انڈیا: متنازع رام مندر اور مسجد کی تعمیر کا کام کہاں تک پہنچا؟

- مصنف, اننت جھنانے
- عہدہ, نمائندہ بی بی سی، ایودھیا سے
انڈیا میں 9 نومبر سنہ 2019 کو آنے والے سپریم کورٹ کے فیصلے نے ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کا راستہ صاف کر دیا۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں مسلمانوں کو پانچ ایکڑ زمین الاٹ کرنے کا حکم بھی دیا تھا جہاں وہ مسجد بنا سکیں۔ یہ زمین ایودھیا شہر سے 26 کلومیٹر دور دھنی پور نامی گاؤں میں دی گئی تھی۔
ہم دھنی پور گئے اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ وہاں مسجد بنانے کا کام کہاں تک پہنچا اور ایودھیا میں مندر کی تعمیر کب تک مکمل ہونے کا امکان ہے۔
دھنی پور میں اجازت کا انتظار ہے
دھنی پور میں ہماری ملاقات وہاں کے نگراں سہراب خان سے ہوئی۔ زمین دکھاتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ 'یہ پانچ ایکڑ زمین ہے۔ یہ پوری ٹرسٹ کی زمین ہے، تعمیراتی کام صرف نقشے کی وجہ سے رکا ہوا ہے، نقشہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی سے پاس کرانا پڑتا ہے۔ نو آبجیکشن کے کچھ مسائل ہیں۔ امید ہے کہ یہ بہت جلد حل ہو جائے گا۔'
کاغذ پر تیار کیے گئے منصوبے کے مطابق 23507 مربع میٹر اراضی پر ایک مسجد، ایک ہسپتال، ایک بیسمنٹ، ایک میوزیم اور ایک سروس بلاک بنایا جانا ہے۔ ہسپتال 200 بستروں پر مشتمل ہوگا، مسجد میں 2000 نمازیوں کی گنجائش ہوگی اور میوزیم 1857 کی جدوجہد آزادی کے موضوع پر بنایا جائے گا جوکہ مولوی احمد اللہ شاہ کے کے نام پر ہوگا۔
اس وقت زمین پر ایک مزار موجود ہے۔
آرکیٹیکچرل ڈرائنگ اور اراضی کے نقشے تیار کرکے ایودھیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو جمع کرائے گئے تھے۔ لیکن کرونا کی وبا کی وجہ سے ابتدائی مسائل آئے۔ بعد ازاں اتھارٹی کی جانب سے این او سی مانگا گیا۔ اب ٹرسٹ کو آگ کے لیے این او سی فراہم کرنا ہے۔ اس میں ایک چیلنج یہ ہے کہ پانچ ایکڑ زمین کی طرف جانے والا راستہ صرف چار میٹر چوڑا ہے، اسے مزید چوڑا کرنے کی ضرورت ہے۔ بہر حال، اس سمت میں کام شروع ہو چکا ہے۔

دھنی پور میں پروجیکٹ کی فنڈنگ کیسے ہو رہی ہے؟
اس تعمیراتی کام کے لیے انڈو اسلامک کلچرل فاؤنڈیشن مسجد ٹرسٹ کے پاس اب تک صرف 35 لاکھ روپے جمع ہوئے ہیں۔ اسلام میں کہا جاتا ہے کہ مسجد علاقے کے لوگ بناتے ہیں اور فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ کچھ لوگ مسجد کے لیے پیسے دینے کے لیے آگے آئے ہیں۔ ابھی تک کوئی بڑی کراؤڈ فنڈنگ نہیں ہوئی ہے۔ لیکن دو ماہ قبل فرخ آباد میں رقم بٹورنے کی کوشش کی گئی اور 10 لاکھ روپے اکٹھے کیے گئے۔ ٹرسٹ کا کہنا ہے کہ تعمیراتی کام کی تمام اجازت ملنے کے بعد پورے ملک سے فنڈنگ کے لیے روڈ میپ تیار کیا جا رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
دھنی پور میں 300 کروڑ روپے کی لاگت سے دو مرحلوں میں تعمیر کی تجویز ہے۔ پہلے مرحلے میں ہسپتال، مسجد اور ثقافتی مرکز کا ایک حصہ اور موسمیاتی تبدیلی کو مدنظر رکھتے ہوئے گرین بیلٹ کی تعمیر شامل ہے۔ دوسرے مرحلے میں صرف ہسپتال کی توسیع کا کام کیا جائے گا، جو کہ تقریبا 200 کروڑ روپے کا منصوبہ ہے۔
ٹرسٹ کو توقع ہے کہ اتھارٹی کی منظوری کے بعد پہلے مرحلے کا کام دو سال میں مکمل ہو جائے گا۔ ہسپتال میں غذائیت کی کمی اور خواتین اور بچیوں کو لاحق بیماریوں کے علاج کے لیے خصوصی سہولیات میسر ہوں گی اور کمیونٹی کچن میں متوازن غذا فراہم کی جائے گی۔
ٹرسٹ کے سیکریٹری اطہر حسین کا کہنا ہے کہ 'اجازت اگلے دو ہفتوں میں مل جائے گی، جس کے بعد تعمیراتی کام شروع ہو سکتا ہے۔'
میوزیم اس منصوبے کا اہم حصہ ہوگا۔ دراصل ٹرسٹ کا ماننا ہے کہ رام مندر تحریک اور اس سے جڑے واقعات کی وجہ سے سماج ایک طرح سے منقسم نظر آتا ہے۔
ٹرسٹ کے لوگوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ سنہ 1857 کی پہلی آزادی کی جدوجہد ہندو-مسلم مشترکہ جدوجہد کی ایک مثال ہے اور اودھ کا علاقہ اس جدوجہد کی مثال کا ایک اہم مرکز تھا۔
اور ٹرسٹ اس ورثے کو میوزیم میں پیش کرنا چاہتا ہے۔ اس لیے اس میوزیم کو اودھ کے مولوی احمد اللہ شاہ کے نام وقف کرنے کا منصوبہ ہے، جنھوں نے لکھنؤ کے چنہٹ میں جنگ کی قیادت کرتے ہوئے انگریزوں کو شکست دی تھی۔

'مندر اور مسجد کی تعمیر کا موازنہ مناسب نہیں ہے'
مسجد کے تعمیراتی کام اور اس سے جڑے چیلنجز کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے ہم نے انڈو اسلامک کلچرل فاؤنڈیشن مسجد ٹرسٹ کے لکھنؤ دفتر کا دورہ بھی کیا۔
ملاقات کے دوران ٹرسٹ کے سیکریٹری اطہر حسین نے کہا: 'سب سے پہلے میں یہ کہوں گا کہ رام مندر اور دی گئی اس پانچ ایکڑ زمین کا موازنہ کرنا مناسب نہیں ہے۔ یہ ضروری بھی نہیں ہے۔ یہاں رام مندر کی تعمیر اس سے متعلق تیاریاں ہیں پہلے سے ہی ہیں۔ جبکہ (مسجد کے لیے) نومبر سنہ 2019 کے بعد بتایا گیا کہ یہ پانچ ایکڑ زمین دستیاب ہوگی۔
'اور اس کے ایک سال بعد اس پروجیکٹ کی تجویز پیش کی گئی۔ اس لیے رام مندر کے لیے جو مہم یا جوش ہے وہ اس میں نظر آئے گا، ایسا بالکل نہیں ہے۔ ہمارا مقصد وہاں چیریٹی لیول کا ہسپتال بنانا ہے۔ اور اگر مسجد کے لیے زمین دی گئی ہے تو اسے تو بننا ہی ہے۔ اور ان کے علاوہ ہم سنہ 1857 (کے انقلاب/غدر) پر مبنی ایک میوزیم بنائیں گے۔'
جب ہم نے دھنی پور کے نگراں سہراب خان سے پوچھا کہ کیا دھنی پور بھی ایودھیا کی طرح عقیدت مندی کا مرکز بن سکے گا، تو اھہوں نے کہا: ’بہت سے لوگ سوال کرتے ہیں، میڈیا کے لوگ بھی آتے ہیں، پوچھتے ہیں، اور علاقے کے یا باہر کے لوگ آتے ہیں تو وہ بھی یہ پوچھتے ہیں کہ حکومت یہاں کی ترقی کے لیے کیا کر رہی ہے۔ جس طرح ایودھیا شہر میں ترقی کی گنگا بہہ رہی ہے، اس گنگا کا ایک سوتا بھی یہاں ابھی تک نہیں آيا ہے۔'
کیا ایودھیا کی طرح یہاں بھی ہزاروں لاکھوں لوگ آتے ہیں؟ اس پر نگراں سہراب خان کا کہنا ہے کہ ’ہزاروں اور لاکھوں کی تعداد میں تو لوگ نہیں آتے، لیکن درمیان میں وقفے وقفے سے لوگ دیکھنے اور جاننے کے لیے آتے رہتے ہیں۔'
دھنی پور کے ایک رہائیشی آشا رام یادو کا ماننا ہے کہ 'جب اچھی چیزیں بن رہی ہیں، ہسپتال بنے گا، مسجد بنے گی، یا جو بھی بنے گا، تو باہر کے لوگ کم ہی آئیں گے، گاؤں کی ترقی ہو گی۔ سب اچھا سوچتے ہیں۔ برا کیوں سوچیں گے۔ اس سے ہمیں کیا گھرانا، ہمارا کیا نقصان ہے۔ ہسپتال سے کسی کو نقصان نہیں ہوتا۔ نہ لائبریری سے نقصان ہوتا ہے۔ تو اس میں برائی کیا ہے؟'

ایودھیا کے مسلمان دھنی پور کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟
ایودھیا کے مسلمان دھنی پور کے بارے میں کیا سوچتے ہیں اس کا اندازہ لگانے کے لیے ہم ایودھیا کے چھوٹی کوٹھیا علاقے میں پہنچے جہاں ہماری ملاقات بابری مسجد کا مقدمہ لڑنے والے اقبال انصاری سے ہوئی۔
انھوں نے کہا: 'جو پانچ ایکڑ زمین ملی ہے اور جتنے لوگ اس کیس میں تھے اب ان کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ وہ زمین سنی سنٹرل وقف بورڈ کو دی گئی ہے، وہ جو کچھ بھی بناتا ہے، وہ اس کی مرضی ہے۔ ایودھیا کے مسلمان کون ہیں ہوتے ہیں، ایک عدالتی فیصلہ آیا ہم نے اس کا احترام کیا ہے، اب ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ جن کو مسجد بنوانا ہے، وہ بنائیں۔'
قریب ہی ایک دکان پر بیٹھے 62 سالہ شفیع اللہ نے کہا کہ 'مسجد کے لیے زمین دی گئی ہے لیکن ہم نے ابھی اسے دیکھا تک نہیں۔'
یہ بھی پڑھیے
انھیں وہ جگہ بھی نہیں پتا۔ لیکن جب ہم نے ان سے دھنی پور کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا کہ ہاں دھنی پور میں ملی لیکن وہ جھگڑے میں ہے۔ کیونکر ہے یہ معلوم نہیں۔'
کیا شفیع اللہ کو اس زمین کو دیکھنے کی خواہش ہے؟ اس کے جواب میں انھوں نے کہا: 'سنتے ہیں وہاں کچھ ہوتا نہیں ہے۔'
یہاں تک کہ قریب سے گزرنے والے 25 سالہ پرویز عالم کو بھی دھنی پور کے بارے میں کوئی خاص علم نہیں تھا۔ لیکن جیسے ہی ہم نے دھنی پور کا نام لیا تو کہنے لگے کہ 'دھنی پور کا نام خبروں میں سنا ہے، ابھی سنا ہے کہ دھنی پور میں مسجد کے لیے زمین مل گئی ہے، خبر میں سنا تھا کہ اس کا نقشہ منظور نہیں ہوا ہے۔'

،تصویر کا ذریعہCHAMPATRAIVHP
رام مندر کی تعمیر کتنی تیزی سے چل رہی ہے؟
دوسری طرف، شری رام جنم بھومی تیرتھ شیتر کی آفیشل ویب سائٹ پر موجود ایک اینیمیشن ویڈیو کی معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ رام مندر کی تعمیر میں کیا پیش رفت ہوئی ہے اور آگے کیا اہداف ہیں۔
ویب سائٹ کے مطابق:
- مندر کی تعمیر کے لیے کھدائی جنوری سنہ 2021 میں شروع ہوئی تھی۔
- کھدائی کا کام مارچ 2021 میں مکمل ہوا۔
- اپریل 2021 سے فاؤنڈیشن بھرنے کا کام شروع ہوا
- فاؤنڈیشن بھرنے کا کام ستمبر 2021 میں مکمل ہوا۔
- ٹاور کرین ستمبر 2021 میں لائی گئی۔
- رافٹنگ کا کام ستمبر 2021 میں شروع ہوا۔
- رافٹنگ کا کام نومبر 2021 میں مکمل ہوا۔
- سنگ بنیاد رکھنے کا کام نومبر 2021 میں شروع ہوا
- مارچ 2022 میں سنگ بنیاد رکھنے کا کام مکمل ہوا۔
- جنوری 2022: مندر کے ستونوں کو رکھنے کا کام شروع ہوا۔
- اس کے بعد شہتیر کے پتھر لگائے جانے لگے
- پھر سلیب کے پتھر رکھے جانے لگے
- مندر کی چھت اور گنبد کا کام اگست 2023 میں مکمل ہو جائے گا۔
اخبار انڈین ایکسپریس نے لکھا ہے کہ معمار چندرکانت سوم پورا کے مطابق مندر کی اونچائی 141 فٹ سے بڑھا کر 161 فٹ کر دی گئی ہے۔ اور ڈیزائن میں مزید تین گنبدوں کا اضافہ کیا گیا ہے اور ستونوں کی تعداد 160 سے بڑھا کر 366 کر دی گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہCHAMPATRAIVHP
رام مندر کی تعمیر پر کتنا خرچ آئے گا؟
رام مندر کی تعمیر کی لاگت کے بارے میں، شری رام جنم بھومی تیرتھ شیتر کے جنرل سیکریٹری چمپت رائے کہتے ہیں: 'بھگوان کا گھر ہے، راجہ مہاراجہ کا گھر بنتا ہے، کون قیمت جان پاتا ہے۔ اور وہ تو راجاؤں کے راجہ ہیں۔ ہم نے اس کے بارے میں سوچنا چھوڑ دیا ہے، پھر بھی یوں کہہ لیں کہ 1800 کروڑ خرچ ہوجائيں گے۔ زیادہ ہو سکتا ہے، کچھ کم بھی ہو سکتا ہے۔ حساب کتاب بے معنی ہے۔'
تو اب تک مندر کی تعمیر کا کتنا کام مکمل ہوا ہے؟
چمپت رائے کہتے ہیں: 'انجینئرنگ کے کام میں فیصد کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ لیکن اگر ہم مجموعی طور پر کام پر غور کریں تو 40 فیصد (مکمل ہو گیا) سمجھا جاسکتا ہے۔ پتھروں کی تراش خراش کی گئی ہے۔ صرف انھیں لگنا باقی ہے۔' انھوں نے مزید کہا: 'سب کچھ مندر کا حصہ ہے۔ پلنتھ بن چکا ہے۔ پلنتھ کا مطلب مندر کی کرسی ہے۔ اس پر پتھروں کی آٹھ تہیں لگ چکی ہیں۔ بہت سا کام ہوچکا ہے۔ اور اگلے سال تک گراؤنڈ فلور، اور پہلی منزل مکمل ہو جائے گی۔ مکمل کا مطلب ہے 350 فٹ لمبا، 250 فٹ چوڑا، 20 فٹ اونچا۔ ایک منزل تیار ہو جائے،، گراؤنڈ فلور تیار ہو جائے، یہی بڑا کام ہے۔'"
مندر میں کتنا پتھر لگا ہے اور کہاں سے لایا جا رہا ہے؟
چمپت رائے اس بارے میں کہتے ہیں: 'کرسی کو اٹھانے کے لیے گرینائٹ پتھر لگا ہے۔ یہ تلنگانہ اور کرناٹک سے لایا جا رہا ہے۔ 17000 پتھر آ رہے ہیں۔ ایک پتھر کا سائز پانچ فٹ لمبا، ڈھائی فٹ چوڑا، تین فٹ اونچا ہے۔ اور گرینائٹ کی کرسی بنانے کے بعد جو مندر کے پتھر ہیں وہ راجستھان کے ضلع بھرت پور کے گاؤں بنسی پور کی پہاڑیوں سے لائے جا رہے ہیں جو ہلکے گلابی سینڈ سٹون ہیں۔ اور پھر مکرانہ کا سفید سنگ مرمر ہے۔'











