’آخر بابر اور شاہین ٹیم سے تو بڑے نہیں‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, سمیع چوہدری
- عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار
اتوار کی سہہ پہر جب بابر اعظم ٹریننگ کے لیے ملتان کرکٹ سٹیڈیم میں اترے تو وہ نہیں جانتے تھے کہ چند ہی لمحوں بعد ایک ایسی خبر ان کے اعصاب پر گرنے والی ہے جو ان کے فینز کو بھی ہلا کر رکھ دے گی۔
جیسن گلیسپی باؤنڈری کے قریب آئے اور بابر اعظم کو اپنی طرف آنے کا اشارہ کیا۔ ہاتھ میں گیند اچھالتے بابر اعظم جب گلیسپی کے قریب آتے ہیں تو گلیسپی انھیں یہ خبر دیتے ہیں۔
دونوں کی گفتگو قابلِ سماعت نہیں مگر گلیسپی کی بات سننے کے بعد بابر کے چہرے کے تاثرات کچھ ویسے ہی تھے جیسے اس تاریخی فوٹو میں سابق امریکی صدر جارج بش کے ہیں جب انھیں نائن الیون حملوں کی اطلاع دی جاتی ہے۔
صرف بابر کے فین ہی نہیں، دنیا بھر کے کرکٹ مبصرین کے لیے بھی یہ خبر کسی ’شاک‘ سے کم نہ تھی۔ یہ کچھ ایسا ہی تھا جیسے آسٹریلیا نے سٹیو سمتھ کو ڈراپ کر دیا ہو یا انڈیا نے وراٹ کوہلی کو ٹیم سے فارغ کر دیا ہو۔
کسی بھی جاری سیریز کے دوران بابر اعظم، شاہین آفریدی اور نسیم شاہ جیسے سپر سٹارز کو ڈراپ کر دیا جانا نہ سمجھ آنے والا فیصلہ ہے۔ اگر سیریز شروع ہونے سے پہلے ہی ان تینوں کو آرام دے دیا جاتا تو بات شاید اتنی نہ بڑھتی۔
جہاں یہ فیصلہ اپنی جگہ حیران کن ہے، وہیں چلتی ہوئی سیریز کے دوران اچانک سلیکشن کمیٹی میں تھوک کے پیمانے پر تبدیلیاں بھی قابل فہم نہیں، ہر چھ ماہ بعد چئیرمین بدل جانا اور ایک کپتان کو زبردستی استعفے پر مجبور کر کے تین ماہ بعد دوبارہ قیادت تھمائے جانا اور پھر اس کا چار ماہ بعد خود ہی مستعفی ہو جانا بھی معقول نہیں ہے۔
اگرچہ یہ فیصلہ نسیم شاہ کے حوالے سے سراسر زیادتی پر مبنی ہے کہ اپنے پچھلے دونوں ٹیسٹ میچز میں انھوں نے اچھی بولنگ کی مگر فیلڈرز ان کا ساتھ دینے سے معذور رہے، لیکن شاہین آفریدی کے حوالے سے یہ فیصلہ محض اس لیے حیران کن ہے کہ انھیں اس سیریز کے لیے منتخب کیا جانا ہی بجائے خود نہایت حیران کن فیصلہ تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
شاہین آفریدی کی بولنگ کی عظمت سے کوئی انکار نہیں۔ جب وہ انٹرنیشنل کرکٹ میں وارد ہوئے تھے، کوئی انھیں وسیم اکرم کا متبادل قرار دے رہا تھا تو کسی کا خیال تھا کہ اپنی ریٹائرمنٹ تک وہ پاکستان کی تاریخ کے کامیاب ترین بولر بن چکے ہوں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن رمیز راجہ کو دعا دیجئے کہ بطور چئیرمین پی سی بی ایک بڑی ٹرافی اپنی سی وی میں سجانے کا جنوں اس قدر ان پر حاوی ہوا کہ انجری سے مکمل بحالی کا انتظار کیے بغیر ہی شاہین کو میدان میں اتار دیا گیا اور اسی ورلڈ کپ فائنل سے اپنا سپیل ادھورا چھوڑے میدان سے باہر جانے والے شاہین ابھی تک اپنی رفتار اور ردھم بحال کرنے سے قاصر ہیں۔
سو، اب اگرچہ کمنٹری باکس میں براجمان رمیز راجہ بہت سہولت سے پاکستانی پیسرز کی فارم پر تنقید کے دفتر کھول لیتے ہیں مگر اس ہنگام میں وہ اپنے کچھ سنہرے فیصلے بھول بیٹھتے ہیں جن کی بدولت شاہین آفریدی کا انٹرنیشنل کرکٹ میں ’پرائم پیریڈ‘ ختم ہو گیا۔
لیکن اب فقط پیس اور فارم ہی شاہین کا مسئلہ نہیں ہے کہ ان دونوں سے کہیں بڑا معمہ ان کا رویہ ہے جہاں وہ پچھلے ایک سال کی انتظامی تبدیلیوں کے بعد کسی اور کپتان کی بات سننا پسند نہیں کر پا رہے، ٹیم میٹنگز میں اپنی رائے کہنا پسند نہیں کر پا رہے اور دنیا بھر کے براڈکاسٹ کیمروں کے سامنے پاکستانی کپتان کا ہاتھ اپنے کندھے پر دیکھنا تک پسند نہیں کر پا رہے۔
لیکن بابر اعظم کا معاملہ کچھ مختلف ہے کہ وہ اپنے رویے کے بجائے اپنے مائنڈسیٹ کے ہاتھوں مجبور ہیں۔ ان کی فارم میں گراوٹ طویل تر یوں ہوتی چلی گئی کہ پچھلے دو سال میں ان سے متعلق آف فیلڈ فیصلوں اور انتظامی تبدیلیوں نے کبھی ان کے ذہن کو وہ ارتکاز پانے ہی نہیں دیا جہاں وہ اپنی شاٹ سلیکشن میں نکھار لا پائیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
کوئی بھی بولنگ اٹیک جب پاکستان کے خلاف میدان میں اترتا ہے تو اس کی اولین ترجیح بابر اعظم کی راہ روکنا ہوتی ہے۔ یوں اس قدر پلاننگ ان کے خلاف رچائی جاتی ہے کہ انھیں روز بروز اپنے کھیل میں نکھار لانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے پچھلے دو سال پاکستان کرکٹ جس مدوجزر سے گزری ہے، اس کی بدولت بابر اعظم اپنے کھیل میں وسعت لانے سے قاصر رہے ہیں۔
اگرچہ ان سپر سٹارز کی حالیہ کارکردگی بھی انھیں ٹیم سے آرام دیے جانے کی وجہ بنی ہے مگر کارکردگی سے کہیں بڑھ کر اس کا سبب وہ رویے ہیں جو ڈریسنگ روم کے ماحول کو اتفاق سے محروم کر رہے ہیں۔ جہاں دو سابقہ کپتان اپنی الگ الگ چھوٹی چھوٹی دنیائیں بسائے بیٹھے ہیں اور نیا کپتان اپنے ہم خیال اذہان ڈھونڈنے کی جستجو میں رہتا ہے۔
عین ممکن ہے کہ ٹیم میں اتحاد کے فقدان کی افواہیں محض میڈیائی حلقوں کی نوک جھونک اور لگائی بجھائی ثابت ہوتیں کہ بالآخر سیریز سے پہلے کپتان شان مسعود نے بھی بھرپور ’سیاسی درستگی‘ ملحوظ رکھتے ہوئے ان 'افواہوں' کی تردید کی تھی مگر ملتان ٹیسٹ کی تیسری اننگز میں جیسے شاہین آفریدی اور نسیم شاہ نے اپنی وکٹیں گنوائیں، وہ ان افواہوں کے لیے تقویت کا سامان ہوا۔
سو، عاقب جاوید کی سرکردگی میں قائم شدہ نئی سلیکشن کمیٹی کے اپنے میرٹ اگرچہ قابلِ بحث ہیں مگر یہ بہرحال ایک دلیرانہ اقدام ہے کہ ایسی ہائی پروفائل سیریز میں اتنے بڑے ناموں کو ڈراپ کر کے ایک پیغام دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ کسی بھی سپر سٹار کا مقام پاکستان کرکٹ کی نمائندہ ٹیم کے تشخص سے بڑا نہیں ہے۔
یہ بھی خوشگوار حیرت ہے کہ لاہور قلندرز سے وساطت نے اگرچہ پچھلے برسوں میں عاقب جاوید اور شاہین آفریدی کی کیمسٹری بہت مضبوط کی مگر بطور فیصلہ ساز عاقب نے اپنے اس تعلقِ خاطر کو اہمیت نہیں دی اور ٹیم کی ضروریات کو ملحوظ رکھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اب سوال صرف یہ رہ جاتا ہے کہ ان انقلابی فیصلوں کے بعد کیا اگلے دو میچز میں پاکستان کی تقدیر بدل پائے گی؟
گو بظاہر یہ فیصلہ خاصا مضحکہ خیز دکھائی دیتا ہے کہ دوسرے ٹیسٹ میچ کے لیے پاکستان نے وہی پچ استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے جسے پہلے میچ میں ملتان ہائی وے قرار دیا گیا تھا اور مبصرین نے ازراہِ تفنن دوسرا میچ بھی اسی پر کھیلنے کی تجویز دی تھی۔
مگر اب یہ ملتان ہائی وے بھی ’کچا کھوہ بائی پاس‘ بن جائے گی کہ کل میچ کے پہلے دن ہی یہ دراصل چھٹے دن کی پچ ہو گی۔
ایسی پچ پر سپن کے علاوہ ریورس سوئنگ کا بھی جادو اٹھنے کا امکان ہے۔ اور اگرچہ پاکستان نے زاہد محمود، نعمان علی اور ساجد خان کے علاوہ مہران ممتاز کو بھی اپنے سکواڈ کا حصہ بنایا ہے مگر انگلش کیمپ کو دستیاب سپن وسائل پھر بھی تجربے اور افادیت میں شان کے سپنرز پر بھاری رہ سکتے ہیں۔
لیکن شان کو اپنے اس کردار میں جو غالباً آخری دو میچز کی مہلت میسر ہے، اس مہلت میں وہ ایک ایسی الیون کی قیادت پر مامور ہوں گے جہاں ’سٹارز‘ کی انفرادی اناؤں کے پہاڑ ان کے راستے میں حائل نہیں ہوں گے اور شخصی معجزوں کی بجائے ٹیم ورک اور بولنگ ڈسپلن پر انحصار ان کی بقا کا آخری ہتھیار ہو گا۔













