خاندانی منصوبہ بندی سے متعلق غلط فہمیاں: ’بچوں میں وقفے کے لیے آپ صرف کنڈوم پر انحصار نہیں کر سکتے‘

    • مصنف, آسیہ انصر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

’فیملی پلاننگ کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ آپ بچے پیدا نہ کریں، بلکہ اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ آپ اپنی آسانی اور بہترین وقت کے مطابق اپنے بچوں کی پیدائش کا ہدف پورا کر سکیں۔ خاندانی منصوبہ بندی کا بنیادی مقصد خواتین کی صحت کو بہتر کرنا اور دوران حمل شرح اموات میں کمی لانا ہے۔‘

خاندانی منصوبہ بندی کی ضرورت اور اس سے جڑی غلط فہمیوں سے متعلق یہ الفاظ ہیں ماہر امراض نسواں پروفیسر ڈاکٹر نابیہ طارق کے جو اسلام آباد کے معروف انٹرنیشنل ہسپتال میں شعبہ زچہ و بچہ کی سربراہ ہیں۔

گذشتہ دنوں جب دنیا کی آبادی سات ارب سے بڑھ کر آٹھ ارب تک پہنچنے کی خبر نظروں سے گزری تو بچپن میں ٹی وی پر خاندانی منصوبہ بندی کے حوالے سے دکھائے جانے والے اشتہار کے الفاظ ذہن میں تازہ ہوئےجو کچھ یوں تھے۔

’آج کے دور میں دو بچے، پل جائیں تو ہیں اچھے۔ یہ مانا کہ زندگی بچوں کے بنا ادھوری ہے لیکن یہ بھی یاد رہے وقفہ بہت ضروری ہے۔‘

تقریباً دو دہائیوں سے پہلے کے اس اشتہار پر کتنے افراد نے سنجیدگی سے سوچا ہو گا اس کا تو علم نہیں لیکن اعداد و شمار یہ ضرور بتا رہے ہیں کہ اس آٹھ ارب میں سے تقریباً تین فیصد آبادی پاکستان کی ہے۔

خاندانی منصوبہ بندی اور بچوں میں مناسب وقفے کے معاملے پر شادی شدہ افراد کا رجحان جاننے کے لیے ہم نے ڈاکٹر نابیہ طارق سے بات کی، جنھوں نے بتایا کہ شادی شدہ افراد کو ان کی عمر اور عمومی صحت کے مد نظر خاندانی منصوبہ بندی کے طریقے تجویز کیے جاتے ہیں۔

’میاں بیوی کی پسند اور اولاد میں درکار وقفے کے مطابق ان کو طریقہ کار تجویز کیا جاتا ہے۔‘

لیکن بات اگر اتنی سادہ ہے تو لوگ فیملی پلاننگ پر بات کرنے سے ہچکچاتے کیوں ہیں؟ اور ان طریقوں سے متعلق ان کے ذہن میں کیا سوالات اور غلط فہمیاں ہیں؟

اس کے لیے ہم نے جب چند خواتین سے بات کی تو سب سے پہلے انھوں نے اپنی شناخت چھپانے کی شرط عائد کی اور پھر اس ممنوع سمجھے جانے والے موضوع پر ذہن میں اٹھتے سوالوں سے ہمیں آگاہ کیا۔

اسلام آباد کی رہائشی سعدیہ (فرضی نام) کی پہلی بیٹی کی عمر جب تین ماہ تھی تو وہ دوبارہ حاملہ ہو گئیں۔ ان کے لیے یہ حیران کن اس لیے تھا کہ نہ صرف وہ اپنی بیٹی کو اپنا دودھ پلاتی تھیں بلکہ وقفہ کے لیے ازدواجی تعلق کے دوران ان کے شوہر کنڈوم بھی استعمال کرتے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ اگرچہ وہ اور ان کے شوہر بچوں کی پیدائش میں وقفے کے لیے جنسی تعلق قائم کرنے کے دوران کنڈوم کا استعمال کرتے تھے مگر ’بیٹی کی پہلی سالگرہ سے پہلے ہی بیٹا ہو گیا۔‘

انھوں نے بتایا کہ وہ اب بھی بچوں کی پیدائش میں وقفہ کے لیے کنڈوم ہی استعمال کرتے ہیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ انھوں نے خاندانی منصوبہ بندی کے دیگر اور زیادہ محفوظ سمجھے جانے والے طریقوں کو کیوں نہیں اپنایا تو انھوں نے اپنے خدشات کے متعلق بتایا کہ ’فی میل کنڈوم اور آئی یو ڈی کے بارے میں سنا ہے کہ اس سے زخم یا کینسر ہو سکتا ہے۔ وقفے کے لیے گولیوں کا سوچا لیکن اس کے بارے میں خاندان والوں نے کہا کہ وہ ہارمونز پر اثر انداز ہوتی ہیں اور آپ کبھی بھی ماں بننے کے قابل نہیں رہتے۔

’انجیکشن کے بارے میں لوگ کہتے ہیں کہ وہ ہارمونز پر اتنا اثر انداز ہوتے ہیں کہ ماہواری متاثر ہوتی ہے اور آپ دوبارہ ماں بننے کے قابل نہیں رہتے۔‘

ہم نے خاندانی منصوبہ بندی کے بارے میں کراچی سے تعلق رکھنے والی 46 سالہ عاصمہ علی (فرضی نام) سے بات کی جن کے سات بچے ہیں۔

جب ہم نے ان سے سوال کیا کہ اپ نے بچوں میں وقفہ دینے کے لیے کبھی سوچا تو انھوں نے بتایا کہ ماضی میں ان کی بہن نے بچہ دانی میں کوائل (بچوں میں وقفہ دینے کے لیے خاندانی منصوبہ بندی کا ایک طریقہ) رکھوائی لیکن اس سے انھیں رحم میں شدید مسئلہ ہوا جس کے بعد عاصمہ نے اپنے لیے کبھی خاندانی منصوبہ بندی کا نہیں سوچا۔

وہ بتاتی ہیں کہ ’جب مجھ سے بڑی بہن نے فیملی پلاننگ کے لیے کوائل رکھوائی تو ان کو وہ راس نہیں آئی۔ غالباً زائد المعیاد کوائل لگا دی گئی تھی جو پانچ سال کے بجائے دو سال میں نکالنی پڑی اور ان کا برا حال تھا۔ تو وہ معاملہ اتنا حساس ہو گیا تھا کہ میں نے پھر اس پر کبھی نہیں سوچا۔‘

خاندانی منصوبہ بندی سے متعلق عام غلط فہمیاں اور آگاہی کا فقدان

تو کیا واقعی خاندانی منصوبہ بندی کے طریقے خواتین کی صحت کے لیے مضر ہو سکتے ہیں؟

اس سوال کے جواب میں ڈاکٹر نابیہ کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے خاندانی منصوبہ بندی کے حوالے سے بہت سی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔

جس پر ہم نے ڈاکٹر نابیہ سے خواتین میں پائی جانے والی چند عام غلط فہمیوں اور ان متعلق آگاہی لینے کی کوشش کی۔

1۔ کوائل رکھوانے سے بچہ دانی میں انفیکشن ہو جاتا ہے

ڈاکٹر نابیہ طارق کے مطابق انفیکشن کبھی بھی مانع حمل ادویات یا طریقوں سے نہیں ہوتا، البتہ ( بچہ دانی میں) کوائل سے انفکیشن نہیں پھیلتا بلکہ اسے رکھوانے کے لیے جن آلات کو درست طریقے سے جراثیم کش نہ کیا گیا ہو ان سے انفیکشن ہو سکتا ہے۔ 

2۔ کوائل رکھوانے سے رحم میں زخم اور ماہواری کے مسائل ہوتے ہیں

پروفیسر نابیہ کے مطابق کچھ خواتین کو شروع میں (دوران ماہواری) زیادہ خون آ سکتا ہے تاہم ہم ڈاکٹرز ان کو پہلے سے اس متعلق آگاہ بھی کرتے ہیں اور ماہواری کے دو تین دورانیے میں اس کو کم کرنے کی دوائیں بھی تجویز کرتے ہیں تاکہ ان کے لیے یہ قابل قبول بھی ہو اور آرام دہ بھی۔

3۔ خاندانی منصوبہ بندی کے طریقوں سے وزن بڑھ جاتا ہے

 ڈاکٹر نابیہ کے مطابق خاندانی منصوبہ بندی کے کچھ طریقے ایسے ہیں جن میں ہارمونز لینے سے وقتی طور پر وزن معمولی طور پر بڑھ سکتا ہے کیونکہ اس سے جسم میں پانی کی مقدار بڑھ سکتی ہے۔

تاہم جب آپ یہ ہارمونز لینا چھوڑتے ہیں تو یا اس طریقے کو بند کرتے ہیں تو وزن واپس اپنی جگہ آ جاتا ہے۔

4۔ پہلے بچے کی پیدائش سے قبل مانع حمل طریقے اپنائیں تو کبھی اولاد نہیں ہو گی

ڈاکٹر نابیہ کہتی ہیں کہ پہلے بچے کی پیدائش سے قبل خاندانی منصوبہ بندی کے طریقے صحت کے لیے محفوظ ہیں اور اس سے آگے چل کر حمل نہ ٹھہرنے سے متعلق باتیں درست نہیں البتہ مناسب طریقہ کا تعین ڈاکٹر کے مشورے سے ہی کیا جائے۔

ان کے مطابق ’بہت سے شادی شدہ جوڑے بچوں کی ذمہ داری سے قبل پڑھائی یا کیریئر پر توجہ دینا چاہتے ہیں تو وہ یہ جان لیں کہ شادی کے فوری بعد میاں بیوی اگر پہلے بچے کی پیدائش سے پہلے جو وقت لینا چاہتے ہیں اس میں ہر طرح کے فیملی پلاننگ کے طریقے محفوظ ہیں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ اس میں کوئی ممانعت نہیں، جب تک آپ خود سے حمل کے لیے تیار نہ ہوں تب تک (ان طریقوں کو ) استعمال کر سکتے ہیں۔

ان کے مطابق ایسے شادی شدہ جوڑوں کے لیے ایسے طریقے موجود ہیں۔ قلیل المدتی اور فوری طور پر ترک کرنے والے ہوتے ہیں جس میں گولیاں اور بچہ دانی کے اندر رکھے جانے والا چھلہ بھی شامل ہے۔

5۔ خاندانی منصوبہ بندی کے طریقے ازدواجی تعلقات میں رکاوٹ بن سکتے ہیں

ڈاکٹر نابیہ کے مطابق خاندانی منصوبہ بندی کے جدید طریقوں کو جوڑے کی مرضی اور انتخاب کے حساب سے تجویز کیا جاتا ہے کہ وہ کتنا وقفہ چاہ رہے ہیں اور ان کے ازدواجی تعلقات پر اثر نہ پڑے۔

ان کے مطابق ہارمونل مانع حمل طریقوں (گولیاں اور انجیکشن ) کو بہت توجہ اور احتیاط سے منتخب کیا جاتا ہے کیونکہ اس سے موڈ سوئئنگز یا مزاج میں معمولی تبدیلی آ سکتی ہے۔ لہذا ایسا نہیں کہ کوئی بھی خاتون پیدائش میں وقفہ کے لیے اپنی مرضی سے ٹیبلیٹ یا انجیکشن لینا شروع کر دے۔

عالمی اداہ صحت کی ہدایات کے مطابق ہی تمام طریقے تجویز کیے جاتے ہیں کہ کس کو ہارمونل طریقہ تجویز کرنا ہے اور کس کو نہیں۔

پروفیسر ڈاکٹر نابیہ کہتی ہیں کہ ’بچوں میں وقفے کا طریقہ تجویز کرنے سے پہلے ہم جوڑے کی ہسٹری لیتے ہیں کہ خاتون میں ایسے کوئی رسک فیکٹرز تو نہیں جس کی وجہ سے کوئی ایک آدھ فیملی پلاننگ کا طریقہ موافق نہ ہو۔‘

ان کے مطابق خاندانی منصوبہ بندی کے طریقے ریورس ایبل (دوبارہ ماں بننے کے لیے پہلی جیسی حالت میں لانے کے لیے) ہیں جو جوڑے کی مرضی اور رسک فیکٹر کے حساب سے تجویز کیے جاتے ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق 20 سال سے 40 سال کی عمر تک کی خواتین کے لیے خاندانی منصوبہ بندی کے طریقے عموماً یکساں ہی تجویز کیے جاتے ہیں۔

ڈاکٹر نابیہ نے بتایا کہ اس عمر کی خواتین کے لیے وقفے کے طریقے تجویز کرتے وقت دیکھا جاتا ہے کہ خاتون کے پہلے سے کتنے بچے ہیں اگر دو سے تین بچے ہیں اور وہ مزید بچے پیدا کرنا نہیں چاہتی تو طویل المدتی وقفے کے لیے انجیکشن، کوائل اور جِلد کے نیچے (انٹرا یوٹرائن ڈیوائس) امپلانٹ بھی کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’مینو پاز کے آغاز یا اس کے قریب بہت احتیاط کرنا ہو گی‘

پروفیسر ڈاکٹر نابیہ طارق نے 40 سال سے بڑی عمر کی خواتین کے حوالے سے ہمیں بتایا کہ سب سے پہلے جو چیز ہم دیکھتے ہیں کہ وہ یہ کہ 40 سال کی عمر کو پہنچنے تک عورت کی عمومی صحت کیسی ہے۔

’کہیں وہ شوگر، بلڈ پریشر یا موٹاپے کی جانب مائل تو نہیں۔ 40 سے 50 سال کی عمر کے دوران مینو پاز کے آغاز کے قریب آپ کو احتیاط کرنا ہو گی۔ اس میں مانع حمل طریقوں کی ضرورت تو پڑے گی تاہم اس کا انحصار آپ کی صحت اور خود آپ کی پسند پر ہوتا ہے کہ آپ کیا چاہتے ہیں۔ آپ جلد کے نیچے (انٹرا یوٹرائن ڈیوائس) امپلانٹ بھی کروا سکتے ہیں یا بچہ دانی میں کوائل بھی رکھوا سکتے ہیں۔‘

’بچوں میں وقفے کے لیے صرف کنڈوم پر مکمل انحصار نہ کریں‘

ڈاکٹر نابیہ کے مطابق بہت سارے انفیکشن جنسی تعلق سے ہوتے ہیں۔ تو سب سے پہلے میاں بیوی ڈاکٹر کو دکھائیں اور اس کا علاج کروائیں تاہم کنڈوم کا استعمال جنسی طور پر منتقل ہونے والی بیماریوں سے محفوظ بناتا ہے۔

لیکن کنڈوم فیملی پلاننگ کے لیے بہت مؤثر ثابت نہیں ہوتے۔ اگر خاندانی منصوبہ بندی یا بچوں میں وقفہ چاہیے تو آپ صرف کنڈوم پر انحصار نہیں کر سکتے کیونکہ اس میں ناکامی کا تناسب زیادہ ہوتا ہے تاہم کنڈوم کو انفیکشن سے بچاؤ کے لیے ساتھ میں استعمال کیا جاتا ہے۔

خاندانی منصوبہ بندی کے طریقوں کے حاملہ ماؤں کو فوائد

ڈاکٹر نابیہ طارق کے مطابق پاکستان میں ماں بننے کے عمل سے گزرنے والی ہر ایک لاکھ میں سے 270 مائیں اس عمل کے دوران فوت ہو جاتی ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ ایک بچے کے بعد دوسرے بچے میں دو سے تین سال کے وقفے سے اگلے حمل سے پہلے ماں کی اپنی صحت بہتر ہو جاتی ہے اور اس طرح دوران زچگی 20 سے 30 فیصد خواتین کو مرنے سے بچایا جا سکتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ نوزائیدہ بچوں کی شرح اموات میں بھی دس فیصد تک کمی لائی جا سکتی ہے۔