خواتین کے حقوق: کراچی کی خاتون کو بالآخر بائیک چلانے کا لائسنس مل ہی گیا

وومن بایئکر
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کی ایک رہائشی شیریں فیروزپور والا کو بالاخر موٹربائیک کا لائسنس مل گیا ہے۔ گذشتہ روز انھوں نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر شکوہ کیا تھا کہ لائسنس برانچ کے ایک اہلکار نے یہ کہہ کر انھیں لائسنس دینے سے انکار کیا تھا کہ ’ہم خواتین کو بائیک کا لائسنس نہیں دیتے۔‘

ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں شیریں فیروزپور نے کہا کہ لائسنس برانچ کے ڈی ایس پی نے اُن سے رابطہ کیا اور بدھ کو دفتر طلب کیا، جس کے بعد انھیں بغیر کسی مزید مشکل کے لائسنس مل گیا۔ انھوں نے اس مسئلے پر ان کے ہم آواز بننے پر تمام افراد کا شکریہ ادا کیا ہے۔

دوسری جانب حکومت سندھ کے ترجمان اور مشیر قانون مرتضیٰ وہاب نے ٹوئٹر پر شیریں کو مبارک باد دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ وہ ہیلمٹ کے ساتھ بائیک چلائیں گی۔ شیریں نے ان کی تائید کی ہے اور لکھا ہے بالکل حفاظت پہلے ہے۔

صحافی فیضان لاکھانی نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ لائسنس برانچ کے متعلقہ اہلکار کے خلاف کارروائی کی جائے گی جس نے شیریں کو لائسنس دینے سے انکار کیا ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان میں خواتین کی نقل و حرکت کے لیے بائیک کے استعمال کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے، اس حوالے سے کچھ غیر سرکاری ادارے بھی سرگرم ہیں، ویمن آن وہیلز کی جانب سے پنجاب کے پانچ اضلاع میں پانچ ہزار خواتین کو موٹر سائیکل چلانے کی تربیت فراہم کی گئی تھی جس کے بعد یہ مہم گذشتہ سال کراچی پہنچی تھی۔

ڈی آئی جی لائسنس قمرزمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس واقعے میں ملوث ڈیٹا آپریٹر کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے اور ڈی ایس پی کلفٹن اس معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ ڈی آئی جی کے مطابق ڈیٹا آپریٹر کو کوئی کنفیوژن تھی، اس لیے غلط فہمی ہوئی لیکن خواتین کو بائیک کا لائسنس جاری کرنے میں کوئی بھی رکاوٹ نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیے

یاد رہے کہ گذشتہ روز شیریں نے لائسنس برانچ میں اپنے ساتھ پیش آنے والے واقع کی تفصیلات بھی بیان کی تھیں۔

شیریں فیروز پور والا نے بی بی سی اردو کو بتایا تھا کہ انھوں نے موٹر بائیک چلانے کی ایک ماہ تربیت حاصل کی جس کے بعد وہ گذشتہ جمعے کو لائسنس کے حصول کے لیے کلفٹن برانچ گئیں تھیں۔

ان کے مطابق ’کاؤنٹر پر ڈیٹا انٹری کے لیے موجود اہلکار کو میں نے یاد دہانی کے لیے بتایا کہ مجھے موٹربائیک اور گاڑی دونوں کا لائسنس درکار ہے، تو اس نے جواب دیا کہ آپ عورت ہیں گاڑی چلائیں، ہم عورتوں کو بائیک کا لائسنس نہیں دیتے۔ یہ سن کر میں پریشان ہوگئی اور وہاں سے باہر نکل گئی۔‘

شیریں کے مطابق انھوں نے شہر کی دوسری لائسنس برانچ ناظم آباد میں ایک جان پہچان والے سے رابطہ کیا جس نے تصدیق کی کہ وہ خواتین کو بائیک کا لائسنس نہیں دیتے ہیں، ’اگر کوئی لڑکی اپنے والدین کے ساتھ آتی ہے اور والدین بحث مباحثہ کریں تو اس کو مجبوری میں لائسنس دیا جاتا ہے ورنہ زیادہ تر لوٹا دیا جاتا ہے۔‘

شیریں کا کہنا تھا کہ ’یہ واضح کر دیا جائے کہ خواتین بائیک نہیں چلاسکتیں، یہ قانون ہے وہ اپنی مرضی نہیں چلاسکتیں، اگر لائسنس نہیں ہوگا تو ہم کیسے سڑکوں پر بائیک چلائیں گی۔‘

شیریں ملازمت کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکسی، رکشہ وغیرہ پر کافی اخراجات ہوجاتے ہیں اسی لیے انہوں نے بائیک چلانے کا فیصلہ کیا تھا۔ انھوں نے اس کی تربیت حاصل کی جس میں والدین اور دوستوں نے ان کی ہمت افزائی کی اور وہ لائسنس لینے گئیں تھیں۔

شیریں فیروز پور والا نے ٹوئٹر پر لکھا ہے کہ ان کے ٹرانسپورٹ پر یومیہ 600 روپے کا خرچہ ہوتا ہے اور اگر رش زیادہ ہو تو یہ خرچہ 900 روپے تک چلا جاتا ہے۔

،ویڈیو کیپشن’جنسی ہراسگی نے موٹر سائیکل چلانے پر مجبور کیا‘

صحافی مدیحہ سید نے ٹوئٹر پر حکومت سندھ کے ترجمان اور مشیر قانون مرتضیٰ وہاب سے سوال کیا کہ ’کیا آپ کو اس بارے میں کوئی علم ہے؟ کیا خواتین کو لائسنس جاری نہ کرنے کے بارے میں کوئی قانون ہے اگر ہے تو ایسا کیوں ہے اگر نہیں ہے تو پھر افسران خواتین کو لائسنس کے اجرا سے کیوں انکار کرتے ہیں؟‘

سوشل میڈیا ایکٹوسٹ عافیہ سلام نے واضح کیا کہ ایسا نہیں ہے، اس کے برعکس ’ویمن آن ویلز‘ مہم میں حکومت سندھ معاون تھی اور یہ کہ مرتضیٰ وہاب اور شہلا رضا اس تقریب میں موجود تھے اور انھوں نے لائسنس دلانے کا وعدہ کیا تھا۔

حکومت سندھ کے ترجمان اور مشیر قانون مرتضیٰ وہاب نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ایسا کوئی قانون موجود نہیں ہے بلکہ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر 600 خواتین کو لائسنس جاری ہوچکے ہیں

ان کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ کیسے پیش آیا ہے وہ اس کی وہ معلومات حاصل کریں گے۔

،ویڈیو کیپشنیہ فلم زینتھ عرفان کی کہانی ہے، جو پاکستان کے شمالی علاقہ جات کا موٹر سائیکل پر سفر کر چکی ہیں