فلپائن کا وہ ’طلسماتی جزیرہ‘ جہاں آج بھی ہر بیماری کا علاج ’جادو ٹونے‘ سے کیا جاتا ہے

،تصویر کا ذریعہSimon Urwin
- مصنف, سائمن اُروین
- عہدہ, بی بی سی نیوز
آج جس جزیرے کے بارے میں ہم آپ کو بتانے جا رہے ہیں وہ نا صرف اپنی خوبصورتی کی وجہ سے منفرد حیثیت رکھتا ہے بلکہ ایک اور وجہ ایسی بھی ہے کہ جو اُسے دُنیا کے دیگر تمام جزیروں سے منفرد بناتی ہے۔
تو آج ہم آپ کو لے کر جا رہے ہیں فلپائن کے ایک جزیرے پر جس کا نام ہے ’سیکیجور۔‘ اس جزیرے پر ایسا خاص کیا ہے کہ جو اسے دُنیا کے دیگر جزیروں سے مختلف بناتا ہے؟ فلپائن کے اس دور افتادہ جزیرے پر قدیم زمانے سے جادو ٹونے اور مقامی طور پر جڑی بوٹیوں کی مدد سے مختلف امراض پر قابو پانے کے لیے طبی مراکز قائم ہیں اور اسی وجہ سے یہ جزیرہ دُنیا بھر میں مشہور ہے۔
سیکیجور، جو وسطی ویسایا ویزایاس کے علاقے میں واقع ہے، بہت سے فلپائنی مسافروں کو اپنی جانب راغب کرتا ہے۔ اس جزیرے پر بیماریوں یا دیگر مسائل کا حل ڈھونڈنے کے لیے آنے والوں میں صرف فلپائن کے لوگ ہی نہیں بلکہ دُنیا بھر سے لوگ یہاں آتے ہیں۔ یہاں پر ہونے والے اس طریقہ علاج کو کیتھولک مذہب میں 16 ویں صدی میں ہسپانویوں کی طرف سے متعارف کرایا گیا تھا۔
16 ویں صدی میں جو طریقہ علاج متعارف کروایا گیا اُن میں پوشن بنانا (یعنی بوتل میں مختلف اقسام کی جڑی بوٹیاں ڈال کر اُن کا عرق نکالنا یا ان کی مدد سے دوائیاں بنانا)، جسم اور روح سے برے اثرات کو جادو ٹونے کی مدد سے دور کرنا اور جڑی بوٹیوں کی مدد سے دھونی دینا شامل ہیں۔
یہاں اس جزیرے پر پائے جانے والے قدرتی اور مافوق الفطرت طریقہِ علاج کو بیماری دور کرنے کے لیے بہت اہم اور مدد گار سمجھا جاتا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ تین بڑے عوامل میں سے ایک کے نتیجے میں سامنے آئے ہیں۔
بی بی سی کے سائمن اُروین کہتے ہیں کہ ’میرے گائیڈ لوئس نتھانیل بورنگن نے مُجھے بتایا کہ پہلی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ارد گرد ایک پوشیدہ دُنیا ہے جہاں ’بری روحیں ہمارے آس پاس موجود ہوتی ہے، یہ آبشاروں، جنگلوں اور سمندروں میں ہر جگہ ہی ہوتی ہیں اور اگر ہم ان پر کسی بھی انداز میں حملہ کریں یا ان کو کسی بھی شکل میں نقصان پہنچائیں تو یہ بیماری اور شدید تکلیف یہاں تک کہ موت کی شکل میں بھی ہم سے بدلہ لے سکتے ہیں۔‘
بورونگن بتاتے ہیں کہ دوسرا جادو ٹونے کا نتیجہ ہے۔ ’اس کی بہت سی شکلیں ہیں، جن میں ہیپلٹ، کسی کو وڈو گڑیا سے مارنا (وڈو ڈول جادو ٹونے کے لیے استعمال ہونے والی کپڑے اور اُون سے بنی گُڑیا) اور بارنگ (فلپائن میں استعمال ہونے والے کالے جادو کی ایک قسم) شامل ہیں۔
تیسرا اور قدرِ آسان طریقہ علاج یہ ہے کہ کسی بھی مقامی معالج خاص طور پر وہ جو قدرتی اجزا کی مدد سے آپ کی چھوٹی سے چھوٹی بیماری کا علاج کرنا جانتا ہو، اس کے پاس جا کر علاج کروائیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہ Simon Urwin
فلپائن کے اس جزیرے پر موجود طبیبوں کی صلاحیتوں پر بہت زیادہ اعتماد کیا جاتا ہے۔
بورونگن بتانے ہیں کہ بس آپ کو یہاں پہنچ کر اپنے مقامی ڈرائیور سے پوچھنے کی ضرورت ہوتی ہے کہ اس مرض کے علاج کے لیے کہاں جانا ہے تو وہ خود ہی آپ کو سب بتا دیتے ہیں کہ آپ کو کہاں جانا چاہیے۔
’اس جزیرے پر مختلف طریقوں سے علاج کرنے والوں کا یہ ماننا ہے کہ ان کی صلاحیتیں خدا کی طرف سے ایک تحفہ ہیں، لہذا وہ صرف چند منتخب افراد کے لیے نہیں ہیں، وہ سب کے لیے یہاں موجود ہیں اور وہ یہاں آنے والوں میں کوئی فرق نہیں کرتے اور وہ سب کی ہی مدد کرتے ہیں۔ آج فلپائن کے اس جزیرے کو ’طلسماتی جزیرے‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔
ایک جزیرہ جہاں شفا دینے والوں کا احترام کیا جاتا ہے
اس جزیرے کے رہنے والے مقامی لوگ باقاعدگی سے ایک باقاعدہ ڈاکٹر کی بجائے مقامی طور پر ایک ایسے معالج کے پاس جاتے ہیں جو اس جزیرے پر اپنے انداز اور روائیتی طریقوں سے علاج کرنے میں کہارت رکھتے ہیں۔
بورونگن کہتے ہیں کہ ’یہ معالج اکثر ان امراض کے علاج میں کامیاب ہو جاتے ہیں جہاں مغربی ادویات ناکام ہو چکی ہوتی ہیں۔ ان کے علاج کا ایک اہم حصہ گھر میں بنی جڑی بوٹیوں کی دواؤں کا نسخہ ہے۔‘
یہ جزیرہ یہاں اگنے والی 300 یا اس سے بھی زیادہ ایسی جڑی بوٹیوں سے بھرا ہوا ہے جن کی مدد سے مختلف ادویات بنائی جاتی ہیں اور ان کی مدد سے علاج کیا جاتا ہے۔
اس جزیرے پر اتنی بڑی تعداد میں یہ جڑی بوٹیاں اس وجہ سے بھی پائی جاتی ہیں کہ یہاں طویل عرصے سے یہ طریقہ علاج رائج ہے۔

،تصویر کا ذریعہSimon Urwin
جادوئی مناظر اور جزیرے کی شہرت
ہسپانوی مُہم جُو خوان اگیرے اور ایسٹیبان روڈریگیز 1565 میں سیکوجور کے جزیرے پر پہنچنے والے پہلے یورپی تھے۔
جزیرے کو دور سے دیکھ کر اور اسے آگ سمجھ کر انھوں نے اس کا نام اسلا ڈی فیوگو (فائر آئی لینڈ) رکھ دیا۔
بورونگن کہتے ہیں کہ ’درحقیقت یہ روشنی جزیرے کے مولو کے درختوں پر گھومنے والی جگنوؤں سے آئی تھی۔
’یہ قدرتی مناظر (اب انتہائی نایاب) ہو چُکے ہیں۔ شاید یہی وجہ تھی کہ سیکویجور نے سب سے پہلے سحر زدہ ہونے کی وجہ سے شہرت حاصل کی اور شاید ایک وجہ یہی تھی کہ جس کی وجہ سے پڑوسی جزیروں کے مقامی لوگ بھی یہاں آنے سے ڈرتے اور گھبراتے تھے۔‘

،تصویر کا ذریعہSimon Urwin
جہاں جادو ٹونے کی روایات اور کیتھولک مذہب یکجا ہو جاتے ہیں
فلپائن میں 1521 میں کیتھولک مذہب کی آمد ہوئی، پھر بھی مشنری 1700 کی دہائی تک سیکویجور پر نہیں پہنچ پائے تھے اور شاید اس کی ایک وجہ جادو ٹونے کی افواہیں تھیں۔
بورونگن کہتے ہیں کہ ’اس وقت تک جزیرے کی ثقافت میں شامانی یا جادو ٹونے کی روایات کی جڑیں بہت مضبوط تھیں، مشنری اسے تبدیل نہیں کر سکتے تھے۔
’لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ، دونوں عقائد ایک دوسرے کے ساتھ گھل مل گئے۔ شفا دینے والوں نے تسلیم کیا کہ ان کی صلاحیتیں ایک اعلیٰ طاقت سے آتی ہیں جسے وہ آخر کار خدا کہتے ہیں۔ انھوں نے مذہبی علامتوں کو اپنایا اور بہت سے لوگ سان انتونیو کے گاؤں میں رہنے کی طرف راغب ہوئے۔

،تصویر کا ذریعہSimon Urwin
محبت، ہوس اور کامیابی کے لیے مشروب
جزیرے پر جڑی بوٹیوں کا استعمال وسیع پیمانے پر ہوتا ہے اور وہ سڑک کے کنارے دکانوں میں تقریبا 100 پیسو (1.40 پاؤنڈ) میں آسانی سے خریدی جا سکتی ہیں۔
سب سے زیادہ مقبول ایک محبت کا مشروب ہے جس میں 20 قدرتی اجزا ہیں جن میں ’پنگامے‘ بھی شامل ہیں، یہ ایک ٹہنی ہے جس کی شکل ہاتھ کی طرح ہوتی ہے۔
30 سال سے زیادہ عرصے سے یہ شربت بنانے والی لیلیا آلوم کہتی ہیں کہ ’یہ اشارے کی علامت ہے یعنی ’میرے پاس آؤ‘، چاہے وہ رومانس ہو یا خوشی‘
آلوم نے مجھے بتایا کہ یہ مشروب ابدی محبت نہیں لا سکتا ’یہ قلیل مدتی جذبات کو اُبھارنے کے لیے ہی بہتر ہے‘ لیکن یہ اصل میں کاروبار میں کامیابی کے لیے زیادہ موزوں ہے۔
’یہ آپ کو وہ اعتماد اور مثبت سوچ دے سکتا ہے جس کی آپ کو دولت مند بننے کے لیے ضرورت ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہSimon Urwin
روحانی طاقت کے لیے ’بلیک سیچرڈے‘ کی رسومات
200 سے زائد اجزا مومی سیاہ الیکسیر مناسا بناتے ہیں جسے اوب کے دوران جلایا جاتا ہے، ایک ایسی رسم جو جادو اور روحوں کے اثرات کو ختم کرتی ہے۔
مناسا بنانے کے لیے طبیب مسلسل سات جمعے کو روحانی طاقت کے مقامات کا دورہ کرتے ہیں تاکہ کیڑے مکوڑوں، پھولوں، جڑی بوٹیوں، جنگلی شہد اور قبرستان میں سے پگھلی ہوئی موم بتیوں جیسے مختلف عناصر کو جمع کیا جا سکے۔
یہ سال کے صرف ایک خاص دن تیار کیا جاتا ہے: بلیک سیچرڈے (گڈ فرائیڈے کے بعد کا دن جب مسیح کو ان کی قبر میں اُتارا گیا تھا)۔
فلپائن میں اس دن کو سوگ کا دن سمجھا جاتا ہے، لہذا اس کے لیے بلیک یا ’سیاہ‘ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہSimon Urwin
آباؤ اجداد کے ساتھ رابطہ
ٹیگی ایک ایسا عمل ہے جو مرنے والے رشتہ دار کی روح کے ذریعے پیدا ہونے والی بیماریوں کا علاج کرتا ہے۔
معالج پاسکل اوگوک مرنے والے شخص کی شناخت کے لیے ایک چھڑی کا استعمال کرتے ہیں ’جب ان کا نام اونچی آواز میں لیا جاتا ہے تو چھڑی جھک جاتی ہے یا لمبی بھی ہو سکتی ہے‘۔
اوگوک کا کہنا ہے کہ ’وہ (روح) اکثر مجھ سے کہتے ہیں کہ وہ غیر مطمئن ہیں کیونکہ انھیں بھلا دیا گیا ہے۔‘
علاج کا طریقہ آسان ہے: متاثرہ شخص مقامی پادری کو نقد عطیات دیتا ہے اور ان کی پریشان روح کو خوش کرنے کے لیے مرحوم کے لیے ایک دعا کی جاتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہSimon Urwin
جادو اور روحوں کا خاتمہ
روہیلو لوگاتمین بولو بولو کی مدد سے شفا دینے والے اب اکیلے معالج ہیں۔
اس طریقہ علاج میں تازہ پانی سے بھرا ہوا ایک مرتبان، بھوسا اور ایک جادوئی پتھر شامل ہیں۔
بلبلے پانی میں اڑا دیے جاتے ہیں جبکہ مرتبان کو مریض کے اوپر رکھا جاتا ہے۔ پتھر، جادو اور روحوں کو ہٹاتا ہے جس کی وجہ سے پانی بادل بن جاتا ہے اور روحیں جادوئی طور پر ظاہر ہوتی ہیں۔
لوگاتمین کا کہنا ہے کہ انھوں نے ٹڈی سے لے کر سوئی (جادوئی گُڑیا ووڈو تک) تک سب کچھ شفا یابی کے دوران دیکھا ہے۔ یہ عمل اس وقت تک دہرایا جاتا ہے جب تک کہ پانی صاف نہ ہو جائے اور یہ اچھی صحت کی نشاندہی کرتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہSimon Urwin
علاج کرنے والے معالج معاوضہ نہیں لیتے ہیں
علاج کرنے والے معالج معاوضہ نہیں لیتے ہیں لیکن اس کے بجائے چھوٹے عطیات کی درخواست کرتے ہیں۔
طبیب جوانیتا ٹوریماچا کا کہنا ہے کہ ’یہ بس گزر بسر کرنے کے لیے ایک امداد کی مانند ہے لیکن یہ منافع کے لیے نہیں ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ہم ایک پرسکون اور آرام دہ زندگی بسر کر رہے ہیں کسی چیز کی کمی نہیں ہے۔
تاہم اس سب کے باوجود حالیہ برسوں میں معالجین کی تعداد میں کمی آئی ہے۔ اس رجحان کو تبدیل کرنے کے لیے، 2006 سے ہر مقدس ہفتے میں سالانہ سکیجور ہیلنگ فیسٹیول ماؤنٹ بانڈیلان نیشنل پارک میں منعقد کیا جاتا ہے۔ مقامی افراد اور زائرین دونوں کو شرکت کے لیے خوش آمدید کہا جاتا ہے۔
بورونگن کہتے ہیں کہ ’ہر کوئی اپنی محبت کے مشورب بنا سکتا ہے اور اپنے لیے رسومات کا تجربہ کر سکتا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ہم یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ ہمارا علاج طاقتور ہے اور صدیوں سے یہی وہ چیز ہے جس نے سکیجور کو منفرد بنایا ہے، ہم اس جادو کو کبھی نہیں چھوڑنا چاہتے۔‘











