مراد حسین نے سوشل میڈیا پر بتایا ہے کہ یہ احتجاج فحاشی کی روک تھام اور عمران آفریدی کی رہائی کے لیے کیا گیا۔ حتیٰ کہ مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے انھوں نے اسے مغربی این جی اوز کا ایجنڈا قرار دیا۔

ثمر خان، سائیکلنگ

،تصویر کا ذریعہTWITTER/@SKhanAthlete

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام, 2

’کراچی میں قابل بنو مہم مگر لنڈی کوتل میں لڑکیوں کا سائیکل چلانا برداشت نہیں‘

جہاں ایک طرف لوگ خواتین کی سائیکلنگ کی حمایت کر رہے ہیں وہیں دوسری طرف جماعت اسلامی پر بھی تنقید کی جا رہی ہے۔

عمران نامی صارف نے کہا ہے کہ ’جماعت اسلامی کے کارکنان و ذمہ داران لنڈی کوتل میں الگ جبکہ کراچی میں الگ معیار کے ساتھ دین کی سرفرازی اور خدمت میں مصروف ہیں۔

’کراچی میں میئرشپ کے امیدوار لڑکیوں کے ساتھ کھڑے ہو کر ’قابل بنو‘ کی مہم چلا رہے ہیں لیکن لنڈی کوتل میں بچیوں کا سائیکل چلانا برداشت نہیں ہو رہا۔‘

ادھر فاطمہ کہتی ہیں کہ ’دس پندرہ بچیوں نے کل پرسوں سائیکل پہ لنڈی کوتل میں چھوٹا سا راؤنڈ لگایا تو جماعت اسلامی نے ان کے خلاف جلوس نکالا اور بُرا بھلا کہا۔ حیرت ہے اس پہ بھی اس اسلام خطرے میں پڑ گیا۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 3
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام, 3

X پوسٹ نظرانداز کریں, 4
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام, 4

جماعت اسلامی کے احتجاج کے خلاف خاص طور پر خواتین نے سوشل میڈیا پر آواز اٹھائی ہے۔

صحافی ماریانا بابر کہتی ہیں کہ لڑکیوں کے سائیکل چلانے پر قبائلی رہنماؤں یا انتہا پسندوں نے نہیں بلکہ جماعت اسلامی نے احتجاج کیا۔

’جماعت اسلامی کو لاقانونیت یا شدت پسندی کے خلاف احتجاج کرتے نہیں دیکھا۔ منتظمین کو لڑکیوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہوگا۔‘

سماجی کارکن نگہت داد نے لکھا کہ ’خواتین کو عوامی مقامات پر آزادی دینے میں کیا حرج ہے جماعت اسلامی؟ ملک بھر میں ہر روز بچوں یا خواتین کے ریپ پر آپ کو احتجاج کرتے نہیں دیکھا۔ کیا آپ کو فحاشی صرف اس وقت نظر آتی ہے جب خواتین آزادی سے باہر نکل رہی ہوں؟‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 5
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام, 5

جویریہ وسیم نامی صارف کہتی ہیں کہ ’اگر آپ کو لگتا ہے کہ خواتین کے گلیوں میں سائیکل چلانے سے بے حیائی پھیلتی ہے تو مسئلہ آپ ہی میں ہے۔ ‘

فہمیدہ یوسفی نے کہا کہ ’لڑکیوں کے سائیکل چلانے سے کسی قسم کی کوئی بے حیائی نہیں پھیلتی۔ جماعت اسلامی کو احتجاج سے پہلے سوچنا چاہیے تھا۔ شدید حیرت اور افسوس ہے۔‘

جبکہ روحی سدورئی کہتی ہیں کہ ’سائیکل اور بائیک چلانے میں کون سی بے حیائی ہے؟ کوئی بتائے گا؟ بے حیائی یہ ہے کہ وہ مڈل کلاس عورتیں جن کے پس اپنی گاڑیاں نہیں اور وہ لوکل ویگنوں پر ہزار گندے مردوں کی گندی نظروں کا نشانہ بنتی ہیں۔‘

’اپنی سواری چاہے سائیکل ہی کیوں نہ ہو اس میں کوئی بے حیائی نہیں۔ عورت کو امپوور ہوتا دیکھ کر بہت سے لوگوں کے بزنس بند ہو جانے کا خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔ اس لیے بے حیائی صرف عورت سے جوڑ دیتے ہیں۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 6
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام, 6

X پوسٹ نظرانداز کریں, 7
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام, 7

لڑکیوں کی سائیکل ریلی کا دفاع بعض سیاسی حلقوں کی جانب سے بھی کیا گیا ہے۔

سابق رکن قومی اسمبلی بشریٰ گوہر نے کہا کہ پشتون خواتین کو پیچھے رہنے نہیں دیا جائے گا۔ انھوں نے ان 15 لڑکیوں کو مبارکباد دی جنھوں نے کیمپ میں حصہ لیا تھا۔