انڈیا میں ترقی کی تیز رفتار کے دعوے مگر آئی ایم ایف کی رپورٹ میں ’سی گریڈ‘ کا مطلب کیا ہے؟

،تصویر کا ذریعہANI
انڈین حکومت کے مطابق ملک نے تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشت کے طور پر اپنی پوزیشن مضبوط کی ہے۔ انڈیا کی مجموعی قومی پیداوار یعنی جی ڈی پی کا تخمینہ سات اعشاریہ تین ٹریلین ڈالر لگایا گیا ہے۔ تاہم انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) نے اپنی تازہ رپورٹ میں انڈیا کے قومی اکاؤنٹس اور جی ڈی پی کے اعداد و شمار کو ’سی‘ گریڈ دیا ہے۔
لیکن دوسری طرف انڈین حکومت نے کہا ہے کہ مالی سال 2025-26 کی دوسری سہ ماہی کے دوران مجموعی قومی پیداوار یعنی جی ڈی پی میں 8.2 فیصد اضافہ ہوا ہے جو گذشتہ سال اسی مدت میں 5.6 فیصد کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔
اس پر یہ بحث شروع ہو گئی ہے کہ جب جی ڈی پی کے اعداد و شمار ترقی کی طرف اشارہ کر رہے ہیں تو آئی ایم ایف نے ’سی گریڈ‘ کیوں دیا؟
بی جے پی نے اس دلیل کو مسترد کر دیا ہے۔ کانگریس کے رہنما پی چدمبرم کی سوشل میڈیا پوسٹ کے جواب میں بی جے پی کے امیت مالویہ نے کہا: ’یہ تشویشناک ہے کہ سابق وزیر خزانہ خوف پھیلا رہے ہیں صرف اس لیے کہ ان کی پارٹی یہ ہضم نہیں کر پا رہی کہ انڈیا اب وہ 'فریجائل فائیو' معیشت نہیں رہا جو وہ چھوڑ کر گئے تھے۔‘
کانگریس نے حکومت کو اس معاملے پر گھیر لیا ہے، جبکہ بی جے پی کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کی بنیادی وجہ 2011-12 کا بیس ایئر ہے اور یہ گریڈ کئی سالوں سے تکنیکی وجوہات کی بنا پر نہیں بدلا۔
کانگریس کے کمیونیکیشن انچارج جے رام رمیش نے کہا: ’مجموعی فکسڈ کیپیٹل فارمیشن میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ نجی سرمایہ کاری میں نئی رفتار کے بغیر، جی ڈی پی کی بلند شرح نمو پائیدار نہیں ہے۔‘
کانگریس کی رہنما سپریہ شرینیت نے سوشل میڈیا پر لکھا: ’آئی ایم ایف کہتا ہے کہ انڈیا کے قومی اکاؤنٹس اور مہنگائی کے اعداد و شمار غیر رسمی شعبے اور عوام کے خرچ کے رجحانات جیسے اہم پہلوؤں کو ظاہر نہیں کرتے۔‘
انھوں نے کہا: ’پچھلے سال بھی آئی ایم ایف نے انڈیا کو سی گریڈ دیا تھا، پھر بھی کچھ نہیں بدلا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی جے پی آئی ٹی سیل کے سربراہ امیت مالویہ نے ایکس پر لکھا کہ آئی ایم ایف کی ریٹنگ ’کئی سالوں سے نہیں بدلی اور تکنیکی پیرامیٹرز کے مطابق یہ برسوں سے ’سی‘ ہے۔ ایسا نہیں کہ جی ڈی پی کے اعداد و شمار جعلی ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
آئی ایم ایف کی رپورٹ میں کیا ہے؟
26 نومبر کو آئی ایم ایف نے انڈیا پر ایک رپورٹ جاری کی جس میں صفحہ 70 پر اسے نگرانی کے لیے ناکافی ڈیٹا کی وجہ سے سی گریڈ دیا گیا، یعنی اسے تیسرے درجے پر رکھا گیا۔
آئی ایم ایف فراہم کردہ ڈیٹا کو چار زمروں میں تقسیم کرتا ہے:
- اے گریڈ: نگرانی کے لیے کافی ڈیٹا موجود ہے۔
- بی گریڈ: ڈیٹا میں کچھ کمی ہے، لیکن مجموعی طور پر نگرانی کے لیے کافی ہے۔
- سی گریڈ: ڈیٹا میں کمی ہے جو نگرانی کے عمل کو متاثر کرتی ہے۔
- ڈی گریڈ: ڈیٹا میں سنگین کمی ہے جو نگرانی کو نمایاں طور پر متاثر کرتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ قومی اکاؤنٹس کا ڈیٹا فریکوئنسی میں درست اور کافی تفصیل میں دستیاب ہے، لیکن اس میں طریقہ کار کی خامیاں ہیں جو نگرانی میں رکاوٹ ڈالتی ہیں۔
آئی ایم ایف کے مطابق، انڈین حکومت جو ڈیٹا استعمال کرتی ہے وہ 2011-12 کا ہے اور یہ بیس ایئر اب متعلقہ نہیں رہا۔ اس کے علاوہ، انڈیا پروڈیوسر پرائس انڈیکس کے بجائے ہول سیل پرائس انڈیکس استعمال کرتا ہے، جو ڈیٹا میں تضاد پیدا کر سکتا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ این بی ایف سیز، گھریلو شعبے اور پورے نظام میں مالی روابط پر دستیاب ڈیٹا محدود ہے۔
بی جے پی کے رہنما امیت مالویہ نے کہا کہ حکومت فروری 2026 میں 2022-23 سیریز میں تبدیلی کرے گی تاکہ ان مسائل کو حل کیا جا سکے۔

،تصویر کا ذریعہANI
ماہرین کی رائے
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے سابق پروفیسر ارون کمار کہتے ہیں کہ جی ڈی پی کے اعداد و شمار پر برسوں سے سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’نوٹ بندی کے دوران تین لاکھ کمپنیاں بند ہوئیں، لیکن اس کا ڈیٹا پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ سروے میں پایا گیا کہ سروس سیکٹر کی 35 فیصد کمپنیاں درج نہیں تھیں جہاں وہ درج تھیں۔ تو ڈیٹا کیسے درست ہے؟‘
انھوں نے کہا کہ ’پہلے نوٹ بندی، پھر جی ایس ٹی، اس کے بعد نان فنانشل بینکنگ سیکٹر کی مشکلات اور پھر کووڈ وبا نے غیر منظم شعبے کو شدید نقصان پہنچایا۔ ایسی صورت میں جی ڈی پی کا حساب لگانے کا طریقہ چار بار بدلا جانا چاہیے تھا، لیکن ایک بار بھی نہیں بدلا۔'‘
دی وائر کے بانی رکن ایم کے وینو کہتے ہیں کہ آئی ایم ایف نے واضح طور پر کہا ہے کہ جی ڈی پی کا حساب لگانے کے طریقے میں کئی خامیاں ہیں۔
انھوں نے کہا: ’انڈیا خود کو ایک بڑی اور تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشت کے طور پر پیش کرتا ہے۔ یہ رپورٹ انڈیا کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچاتی ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ پہلے انڈیا بی گریڈ میں تھا لیکن اب یہ سی گریڈ میں آ گیا ہے۔ ’یہ کوئی مثبت علامت نہیں ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’پچھلے پانچ-چھ سالوں سے میں دیکھ رہا ہوں کہ حکومت ڈیٹا کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر رہی ہے۔ حکومت ڈیٹا کو بگاڑ کر پیش کر رہی ہے۔‘
کووڈ وبا کے بعد، ماہرینِ معیشت اور تجزیہ کار دعویٰ کرتے ہیں کہ حکومت ترقی کے اعداد و شمار درست طریقے سے نہیں دکھا رہی۔
ایم کے وینو وضاحت کرتے ہیں کہ ’ایک ہے منظم شعبہ یعنی لسٹڈ کمپنیاں اور دوسرا ہے غیر منظم شعبہ۔ ہوا یہ ہے کہ منظم شعبے کے ڈیٹا کو دیکھا جا رہا ہے، اور یہ سمجھا جا رہا ہے کہ غیر منظم شعبہ (یعنی 90 فیصد چھوٹی اور درمیانے درجے کی کمپنیاں) بھی اسی رفتار سے ترقی کر رہی ہیں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’لیکن جو ہو رہا ہے وہ یہ ہے کہ غیر منظم شعبہ اسی طرح ترقی نہیں کر رہا جیسے منظم شعبہ کر رہا ہے۔ اس کی وجہ سے جی ڈی پی کے اعداد و شمار کا حساب غلط ہو رہا ہے۔‘












