’سُنا ہے آپ کے سابق وزیراعظم کو گولی لگی ہے، اور آپ کے ہاں حالات خراب ہیں‘

    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
    • مقام, ایڈیلیڈ، آسٹریلیا

’سنا ہے آپ کے سابق وزیراعظم کو گولی لگی ہے؟‘ یہ وہ پہلا سوال تھا جو مجھ سے سڈنی سے ایڈیلیڈ پہنچنے پر ایئرپورٹ سے ہوٹل آتے ہوئے ترکی سے تعلق رکھنے والے ٹیکسی ڈرائیور نے کیا۔

جب ٹیکسی ڈرائیو کو یہ علم ہوا کہ میرا تعلق پاکستان سے ہے کہ تو انھوں نے سوال کیا کہ ’سنا ہے آپ کے ہاں حالات خراب ہیں۔ آپ کے سابق وزیراعظم کو گولی لگی ہے۔ یہ بات مجھے ایک پاکستانی دوست نے بتائی ہے۔‘

اس ٹیکسی ڈرائیور کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ہمارے ملک ترکی میں بھی سیاست زوروں پر رہتی ہے، اگلے سال الیکشن ہیں دیکھیں کیا ہوتا ہے کچھ لوگ طیب اردوغان سے خوش ہیں اور کچھ نہیں۔‘

اس مختصر سی سیاسی گفتگو کے دوران میرا ذہن ایڈیلیڈ کرکٹ گراؤنڈ کے بارے میں سوچ رہا تھا جہاں اتوار کے روز پاکستانی کرکٹ ٹیم اس ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں اپنا آخری گروپ میچ بنگلہ دیش کے خلاف کھیلنے والی ہے اور ذہن میں یہی بات آئی کہ کیا اس میچ کے بعد پاکستانی ٹیم کا سفر تمام ہوجائے گا یا قدرت اسے سیمی فائنل کھیلنے کا موقع فراہم کرے گی؟

یہ وہی ایڈیلیڈ کرکٹ گراؤنڈ ہے جہاں قدرت پاکستانی کرکٹ ٹیم پر 1992 کے عالمی کپ میں مہربان ہوئی تھی جب انگلینڈ کے خلاف اس کا میچ بارش کی وجہ سے مکمل نہیں ہوا تھا۔

اگر میچ مکمل ہو جاتا تو 74 رنز پر ڈھیر ہو جانے والی پاکستانی ٹیم کے لیے شکست سے بچنا ممکن نہ تھا لیکن بارش نے وہ ایک قیمتی پوائنٹ پاکستانی ٹیم کو دلوا دیا جو بعد میں اسے سیمی فائنل تک لے گیا تھا۔

’اتنے زیادہ میسج کہ موبائل ہینگ ہو گیا‘

پاکستان کی جنوبی افریقہ کے خلاف جیت میں اگرچہ نمایاں کردار افتخار احمد اور شاداب خان کی شاندار بیٹنگ کا نظر آتا ہے جن کی نصف سنچریوں کی بدولت پاکستانی ٹیم اس ٹورنامنٹ میں اپنا سب سے بڑا سکور کرنے میں کامیاب ہوئی لیکن اگر دیکھا جائے تو دلیری سے بیٹنگ کرنے کا سبق محمد حارث دے گئے۔

محمد حارث ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے ٹریولنگ ریزرو میں شامل تھے کہ فخر زمان کے ان فٹ ہوجانے کے سبب انھیں پلیئنگ سکواڈ میں شامل کیا گیا۔

محمد حارث بی بی سی اردو کے سوال پر کہتے ہیں ’میں یہی سوچ کر بیٹنگ کرنے گیا تھا کہ بہادری سے کھیلنا ہے اور ان کے کسی بھی بولر کے بارے میں یہ نہیں سوچنا کہ وہ کتنے تجربہ کار ہیں یا کتنے مشہور ہیں۔ میں نے ذہن میں یہی ایک بات رکھی ہوئی تھی کہ صرف گیند کو دیکھنا ہے، فاسٹ بولرز کو نہیں۔‘

حارث کہتے ہیں کہ ’چونکہ مجھے سب گوگل کہہ کر پکارتے ہیں لہذا مجھے ان تمام فاسٹ بولرز کا اچھی طرح پتہ تھا میں ان کی ویڈیوز دیکھتا رہا ہوں۔ میچ سے قبل بھی ان بولرز کی ویڈیوز دیکھی تھیں۔‘

حارث کا کہنا ہے کہ ’میری بیٹنگ سے گھر والے بہت خوش ہیں۔ سب سے زیادہ خوشی بہنوں کو ہوئی ہے ان کے میسجز سب سے پہلے آئے۔ ان کے علاوہ بھی اتنے زیادہ میسجز آئے ہیں کہ میرا موبائل ہی ہینگ ہو گیا۔‘

 حارث کہتے ہیں کہ ’آسٹریلوی وکٹیں میری بیٹنگ کے سٹائل کے مطابق ہیں اور میں اسی اعتماد کے ساتھ بیٹنگ کرنے گیا تھا۔ یہ اعتماد مجھے کپتان بابراعظم اور ٹیم منیجمنٹ نے دیا تھا۔‘

یہ بھی پڑھیے

’کوشش کروں پرفارم کروں ورنہ یہاں نہیں رہ سکوں گا‘

حارث کہتے ہیں کہ ’مجھے معلوم ہے کہ میری کارکردگی جو پاکستان سپر لیگ میں ہوئی ویسی کارکردگی میں پاکستان کی طرف سے نہیں دکھا سکا تھا۔ کوشش ہو گی کہ پرفارم کروں اگر آپ پرفارمنس نہیں دیں گے تو یہاں نہیں رہ سکیں گے۔‘

یاد رہے کہ محمد حارث نے اس سال پاکستان سپر لیگ میں پشاور زلمی کی نمائندگی کرتے ہوئے کراچی کنگز کے خلاف میچ میں صرف 27 گیندوں پر 49 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی تھی جس میں چار چھکے اور تین چوکے شامل تھے۔

یہ کارکردگی انھیں مین آف دی میچ ایوارڈ دلانے کا سبب بنی۔ محمد حارث نے ایک اور قابل ذکر اننگز اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف کھیلی جس میں انھوں نے پانچ چھکوں اور سات چوکوں کی مدد 70 رنز سکور کیے اور دوسری مرتبہ مین آف دی میچ بنے تھے۔

وہ پاکستان کی طرف سے چار ون ڈے انٹرنیشنل میں صرف 10 رنز بنا پائے ہیں جبکہ جنوبی افریقہ کے خلاف میچ سے قبل انھوں نے جو ایک ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کھیلا تھا اس میں وہ صرف سات رنز بنا سکے تھے۔