’پارٹی ختم۔۔۔‘ اٹلی کی حکومت ریوو پارٹیوں پر پابندی کیوں لگانا چاہتی ہے؟

،تصویر کا ذریعہEPA-EFE/REX/SHUTTERSTOCK
اٹلی میں انتہائی دائیں بازو کی وزیراعظم جورجیا میلونی کی نئی حکومت نے ملک کے شمالی علاقے میں ایک میوزک پارٹی کو روکنے کے احکامات جاری کرنے کے بعد کہا ہے کہ بلا اجازت اس قسم کی پارٹیاں منعقد کرنے کو جرم قرار دیا جائے گا۔
اس مجوزہ قانون کے تحت 50 سے زیادہ افراد کے کسی قسم کے ’خطرناک اجتماعات‘ کا اہتمام کرنے والوں کو چھ سال قید تک کی سزا ہو سکے گی۔
نومنتخب وزیراعظم کے اس بیان سے پہلے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے وزیر میٹیو سلوینی نے پیر کو موڈینا کے شہر میں ایک گودام میں منعقد ہونے والی پارٹی کو یہ کہتے ہوئے ختم کرنے کا حکم دے دیا تھا کہ ’اب پارٹی ختم ہو چکی ہے۔‘
ہیلووین کی شام مذکورہ پارٹی جس علاقے کے ایک ویئر ہاؤس میں ہو رہی تھی وہاں کے قریبی رہائشیوں نے شکایت کی تھی کہ نشے میں دھت لوگ 48 گھنٹوں سے غل غپاڑہ کر رہے تھے۔
اس ’ریوو‘ پارٹی کے لیے سوشل میڈیا کے ذریعے نہ صرف قریب کے شہروں بلکہ بیلجیئم اور فرانس سے بھی نوجوانوں کو شرکت کی دعوت دی گئی۔
لیکن پارٹی کے منتظم اور شرکا کا کہنا تھا کہ ان کا ارادہ منگل تک پارٹی کرنے کا تھا جس کے بعد وہ خود ہی ویئر ہاؤس کی صفائی کر کے وہاں سے چلے جاتے۔ عینی شاہدین کے مطابق انھوں نے ایسا ہی کیا اور اپنے پیچھے کوئی کوڑا وغیرہ نہیں چھوڑا۔
اگرچہ وزیر اعظم میلونی کا کہنا تھا کہ مجوزہ قانون کا مقصد عام لوگوں کو محفوظ رکھنا ہے اور اس قسم کے اقدامات یورپ کے دوسرے ممالک میں بھی کیے جاتے ہیں، تاہم اس سے یہ پیغام ضرور جائے گا کہ اٹلی کی حکومت آئندہ قوانین کے احترام میں کوئی نرمی نہیں برتے گی۔
یاد رہے کہ اٹلی کی گذشتہ اتحادی حکومت نے سنہ 2021 میں ایک ایسی ہی پارٹی میں دو افراد کی ہلاکت کے بعد قوانین میں تبدیلی پر کام شروع کر دیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن دائیں بازو کی نئی حکومت ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے جو قانون بنانے جا رہی ہے اس کے تحت پارٹی کے منتظم اور شرکا پر بھاری جرمانہ ہوگا اور ان کا ساؤنڈ سسٹم وغیرہ بھی ضبط کیا جا سکے گا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
ناقدین سوال کر رہے ہیں کہ حکومت صرف نوجوانوں کو کیوں نشانہ بنا رہی ہے اور دوسری طرف اس نے گذشتہ ہفتے منعقد کی جانے والی ماضی کے اطالوی آمر بِنیٹو مسولینی کے دو ہزارسیاہ پوش فسطایت پسند پیروکاروں کی ریلی کو کیوں نظرانداز کیا۔
یہ ریلی پرداپیو میں منعقد کی گئی تھی جہاں مسولینی نہ صرف پیدا ہوا تھا بلکہ دفن بھی ہے۔ اس ریلی میں شرکا نے روم کی جانب مسولینی کے مشہور مارچ کی یاد میں فسطائی انداز میں سلیوٹ کیا اور ترانے بھی گائے۔
ناقدین کے سوالوں کے جواب میں ملک کے وزیرِ داخلہ ماٹیو پیانٹسوڈی کا کہنا تھا کہ پارٹی اور ریلی دو ’بالکل مختلف‘ چیزیں ہیں کیونکہ مسولینی کی یاد میں ہونے والی ریلی نے امن عامہ میں کوئی خلل نہیں پیدا کیا اور یہ تقریب برسوں سے منعقد کی جا رہی ہے، لیکن جس ویئر ہاؤس میں پارٹی ہوئی تھی اس کے مالک نے خود شور شرابے کی شکایت کی تھی۔
وزیراعظم نے اپنی جوانی کے دنوں کے فسطائیت کے دور سے خود کو دُور کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ جہاں تک گذشتہ آخر ہفتے کی ریلی کا تعلق ہے تو ’یہ سیاسی لحاظ سے ایک چیز تھی جس سے میرا دور کا بھی تعلق نہیں۔‘
لیکن ان کے ماضی پر بھی سوال اٹھائے جا رہے ہیں کیونکہ انھوں نے جس شخص کو اپنا نائب وزیر اعظم مقرر کیا ہے ان پر بھی ماضی میں اس وقت شدید تنقید ہوئی تھی جب ایک تصویر میں وہ اپنے بازو پر نازی دور کی مخصوص پٹی باندھے دکھائی دے رہے تھے۔
تاہم پیر کو نائب وزیراعظم گلیزو بگنامی کا کہنا تھا کہ وہ اپنی سنہ 2005 کی اس تصویر پر ’نہایت شرمندہ‘ ہیں۔
دوسری جانب نو منتخب وزیراعظم کی کابینہ نے ڈاکٹروں اور نرسوں پر کووڈ 19 کی ویکسین لگوانے کی پابندی ختم کرنے پر اتفاق کیا ہے اور کہا ہے کہ طبی عملے کے وہ افراد جنھیں ویکسین پر اعتراض کرنے کی وجہ سے معطل کر دیا گیا تھا وہ کام پر واپس آ سکتے ہیں۔









