شادی کے دن ’دلہن‘ کا قتل، خون آلود پائپ اور ہتھیلی پر لکھا ہوا مبینہ قاتل ’ساجن‘ کا نام

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایک دن بعد سونی کی شادی ہونے والی تھی۔ اس نے ہاتھوں پر مہندی بھی لگا رکھی تھی۔
لیکن پھر وہ اچانک غائب ہو گئی۔ پوری رات کی تلاش کے باوجود اس کے بھائی کو کچھ پتہ نہیں چل سکا اور اگلی صبح ایک دردناک اطلاع ملی۔
سونی کا قتل ہو چکا تھا۔ اور اس کا مبینہ قاتل وہی شخص تھا جس کا نام اس کی ہتھیلی پر درج تھا۔ قتل کی یہ وردات انڈیا کی ریاست گجرات میں پیش آئی جہاں بھاو نگر کے علاقے میں شادی کے دن دلہن کے قتل کے الزام میں ایک ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
عجیب بات یہ ہے کہ ملزم ہی سے سونی کی شادی طے تھی۔ بھاو نگر سے تعلق رکھنے والی 22 سالہ سونی راٹھور کی شادی 15 نومبر کو ساجن بریا سے ہونے والی تھی۔

،تصویر کا ذریعہAlpesh Dabhi
تاہم پولیس سٹیشن میں سونی کے بھائی کی جانب سے درج شکایت کے مطابق کسی بات پر ان کے درمیان جھگڑا ہوا جس کے بعد ساجن نے پہلے سونی کو، جو اس کی بیوی بننے والی تھی، مبینہ طور پر اغوا کیا اور بعد میں اس کا قتل کر دیا۔
ملزم ساجن کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے جو قتل کے بعد دو دن تک مفرور تھا۔
یہ معاملہ کیا ہے؟
تھانے میں درج شکایت میں کہا گیا ہے کہ ساجن بریا ایک پرتشدد شخص تھا جس نے سونی کو زبردستی اپنے پاس رکھا ہوا تھا۔ کچھ رپورٹس کے مطابق سونی اور ساجن آٹھ ماہ سے ساتھ رہ رہے تھے۔
ایف آئی آر کے مطابق سونی کے گھر والوں نے ساجن سے اس کی شادی طے کرنے کا فیصلہ کیا۔ لیکن شادی کے دن دونوں میں لڑائی ہو گئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAlpesh Dabhi
مقتولہ سونی کے بھائی وپل راٹھور کی طرف سے پولیس میں درج کرائی گئی شکایت کے مطابق وہ بھاو نگر میں رہتا ہے اور ٹرک چلاتا ہے۔
اس کی 22 سالہ بہن سونی راٹھور گزشتہ آٹھ ماہ سے ساجن بریا کے ساتھ ہی رہ رہی تھی۔ حال ہی میں سونی خاندان نے ان کی شادی کرنے کا فیصلہ کیا۔ تاریخ طے ہوئی اور دعوت نامہ تک چھپ گیا۔
ان کی شادی 15 نومبر کو طے تھی۔ لیکن ایک دن قبل سونی اور ساجن کی لڑائی ہوئی اور ساجن نے سونی کو پیٹا تو سونی اپنے بھائی کے گھر چلی گئی۔ پولیس تھانے میں درج شکایت کے مطابق سونی کے گھر والوں نے اسے اس کی دادی کے گھر بھیج دیا۔
لوہے کا خون آلود پائپ اور ہاتھ پر ’ساجن‘ کا نام
14 اور 15 نومبر کی درمیانی رات تقریباً 2 بجے ساجن سونی کے گھر آیا اور اس نے سونی کے چھوٹے بھائی سنیل کو پیٹ کر سونی کے بارے میں پوچھنا شروع کر دیا۔
سنیل نے سونی کا پتہ بتا دیا۔ پولیس کے مطابق ساجن سونی کی دادی کے گھر پہنچا تو وہاں اس نے پہلے سونی کے والد کو بھی مارا جو وہاں موجود تھے اور اس کے بعد اس نے سونی کو زبردستی اغوا کر لیا۔
سونی کے بھائی کی طرف سے درج شکایت کے مطابق انھوں نے رات بھر اپنی بہن کو تلاش کرنے کی کوشش کی، لیکن وہ نہیں مل سکی۔ اگلی صبح نو بجے انھیں معلوم ہوا کہ سونی کی لاش ساجن کے گھر سے ملی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAlpesh Dabhi
وہ ساجن کے گھر پہنچے تو وہاں سونی کی لاش واقعی موجود تھی اور اس کے سر پر شدید چوٹیں تھیں۔ چہرے اور جسم کے دیگر حصوں پر بھی چوٹوں کے نشان تھے اور قریب ہی لوہے کا پائپ پڑا تھا جس پر خون بھی نظر آ رہا تھا۔ سونی کے ہاتھ پر ایک ٹیٹو بھی تھا جس پر لکھا تھا ’میں ساجن سے پیار کرتی ہوں۔‘
انھوں نے فوری طور پر واقعے کی اطلاع پولیس کو دی تاہم اس وقت ساجن مفرور تھا۔
ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس آر آر سنگھل نے میڈیا کو بتایا کہ سونی پر لوہے کے پائپ سے حملہ کیا گیا اور اس کا سر دیوار سے لگا جس کے نتیجے میں اس کی موت ہو گئی۔ پولیس کے مطابق دونوں میں نقاب اور پیسوں کے معاملے پر لڑائی ہوئی تھی۔












