’پاکستان کا ٹرافی جیتنا اب صرف ٹیم ہی کے ہاتھ نہیں رہا‘

،تصویر کا ذریعہgettyimages
- مصنف, سمیع چوہدری
- عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
آئی سی سی ایونٹس میں کوئی ٹرافی جیتے ہوئے پاکستان کو نو برس گزر چکے ہیں۔ دہائی بھر کی اس قحط سالی میں ایک آدھ دفعہ تو یہ دوڑ کی اختتامی لائن کے قریب پہنچا مگر باقی سبھی ایونٹس میں پاکستان کی خستہ حالی اور کم مائیگی ابھر ابھر کر سامنے آئی۔
جو عوامل پچھلے ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کے ابتدائی میچز کے بعد پاکستان کے دامن گیر ہوئے تھے، اس بار ٹورنامنٹ کے آغاز سے پہلے ہی اسے درپیش ہیں۔ انڈیا کے خلاف میچ فورفیٹ کرنے کا منطقی نتیجہ یہ ہے کہ گروپ سٹیج کے دونوں میچز بھی اب پاکستان کے لیے ’ناک آؤٹ‘ مقابلے بن چکے ہیں۔
پاکستان کو نہ صرف نیدرلینڈز اور امریکہ کے خلاف جیتنا ضروری ہے بلکہ جیت بھی ایسے مارجن کی چاہیے جو پوائنٹس ٹیبل میں نیٹ رن ریٹ کا خانہ بھی خوش نما بنا سکے۔ کیونکہ آئی سی سی کے فورفیٹ قوانین کے تحت پاکستان کا نیٹ رن ریٹ انڈیا کے خلاف بیس اوورز میں صفر رنز تصور کیا جائے گا جبکہ انڈیا کا رن ریٹ بالکل بھی متاثر نہیں ہو گا۔
جو سکواڈ پاکستان نے اس ایونٹ کے لیے منتخب کیا ہے وہ خاصا متوازن ہے۔ مگر ورلڈ کپ میں جیت کے لیے محض سکواڈ کا متوازن ہونا ہی کافی نہیں ہوتا، متعلقہ میچز کے لیے فراہم کردہ کنڈیشنز کے مطابق بہترین الیون اور مضبوط سٹریٹیجی ناگزیر ہوتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
حارث رؤف کی اس سکواڈ سے غیر حاضری صرف پاکستانی شائقین کے لیے ہی اچنبھے کی بات نہ تھی بلکہ مائیکل کلارک جیسے گھاگ مبصرین بھی اس فیصلے پہ حیران دکھائی دیے۔
بظاہر ورلڈ کپ سکواڈ میں ایسے میچ ونر کی غیر موجودگی کوئی اچھا فیصلہ دکھائی نہیں دیتی مگر کنڈیشنز کے پیشِ نظر پاکستانی سلیکٹرز کا فیصلہ بجا ہے۔
جس پیس کے گرد حارث کا ہنر گھومتا ہے، وہی پیس سست سری لنکن پچز پہ بلے بازوں کے لیے کسی تازہ ہوا کے جھونکے سے کم نہیں ہوتی۔ بالخصوص جب اوپر تلے سپنرز اور میڈیم پیسرز بلے بازوں کی سانسیں دشوار کیے ہوں، وہاں ایسی برق رفتار بولنگ سامنے آ جانا کسی نعمت کے جیسا ہی ہوتا ہے۔
فاسٹ بولرز کی سری لنکن پچز پہ کامیابی صرف تبھی ممکن ہو سکتی ہے اگر ان کا انحصار رفتار کی بجائے سست رفتار ورائٹی اور کٹرز پہ ہو۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس میں شبہ نہیں کہ سست پچز پہ، ڈیتھ اوورز میں ریورس سوئنگ کا امکان بھی موجود رہتا ہے مگر ایشیا کپ کے تجربے سے پاکستان یہ سبق تو بخوبی سیکھ چکا ہے کہ ریورس سوئنگ بہرحال ایک داؤ ہی ہے جبکہ سپن مستقل اور پائیدار حل ہے۔
پاکستان کی موجودہ ٹی ٹونٹی ٹیم کا طرۂ امتیاز یہی ہے کہ چار سیمرز شامل کرنے کے بعد بھی یہ اس قابل ہے کہ آل راؤنڈرز کے بل پہ اکیلی سپن ہی کے سولہ تگڑے اوورز ممکن بنا سکتی ہے۔
اور خوش آئند پہلو یہ بھی ہے کہ صائم ایوب اور شاداب خان اگرچہ شمار آل راؤنڈرز میں ہی کیے جا رہے ہیں مگر بیٹنگ مہارت میں بھی وہ سند رکھتے ہیں کہ تن تنہا ہی میچ کا رخ بدل سکتے ہیں۔
جب سے پاکستان کی ٹی ٹونٹی کرکٹ کا یہ نیا چہرہ سامنے آیا ہے، ایک دقت کا سامنا ہمیشہ اسے رہا کہ کپتان سلمان آغا کی ٹی ٹونٹی صلاحیتیں اور سٹرائیک ریٹ سوالیہ نشانات کی زد میں رہے۔
بہت سے حلقوں کی جانب سے یہ اعتراض بھی اٹھایا گیا کہ کپتان اسے بنا دیا گیا جس کی ٹیم میں جگہ ہی نہیں بنتی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
ایشیا کپ کے دوران بھی سلمان علی آغا کی انفرادی بیٹنگ پرفارمنسز پاکستان کا کچھ بھلا نہ کر پائیں۔ مگر پچھلے کچھ مہینوں میں آغا نہ صرف اپنی بیٹنگ فارم میں واضح بدلاؤ لائے ہیں بلکہ آسٹریلیا کے خلاف حالیہ سیریز میں انھوں نے سٹرائیک ریٹ کے ناقدین کو بھی خاموش کروا دیا ہے۔
بحیثیتِ مجموعی پاکستان صرف متوازن ہی نہیں، مکمل طور پہ مسابقتی ٹیم ہے جس کے وسائل سری لنکن کنڈیشنز میں قابلِ رشک ہیں۔ مگر ورلڈ کپ ٹرافی تک رسائی کے لیے پاکستان کو محض وسائل ہی کافی نہ ہوں گے کہ اگر بالفرض ناک آؤٹ مراحل میں اس کا سامنا انڈیا سے ہو گیا تو پھر حکومتِ پاکستان کیا فیصلہ لے گی؟
ایسے میں یہ دیکھنا بھی اہم ہو گا کہ سیاسی گومگو ٹیم کی نفسیات پہ کیا اثر ڈالتی ہے۔
بابر اعظم کی واپسی سے پاکستانی مڈل آرڈر کو تقویت تو بہرحال ملی ہے مگر یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ سری لنکن کنڈیشنز میں وہ سپن کے خلاف کس قدر موثر ہو سکتے ہیں کیونکہ سپن کے خلاف افادیت کے لیے بہر صورت بلے باز کو بولر کے ہاتھ سے ہی گیند ’پڑھنے‘ کا ہنر آنا چاہیے۔
اگر انڈیا کے خلاف میچ کھیلنے یا فورفیٹ کرنے کی گومگو درپیش نہ ہو تو یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ پاکستان کی حالیہ ٹیم سیمی فائنل تک پہنچنے کے عین لائق ہے۔ ہائبرڈ میزبانی ماڈل کے طفیل پاکستان کو کنڈیشنز کے بارے ویسی ہی یقین دہانی میسر ہے جو پچھلے ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں انڈیا کو تھی۔
ایسی باہنر ٹیم اور کنڈیشنز سے اس درجہ شناسائی کے بعد پاکستان شاید اب صرف ایشیا ہی کی دوسری بہترین ٹیم نہیں رہی بلکہ دنیا کی تین بہترین ٹیموں میں سے ایک کہلانے کی بجا دعوے دار ہو سکتی ہے۔ لیکن اب اس کا ورلڈ ٹرافی جیتنا صرف اسی کے ہاتھ میں نہیں ہے۔













