اسرائیل کا کوئی بھی سفارت خانہ محفوظ نہیں: سابق ایرانی کمانڈر کا دعوی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران میں اسلامی انقلابی گارڈ کورپس، آئی آر جی سی کے سابق کمانڈر رحیم صفوی کی جانب سے اس دعوے کے بعد کہ اسرائیل کا کوئی بھی سفارت خانہ محفوظ نہیں ہے اسرائیلی وزیر دفاع نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ ان کا ملک کسی بھی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔
خیال رہے کہ یکم اپریل کو ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ شام کے دارالحکومت دمشق میں ایرانی قونصل خانے کی عمارت پر اسرائیلی حملے میں تنظیم کے دو سینیئر کمانڈرز سمیت سات اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔
ایران کے اسرائیلی سفارتخانوں سے متعلق دعوؤں کے بعد اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلنٹ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کے ملک نے کسی بھی ممکنہ صورتحال کا جواب دینے کے لیے ضروری تیاری مکمل کر لی ہے۔
کہا گیا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ نے اپنی افواج کو چوکس کر دیا ہے اور وہ ممکنہ ایرانی حملے کی تیاری کر رہے ہیں جو خطے میں اسرائیلی یا امریکی اہداف کو نشانہ بنائے۔
کسی ذریعے کا حوالہ دیے بغیر، رحیم صفوی نے دعویٰ کیا کہ ’کل تک مصر، اردن، بحرین اور ترکی سمیت حکومت کے 27 سفارت خانے بند کر دیے گئے ہیں۔ یہ خوف کی وجہ سے ہوا ہے۔‘
تاہم دوسری جانب یہ اطلاعات ہیں کہ اسرائیلی سفارتخانے صرف ہائی الرٹ پر ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
آئی آر جی سی کے سابق کمانڈر اور رہبر انقلاب اسلامی کے اعلیٰ مشیر نے مزید کہا کہ ’رہبر انقلاب نے طاقت کے ساتھ ایک تھپڑ مارنے کا وعدہ کیا ہے‘ اور ’مزاحمتی محاذ تیار ہے، ہمیں وقت کا انتظار کرنا ہوگا۔ یہ کیسے نکلے گا؟‘
اس سے قبل پاسداران انقلاب کے موجودہ کمانڈر حسین سلامی نے یوم القدس کی حکومتی ریلی میں اسرائیل کو ’سزا‘ دینے کا وعدہ کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
اس کے ساتھ ہی امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایران کے کسی بھی اقدام کے خلاف اسرائیل کا ساتھ دے گا اور امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ فون پر بات کرتے ہوئے اس ملک کو یقین دلایا کہ ایران کی طرف سے ممکنہ خطرات کے خلاف اسرائیل کا ساتھ دیا جائے گا۔
تاہم مختلف خبروں سے پتہ چلتا ہے کہ اسرائیل نے ایران یا اس کے قریبی گروپوں کے ممکنہ حملے کے خدشات کے پیش نظر حفاظتی اقدامات میں اضافہ کر دیا ہے۔
اتوار کو ایران کے وزیر خارجہ حسین امیرعبداللہیان نے دمشق میں قونصل خانے پر حملے کے بعد اپنے پہلے دورے میں عمان کا دورہ کیا ہے اور یہ واضح نہیں ہے کہ آیا یہ دورہ اسلامی جمہوریہ کے نمائندے پر حملے کے حوالے سے عرب ممالک سے مشاورت کے لیے ہے یا نہیں۔
لیکن وزارت خارجہ نے اعلان کیا۔ کہ مسقط میں ان کی بات چیت کا ایک اہم نکتہ ’فلسطین اور غزہ میں پیشرفت‘ ہے۔
ایران نے پیر کو دمشق میں اپنے قونصل خانے پر حملےمیں اسرائیل کے ملوث ہونے کی نشاندہی کی۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے حکام مسلسل اسرائیل کو زبانی دھمکیاں دے رہے ہیں، اور تہران میں ’افسوسناک انتقام‘ کے پیغام کے ساتھ بینرز آویزاں کیے گئے ہیں۔
بریگیڈیئر جنرل محمد رضا زاہدی، جو دمشق میں مارے گئے، شام میں مارے جانے والے میجر جنرل سلیمانی کے ماتحت اعلیٰ کمانڈروں کی طویل فہرست کے تازہ ترین رکن ہیں۔
اس حملے کے بعد علی خامنہ ای نے کہا کہ اسرائیل کے رہنما اس پر ’افسوس‘ کریں گے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
اگرچہ اسرائیل کے خلاف ایران کی براہ راست فوجی کارروائی کے ابھی تک کوئی واضح نشان نہیں ہے، لیکن اسرائیل میں اسے ممکنہ خطرے کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔
آئی ڈی ایف نے جنگی یونٹوں میں تمام چھٹیاں منسوخ کر دی ہیں اور اپنے فضائی دفاعی یونٹوں کو تقویت دینے کے لیے ریزرو نفری کو بلایا ہے۔
اسرائیلی اخبار یروشلم پوسٹ نے باخبر ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ دنیا بھر میں اسرائیلی سفارت خانے اپنے سفارت کاروں کے خلاف ممکنہ خطرے کے پیش نظر ہائی الرٹ ہیں۔
اس سے قبل، جنوری میں، جب بریگیڈیئر جنرل رازی موسوی شام میں مارے گئے تھے اور اسرائیل کے خلاف ’انتقام‘ کی افواہیں تھیں، آئی آر جی سی کے ترجمان نے دعویٰ کیا تھا کہ 7 اکتوبر کے حملے ’قاسم سلیمانی کا انتقام‘ تھے۔ لیکن حماس کے انکار کے بعد آئی آر جی سی کو اپنے الفاظ واپس لینے پڑے۔
حالیہ مہینوں میں ایران نے خطے میں اسرائیل اور امریکہ سے متعلقہ اہداف کے خلاف مختلف حملوں سے خود کو دور کرنے کی کوشش کی ہے اور ان کی ذمہ داری سے انکار کیا ہے۔
ٹھوس کارروائی کے بغیر جوابی کارروائی کی دھمکی دینے کے اس عمل نے حکومت کے کچھ حامیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔








