جب مرکزی بینک کے افسران کے بھیس میں آئے بہروپیوں نے کیش وین سے سات کروڑ روپے لوٹ لیے

A police car on the street in Chennai, India

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنپولیس نے ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے
    • مصنف, عمران قریشی
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

انڈین ریاست کرناٹک میں ملک کے مرکزی بینک کے افسران کے بھیس میں مسلح افراد نے ایک جگہ سے دوسری جگہ پیسے منتقل کرنے والی گاڑی سے سات کروڑ روپے ہتھیا لیے ہیں۔

انڈین پولیس نے تصدیق کی ہے کہ بنگلور میں دن دیہاڑے پیسوں کی وین کو لوٹنے والے ڈاکوؤں کو ڈھونڈے کے لیے ایک بڑا آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔

بنگلور کے پولیس کمشنر سیمنت کمار سنگھ نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ ڈکیتی کی واردات بدھ کی دوپہر کو ہوئی جب ایک ایس یو وی گاڑی میں سوار چھ افراد نے ایک مصروف شاہراہ پر بینکوں کے درمیان پیسے منتقل کرنے والی ایک وین کو روکا۔

پیسوں والی وین میں ایک ڈرائیور، ایک کیشیئر اور دو مسلح سکیورٹی گارڈ سوار تھے۔

پولیس کمشنر کا کہنا ہے کہ ڈاکوؤں نے وین میں سوار لوگوں کو بتایا کہ وہ ریزور بینک آف انڈیا کے افسران ہیں اور تصدیق کرنا چاہتے ہیں کہ اتنی بڑی رقم کی منتقلی کے لیے ان کے پاس درست دستاویزات ہیں یا نہیں۔

ریزور بینک آف انڈیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنایک پولیس افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ اس ڈکیتی کی واردات میں جو ایس یو وی استعمال ہوئی ہے اس پر جعلی نمبر پلیٹ لگی ہوئی تھی

پولیس کے مطابق اس گروہ نے کیشیئر اور گارڈز کو وین میں ہتھیار رکھ کر اپنی ایس یو وی میں سوار ہونے کو کہا، جبکہ ڈرائیور کو ہدایت دی گئی کہ وہ کیش کے ساتھ گاڑی چلاتے رہیں۔

کچھ کلومیٹر تک ایس یو وی کیش وین کے پیچھے آتی رہی لیکن بعد میں اس گروہ کے اراکین نے ڈرائیور کو نیچے اُتارا اور کیشیئر اور سکیورٹی گارڈز کو بھی ایس یو سی سے اُترنے کو کہا اور بندوق کی نوک پر پیسے اپنی گاڑی میں رکھ کر فرار ہو گئے۔

جس مقام پر یہ واردات ہوئی وہاں سی سی ٹی وی کیمرے زیادہ نہیں تھے۔ پولیس تفتیش کر رہی کہ کہیں گروہ کے اراکین ایک سے زیادہ گاڑیاں تو نہیں استعمال کر رہے تھے۔

کیش کی ٹرانسپورٹ پر مامور کمپنی نے پولیس کے پاس اس واقعے کی شکایت درج کروا دی ہے۔

ایک پولیس افسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ اس ڈکیتی کی واردات میں جو ایس یو وی استعمال ہوئی ہے اس پر جعلی نمبر پلیٹ لگی ہوئی تھی اور ایک سٹیکر پر ’گورنمنٹ آف انڈیا‘ لکھا ہوا تھا۔

پولیس افسر نے بتایا کہ وہ تحقیقات کر رہے ہیں کہ کہیں کیش کی منتقلی پر مامور کمپنی کے کسی ملازم کا اس ڈکیتی میں کوئی ہاتھ تو نہیں۔

کرناٹک کے وزیرِ اعلیٰ نے صحافیوں کو بتایا کہ پولیس نے ڈکیتی کی واردات میں استعمال ہونے والی گاڑی برآمد کرلی ہے۔ دوسری جانب ریاست کے وزیرِ داخلہ کا کہنا ہے کہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ یہ گاڑی ڈکیتی میں استعمال ہوئی تھی یا نہیں۔

انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ’اس بات کی تصدیق ہو چکی ہے کہ مسلح افراد نے گاڑیاں تبدیل کیں اور پیسے منتقل کیے۔‘

کرناٹک پولیس

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنوزیرِ داخلہ کا کہنا تھا کہ انھیں یقین ہے کہ پولیس جلد ہی کیس حل کر لے گی

وزیرِ داخلہ کا کہنا تھا کہ انھیں یقین ہے کہ پولیس جلد ہی کیس حل کر لے گی، بالکل ویسے ہی جیسے کرناٹک میں دیگر ہائی پروفائل کیس حل ہوئے ہیں۔

رواں برس مئی میں وجیپورہ کے ایک بینک کے لاکر سے ڈوپلیکیٹ چابی کا استعمال کر کے 59 کلو سونا چوری کرلیا گیا تھا۔ پولیس نے اب تک 39 کلو سونا اور کچھ کیش برآمد کر لیا ہے جبکہ بینک کے دو سابق ملازمین سمیت 15 افراد کو بھی گرفتار کیا ہے۔