شیمپین کی بوتلوں پر پُھلجھڑی جو درجنوں جانیں نگل گئی: ’اگر وہ زندہ ہیں تو ان کے خلاف مقدمہ چلے گا‘

،ویڈیو کیپشنویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک شخص سوئس بار میں ابتدائی آگ بجھانے کی کوشش کر رہا ہے

سوئٹزر لینڈ کے حکام کا کہنا ہے کہ سکی ریزورٹ کے ایک بار میں آگ لگنے کی وجہ ممکنہ طور پر شیمپین کی بوتلوں پر لگائے گئے سپارکلرز ہیں۔

کرانز مونٹانا میں نئے سال کے دن کے ابتدائی گھنٹوں میں آگ لگنے کے بعد چالیس افراد ہلاک ہو گئے تھے، جبکہ 119 زخمی ہوئے۔

ویلیس کی اٹارنی جنرل بیٹریس پیلوڈ نے جمعے کو ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ تحقیقات کا مرکز سائٹ پر استعمال ہونے والے مواد، بار کی آگ سے حفاظت کے اقدامات، اس کی گنجائش اور آگ لگنے کے وقت اندر موجود افراد کی تعداد پر ہوگا۔

تحقیقات میں یہ جانچا جائے گا کہ آیا مقدمات کی کارروائی ضروری ہوگی یا نہیں۔

انھوں نے کہا کہ 'اگر ایسا ہے، اور اگر وہ لوگ ابھی زندہ ہیں، تو ان کے خلاف مقدمہ چلایا جائے گا۔'

اٹارنی جنرل بیٹریس پیلوڈ نے کہا کہ 'ہر چیز ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ آگ پُھلجھڑی میں استمعال ہونے والے سپارکلز سے شروع ہوئی، جو شیمپین کی بوتلوں پر رکھی گئی تھیں اور یہ چھت کے بہت قریب رکھی گئی تھیں۔ اس کے بعد آگ بہت جلد شروع ہو گئی۔'

An image shows a bar full of people holding bottles of champagne with sparklers on the top

،تصویر کا ذریعہSupplied

،تصویر کا کیپشنبی بی سی ویریفائی نے دو تصاویر کی تصدیق کی ہے جس میں لی کنسٹیلیشن نائٹ کلب کے اندر بوتلوں میں پُھلجھڑی دکھائی دے رہی ہے

بار کے ایک مالک نے مبینہ طور پر مقامی میڈیا کو بتایا کہ ان کے املاک کی گذشتہ دس سالوں میں تین بار جانچ پڑتال کی گئی ہے اور سب کچھ قواعد و ضوابط کے مطابق کیا گیا ہے۔

حکام ابھی بھی آگ میں ہلاک ہونے والے 40 افراد کی باضابطہ شناخت پر کام کر رہے ہیں، پولیس کمانڈر فریڈرک گسلر نے کہا ہے کہ 'یہ ہماری ترجیح ہے'۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

آگ میں زخمی ہونے والوں میں سے کئی نازک حالت میں ہیں اور 'ابھی بھی زندہ رہنے کے لیے لڑ رہے ہیں۔'

زخمیوں میں سے 113 کی باضابطہ شناخت ہو چکی ہے۔ اس تعداد میں 71 سوئس شہری، 14 فرانسیسی، 11 اطالوی، اور چار سرب سمیت دیگر شامل ہیں۔

انھوں نے کہا کہ چھ دیگر افراد کی باضابطہ شناخت کا عمل جاری ہے، اور خبردار کیا کہ اعداد و شمار اب بھی تبدیل ہو سکتے ہیں۔

حکام کے مطابق تقریبا 50 زخمی افراد 'یورپی ممالک منتقل کیے گئے ہیں یا جلد ہی شدید جلنے کے لیے خصوصی مراکز میں منتقل کیے جائیں گے'۔

زخمی ہونے والوں میں 19 سالہ فرانسیسی فٹبالر تاہیرس دوس سانتوس بھی شامل تھے، جیسا کہ ان کے فٹبال کلب ایف سی مرٹز نے جاری کردہ بیان میں بتایا۔

کلب نے کہا کہ ڈوس سانتوس کو آگ میں 'شدید جھلس گئے ہیں' اور انھیں علاج کے لیے ہوائی جہاز سے جرمنی لے جایا گیا ہے۔

آگ کے بعد لاپتہ افراد کے اہل خانہ جمعے کی شام حکام کی جانب سے تازہ ترین معلومات کا بے چینی سے انتظار کر رہے تھے۔

لاپتہ افراد میں 16 سالہ اطالوی شہری اچیلے باروسی، ، شامل ہیں، جو نئے سال کے دن مقامی وقت کے مطابق 01:30 بجے اپنی جیکٹ اور فون لینے کے لیے بار میں داخل ہوئے۔ اس کے بعد اس کے خاندان کو اس کی کوئی خبر نہیں ملی۔

ان کی خالہ فرانسسکا نے بی بی سی ورلڈ سروس کو بتایا کہ 'ہمیں نہیں معلوم کہ وہ ابھی زندہ ہے یا نہیں۔'

انھوں نے کہا کہ وہ ایک بہترین مصور تھا جس نے میلان کے ایک آرٹ سکول میں داخلہ لیا تھا۔

جمعے کو ہونے والی نیوز کانفرنس میں، حکام نے کہا کہ وہ متاثرین کی شناخت ایک عمل کے ذریعے کر رہے ہیں جسے 'ڈیزاسٹر وکٹم آئیڈینٹیفیکیشن' کہا جاتا ہے، جس میں فرانزک ماہرین، ڈاکٹروں، دانتوں کے ڈاکٹروں اور تفتیش کاروں کی ایک ٹیم ڈیٹا اکٹھی کرتی ہے جس سے وہ مرنے والوں کی شناخت معلوم کر سکتے ہیں۔

ویلیس کی اٹارنی جنرل بیٹریس پیلوڈ نے بعد میں نیوز کانفرنس میں بتایا کہ تحقیقات میں یہ بھی جانچا جائے گا کہ آیا بار کی چھت عمارت کے قواعد و ضوابط پر پورا اترتی ہے یا نہیں۔

انھوں نے کہا کہ تفتیش کار چھت میں فوم کی تنصیب کا جائزہ لے رہے ہیں، اور اس مرحلے پر وہ یقین سے نہیں کہہ سکتیں کہ فوم نے اس پر عمل کیا یا نہیں، یا یہ اجازت کے بغیر یا بغیر اجازت کے نصب کیا گیا۔

انھوں نے کہا 'یہ ضروری ہے کہ ہم کوئی مفروضہ نہ لگائیں۔۔۔ ہمیں اپنا کام کرنے دیں۔'

انہوں نے کہا کہ بار کے دو فرانسیسی مینیجرز اور وہ لوگ جو آگ سے بچ نکلے تھے ان سے پوچھ گچھ ہو چکی ہے۔

پیلوڈ نے کہا کہ اس پوچھ گچھ نے انھیں واقعے کے دوران موجود افراد کی فہرست بنانے میں مدد دی ہے۔

حکام نے یہ بھی تصدیق کی کہ بار سے ایک سے زیادہ باہر نکلنے کے راستے تھے، لیکن انھوں نے کہا کہ وہ 'فی الحال یہ نہیں کہہ سکتے' کہ ایمرجنسی ایگزٹ اس وقت کھلا تھا یا بند۔'

لیا زینڈر22 سال کی ہیں وہ ایک بار میں نیا سال منا رہی تھیں جو لی کانسٹلیشن کے قریب تھا۔

انھوں نے لی کونسٹیلیشن سے چیخیں سننے کا ذکر کیا اور کہا کہ ان کے بوائے فرینڈ نے شدید جلنے والے مریضوں کی مدد کی۔

انھوں نے بتایا کہ 'وہ چل نہیں سکتے تھے اور نہ بات کر سکتے تھے۔'

Blonde-haired Lea Zehnder looks into the camera wearing a woolen hood and a fur-look coat
،تصویر کا کیپشنلی زینڈر نے کہا کہ یہ صرف اتفاق تھا کہ وہ اور ان کا بوائے فرینڈ دوسرے مقام پر گئے تھے حالانکہ وہ ہمیشہ لی کنسٹیلیشن جاتے ہیں

ایک نوجوان خاتون 20 سالہ ٹرسٹن فشر نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے 17 سالہ بھائی نے آگ لگنے کے بعد کھڑکیاں توڑ دی تھیں اور بار سے لوگوں کو باہر نکالا۔

انھوں نے کہا کہ وہ فکر مند ہیں کہ اس واقعے سے اس کے بھائی کی ذہنی صحت مستقل طور پر متاثر ہوئی ہے

وہ کہتی ہیں 'اُس نے صحیح طریقے سے بات نہیں کی، اس کے بعد سے وہ ٹھیک سے سو بھی نہیں پایا۔'

لی کونسٹیلیشن ایک بڑا بار ہے جو کئی سالوں سے موجود ہے۔ اس میں 300 افراد کی گنجائش ہے اور اس میں ایک چھوٹا سا ٹیرس تھا، تاہم یہ معلوم نہیں کہ آتشزدگی کے وقت وہاں کتنے لوگ موجود تھے۔

جمعے کو اشک بار خاندانوں اور نوجوان بار کے گرد پولیس کے محاصرے کے قریب جمع ہوئے۔

کچھ نے پھول اور موم بتیاں چھوڑیں، جبکہ کچھ نے ایک عارضی مزار پر پیغامات رکھے۔

قصبے کے بالکل باہر، ایک کانفرنس سینٹر لاپتہ افراد کے خاندانوں کی مدد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

نو جنوری کو کرانس-مونٹانا میں ایک تقریب منعقد کی جائے گی تاکہ لوگ 'قومی سوگ' کے لیے اکٹھے ہو سکیں۔