’ڈی این اے ٹیسٹ کی رپورٹ کے بعد ماں نے بتایا کہ میرے اصلی والد سے ان کی پرتگال میں ملاقات ہوئی تھی‘

- مصنف, شولا لی
- عہدہ, بی بی سی تھری
انگلینڈ میں مانچسٹر کے مضافات میں واقع ایک چھوٹے سے گاؤں روچڈیل میں پرورش پانے والے لیوک ڈیویز ہمیشہ سے ہی خود کو اپنے خاندان سے قدرے مختلف محسوس کرتے تھے۔
اپنے ماضی کو یاد کرتے ہوئے انھوں نے کہا ’میں نے سوچا کہ میں ہم جنس پرست ہوں کہیں اسی لیے تو ایسا نہیں ہے کہ خاندان سے خود کو الگ محسوس کرتا ہوں۔‘
یہاں تک کہ جب وہ اپنے والدین لز اور گیری کے ساتھ 18 سال کے ہو گئے اور وہ انھیں چاہتے بھی تھے تاہم وہ بہت ہی عجیب محسوس کرتے تھے۔
لیوک اس حوالے سے مسلسل سوچوں میں گم رہتے اور اپنے آپ سے ہی سوال کرتے رہتے۔ دوسری جانب اب لوگ بھی ان کی ظاہری خد و خال کو دیکھ کر ان کے بارے میں رائے دینے سے نہ چوکتے تھے۔
ایک بار جب وہ انٹرویو کے لیے گئے تو ہائرنگ مینیجر نے ان سے کہا کہ ’آپ کو یقینی طور پر تین کیٹیگریز میں سے ایک کو منتخب کرنا ہو گا۔ اور اس درجہ بندی میں ’ورکنگ کلاس، ہم جنس پرست اور ان کے والدین کی مختلف نسل‘ شامل تھی۔
لیوک کی پرورش سفید فام برطانوی والدین نے کی تھی، اس لیے اگر کوئی ان سے ایسا کچھ کہتا تو وہ الجھن میں پڑ جاتے۔ انھیں کچھ سمجھ نہیں آتا تھا۔
آخر کار انھوں نے ڈی این اے ٹیسٹ کروانے کا فیصلہ کیا تاکہ وہ اپنے بارے میں کچھ ٹھوس معلومات حاصل کر سکیں اور اپنے اندر اٹھنے والے سوالات کو حل کر سکیں۔
جنوری سنہ 2019 میں لیوک کا ڈی این اے ٹیسٹ ہوا اور پلک جھپکتے ہی ان کی زندگی بدل گئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کے بعد کے تین سالوں میں ان میں اور ان کے خاندان میں بہت سی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ انھوں نے بی بی سی تھری کے ’سٹرینجر ان مائی فیملی‘ پروگرام میں اپنے اس سفر کے بارے میں بات کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC/NINE LIVES MEDIA
کتنی راتیں بے خواب گزاریں
جینیاتی علوم کی ماہر لورا ہاؤس کا کہنا ہے کہ ’ڈی این اے ٹیسٹ کروانا بہت آسان ہے۔ آپ کو ایک ٹیوب میں تھوکنا ہوتا ہے اور اسے لیبارٹری بھیجنا ہوتا ہے۔ پھر آپ کو نتائج آن لائن مل جاتے ہیں۔‘
لورا مزید کہتی ہیں کہ ٹیسٹ دو قسم کے نتائج فراہم کرتا ہے: ’پہلا نسلی ہے، جو آپ کے ڈی این اے کے ایک بڑے ڈیٹا بیس سے موازنہ کرتا ہے اور مماثلت تلاش کرتا ہے۔‘
لیوک بتاتے ہیں کہ ان دنوں انھوں نے نتائج کے انتظار میں کئی راتیں بغیر سوئے گزاری تھیں۔
اب وہ اس فکر میں مبتلا تھے کہ آگے کیا ہوگا۔
27 سال کی عمر میں لیوک نے ڈی این اے ٹیسٹ سے اپنے بارے میں جان لیا کہ ان کے حیاتیاتی والد افریقی اور پرتگالی تھے۔ اس کا مطلب ہے کہ انھوں نے جس گیری کو اپنی پوری زندگی والد کہا، وہ ان کے والد نہیں بلکہ ان کا تو کوئی اور ہی والد تھا۔

،تصویر کا ذریعہBBC/NINE LIVES MEDIA
'یہ نتائج میرے لیے بہت حیران کن تھے‘
نتائج موصول ہونے کے چند دن بعد لیوک نے اپنی ماں لز سے بات کی۔ انھیں یاد ہے کہ وہ یہ گفتگو کرتے ہوئے بارہا اشکبار ہوئے۔
ان کی والدہ نے انھیں بتایا کہ گیری سے ملنے کے چند ہفتے بعد وہ دوستوں کے ساتھ چھٹیاں گزارنے پرتگال گئیں، جہاں ان کا کارلوس نامی بارٹینڈر کے ساتھ جنسی تعلق بن گیا تھا۔
تاہم ان کی ماں نے 27 سالوں تک اس بات کو خفیہ رکھا تھا۔
لیوک کہتے ہیں کہ ’اس صورتحال کی وجہ سے ہمیں بہت سی چیزوں سے نمٹنا پڑا جن کے لیے ہم تیار نہیں تھے۔ لیکن ہم نے بغیر کسی غصہ اور جذباتی پن کے ان چیزوں کے بارے میں سکون سے بات کی۔
’ہم سب انسان ہیں، اور ہم سب میں کچھ نہ کچھ خامیاں ہیں اور ہمیں ان تمام چیزوں پر اپنا نقطہ نظر پیش کرنے کا حق ہے۔‘
تاہم ان نتائج کا لیوک پر اثر پڑا۔ انھوں نے اپنی نوکری چھوڑ دی۔ انھوں نے بتایا کہ اس حقیقت کے سامنے آنے کے بعد ان کی ذہنی صحت بھی متاثر ہوئی۔

،تصویر کا ذریعہNICHOLAS GUTTRIDGE
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
ڈی این اے کے نتائج کے باعث لیوک کو یہ سمجھنے میں مدد ہوئی کہ وہ اکثر لوگوں کے ایک گروپ میں ایک اجنبی شخص کی طرح کیوں محسوس کرتے تھے تاہم ان نتائج نے کئی نئے سوالات کو بھی جنم دیا۔
لیوک نے پورے وثوق سے کہا کہ ’آپ کو ہر گفتگو یا ہر لمحہ یاد آتا ہے جب آپ اذیت سے گزرے تھے۔ بظاہر میری ماں کو بھی محسوس ہوتا ہے کہ وہ کسی صورتحال کا شکار ہیں۔‘
لیوک کو یاد ہے کہ بچپن میں روچڈیل کے رہائشی ان سے پوچھا کرتے تھے کہ ’آپ حقیقتاً کہاں کے ہیں؟‘
اپنی نئی شناخت کے ساتھ رہنے کی جدوجہد کرتے ہوئے لیوک نے فیصلہ کیا کہ انھیں اپنے حیاتیاتی والد کو تلاش کرنا ہو گا لیکن اس معاملے میں سب سے بڑا خوف یہ تھا کہ ’یہ حقائق ان کے خاندان کو تباہ کر دیں گے۔‘
اپنے والدین سے بات کرنے کے بعد لیوک کارلوس کی تلاش شروع کرتے ہیں اور اس معاملے میں لورا سے مدد مانگتے ہیں۔
اس کے لیے انھوں نے 23 ملین سے زیادہ لوگوں کا آن لائن ڈیٹا بیس استعمال کیا۔ ان لوگوں نے بھی اپنا ڈی این اے ٹیسٹ کروایا تھا۔ لورا کی مدد سے ہی لیوک نے اپنے حیاتیاتی دادا اور ایک اور قریبی رشتہ دار کی شناخت کرنے میں کامیابی حاصل کی۔
اس نئی معلومات کی بنیاد پر لیوک نے مزید جاننے کے لیے پرتگال کا سفر کیا۔
وہاں لیوک نے اینجلا کیمپوس سے ملاقات کی۔ اینجلا ایک پرتگالی ماہر نسب ہیں اور انھوں نے کارلوس کو تلاش کرنے میں لیوک کی مدد کی۔
انھیں پتا چلا کہ کارلوس کس بار (شراب خانے) میں کام کرتے ہیں۔ لیوک وہاں کارلوس سے رابطہ کرنے میں کامیاب ہو گئے۔
کارلوس نے لیوک کو بتایا کہ وہ اب لندن میں رہتے ہیں اور یہ کہ وہ بخوشی ڈی این اے ٹیسٹ کروانے کے لیے راضی ہیں۔
ان کے ٹیسٹ کے نتائج نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ کارلوس ہی لیوک کا حیاتیاتی والد تھے۔

،تصویر کا ذریعہBBC/NINE LIVES MEDIA
بہت سے لوگوں کو پتا لگنے میں کافی دیر ہو جاتی ہے
کارلوس بھی لیوک سے ملنے کے لیے پرجوش تھے اور وہ اپنے دو بیٹوں کے ساتھ ان سے ملنا چاہتے تھے۔ بہرحال ان سے ملنے کے بعد لیوک کو یوں محسوس ہوا کہ وہ بھی ان کے اپنے ہی ہیں اور وہ ان کے ساتھ فوراً ہی گھل مل گئے۔
لیوک کہتے ہیں کہ ’میرا اپنے والد اور بھائیوں سے ملنا ایک ناقابلِ یقین حد تک خوبصورت لمحہ تھا۔
’میں نے ایسا بالکل بھی محسوس نہیں کیا کہ میں ان کی زندگی میں فٹ ہونے کی کوشش کر رہا ہوں۔‘
اپنے حیاتیاتی خاندان کو جاننے کے بعد لیوک کو اپنی شناخت کو بہتر طریقے سے قائم کرنے میں مدد ملی۔
ان کی دادی گنی بساؤ کے پیسیفک جزیرے کی رہنے والی ہیں۔ پہلی بار جب لیوک نے ان کے ساتھ اپنی تصویر دیکھی تو انھیں پہلی ہی بار میں اپنے افریقی نسب سے واقعی جڑا ہوا محسوس ہوا۔
لیوک اب کسی اجنبی کی طرح محسوس نہیں کرتے۔

،تصویر کا ذریعہBBC/NINE LIVES MEDIA
انھوں نے کہا کہ ’مجھے لگتا ہے کہ تمام اختلافات جنھوں نے مل کر مجھے بنایا ہے وہ میری زندگی کے بہترین حصے ہیں۔‘
اپنے حیاتیاتی والد سے ملنے کے بعد سے لیوک کا اپنے والدین اور کارلوس دونوں کے ساتھ قریبی اور پرخلوص رشتہ ہے۔
لورا کو ایسے ہی کسی نتیجے کی توقع تھی۔ انھوں نے کہا کہ ’بہت سے لوگ (اپنے حیاتیاتی خاندان کو تلاش کرنے کے لیے) بہت دیر سے نکلے اور جب تک وہ ان کا اتا پتا چلانے میں کامیاب ہوتے ہیں، ان میں سے زیادہ تر مر چکے ہوتے ہیں۔ اس لیے انھیں اپنے سوالوں کا کوئی جواب نہیں مل پاتا ہے۔‘
ایسا لگتا ہے کہ ڈی این اے ٹیسٹنگ کو بڑھانا لیوک جیسے لوگوں کی مدد کرنے میں خاصی اہمیت کا حامل ہے۔
لورا وضاحت کرتی ہیں کہ ’20 سال پہلے اگر آپ نہیں جانتے تھے کہ آپ کے والد کون ہیں، تو آپ کے پاس یہ جاننے کا کوئی طریقہ نہیں تھا لیکن اب ایسا نہیں ہے۔‘
بہر حال اپنے حیاتیاتی والد کی تلاش نے لیوک کو اپنے بارے میں بھی بہت کچھ سکھایا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’میں تین سال کے اس سفر پر رہا ہوں جہاں مجھے ہر قسم کے جذبات کا سامنا کرنا پڑا ہے لیکن اس عمل میں مجھے احساس ہوا کہ میں اس زندگی کے لیے کتنا شکر گزار ہوں۔‘












