انتونیو گوتریس: تعاون نہ کیا تو انسان فنا ہو جائے گا

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مصر میں جاری کلائمیٹ چینج کانفرنس میں تقریر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم ماحولیاتی تباہی کی شاہراہ پر ہیں اور رکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے زیر اہتمام کلائمیٹ کانفرنس ایسے وقت ہو رہی ہے جب پچھلے ایک برس میں پاکستان میں شدید سیلاب جیسی قدرتی آفت کے علاوہ عالمی حدت کے سابقہ ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ تمام انسانیت کو مل کر عالمی حدت کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے تعاون کرنا چاہیے اور اگر ایسا نہ ہوا تو انسان فنا ہو جائے گا۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ ہم ماحولیاتی تباہی کی شاہراہ پر ہیں اور دوڑے جا رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس گلاسگو میں ہونے والی ماحولیاتی کانفرنس کے بعد سےعالمی حدت کا سبب بننے والے اخراج کو کم کرنے کے حوالے سے پیشرفت انتہائی ناکافی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کرہ ارض کا درجہ حرارت صنعتی دور سے پہلے کے درجہ حرارت سے ایک اعشاریہ پانچ فیصد بڑھ چکا ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کے اسباب کا سدباب نہ کیا گیا تو سن 2100 تک درجہ حرارت مزید دو اعشاریہ آٹھ فیصد تک بڑھ سکتا ہے۔

COP27

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

،تصویر کا کیپشناقوام متحدہ کے زیر اہتمام کلائمیٹ چینج کانفرنس مصر کے شہر شرم الشیخ میں ہو رہی ہے

پچھلے 12 مہینوں میں کرہ ارض کو کیسی کیسی آفتوں کا سامنا کرنا پڑا ہے

باربیڈوس کی پرائم منسٹر میا موٹلی نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ پچھلے 12 مہینوں میں کرہ ارض کو کیسی کیسی آفتوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

’خواہ وہ پاکستان میں آنے والے قیامت خیز سیلاب ہوں یا چین سے یورپ تک گرمی کی لہر، یا پچھلے دنوں آنے والے سمندری طوفان لیزا نے سینٹ لوشیا میں کیسی تباہی مچائی، اس کو دہرانے کی ضرورت نہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے۔

پرائم منسٹر میا موٹلی نے گزشتہ برس گلاسگو میں کانفرنس میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ درجہ حرارت میں دو فیصد اضافہ جزائر پر بسنے والے لوگوں کے لیے موت کی سزا ہے۔

COP27

،تصویر کا ذریعہCOP27

،تصویر کا کیپشنگزشتہ ایک برس میں دنیا نے جن آفتوں کو دیکھا ہے اس کو دھرانے کی ضرورت نہیں: میا موٹلی

’مسئلہ اعتماد کا ہے‘

امریکہ کے سابق نائب صدر الگور نے تقریر کرتے ہوئے ترقی یافتہ ممالک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ساتھ مسئلہ اعتماد کا ہے۔

’ہم باتیں تو کر رہے ہیں اور کچھ کرنا بھی شروع کیا ہے لیکن وہ ناکافی ہے۔ ہم گیس کی تلاش میں افریقہ جا رہے ہیں۔ ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ گیس کی تلاش کے لیے جا رہے ہیں یا تباہی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ تباہی کے اسی راستے پر چلیں گے یا اس سے بچنے کے لیے دوسرے راستہ اختیار کریں گے۔

algore

،تصویر کا ذریعہCOP27

افریقن یونین کے صدر نےکہا ہے کہ جو ماحول کو سب سے زیادہ آلودہ کر رہے ہیں انھیں ماحول کی بہتری کے لیے سب سے زیادہ ادا کرنا چاہیے۔

سینیگال اور افریقن یونین کے صدر میکی سال نے مصر کے شہر شرم الشیخ میں کلائمیٹ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ یا تو تاریخ رقم کریں یا تاریخ کا نشانہ بن جائیں۔

انھوں نے کہا کہ افریقہ سب سے کم کاربن پیدا کر رہا ہے اور پورا براعظم گرین ہاؤسز کا صرف چار فیصد پیدا کرتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ جو سب سے زیادہ ماحول کو آلودہ کر رہے ہیں انھیں ماحولیاتی آلودگی کو کنٹرول کرنے کے لیے سب سے زیادہ کردار ادا کرنا چاہیے۔

Macky Sall

،تصویر کا ذریعہGetty Images