دمشق میں ایرانی قونصل خانے پر ’اسرائیلی حملے‘ میں سینیئر کمانڈرز سمیت سات ہلاک: جوابی کارروائی کا حق رکھتے ہیں، ایران

شام میں ایرانی قونصلیٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ شام کے دارالحکومت دمشق میں ایرانی قونصل خانے کی عمارت پر اسرائیلی حملے میں تنظیم کے دو سینیئر کمانڈرز سمیت سات اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

ایران کے سرکاری ٹی وی کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے سینیئر کمانڈر بریگیڈیئر جنرل محمد رضا زاہدی اور ان کے نائب بریگیڈیئر جنرل محمد ہادی حاجی رحیمی بھی شامل ہیں۔

ایران اور شام کی حکومتوں نے اس حملے کی مذمت کی ہے جس میں ضلع میزہ میں ایرانی سفارت خانے کے ساتھ واقع ایک کثیر المنزلہ عمارت تباہ ہوئی۔

ایران اور شام دونوں اسرائیل پر اس حملے کا الزام لگا رہے ہیں تاہم اسرائیلی فوج نے ان الزامات کا کوئی جواب نہیں دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ غیرملکی میڈیا کی خبروں پر تبصرہ نہیں کرتا۔

اسرائیل نے گذشتہ چند برسوں میں شام میں ایران سے منسلک اہداف پر سینکڑوں حملے کیے ہیں، لیکن وہ شاذ و نادر ہی ان حملوں کی تصدیق یا تردید کرتا ہے۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ دمشق میں ہونے والے حملے میں ملوث ’حملہ آوروں‘ کے خلاف جوابی کارروائی کرنے کا حق ایران کے پاس محفوظ ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ناصر کنانی کا کہنا ہے کہ ’تہران حملہ آوروں کے خلاف ردعمل اور سزا کے بارے میں فیصلہ کرے گا۔‘

بی بی سی کے مدیر برائے عالمی امور جیریمی بوئن کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ اسرائیل ایران اور اس کے اتحادیوں بشمول حزب اللہ کے حوصلے کا امتحان لے رہا ہے، جو پہلے ہی شمالی اسرائیل اور لبنان میں جنگ لڑ رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’یہ اسرائیلیوں کی طرف سے ایک اشارہ ہے کہ وہ اپنے دشمنوں پر دباؤ بڑھانے کے بارے میں سنجیدہ ہیں۔ یہ ایک چیلنج ہے اور وہ دیکھ رہے ہیں کہ آیا ایران اور حزب اللہ پیچھے ہٹیں گے یا نہیں۔ انھیں جواب ملے گا لیکن لیکن یہ وہ جواب نہیں ہوسکتا ہے جس کی لوگ توقع کر رہے ہوں گے۔ میزائلوں کے بجائے، یہ کسی قسم کا سائبر حملہ ہوسکتا ہے۔‘

حملہ کب اور کہاں ہوا؟

رضا زاہدی

،تصویر کا ذریعہSNN.IR

شام کی وزارتِ دفاع کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے قونصل خانے کی عمارت کو پیر کی شام مقامی وقت کے مطابق پانچ بجے نشانہ بنایا۔ حملے کے بعد سامنے انے والی ویڈیوز اور تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ عمارت اور گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

دمشق میں ایران کے سفیر حسین اکبری نے اس حملے کے بعد خبر رساں اداروں کو بتایا ’گولان سے اسرائیلی ایف 35 لڑاکا طیاروں نے قونصل خانے کی عمارت کو چھ میزائلوں سے نشانہ بنایا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’میں خود سفارت خانے میں تھا اور دیکھا کہ سفارت خانے کی عمارت اور اس کی کھڑکیوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ یہ حملہ ظاہر کرتا ہے کہ اسرائیل ’کسی بین الاقوامی قانون کو تسلیم نہیں کرتا اور جو چاہتا ہے اسے حاصل کرنے کے لیے کوئی بھی غیر انسانی کام کرتا ہے۔‘

یہ 24 گھنٹوں سے بھی کم عرصے میں شام کی سرزمین پر اسرائیل کا دوسرا فضائی حملہ ہے۔ گذشتہ جمعے کو اسرائیل نے شام کے شہر حلب کو گذشتہ چند ماہ کے دوران ہونے والے مہلک ترین حملے میں نشانہ بنایا تھا جس کے نتیجے میں 40 سے زائد افراد مارے گئے تھے۔