امتیاز علی: ’ادھوری محبتیں‘ فلمانے والے ہدایتکار جن کی فلمیں لوگوں کو دیر سے سمجھ آتی ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
فلمساز اور ہدایتکار امتیاز علی کا سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کرنا کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن گذشتہ روز ان کا اچانک ٹرینڈ کرنا ذرا عجیب سا تھا۔
تجسس کی وجہ سے جب ٹرینڈ دیکھنا شروع کیا تو پتہ چلا کہ ایک نیوز چینل پر ان کا انٹرویو نشر ہوا ہے جس کی وجہ سے وہ ٹرینڈ کر رہے ہیں۔
ایک صارف کے تبصرے نے توجہ اپنی جانب کھینچ لی جس میں لکھا گیا تھا کہ 'امتیاز علی فلموں کی ہدایتکاری نہیں کرتے بلکہ وہ جذبات کی ہدایتکاری کرتے ہیں۔'
اس جملے نے نہ صرف پورا انٹرویو دیکھنے پر مجبور کیا بلکہ امتیاز علی کے فلمی کریئر پر بھی نظر ڈالنے کی ترغیب دی۔
این ڈی ٹی وی کے پروگرام ’کریئٹرز منچ‘ پر امتیاز علی نے اپنی فلموں کے بارے میں بات کی جہاں ان سے محبت کی تعریف کرنے کی گزارش کی گئی۔
اس کے جواب میں وہ کہتے ہیں کہ جو محبت پوری ہو جاتی ہے وہ ختم ہو جاتی ہے جو ادھوری رہ جاتی ہے وہ زندہ رہتی ہے اور یہی وجہ ہے ہیر رانجھا سے لے کر لیلیٰ مجنوں، اور سسی پنوں تمام محبت کی عظیم داستانیں ادھوری ہیں۔

،تصویر کا ذریعہMirza AB Baig
ان کی فلموں میں ادھوری محبت کیوں ہے؟
انھوں نے تفصیل سے کہا: ’سب پورا ہو کر ختم ہو جاتا ہے، جو آدھا ہے وہ زندہ ہے۔ کیونکہ جب کوئی چیز اپنے انجام کو پہنچ جاتی ہے تو وہ ختم ہوجاتی ہے۔ پھر اس میں کوئی تجسس باقی نہیں رہتا۔
’کوئی دلچسپی نہیں رہ جاتی ہے، کوئی توانائی نہیں رہ جاتی ہے، لیکن جب کوئی چیز ادھوری رہ جاتی ہے تو وہ شخص اور اسے دیکھنے والا اس کے بارے میں سوچتا رہتا ہے۔ وہ چیز اس کی زندگی کا حصہ بنی رہتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جب ان سے یہ کہا گیا کہ ان کی فلموں اور بطور خاص ’راک سٹار‘ میں ہیر اپنے شوہر کو دھوکہ دے رہی ہوتی ہے جو کہ اب سماج میں عام ہوتا جا رہا ہے تو انھوں نے کہا کہ آپ محبت کی تمام عظیم داستانیں دیکھیں تو اس میں خواتین شادی شدہ ہوتی ہیں لیکن وہ اپنی محبت کو بھلا نہیں پاتیں اور اپنے محبوب سے ملتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہDiljit/Instagram
دلجیت سنگھ پر سوال
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
این ڈی ٹی وی کے صحافی اور پروگرام کے پریزینٹر شبھانکر مشرا نے امتیاز علی سے دلجیت سنگھ کے بارے میں بھی ایک سوال کیا کہ ان کا پاکستانی اداکارہ کے ساتھ کام کرنا کتنا درست تھا۔ یاد رہے کہ امتیاز علی نے ان کے ساتھ 'امر سنگھ چمکیلا' بنائی ہے۔
اس سوال کے جواب میں امتیاز علی نے کہا کہ وہ چونکہ دلجیت سنگھ کو ذاتی طور پر جانتے ہیں اس لیے وہ کہہ سکتے ہیں کہ 'وہ ایک وطن پرست ہیں اور اس دھرتی کے بیٹے ہیں اور وہ اپنے کنسرٹس کے اختتام پر انڈیا کا پرچم لہراتے ہیں اور پنجاب کی دھرتی کے گن گاتے ہیں۔'
انھوں نے مزید کہا کہ 'کسی فنکار کو فلم میں کاسٹ کرنا کسی اداکار کا نہیں بلکہ یہ فلم سازوں کا فیصلہ ہوتا ہے۔'
اس سے قبل 'ہائی وے' اور 'راک سٹار' جیسی حساس اور سپر ہٹ فلمیں بنانے والے ہدایت کار امتیاز علی نے ایک بار کہا تھا کہ 'فلمی دنیا کے لوگ سیاسی بیانات کے لیے فٹ نہیں ہیں۔'
انھوں نے کہا تھا کہ 'بطور ڈائریکٹر اور فلم ساز میں مانتا ہوں کہ ملک یا بیرون ملک میں ہونے والے واقعات سے ہم متاثر ضرور ہوتے ہیں، ہم انھیں سمجھ سکتے ہیں، دکھا بھی سکتے ہیں لیکن مکمل معلومات کے بغیر اس پر کوئی رائے نہیں دے سکتے۔'
ان سے ایک سوال ان کی ذاتی زندگی میں محبت کے بارے میں کیا گیا جس کے جواب میں انھوں نے کہا کہ انھیں امید ہے کہ وہ اپنی محبت کو ڈھونڈنے میں ایک دن کامیاب ہو جائيں گے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
راک سٹار ٹو کا ارادہ ہے کیا؟
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ 'راک سٹار ٹو' بنانے کے بارے میں سوچ رہے ہیں تو انھوں نے کہا کہ کوئی اور بنائے تو بہتر ہوگا۔ ان کا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے ویسے کسی فلم کے ساتھ 'ٹو' لگ جائے تو وہ کامیاب ہو جاتی ہے۔
سوشل میڈیا پر ان کے تبصروں پر کافی تبصرے کیے گئے یہاں تک کہ ان کے کچھ پرانے انٹرویوز بھی شیئر کیے جا رہے ہیں۔
ایک صارف نے لکھا کہ 'راک سٹار صرف ایک فلم نہیں بلکہ مجھے ایسا لگا کہ یہ ایک ایسی زندگی ہے جو مجھے جینا ہے۔'
انھوں نے نغمہ نگار ارشاد کامل کے ساتھ اپنی رفاقت کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ وہ ایک ایسے شخص ہیں جو ان کی تمام نو فلموں میں ان کے ساتھ رہے ہیں۔
جمشید پور سے تعلق رکھنے والے اور دہلی کے ہندو کالج سے تعلیم حاصل کرنے والے امتیاز علی نے کرینہ کپور اور شاہد کپور کے ساتھ سنہ 2007 میں 'جب وی میٹ' بنائی جو کہ انتہائی کامیاب رہی۔
اس کے بعد انھوں نے سیف علی خان اور دیپکا پاڈوکون کے ساتھ 'لو آج کل' بنائی اور یہ ان کی اب تک کی سب سے کامیاب فلم تصور کی جاتی ہے۔
پھر رنبیر کپور اور نرگس فخری کے ساتھ ان کی فلم 'راک سٹار' آئی جو کہ ایک کلٹ فلم ثابت ہوئی۔ اس کے بارے میں انھوں نے کہا کہ اس میں کام کرنے والوں میں ہم آہنگی بنی تھی وہ انھیں پھر دیکھنے میں نہیں ملی۔
ان کی فلم 'ہائی وے' کو بہت زیادہ پزیرائی حاصل ہوئی۔ اس میں عالیہ بھٹ اور دیپ ہوڈا نے اہم رول ادا کیا ہے۔ اسی طرح ان کی ایک فلم 'کاک ٹیل' آئی جس میں ایک بار پھر سیف علی خان اور دیپکا پاڈوکون تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
'تماشہ' کو دیر سے پزیرائی ملی
ان کی فلم ’تماشہ‘ نے بھی ناظرین کو بہت محظوظ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تماشہ لوگوں کو ذرا دیر سے سمجھ میں آئی۔ اس کے بعد شاہ رخ اور انوشکا شرما کے ساتھ ان کی فلم 'جب ہیری میٹ سجل' آئی جو کہ باکس آفس پر ناکام رہی۔ لیلیٰ مجنوں اور ’لو آج کل‘ کا سیکوئل بھی خاطر خواہ پزیرائی حاصل نہیں کر سکا لیکن پھر گذشتہ سال ان کی فلم ’امر سنگھ چمکیلا‘ نے انھیں پھر سے کامیابی کے راستے پر لا کھڑا کیا۔
سوشل میڈیا پر لوگوں نے امیتاز علی کو ان کی فلموں کے حوالے سے یاد کرتے ہوئے ان کی فلموں کی خصوصیت کا ذکر کیا ہے۔
جان بنے گا ڈان نامی ایک صارف نے لکھا: ’ان کی کہانی سکرین کے وقت کی پابند نہیں ہے، وہ بہت دیر بعد تک رہتی ہے۔ امتیاز علی درد اور جذبے کو اسی شاعرانہ برش سے پینٹ کرتے ہیں۔ جب وہ کہانی سناتے ہیں تو سنیما (ناظرین کا) ذاتی تجربہ بن جاتا ہے۔‘
جے پور لٹریری فیسٹیول کے ایکس ہینڈل سے ایک ٹویٹ شیئر کی گئی جس میں وہ کہتے ہیں کہ ان کی فلم تماشہ کو لوگوں نے دیر سے سمجھا جبکہ شاہ رخ خان کے ساتھ ان کی فلم ’جب ہیری میٹ سجل‘ ناکام ہو گئی تو انھیں احساس ہوا کہ سٹار کامیابی کی گارنٹی نہیں اور کوئی بھی چیز کامیاب اور ناکام ہو سکتی ہے لیکن آپ کا کام آپ کے ساتھ جاتا ہے۔
ویدانتی شری نامی ایک صارف نے لکھا: ’آپ امتیاز علی کے کام کی تعریف نہیں کر سکتے۔ آپ صرف اسے محسوس کر سکتے ہیں۔ وہ جذبات، تنہائی اور جنون کو پیش کرنے کے نادر ماسٹر ہیں۔‘
ساحل سنگھ نامی ایک صارف نے لکھا کہ ’امتیاز علی ہر نوجوان کی شناخت ہیں، انھوں نے تمام نوجوانوں کے دل جیتے ہیں اور ہر نوجوان ان کی فلم کا بے صبری سے انتظار کرتا ہے۔‘
سیف خان نامی ایک صارف نے لکھا کہ ’امتیاز علی انڈین سنیما کے جدید بارڈ ہیں، ایک ایسے فلمساز ہیں جس کے کردار صرف مناظر سے ہی نہیں گزرتے بلکہ جذبات اور تبدیلیوں سے بھی گزرتے ہیں اور ہم سب ان سے خود کو جوڑ کر دیکھتے ہیں۔‘













