آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
فٹ بال ورلڈ کپ: کروشیا نے مراکش کو ہرا دیا، ’یہ ایسا ہی ہے جیسے سونے کا میڈل جیتا ہو‘
- مصنف, شمعون حافظ
- عہدہ, بی بی سی سپورٹس، خلیفہ انٹرنیشنل سٹیڈیم دوحہ
تاریخ ساز مراکش کی ٹیم کو شکست دے کر فٹ بال ورلڈ کپ میں تیسری پوزیشن حاصل کرنے والی کروشیا کی ٹیم نے فٹ بال کی بہترین ٹیموں میں سے ایک ہونے کا اعزاز ایک بار پھر سے حاصل کیا ہے۔
چار سال قبل ہونے والے ورلڈ کپ میں کروشیا نے فائنل تک رسائی حاصل کر لی تھی جہاں اسے فرانس کے ہاتھوں شکست ہوئی۔
اس سے قبل 1998 میں بھی کروشیا تیسرے نمبر پر آئی تھی۔ تیسری پوزیشن کے لیے ہونے والے میچ میں سات منٹ بعد ہی کروشیا پہلا گول سکور کر چکی تھی تاہم مراکش کے اشرف ڈاری نے دو منٹ بعد سکور برابر کر دیا۔
تاہم اورسک نے پہلا ہاف ختم ہونے سے قبل ہی دوسرا گول سکور کیا تو کروشیا کو مراکش پر ایک گول کی برتری حاصل ہو گئی۔
دوسرے ہاف میں کھیل کی رفتار قدرے سست رہی اور مراکش کی جانب سے سکور برابر کرنے کی تمام کوششیں ناکام ہوئیں۔
اس طرح مراکش کی فٹ بال ورلڈ کپ کی مہم جو حیران کن طور پر شروع ہوئی تھی، قدرے مایوس کن انداز میں مسلسل دو شکستوں کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔
کروشیا کے مینیجر ڈالک نے کہا کہ ’ہم نے کانسی کا تمغہ جیتا ہے جس پر سنہری تہہ ہے، یہ ایسا ہی ہے جیسے ہم نے سونے کا میڈل جیتا ہو۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’تیسری پوزیشن کے لیے کھیلنا اور ہار جانا بہت برا ہوتا۔ یہ ایک سفر کا اختتام ہے، ہمارے کھلاڑیوں نے اپنی پوری جان لگائی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دونوں ٹیمیں نہیں چاہتی تھیں کہ وہ اس میچ کا حصہ بنیں لیکن 40 لاکھ سے بھی کم آبادی والا ملک کروشیا عالمی سطح پر ایک اور شاندار پرفارمنس سے مطمئن ہو گا۔
اس ٹیم کے 37 سالہ کپتان لوکا موڈرک، جو اپنا ایک 162واں میچ کھیل رہے تھے، شاید اپنا آخری ورلڈ کپ کھیلے ہیں۔
ٹیم کے مینیجر ڈالک نے کہا کہ ’عمر کی وجہ سے یہ چند کھلاڑیوں کا آخری ورلڈ کپ ہو گا۔ تاہم ہمارے پاس نوجوان کھلاڑی بھی ہیں اور کروشیا پرامید ہے۔ پرانے کھلاڑی نوجوان کھلاڑیوں کو اعتماد دیتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’کروشیا کو مستقبل سے کوئی ڈر نہیں ہے۔ کیا ایک عہد تمام ہوا ہے؟ میرا نہیں خیال، 2024 میں نیشنز لیگ اور یورپین چیمپیئن شپ ہونی ہے اور میرا ماننا ہے کہ کروشیا کا مستقبل بہترین ہے۔‘
کروشیا کی جانب سے دوسرا گول، جس نے میچ میں فتح سے ہمکنار کروایا، کا بھی کافی چرچہ رہا۔
یہ دراصل مراکش کے 18 سالہ پراعتماد مڈفیلڈر بلال الخانوس کی غلطی تھی جس نے اپنے ہی ہاف میں گیند گنوا کر کروشیا کے حوالے کی اور اورسک نے مراکش کے گول کیپر یاسین کی بھرپور کوشش کے باوجود ایک بہترین گول سکور کیا۔
دوسری جانب یوسف النصیری کے پاس ایک موقع آیا جب وہ سکور برابر کر سکتے تھے لیکن ڈومینیک لیواکووچ نے ان کی کوشش کو ناکام بنا دیا۔
یہ بھی پڑھیے
’ایک دن ورلڈ کپ بھی جیت جائیں گے‘
مراکش کو یہ اعزاز حاصل ہوا ہے کہ وہ سیمی فائنل تک رسائی حاصل کرنے والی پہلی افریقی ٹیم بن گئی ہے جبکہ جذبے سے بھرپور کھلاڑیوں نے اس ٹورنامنٹ کو چار چاند لگا دیے۔
فرانس اور کروشیا سے شکست کے باوجود مراکش کے فین پرجوش تھے اور یقینا وہ اس ٹورنامنٹ کو ہمیشہ یاد رکھیں گے۔
مراکش کے مینیجر نے میچ کے بعد کہا کہ ’ہم سب کی امیدوں سے زیادہ آگے تک پہنچے لیکن یہ کافی نہیں تھا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’فٹ بال کی وجہ سے لوگ خواب دیکھتے ہیں۔ ہم نے بچوں کو خواب دیکھنا سکھایا اور ان کے خوابوں کو زندہ رکھا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’مراکش اور دنیا بھر میں بچے ورلڈ کپ جیتنے کا خواب دیکھ رہے ہیں اور میرے لیے یہ ورلڈ کپ کا میچ جیتنے سے زیادہ اہم چیز ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے بہت کامیابی حاصل کی لیکن ہم دوبارہ ایسا کرنا چاہیں گے۔ اگر ہم باقاعدگی سے کوارٹر فائنل یا سیمی فائنل تک پہنچ سکیں تو ایک دن ورلڈ کپ بھی جیت جائیں گے۔‘