کیا پاکستان کی سیمی فائنل تک رسائی اب بھی ممکن ہے؟

    • مصنف, عمیر سلیمی
    • عہدہ, نامہ نگار، بی بی سی اردو

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں زمبابوے کے خلاف کانٹے کے مقابلے میں شکست نے پاکستانی شائقین کو حیران اور پریشان کر دیا ہے اور وہ مسلسل اس سوال کے گرد بحث کرتے دکھائی دے رہے ہیں کہ آیا اس کے بعد بھی پاکستان کے لیے ٹورنامنٹ میں واپسی کے کوئی امکان موجود ہیں۔

پہلے میلبرن میں انڈیا کے خلاف ایک رن کے فرق سے شکست اور پھر اب پرتھ میں زمبابوے کی ایک رن سے فتح نے ان اعداد و شمار کو مزید نمایاں کر دیا ہے کہ پاکستان نے آج تک آسٹریلیا میں ایک بھی ٹی ٹوینٹی انٹرنیشنل میچ نہیں جیتا ہے۔

انڈیا کے دیے زخم ابھی شائقین کے دلوں میں تازہ تھے کہ اب ایک اور شکست نے پاکستانی سکواڈ اور کھلاڑیوں کی کارکردگی پر تبصروں کا سلسلہ تیز کر دیا۔

تکنیکی اعتبار سے پاکستان ابھی ٹورنامنٹ سے باہر نہیں ہوا لیکن بظاہر اب گروپ ٹو میں اس کے ٹاپ دو ٹیموں میں آنے اور سیمی فائنل تک رسائی کے امکان سکڑ گئے ہیں۔

پاکستان بمقابلہ زمبابوے: بات آخری اوور تک کیسے پہنچی؟

زمبابوے نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے جارحانہ آغاز کیا مگر حارث رؤف نے بریک تھرو دلا کر ان کے بلے بازوں کو بیک فٹ پر دھکیل دیا۔

محمد وسیم نے تین وکٹیں حاصل کیں اور شاداب کی نپی تلی بولنگ اور دو وکٹوں کی بدولت زمبابوے کی ٹیم 20 اوورز میں آٹھ وکٹوں کے نقصان پر محض 130 رنز بنا سکی۔

اس سے یہ تاثر ملا کہ 131 رنز کا ہدف تو ماڈرن کرکٹ میں حاصل کرنا کوئی زیادہ مشکل کام نہیں ہونا چاہیے۔ پاکستانی شائقین کی نظریں بابر اعظم اور محمد رضوان پر ٹکی ہوئی تھیں جنھوں نے انڈیا کے خلاف سکور بورڈ پر کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں کیا تھا۔

تاہم اس میچ میں بھی پاکستان کی سلامی جوڑی ناکام رہی اور تمام امیدوں کا دار و مدار مڈل آرڈر کی غیر یقینی سے وابستہ ہوگیا۔ نگاراوا اور مزربانی نے آغاز میں ہی پاکستانی بلے بازوں پر دباؤ بنائے رکھا۔

افتحار کی وکٹ گِرنے کے بعد شان مسعود اور شاداب خان نے 52 رنز کی شراکت سے ٹیم کو کندھا دیا۔ تاہم شاداب سکندر رضا کو ایک چھکا لگانے کے بعد اگلی ہی گیند پر باؤنڈری پر کیچ آؤٹ ہوگئے جس کے بعد حیدر علی پہلی گیند پر ایل بی ڈبلیو پر پویلین لوٹ گئے۔ حیدر کی حالیہ کارکردگی سے محسوس ہوتا ہے کہ وہ اپنی وکٹ ہتھیلی پر لیے پھرتے ہیں۔

اس کے بعد محمد نواز (جنھوں نے آج کوئی اوور نہیں کرایا اور بطور بلے باز کھیلے) اور محمد وسیم (جنھیں آصف علی کی جگہ بطور آل راؤنڈر شامل کیا گیا تھا) نے ایک ساتھ 34 رنز جوڑے۔

آخری اوور میں 11 رنز درکار تھے جن میں سے آٹھ رنز تو محمد وسیم نے پہلی تین گیندوں پر ہی بنا لیے تھے۔ تاہم ایک ڈاٹ گیند کے بعد نواز کی وکٹ گِر گئی اور آخری گیند پر شاہین دوسرا رن بنانے کی کوشش میں رن آؤٹ ہوگئے۔

’یہ پاکستان کے لیے ایک شرمناک شکست ہے‘

پاکستان کی اس شکست نے شائقین کو شدید مایوس کیا ہے اور ٹیم کے حوالے سے صارفین کے تبصرے سوشل میڈیا پر بھی جاری ہیں۔

سابق فاسٹ بولر شعیب اختر لکھتے ہیں کہ سب سے شائستہ انداز میں بھی اسے شرمناک ہار کہا جائے گا۔ ’اگر زمبابوے ہے تو خود ہی ہو جائے سب کچھ؟ نہیں، خود نہیں ہوتا، کرنا پڑتا ہے۔‘

شعیب اختر مزید کہتے ہیں کہ ’اوسط ذہنیت، اوسط نتائج۔ یہ حقیقت ہے، اس کا سامنا کریں۔‘

تجزیہ کار ریحان الحق کہتے ہیں کہ ’کوئی الفاظ، وضاحت یا تجزیہ نہیں۔ یہ دل توڑنے کے مترادف ہے۔‘

صبا بانو نے کپتان بابر اعظم کو یہ مشورہ دیا ہے کہ وہ اس وقت کسی بہترین بلے باز سے ہاتھ ملائیں اور اپنی خراب فارم انھیں منتقل کر دیں۔ ’کوہلی کی طرح آپ خود بھی ایسا کریں۔‘

ارفا فیروز کہتے ہیں کہ ’ورات کوہلی کی فارم میں واپسی کے بعد سے بابر اعظم کی کارکردگی گِری ہے۔ دنیائے کرکٹ نے اب تک وہ وقت نہیں دیکھا جب بابر اعظم اور ورات کوہلی ایک ساتھ بہترین کھیل پیش کر رہے ہوں۔‘

عاطف نواز کہتے ہیں کہ ’ٹی ٹوئنی کرکٹ ایسا فارمیٹ ہے جس میں کسی بھی دن کوئی بھی ٹیم ہار سکتی ہے۔ اس ورلڈ کپ میں ہم نے کئی حیرت انگیز نتائج دیکھے ہیں۔

’(جیسے) انگلینڈ کی آئرلینڈ سے شکست۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ بُری ٹیم ہے۔ مایوسی کا جواز ضرور ہے۔ پاکستان بھی کوئی بُری ٹیم نہیں۔‘

کیا پاکستان اب بھی سیمی فائنلز تک پہنچ سکتا ہے؟

رواں ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کا فارمیٹ کچھ یوں ہے کہ 12 ٹیموں کو دو گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے۔

گروپ ون میں نیوزی لینڈ تین پوائنٹس کے ساتھ سرفہرست ہے مگر اس کے بعد صورتحال غیر واضح ہے کیونکہ سری لنکا، انگلینڈ، آئرلینڈ اور آسٹریلیا سب کے دو میچ کھیلنے کے بعد دو، دو پوائنٹس ہیں۔ اور یوں گروپ میں پہلی دو پوزیشنز (یعنی جو ٹیمیں سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کرسکتی ہیں) کی دوڑ کافی حد تک برقرار ہے۔

مگر گروپ ٹو میں پاکستان کے لیے جگہ تنگ ہو گئی ہے۔

انڈیا اس گروپ میں اپنے دونوں میچز جیتنے کے بعد پہلے نمبر پر ہے جبکہ جنوبی افریقہ اور زمبابوے تین، تین پوائنٹس کے ساتھ ترتیب میں دوسرے اور تیسرے نمبروں پر ہیں۔

جنوبی افریقہ اور زمبابوے کا میچ بارش کی وجہ سے منسوخ ہوگیا تھا اور دونوں ٹیموں کو ایک، ایک پوائنٹ ملا تھا۔ جنوبی افریقہ نے بنگلہ دیش کے خلاف میچ 104 رنز کے بڑے مارجن سے جیتا لہذا اس کا رن ریٹ بہتر ہے۔

بنگلہ دیش نے نیدرلینڈز کے خلاف اپنا میچ جیتا تھا لہذا یہ دو پوائنٹس کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہے۔ مگر پاکستان نے اب تک دونوں میچوں میں شکست کھائی ہے اور یوں یہ پانچویں نمبر پر ہے۔

اگر اس صورتحال میں پاکستان کو سیمی فائنل تک پہنچنا ہے تو اسے ایک جملے میں کچھ یوں بیان کیا جا سکتا ہے: پاکستان اور انڈیا اپنے تمام بقیہ میچز جیت جائیں۔ مگر بات اس سے زیادہ پیچیدہ ہے اور ٹورنامنٹ میں اب بھی کچھ میچز کے دوران بارش اور اپ سیٹس کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔

تجزیہ کار ریحان الحق کے مطابق اب سیمی فائنل تک رسائی کے لیے یہ ہونا ضروری ہے:

  • زمبابوے کم از کم اپنے دو میچ ہار جائے
  • جنوبی افریقہ انڈیا اور پاکستان کے خلاف اپنے میچز ہار جائے
  • پاکستان اپنے تمام بقیہ میچز (نیدرلینڈز، جنوبی افریقہ، بنگلہ دیش کے خلاف) جیت جائے
  • یعنی پاکستان کو کسی ہمسایہ ایشین ٹیم (انڈیا یا بنگلہ دیش) کی مدد درکار ہوگی

مگر چھ پوائنٹس حاصل کرنا بھی شاید سیمی فائنل تک رسائی کے لیے ناکافی ثابت ہو کیونکہ عین ممکن ہے کہ گروپ میں مزید اپ سیٹس دیکھنے کو ملیں یا بارش کی وجہ سے میچز متاثر ہوں۔

یہ ممکن ہے کہ پھر سے کسی میچ میں بارش کی وجہ سے ٹیموں کو ایک، ایک پوائنٹ ملے اور پوائنٹس برابر ہونے کی صورت میں بات رن ریٹ تک پہنچ جائے۔

ریحان لکھتے ہیں کہ ’رواں سال آسٹریلیا کے موسم کی پیشگوئی بہت مشکل ہے۔ پاکستان اور انڈیا کا میچ بارش کی وجہ سے منسوخ ہونے کا امکان تھا مگر ہم نے مکمل میچ ہوتا دیکھا۔ دوسرے مواقع پر بارش ہوئی جبکہ اس کی پیشگوئی کم تھی۔‘

آئی سی سی کی ویب سائٹ کے مطابق سیمی فائنل تک رسائی کے لیے کپتان بابر اعظم کو اپنے تینوں بقیہ میچز جیتنا ہوں گے۔ ان میں اتوار کو نیدرلینڈز، جمعرات کو جنوبی افریقہ کے خلاف اور اس سے اگلے اتوار (چھ نومبر) کو بنگلہ دیش کے خلاف مقابلے شامل ہیں۔

’تاہم اب معاملہ صرف پاکستان کے ہاتھ میں نہیں۔ اگر انڈیا، زمبابوے یا جنوبی افریقہ میں سے صرف دو ٹیمیں اپنے بقیہ تین میچوں میں سے دو میچ جیت جائیں تو ان کے چھ سے زیادہ پوائنٹس ہوجائیں گے۔‘

پاکستان اب تینوں میچ جیتنے پر بھی زیادہ سے زیادہ چھ پوائنٹس حاصل کر سکتا ہے۔

آئی سی سی کے مطابق ’نیٹ رن ریٹ بھی ایک فیکٹر ہوسکتا ہے۔ تو پاکستان کو بقیہ تین میں سے کم از کم ایک میچ میں بڑے مارجن کی فتح سبقت دلا سکتی ہے۔‘