’مزاحمت کا محور‘: کیا حزب اللہ، حوثی اور عراقی شیعہ گروہ امریکہ اور اسرائیل کے خلاف ایران کا ساتھ دیں گے؟

    • مصنف, سعید جعفری
    • عہدہ, تجزیہ کار برائے ایرانی اُمور
  • مطالعے کا وقت: 10 منٹ

گزشتہ کئی دہائیوں سے ایران نے اپنی دفاعی حکمتِ عملی کو محض میزائلوں، فضائی دفاعی نظام اور داخلی صلاحیتوں کے حصول تک محدود رکھنے کے بجائے اسے خطے میں اپنے اثر و رسوخ سے جوڑنے کی کوشش کی ہے اور اسی حکمتِ عملی کے تحت ایران نے لبنان، عراق، شام اور یمن میں مسلح غیر ریاستی گروہوں کے نیٹ ورک (یعنی مسلح طاقتوں کا گرے زون) میں سرمایہ کاری کی۔

ایران کی یہ حکمت عملی نہ تو مکمل روایتی جنگ پر مبنی تھی اور نہ ہی پائیدار امن پر۔ یہ حکمت عملی دباؤ، دھمکیوں اور محدود مگر غیر واضح حملوں کے سلسلے پر مبنی ہے جو دشمن کو مصروف تو رکھتی ہے مگر دوسری جانب ایران کو کسی بھی عالمی طاقت کے ساتھ بڑے پیمانے پر تصادم کی طرف نہیں لے جاتی۔

تاہم سات اکتوبر 2023 کے بعد سے اسرائیل نے ایران کے اس نیٹ ورک میں شامل مختلف عناصر کو نشانہ بنایا۔

ابتدا میں اسرائیل کی جانب سے ایران سے منسلک گروہوں کو ہدف بنایا گیا اور بعد ازاں خطے میں ایرانی اہداف اور یہاں تک کہ ایران کے اندر بھی حملے کیے گئے۔ اس حکمتِ عملی کا مقصد تہران کو ’گرے زون‘ سے باہر دھکیل کر ایک مشکل صورتحال میں لے جانا ہے، جہاں اسے مکمل پسپائی اختیار یا کشیدگی میں اضافے کے درمیان انتخاب کرنا پڑے۔

سات اکتوبر 2023 کے بعد سے خطے میں ایران سے منسلک بعض مسلح گروہوں اور ملیشیاؤں کو شدید نقصان پہنچا ہے مگر اس کے باوجود یہ کمزور پڑ جانے والے ایران کے اتحادی مکمل طور پر ختم نہیں کیے جا سکے ہیں۔

اس رپورٹ میں ہم خطے میں ایران کے تین بڑے اتحادیوں پر نظر ڈالیں گے، یعنی لبنان میں حزب اللہ، عراق میں شیعہ ملیشیائیں، اور یمن میں حوثی تحریک، اور یہ جائزہ لیں گے امریکہ، ایران تنازع میں یہ اتحادی کس نوعیت کا کردار ادا کر پائیں گے۔

لبنان میں حزب اللہ: کمزور مگر با اثر

تاریخی طور پر خطے میں حزب اللہ ایران کا سب سے اہم اثاثہ رہا ہے۔ حزب اللہ کی عسکری اور میزائل صلاحیتیں، اسرائیل کی شمالی سرحدوں پر اس کی جغرافیائی موجودگی اور لبنان میں گذشتہ کئی دہائیوں میں اس گروہ کی جانب سے ادا کیا جانے والا سیاسی و سماجی کردار، اسے تہران کے لیے غیر معمولی اہمیت کا حامل بناتا ہے۔

تاہم، حزب اللہ کی موجودہ صورتحال ماضی سے نمایاں طور پر مختلف ہے۔ اسرائیل کے ساتھ جنگ اور سکیورٹی و انٹیلیجنس کی بنیاد پر ہونے والے اسرائیلی حملوں نے حزب اللہ کی تنظیمی صلاحیت اور طاقت کو کمزور کر دیا۔ حسن نصراللہ کی ہلاکت نے قیادت کے لیول پر بڑا خلا پیدا کیا اور اب اس گروہ کی کمانڈ اور ڈھانچے کی ازسرِنو تشکیل کی ضرورت پر بات کی جا رہی ہے۔

اسی دوران لبنان کی داخلی صورتحال بشمول وہاں معاشی زوال، سماجی دباؤ، اور غیر شیعہ برادریوں میں کسی نئی جنگ کے حوالے سے بڑھتی ہوئی حساسیت نے حزب اللہ کی صلاحیت کو مزید محدود کر دیا ہے۔

بیروت میں مڈل ایسٹ سینٹر کے مدیر مائیکل ینگ نے بی بی سی فارسی کو بتایا کہ ’لبنان کی جانب سے ایران کے حق میں کی گئی کسی بھی نئی مداخلت کی قیمت بہت زیادہ ہو گی۔ حزب اللہ کی طاقت کے توازن کو بدلنے کی صلاحیت انتہائی محدود ہے۔ حزب اللہ فی الحال تنہا ہے اور لبنان میں بہت سے لوگ کسی بھی نئی جنگ کا حصہ بننے کے مخالف ہیں۔‘

انھوں نے زور دیا کہ اگر حزب اللہ نے بھاری ہتھیاروں، مثلاً اسرائیل کے خلاف بیلسٹک میزائلوں کے استعمال کا فیصلہ کیا، تو تل ابیب کا ردعمل ’تباہ کن‘ ہو سکتا ہے اور اس کے نتیجے میں ایک ایسا منظرنامہ جنم لے سکتا ہے جس کی قیمت لبنان کو معاشی طور پر مفلوج کر دینے کے مترادف ہو گی۔

ایران، امریکہ جنگ کی صورت میں حزب اللہ شاید وسیع پیمانے پر اس جنگ کا حصہ بننے سے قاصر رہے، کم از کم جنگ کے ابتدائی دنوں میں اور نہ ہی کسی ایسے انداز میں جو لبنان میں مکمل جنگ میں دھکیل دے۔ البتہ حزب اللہ میں اب بھی محدود نوعیت کی کارروائیاں کرنے اور ڈرون اور میزائل حملوں کی محدود صلاحیت اب بھی موجود ہے لیکن کسی بھی مکمل جنگ میں شمولیت اس گروہ کے وجود کے لیے خطرہ بن سکتی ہے اور لبنان میں اس کے باقی ماندہ سیاسی قد کاٹھ کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔

برسلز میں اسٹِمسن سینٹر سے منسلک سینیئر تجزیہ کار کاوا حسن نے بی بی سی کو بتایا کہ جس موقع پر حزب اللہ کو یہ یقین ہوا کہ امریکی حملے اسلامی جمہوریہ ایران کے وجود کو خطرے میں ڈال رہے ہیں تو شاید یہ گروہ ایک مختلف راستہ اختیار کرے۔

انھوں نے کہا کہ ’یہاں اصل سوال یہی ہے کہ آیا انھیں یہ محسوس ہو رہا ہے کہ ایران اپنے وجود سے ہاتھ دھو بیٹھنے کے خطرے سے دوچار ہے۔ میری رائے میں صرف اسی تصور کے تحت حزب اللہ کی جانب سے وسیع پیمانے پر مداخلت ممکن ہو گی۔‘

کاوا حسن کے اس تجزیے کی جھلک ہمیں حزب اللہ کے ایک اہم عہدیدار کے بیان میں بھی ملتی ہے، جنھوں نے گذشتہ ہفتے خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کو بتایا تھا کہ حزب اللہ ایران پر ’محدود‘ امریکی حملے کی صورت میں مداخلت نہیں کرے گا تاہم حزب اللہ کے عہدیدار نے یہ واضح کیا تھا کہ ان کا گروہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای پر کسی بھی حملے کو ’ریڈ لائن‘ تصور کرے گا۔

عراق کے شیعہ گروہ: زیادہ پیچیدہ اور مسابقتی

حزب اللہ کے برعکس، جس کے پاس فیصلہ سازی کا زیادہ مرکزی اور معروف ڈھانچہ موجود ہے، عراق میں ایران سے منسلک مسلح گروہ زیادہ متنوع، کثیرالجہت اور کسی حد تک مسابقتی ہیں۔

عراق کے شیعہ گروہوں میں چند (جیسے پاپولر موبیلائزیشن فورسز) ایسے ہیں جو سرکاری یا نیم سرکاری ڈھانچے کا حصہ ہیں، کچھ ایسے ہیں جو سیاسی اتحاد کے ذریعے عراق کی پارلیمنٹ تک پہنچے ہوئے ہیں، جبکہ دیگر سیاسی طور پر رابطوں میں رہتے ہیں مگر اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے اپنی آزاد اور مسلح شناخت کو بھی برقرار رکھا ہوا ہے۔

حالیہ برسوں میں، ان شیعہ گروہوں نے بیک وقت دو اہداف حاصل کیے ہیں: یعنی نام نہاد ’محورِ مزاحمت‘ کے اندر رہتے ہوئے اپنی شناخت اور کردار کو مستحکم کیا ہے اور عراق کی سیاست میں شامل ہو کر اندرون ملک اپنی پوزیشن مضبوط کی ہے۔

عراق میں موجود ان گروہوں کے تہران کے ساتھ روابط برقرار ہیں اور ایرانی حکام وقتاً فوقتاً ان گروہوں کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کرتے رہتے ہیں۔ کچھ شیعہ ملیشیاؤں نے تیزی سے عراق میں اپنی داخلی طاقت کو مستحکم کرنے، ملک کے سیاسی نظام میں اپنی پوزیشن کو محفوظ بنانے اور انتخابات یا جمہوریت کے ذریعے ملنے والے فوائد پر اپنی توجہ مرکوز رکھی ہے۔

ایران سے منسلک ان شیعہ گروہوں نے عراق میں سنہ 2025 میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں کافی کامیابیاں بھی حاصل کیں، اور اب مقامی سطح پر ان کا تشخص محض کسی مسلح گروہ تک محدود نہیں ہے بلکہ عراق میں موجود طاقت کے ڈھانچے کے وہ ایک باضابطہ کھلاڑی بھی ہیں۔

اور ان گروہوں کی یہی پوزیشن انھیں کسی بھی تصادم کی صورت میں ایران کے ساتھ باقاعدہ طور پر شامل ہونے سے روک سکتی ہے کیونکہ ایسی صورت میں ان کے پاس کھونے کے لیے بہت کچھ ہو گا، جیسا کہ عراقی پارلیمان میں نشستیں، حکومتی عہدے اور ووٹوں کے ذریعے ملنے والا قانونی جواز وغیرہ۔

تاہم، حزب اللہ کے مقابلے میں بعض عراقی گروہوں کی مداخلت زیادہ قابل فہم ہو سکتی ہے، کیونکہ عراق میں موجود امریکی فوجی اڈے اسرائیل کے مقابلے میں زیادہ قریب اور آسان ہدف ہو سکتے ہیں۔

عراق میں معاملات کثیر الجہتی ہیں اور اگر عراق کی مرکزی حکومت ایران پر کسی بھی حملے کی صورت میں تحمل کا مظاہرہ کرتی ہے تو بھی ملک میں موجود بہت سے چھوٹے اور زیادہ نظریاتی گروپ آزادانہ طور پر اپنا فیصلہ کر سکتے ہیں۔

مائیکل ینگ کہتے ہیں کہ عراق میں امریکی فوجی اڈوں کی موجودگی کی وجہ سے یہاں کی صورتحال لبنان سے یکسر مختلف ہے اور امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف کسی بھی محدود کارروائی کی صورت میں شاید تہران خطے میں موجود اپنے اتحادیوں کو مکمل طور پر فعال نہ کر سکے۔

تاہم کاوا حسن کے مطابق حملے کی صورت میں عراق میں واقع کردستان علاقے پر حملوں کا امکان بڑھ جائے گا، یہ وہ علاقہ ہے جسے چند عراقی شیعہ گروہ ’نرم ہدف‘ یعنی سافٹ ٹارگٹ کے طور پر دیکھتے ہیں اور یہاں کسی بھی حملے کو واشنگٹن کو پیغام بھیجنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ کاوا حسن کے مطابق ایسا پہلے بھی ہوتا رہا ہے۔

سب سے زیادہ امکانی منظر نامے میں عراقی شیعہ گروہ شاید احتیاط کو ملحوظ خاطر رکھیں گی، ابتدا میں شاید کچھ گروہ غیرجانبداری کی حکمت عملی اختیار کریں گے جبکہ دوسرے گروہ محدود اور قابل انکار کارروائیوں میں مشغول ہو سکتے ہیں تاکہ واشنگٹن کو پیغام بھیجا جا سکے تاہم اس ضمن میں تمام امکانی منظر نامے تہران کی جانب سے کیے گئے فیصلوں پر منحصر ہوں گے۔

حوثی جنگجو: ایک زیادہ فعال آپشن

بہت سے مبصرین کا ماننا ہے کہ حزب اللہ اور عراقی شیعہ ملیشیاؤں کے برعکس یمن کے حوثی جنگجو زیادہ آزادی سے آپریٹ کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ وہ تہران کے اثر و رسوخ سے آزاد ہیں بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ انھیں حزب اللہ اور عراقی ملیشیاؤں کو درپیش اندرونی مسائل جیسی مشکلات کا سامنا نہیں۔

یمن میں حوثیوں کی جغرافیائی پوزیشن انھیں اس قابل بناتی ہے کہ وہ عالمی تجارت اور توانائی کی رسد کے راستوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں حوثی جنگجوؤں نے عالمی بحری راستوں کو نشانہ بنانے اور بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب میں بحری ٹریفک میں خلل ڈالنے کی اپنی صلاحیت کا متعدد مواقع پر اظہار کیا۔

ممکنہ ایران، امریکہ جنگ میں، وہ ایران کے سب سے زیادہ فعال اتحادی ہو سکتے ہیں کیونکہ انھیں یمن میں کم اندرونی سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔ ماضی میں اُن پر قابو پانا مشکل ثابت ہوا ہے، یہاں تک کہ اُن کے خلاف بڑی فضائی مہمات بھی مطلوبہ نتائج نہیں دے پائی ہیں۔ اور عالمی بحری راستوں میں خلل ڈالنے کی اُن کی صلاحیت نے انھیں عالمی سطح پر فائدہ پہنچایا۔

مائیکل ینگ کا کہنا ہے کہ ’حوثیوں کے پاس یقینی طور پر بہت سے آپشنز ہیں۔ وہ پہلے ہی بین الاقوامی تجارتی راستوں کو متاثر کرتے رہے ہیں اور کشیدگی کی صورت میں وہ آبنائے باب المندب کو بلاک کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔‘

مائیکل ینگ کے مطابق امریکہ کے ساتھ جنگ کی صورت میں ایران آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی کوشش کر سکتا ہے مگر اس ضمن میں ایران کی حکمت عملی کا انحصار اس بات پر ہو گا کہ ممکنہ امریکی حملے کی صورت اور سکیل کیا ہو گا۔

اگر تہران جلد یا بدیر یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ واشنگٹن (اور اسرائیل) کا مقصد ایرانی حکومت کا تختہ الٹنا (رجیم چینج) ہے، تو وہ بلاشبہ دباؤ بڑھانے اور نقصان کو زیادہ سے زیادہ کرنے کی غرض سے خطے میں موجود اپنے تمام اتحادیوں کو متحرک کرے گا۔

اور ایسی صورت میں ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز اور حوثیوں کی جانب سے باب المندب کو بلاک کرنے کا بہت زیادہ امکان ہو گا۔

وجود کو لاحق خطرے کا ادراک

زیادہ تر مبصرین اس بات پر متفق ہیں کہ ایران سے منسلک ان پراکسی گروپوں کا ردعمل فی الفور اور سیدھا سادھا نہیں ہو گا اور تہران پر کسی بھی حملے کی صورت میں ان گروہوں کی فوری مداخلت کا امکان نہیں ہو گا۔

کاوا حسن کا کہنا ہے کہ مداخلت صرف اس صورت میں ہو گی جب ایران کے وجود کے لیے کوئی خطرہ محسوس ہو گا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ایسی صورتحال میں، کچھ گروہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات یا کویت کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں اور ایسی کوئی بھی صورت ایران اور خلیجی ریاستوں کے درمیان حال ہی میں معمول پر آنے والے تعلقات کے لیے ایک سنگین امتحان بن سکتی ہے۔

مائیکل ینگ کا کہنا ہے کہ ایرانی حکومت کی اولین ترجیح بقا ہے۔

کوئی بھی ایسا عمل جس سے ایران میں جاری تسلسل کو خطرہ لاحق ہو وہ خطے میں واقعات کے ایک غیر معمولی سلسلے کو جنم دینے کا باعث بن سکتا ہے تاہم اگر ایران یہ محسوس کرتا ہے کہ اس کی بقا یا وجود کو کوئی خطرہ نہیں تو ایران اور اس کے اتحادیوں کا ردعمل ممکنہ طور پر زیادہ نپا تلا اور محدود ہو گا۔