’امپائر صاحب، بیٹسمین میں سکہ ڈالیں تاکہ یہ چل پڑے‘، سڈنی کا وہ تماشائی جو ہر میچ دیکھتا ہے

    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو، سڈنی

آسٹریلوی کرکٹ کی تاریخ کو جاننے کے لیے ضخیم کتابیں پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ سب کچھ وہ دھاتی مجسمے آسانی سے بیان کر دیتے ہیں جو آسٹریلیا کے مختلف ٹیسٹ گراؤنڈز میں نصب ہیں۔

میلبرن کرکٹ گراؤنڈ میں ہر سٹینڈ کے باہر سابق ٹیسٹ کرکٹرز کے مجسمے اُن کے تعارف کے ساتھ ہر آنے والے کو اپنی جانب متوجہ کر لیتے ہیں۔ ان میں عظیم سر ڈان بریڈمین اور ان کے ساتھ کھیلنے والے بل پونسفرڈ بھی شامل ہیں اور جدید دور میں بیٹرز کے اعصاب کو بُری طرح جھنجھوڑنے والے ڈینس للی اور شین وارن بھی۔

سڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں داخل ہوں تو ایک جانب سابق کپتان رچی بینو کا مجسمہ آنے والوں کو خوش آمدید کہتا نظر آتا ہے تو دوسری جانب سٹیو اپنے دونوں بازو پھیلائے فاتحانہ انداز میں دکھائی دیتے ہیں۔ کچھ ہی فاصلے پر سٹین مک کیب کا مجسمہ جارحانہ بیٹنگ کے انداز کی عکاسی کر رہا ہے۔

ان مجسموں کے علاوہ سڈنی کرکٹ گراؤنڈ کی ایک خاص بات یہ بھی کہ پریکٹس ایریا کے اطراف چند مشہور آسٹریلوی کرکٹرز کے مختصر تعارف والی دھاتی تختیاں چھوٹے ستونوں پر نصب ہیں جن میں سر ڈان بریڈمین، بابی سمپسن، آرتھر مورس اور بلی براؤن قابل ذکر ہیں۔

پرانے زمانے میں استعمال ہونے والا رولر بھی یہاں محفوظ کر دیا گیا ہے۔

یہ یابا کون تھے؟

سڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں جہاں سابق ٹیسٹ کرکٹرز کے مجسمے موجود ہیں وہیں گراؤنڈ کے ایک سٹینڈ کے اندر نشت پر ایک ایسا مجسمہ بھی موجود ہے جو کسی ٹیسٹ کرکٹر کا نہیں ہے لیکن آسٹریلوی کرکٹ کی تاریخ میں اس کی اہمیت کسی سے کم نہیں۔

اس مجسمے کو دور سے دیکھ کر ایک لمحے کو یہ گمان ہوتا ہے کہ کوئی جیتا جاگتا شائق اپنی سیٹ پر بیٹھا زور سے آواز لگا رہا ہے۔ لیکن قریب جاکر پتہ چلتا ہے کہ یہ تو محض ایک مجسمہ ہے۔

یہ یابا ہیں۔ آپ کہیں گے کون یابا؟ تو ان کی تاریخ بھی بہت دلچسپ ہے۔

یابا دراصل ایک ایسے تماشائی تھے جن کا اصل نام سٹیون ہیرلڈ گیسکوئن تھا۔ وہ بچپن سے باتونی ہونے کی وجہ سے اپنے اصل نام کے بجائے یابا کے نام سے مشہور ہو گئے تھے۔

وہ سڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں آ کر میچوں کے دوران کرکٹرز پر دلچسپ فقرے کسا کرتے تھے لیکن ان کے برجستہ جملوں میں شائستگی ہوتی تھی۔ اس زمانے میں گراؤنڈ کی مشہور سڈنی ہل (پہاڑی) ہوا کرتی تھی جہاں آ کر وہ بیٹھتے اور انہماک سے میچ دیکھا کرتے۔

میدان میں کھیلنے والے کرکٹرز ان کے دلچسپ جملوں کے رحم و کرم پر ہوا کرتے تھے۔ سر ڈان بریڈمین جیسا عظیم کرکٹر بھی ان کے ان فقروں سے خود کو نہ بچا سکے۔

ایک مرتبہ نواب آف پٹودی سینیئر بہت سست بیٹنگ کر رہے تھے تو سڈنی ہل سے یابا کی آواز گونجی: ’امپائر صاحب، بیٹسمین میں سکہ ڈالیں تاکہ یہ چل پڑے۔‘ پتہ چلا اس میچ کے امپائر گیس میٹر انسپکٹر تھے۔

اس زمانے کے کرکٹرز بھی یابا کو بڑی اہمیت دیتے تھے۔ سر جیک ہابس نے جب سڈنی میں اپنا الوداعی میچ کھیلا تو وہ خاص طور پر یابا کے پاس گئے اور ان سے مصافحہ کیا۔

یابا کی آٹھ جنوری 1942 کو 63 سال کی عمر میں دل کے عارضے کے سبب وفات ہوئی۔ ان کی موت کے بعد سڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میچ سے قبل ان کی یاد میں چند لمحے کی خاموشی اختیار کی گئی۔

سڈنی ہل کو بعد میں یابا ہل کا نام دیا گیا۔ سنہ 2007 میں یہ پہاڑی اور ڈگ والٹرز سٹینڈ کو مسمار کر کے وکٹر ٹرمپر سٹینڈ بنا دیا گیا۔

لیکن یابا سے محبت کے سبب اس سٹینڈ کی ایک نشست پر ان کا دھاتی مجسمہ نصب کر دیا گیا۔