آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’آغوش پروگرام‘: پنجاب میں حاملہ خواتین کو نقد رقم دینے کا منصوبہ کیا ہے اور اس پر تنقید کیوں ہو رہی ہے؟
- مصنف, آسیہ انصر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سےماں اور بچے کی صحت کے حوالے سے ایک ایسے منصوبے کا اعلان سامنے آیا ہے جس کے تحت دو سال سے کم عمر بچوں کی ماؤں اور حاملہ خواتین کو ان کی صحت کے اقدامات کے تحت 23 ہزار روپے کی رقم ادا کی جائے گی۔
حکومت پنجاب کا یہ منصوبہ فی الوقت پنجاب کے 13 اضلاع میں ’آغوش‘ پروگرام کے تحت شروع کرنے کا اعلان کیا گیا ہے جس میں نومولود بچوں کی ماؤں اور حاملہ خواتین کو یہ امداد ی رقم دی جائے گی۔
دیکھا جائے تو پاکستان میں غربت کی سطح سے نیچے زندگی گزارنے والوں کے لیے یہ پیشکش بظاہر پرکشش دکھائی دیتی ہے تاہم سوشل میڈیا پر اس حوالے سے جو بحث جاری ہے وہ پاکستان کی آبادی کا تیزی سے بڑھنا ہے۔
ساتھ ہی صارفین کی جانب سے سرکاری صحت کے مراکز میں مناسب طبی سہولیات کی فراہمی جیسے طویل المدت منصوبوں کی افادیت پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ 2023 کے ڈیٹا کے مطابق پاکستان کی آبادی 24 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے اور اس وقت آبادی کے لحاظ سے پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے۔
ہم نے اس منصوبے کی افادیت اور اس پر ہونی والی تنقید کا احاطہ کرنے کی کوشش کی ہے اور ساتھ ہی ماہرین کے سامنے سوال رکھا ہے کہ ان کے خیال میں ماں اور بچے کی صحت کے لیے پاکستان جیسے پسماندہ ملک میں کن اقدامات کی ضرورت ہے۔
پہلے جانتے ہیں کہ یہ منصوبہ ہے کیا؟
آغوش پروگرام میں حاملہ خواتین کو کیا پیشکش کی جا رہی ہے؟
پنجاب حکومت کے اعلامیے کے مطابق آغوش پروگرام کے تحت ماں اور بچے کی صحت کے منصوبے کا آغاز ڈیرہ غازی خان، تونسہ، راجن پور، لیہ، مظفر گڑھ اور کوٹ ادو سے ہوگا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جبکہ بہاولپور، رحیم یارخان، بہاولنگر، بھکر، میانوالی، خوشاب اور لودھراں بھی آغوش پروگرام میں شامل ہیں۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ ’حاملہ خاتون کی پہلی دفعہ مراکز صحت/ مریم ہیلتھ کلینک میں رجسٹریشن پردو ہزارروپے دیے جائیں گے، حاملہ خاتون کو بچے کی پیدائش تک متواتر طبی معائنے کے لئے وزٹ پر امدادی رقم دی جائے گی، مراکز صحت سے مفت طبی معائنے کے بعد کیش ایجنٹ سے امدادی رقم حاصل کی جا سکے گی۔‘
اس کے علاوہ ’حاملہ خواتین کو ہر بار مراکز صحت وزٹ پر 1500 روپے ملیں گے، ٹوٹل رقم چھ ہزار روپے دی جائے گی۔‘
اعلامیے کے مطابق ’آغوش پروگرام کے تحت مرکز صحت پر بچے کی پیدائش پرچار ہزارروپے کاتحفہ ملے گا۔‘
پروگرام کے تحت ’پیدائش کے بعد 15دن کے اندر پہلے طبی معائنے پردو ہزار روپے ملیں گے، پیدائشی سرٹیفکیٹ کا مرکز صحت میں اندارج کروانے پر پانچ ہزار روپے دیئے جائیں گے۔‘
’نومولود بچے کو حفاظتی ٹیکے لگوانے پر چار ہزار روپے ہر بار دو ہزارروپے دیئے جائیں گے۔‘
سوشل میڈیا پر تنقید
اور یہاں شامل کیے لیتے ہیں سوشل میڈیا پر ہونے والی وہ بحث جس نے اس منصوبے کے اعلان کے ساتھ ہی صارفین کی توجہ حاصل کی۔
چند صارفین ایسے تھے جنھوں نے اس منصوبے کو آبادی میں مزید اضافے سے جوڑا۔
تیمور نامی صارف نے پوسٹ کیا کہ ’کیا آبادی کےبڑھنےکی شرح کم ہے جو یہ incentive دیا جا رہا ہے؟‘
ایک صارف نے کہا کہ بچوں کی پیدائش کے مرحلے میں کافی خرچہ آتا ہے اور زیادہ تر لوگ پرائیویٹ ہسپتالوں میں جاتے ہیں اس کے لیے ’کچھ کیا جائے اور کم از کم ڈلیوری فری یا آدھے پیسے پنجاب حکومت دے۔‘
سوشل میڈیا پر پنجاب حکومت کے اس اقدام کی تشہیر پر بعض صارفین نے الزام عائد کیا کہ یہ منصوبہ نیا نہیں بلکہ سابق وزیر اعظم عمران خان کے دور میں ’احساس نشوونما ‘ کے نام سے شروع کیا گیا تھا جس کواب نیا نام دیا گیا ہے۔
ملک ضماد نامی ایکس صارف نے اپنی پوسٹ میں الزام عائد کیا کہ ’عمران خان کے دورِ حکومت میں احساس نشوونما پروگرام کے تحت حاملہ خواتین اور دو سال سے کم عمر بچوں کی مالی معاونت کا آغاز کیا گیا تھا۔ یہ منصوبہ 2020 میں شروع ہوا۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’اس کے علاوہ اسی دور میں نشوونما مراکز میں بچوں کی جسمانی اور ذہنی نشوونما کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے۔ آج اسی ماڈل کو نئے ناموں سے دوبارہ متعارف کرایا جا رہا ہے۔‘
بی بی سی نے اس پر بات کرنے لیے پنجاب کی وزیر اطلاعات سے بارہا رابطہ کیا تاہم ان کی جانب سے تاحال جواب موصول نہ ہو سکا
ماہرین کا کیا کہنا ہے؟
خواتین کے حقوق کی ماہر شبانہ عارف نے بی بی سی سے بات چیت میں کہا کہ ’پنجاب حکومت کا ایک طرف یہ خوش آیند اقدام تو ہے کہ پاکستان میں کیونکہ غربت بہت زیادہ ہے اور وہاں خواتین کی صحت عام طور پر ترجیح نہیں ہوتی ۔ ان حالات میں ماؤں کی دوران زچگی مرنے کی شرح بھی بلند ہے۔‘
ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ ’تاہم اس میں جو رقم کا اعلان کیا گیا ہے اس سے بظاہر محسوس ہو رہا ہے کہ پیسے ملنے پر لوگ بھاگے بھاگے آئیں گے، اپنی خواتین کا چیک اپ کروائیں گے۔ لیکن دوسری طرف گھبراہٹ کی بات یہ ہے کہ آبادی کی سطح اتنی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔‘
شبانہ عارف کے مطابق پنجاب حکومت کے اس اعلان سے حمل کی حوصلہ افزائی ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ ’سندھ میں یہ ہوا کہ ایک پروگرام کے تحت حاملہ خواتین کو 1200 ماہانہ کی رقم ملتی تھی تاکہ وہ متوازن غذا لے سکیں۔ تاہم اس کے بعد یہ صورتحال سامنے آئی کہ جن عورتوں کے تین یا چار بچے ہو چکےتھے، وہ دوبارہ حمل سے ہو گئیں۔‘
’سندھ میں ہم نے دیکھا کہ ایک ہی گھر میں تین نسلوں کی خواتین حمل سے تھیں یعنی ماں بیٹی اور نواسی تینوں حاملہ تھیں۔ ممکنہ طور پر مردوں کو اس میں فائدہ نظر آیا اور اس رقم کو دیگر ضروریات پوری کرنے کے استعمال میں لایا جانے لگا۔‘
یاد رہے کہ پاکستان کے اکثر گاؤں دیہات اور روایت پسند گھرانوں میں آج بھی جلدی شادی کا رواج عام ہے۔
’ذہن سازی کی ضرورت‘
تو کیا اس منصوبے سے آبادی میں اضافے کو فروغ ملنے کا خدشہ بھی ہے؟ اس سوال پر عکس ریسرچ سینٹر کی ڈائریکٹرتسنیم احمر نے اس اقدام کو بظاہر ماں اور بچے کی صحت کے لیے ایک اچھا آغاز قرار دیا۔
’اس منصوبے کے لیے جو علاقے چُنے گئے ہیں وہ پسماندہ بھی ہیں اور غریب بھی۔ دوسرے اس پروگرام کے ذریعے حاملہ خواتین کے کچھ مسائل کا تدارُک بھی ممکن بنایا جا سکتا ہے۔‘
تاہم تسنیم احمر کہتی ہیں کہ ’ہمارے نظامِ صحت کو اتنا بہتر بنایا جانا ضروری ہے کہ مالی امداد کی ضرورت ہی نہ پڑے جیسے کہ حکومت کی طرف سے عوام، بلخصوص سطحِ غربت سے نیچے والے طبقے، اور خاصکر خواتین کی عمومی اور تولیدی صحت کے یے ہیلتھ انشورنس۔‘
تسنیم احمر کے مطابق ’اس پروگرام سے جو ہر بچے کی پیدائش پر نقد امداد فراہم کی جائے گی، ہم شاید شرحِ پیدائش کو بڑھا بھی دیں جو آبادی کو لے کر پاکستان کی موجودہ صورتِحال میں نقصاندہ ثابت ہو۔‘
ان کے مطابق ’اس وقت ہمیں سب سے زیادہ ضرورت اپنے حالات سے آگاہی، بچیوں اور خواتین کو اُن کی صحت کے بارے میں صیح جانکاری اور آبادی کو مزید بڑھنے سے روکنے کے بارے میں لوگوں خاص طور مردوں کی ذہن سازی کی اشد ضرورت ہے۔‘
’مردوں کو پابند کریں ہر وزٹ پر بیوی کے ہمراہ ہوں‘
ماں اور بچے کی صحت کو بہتر بنانے کےمنصوبے میں کن اقدامات کی ضرورت ہے؟
اس سوال کے جواب میں تسنیم احمر کہتی ہیں کہ ہم اگر اس پروگرام میں دو تین نکات کو لازمی شامل کر لیں تو اس پروگرام کی طویل مدتی افادیت بڑھ سکتی ہے مثلا،
- خواتین کو اُن کی تولیدی صحت کے بارے صیح معلومات دینا
- اس پروگرام کو دو بچوں کی پیدائش تک محدود رکھنا
- مردوں کو پابند کرنا کہ وہ ہر وزٹ پر اپنی بیوی کے ہمراہ ہوں تاکہ اُن کو بھی حمل اور زچگی اور اس سے جُڑی مشکلات اور پیچیدگیوں کے بارے میں علم ہوسکے۔
شبانہ عارف نے تجویز دی کہ ’میرے خیال میں کیش کی جگہ کوئی اور طریقہ اپنایا جائے مثلاً پیکیج میں دوا اور دیگر چیک اپ شامل کیا جائے اور ایسی سہولیات دی جائیں جس سے براہ راست حاملہ خواتین کو فائدہ پہنچے۔‘
انھوں نے کہا کہ حاملہ خواتین کو ضرورت کے مطابق سپلیمنٹس یا غذا کا کوپن دیا جائے تاکہ یہ رقم ان ہی کے استعمال میں آئے اور اس کا مقصد پورا ہو تاہم نقد پیسے سے اس بات کا امکان ہے کہ’ مرد ان سے پیسے لے لیں گے یا کسی اور مصرف میں رقم کا استعمال کیا جائے گا۔‘