دو پائلٹس، ایک تابوت اور ہزاروں کلومیٹر کا سفر: جب ایک سابق صدر کی لاش نائجیریا سے خفیہ طور پر صومالیہ لائی گئی

،تصویر کا ذریعہHussein Mohamed Anshuur
- مصنف, بشریٰ محمد
- عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس
آج سے 31 برس قبل کینیا کے دو پائلٹس کو اپنے دفتر میں ایک ایسی ملاقات کرنا پڑی جن کی انھیں بالکل بھی توقع نہ تھی۔
نیروبی کے ولسن ایئر پورٹ پر پائلٹ حسین محمد انشور اور محمد عدنان سے ملنے نائجیریا کے ایک سفارت کار آئے جنھوں نے دونوں پائلٹس کو ایک خفیہ مشن کے بارے میں بتایا۔
یہ مشن صومالیہ کے سابق حکمران سیاد بیرے کی لاش کو تدفین کے لیے ان کے ملک واپس لانا تھا جو 80 برس کی عمر میں نائجیریا میں جلا وطنی کے دوران وفات پا گئے تھے۔
ماضی میں کینیا کی ایئرفورس میں بطور کیپٹن کام کرنے والے حسین محمد اس وقت کینیا کی ایک بڑی نجی ایئر لائنز ’بلیو ورلڈ ایوی ایشن‘ میں محمد عدنان کے ساتھ کام کر رہے تھے۔
اس مشن کے بارے میں پہلی بار میڈیا سے بات کرتے ہوئے حسین محمد نے بی بی سی کو بتایا کہ نائجیریا کے سفارت کار ’سیدھے اپنی بات پر آئے‘ اور ان سے کہا کہ وہ ’ایک طیارے میں نائجیریا کے شہر لاگوس سے صومالیہ کے علاقے گاربہارے میں خفیہ طور پر ایک لاش کو تدفین کے لیے لے جائیں۔‘
حسین محمد کہتے ہیں وہ یہ سن کر حیران رہ گئے۔ ’ہمیں فوراً اندازہ ہو گیا کہ یہ کوئی نارمل پرواز نہیں ہو گی۔‘
بیرے 28 جنوری 1991 کو ملیشیا فورسز کے ہاتھوں معزول ہونے کے بعد صومالیہ سے فرار ہو گئے تھے، اس لیے ان کی لاش کو واپس لانا ایک سیاسی مسئلہ تھا، جس میں متعدد حکومتیں شامل تھیں جبکہ علاقائی اور سفارتی تعلقات خراب ہونے کا بھی خدشہ تھا۔

،تصویر کا ذریعہCorbis/Getty Images
حسین محمد کہتے ہیں کہ وہ ممکنہ نتائج سے خوفزدہ تھے کیونکہ اس سفارت کار نے معمول کے طریقہ کار سے ہٹ کر اس پرواز کا انتظام کرنے کا کہا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
’اگر کینیا کے حکام کو پتہ چل جاتا تو اس سے مسائل پیدا ہو سکتے تھے۔‘
دونوں پائلٹس نے اس مشن کے لیے حامی بھرنے سے پہلے پورا دن اس بارے میں سوچا۔
سنہ 1969 میں ایک خونیں بغاوت کے بعد سیاد بیرے نے اقتدار پر قبضہ کیا تھا۔ ان کے حامی انھیں ایک ایسے رہنما کے طور پر دیکھتے تھے، جو جنوبی افریقہ میں نسل پرستی کے خلاف تھے۔
ناقدین کے لیے وہ ایک ڈکٹیٹر تھے، جنھوں نے اپنے اقتدار کے دوران میبنہ طور پر انسانی حقوق کی بے شمار خلاف ورزیاں کیں۔
اقتدار سے بے دخلی کے بعد سیاد بیرے ابتدائی طور پر کینیا چلے گئے، تاہم کینیا کی حکومت پر ملک کی پارلیمان اور انسانی حقوق کے گروپوں کی جانب سے شدید تنقید کی گئی۔ اس کے بعد نائجیریا نے انھیں سیاسی پناہ دی۔ اس وقت نائجیریا میں فوجی حکمران جنرل ابراہیم بابانگیدا ملک کی باگ دوڑ سنبھالے ہوئے تھے۔
سیاد بیرے اپنی موت تک لاگوس میں ہی مقیم رہے۔
مشن کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے دونوں پائلٹس نے نائجیریا کے سفارت کار سے کہا کہ انھیں اس درخواست پر غور کرنے کے لیے مزید ایک دن کا وقت دیا جائے۔
اس مشن کے لیے انھیں جس رقم کی پیشکش کی گئی وہ کافی پرکشش تھی تاہم اس میں خطرات بھی بہت تھے۔
حسین محمد کہتے ہیں کہ ’ہم نے سفارت کار کو پہلے مشورہ دیا کہ وہ نائجیریا کی ایئر فورس کا طیارہ استعمال کریں لیکن انھوں نے انکار کر دیا۔‘
’انھوں نے کہا کہ آپریشن بہت زیادہ حساس ہے اور کینیا کی حکومت کو اس بارے میں علم نہیں ہونا چاہیے۔‘
اس بارے میں پہلی بار میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سیاد بیرے کے بیٹے آیانلے محمد نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس مشن کو کوئی غیر قانونی کام کرنے کے لیے خفیہ نہیں رکھا گیا تھا۔‘
انھوں نے وضاحت کی کہ اسلامی روایت کے مطابق تدفین کا عمل جلد از جلد مکمل ہو جانا چاہیے اور اسی لیے معمول کے طریقہ کار کو روک دیا گیا حالانکہ کچھ حکومتیں اس خفیہ منصوبے سے آگاہ تھیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’وہ ہمارا اچھا وقت نہیں تھا۔ اگر ہم کاغذی کارروائی میں پڑ جاتے تو تدفین تاخیر کا شکار ہو جاتی۔‘
آیانلے محمد کہتے ہیں کہ انھیں نائجیریا کے حکام نے بتایا تھا کہ گاربہارے کا رن وے کسی فوجی طیارے کے لیے ’بہت چھوٹا‘ ہے۔
’اسی لیے بلیو برڈ ایوی ایشن سے رابطہ کیا گیا۔‘
حسین محمد کہتے ہیں کہ اس وقت ان کا سیاد بیرے کے خاندان سے کوئی رابطہ نہیں تھا لہذا انھوں نے اپنا فیصلہ نائجیریا کے سفارت کار کو پہنچا دیا۔
’یہ کوئی آسان فیصلہ نہیں تھا لیکن ہمیں اس سفر کو انجام دینے کی ضرورت محسوس ہوئی۔‘
تاہم یہ سابق صدر سے ان کا کوئی پہلا رابطہ نہیں تھا۔ جب سیاد بیرے اور ان کا خاندان صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو سے فرار ہوا تو وہ گاربہارے کے ایک قصبے برڈوبو پہنچے تھے۔
اس وقت بھی ان پائلٹس نے کھانے پینے کی اشیا، ادویات اور دیگر ضروری چیزیں بیرے خاندان کو پہنچائی تھیں۔
لیکن سابق صدر کی لاش واپس لانے کے سفر سے پہلے ان پائلٹس نے نائجیریا کی حکومت سے گارنٹی کا مطالبہ کیا۔
پائلٹ حسین محمد کہتے ہیں کہ ’ہم نے مطالبہ کیا کہ اگر سیاسی طور پر کچھ غلط ہوا تو نائجیریا کو اس ذمہ داری قبول کرنا ہو گی۔ اس کے علاوہ ہم نے فلائٹ پر سفارتخانے کے دو اہلکاروں کی موجودگی کا مطالبہ بھی کیا۔‘
نائجیریا اس پر رضا مند ہو گیا۔
پھر ان پائلٹس نے اپنے مشن کو خفیہ رکھنے کے لیے ایک منصوبہ بنایا اور وہ اس میں کامیاب ہو گئے۔
حسین محمد بتاتے ہیں کہ ’11 جنوری کو رات تین بجے کے بعد ان کے طیارے بیچ کرافٹ کنگ ایئر بی 200 نے ولسن ایئرپورٹ سے اڑان بھری۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP/Getty Images
پائلٹس نے فلائٹ مینیفیسٹ میں مغربی کینیا میں جھیل کے کنارے واقع شہر کسیمو کو اس پرواز کی منزل کے طور پر بیان کیا۔
حسین کہتے ہیں کہ ’یہ صرف کاغذی کارروائی کے لیے تھا۔ جب ہم کسیمو کے نزدیک پہنچے تو ہم نے ریڈار کو آف کر دیا اور جہاز کو یوگنڈا میں انتیبے کی جانب موڑ لیا۔
ان دنوں میں اس پورے خطے میں ریڈار کوریج محدود ہوا کرتی تھی اور پائلٹس کو معلوم تھا کہ وہ اس کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
انتیبے میں لینڈنگ پر پائلٹس نے ایئرپورٹ حکام کو بتایا کہ طیارہ کسیمو سے آیا ہے۔ جہاز میں موجود نائجیریا کے دونوں اہلکاروں کو خاموش رہنے اور جہاز سے نہ اترنے کی ہدایت کی گئی تھی۔
یہاں جہاز میں ایندھن بھر دیا گیا اور اب اگلی منزل کیمرون کا دارالحکومت یاؤندے تھا، جہاں اس آپریشن کو انجام دینے میں مدد کرنے والے نائجیریا کے سفارت کار ان کا انتظار کر رہے تھے۔
ایک مختصر سٹاپ کے بعد جہاز لاگوس کی جانب روانہ ہوا۔
نائجیریا کی فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے نائجیریا کی حکومت نے پائلٹس کو ہدایت کی کہ وہ ایئر فورس کال سائن ’WT 001‘ استعمال کریں تاکہ کسی کو شبہ نہ ہو سکے۔
حسین کہتے ہیں کہ ’یہ ضروری تھا ورنہ اس کے بغیر ہم سے پوچھ گچھ کی جا سکتی تھی۔‘

یہ خفیہ پرواز 11 جنوری کو دن ایک بجے لاگوس پہنچی جہاں بیرے خاندان ان کا انتظار کر رہا تھا۔
باقی دن آرام کرنے کے بعد پائلٹس نے اپنے سفر کے آخری حصے کی تیاری کی یعنی بیرے کی لاش کو صومالیہ پہنچانا۔
12 جنوری 1995 کو لکڑی کا تابوت طیارے میں لاد دیا گیا۔ سیاد بیرے کے بیٹے آیانلے محمد سمیت خاندان کے چھ افراد اس جہاز میں سوار ہوئے جبکہ نائجیریا کے دو سرکاری اہلکار بھی اس پرواز میں تھے۔
حسین کہتے ہیں کہ ’کیمروں، یوگنڈا اور کینیا میں ہم نے ایئرپورٹ حکام کو یہ نہیں بتایا کہ ہم ایک لاش لے کر جا رہے ہیں۔‘
واپسی کے سفر پر بھی ان ممالک کے ایئرپورٹ حکام کو بتایا گیا کہ اس پرواز کی منزل کسیمو شہر ہے تاہم کسیمو کے نزدیک پہنچنے پر پائلٹس نے جہاز کا رخ گاربہارے کی جانب موڑ دیا۔
حسین بتاتے ہیں کہ گاربہارے میں سابق صدر کا تابوت اتارا گیا، دونوں پائلٹس نے تدفین میں شرکت کی اور پھر نائجیریا کے دو اہلکاروں سمیت ولسن ایئرپورٹ کے لیے روانہ ہو گئے۔
’اور اس پورے سفر میں یہ لمحہ ’سب سے زیادہ دباؤ‘ والا تھا۔ آپ سوچتے ہیں کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں ہمیں روکا جا سکتا ہے۔‘
پکڑے جانے کے خوف سے پائلٹس نے ولسن ایئر ٹریفک کنٹرول کو اطلاع دی کہ وہ شمال مشرقی کینیا میں مانڈیرا سے آ رہے ہیں تاکہ یہ تاثر دیا جا سکے کہ یہ مقامی پرواز ہے۔
حسین بتاتے ہیں کہ ’کسی نے کوئی سوال نہیں پوچھا اور تب ہی ہمیں محسوس ہوا کہ اب ہم محفوظ ہیں۔‘
اور اس طرح اس مشن کا اختتام ہوا۔
جب حسین محمد سے پوچھا گیا کہ ’کیا وہ دوبارہ ایسا کریں گے۔‘
انھوں نے جواب دیا کہ ’نہیں، اب میں 65 برس کا ہوں۔ میں اب ایسا مشن انجام نہیں دوں گا کیونکہ اب ایوی ایشن ٹیکنالوجی بہت بہتر ہو چکی ہے۔‘













