ایشیا کپ اور بارش: ریزرو ڈے اور ڈک ورتھ لوئس فارمولا انڈیا پاکستان میچ کو کیسے متاثر کر سکتا ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, عمیر سلیمی
- عہدہ, بی بی سی اردو
ایشیا کپ 2023 کے سپر فور راؤنڈ میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان میچ کچھ کھیل کے بعد بارش کے باعث روک دیا گیا اور اتوار کو مزید کھیل ممکن نہ ہونے کے باعث بقیہ میچ ریزرو ڈے پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
اتوار کو انڈیا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 24.1 اوورز میں دو وکٹوں کے نقصان پر 147 رنز بنائے۔ کپتان روہت شرما اور ان کے ساتھی اوپنر شبھمن گل نصف سنچریاں بنا کر آؤٹ ہوئے۔
اس وقت کریز پر وارٹ کوہلی اور کے ایل راہل موجود ہیں۔ دوسری طرف شاہین شاہ آفریدی اور شاداب خان نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی ہے۔
ریزرو ڈے لاگو کیے جانے کے بعد اب یہ میچ یہیں سے پیر کو پاکستانی وقت کے مطابق دوپہر ڈھائی بجے شروع ہوگا۔ تاہم پیر کو بھی گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے، اگر کل بارش ہوتی ہے تو ڈک ورتھ لوئس سسٹم کے لاگو ہونے کا قوی امکان موجود ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایشیا کپ: پاکستان-انڈیا میچ میں کب کیا ہوا
پاکستان کے کپتان بابر اعظم نے ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کا فیصلہ کیا جو کہ انڈیا کے جارحانہ آغاز نے غلط ثابت کیا۔
اگرچہ نسیم شاہ کی گیند پر اوپنر شبھمن گل کے دو کیچز چھوٹے مگر انڈین اوپنرز نے شروعات سے ہی پاکستانی بولرز پر دباؤ بنائے رکھا۔
تھرڈ مین پر شبھمن گل کا پہلا کیچ چھوڑنے والے شاہین شاہ آفریدی اپنے ابتدائی تین اوورز میں ردھم نہ پکڑ سکے مگر دوسری طرف نسیم شاہ نے نپی تلی بولنگ برقرار رکھی اور متعدد بار روہت شرما کو اپنی آؤٹ سوئنگ سے پریشان کیے رکھا۔
بارش سے قبل انڈین کپتان روہت شرما اور شبھمن گل نے چوکوں اور چھکوں کی بارش کی۔ دونوں کے درمیان سو گیندوں پر 121 رنز کی شراکت قائم ہوئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شاداب نے اپنے پہلے اوور میں 19 رنز دیے اور ابتدائی خراب بولنگ کے بعد روہت شرما کی وکٹ لے کر پاکستان کو پہلی کامیابی دلائی۔ لانگ آف پر روہت شرما کا ایک مشکل کیچ فہیم اشرف نے پکڑا۔ روہت ایک جارحانہ نصف سنچری کے بعد پویلین لوٹ گئے، ان کی اننگز میں چار چھکے شامل تھے۔
اگلے ہی اوور میں شاہین آفریدی نے اٹیک میں واپس آ کر شبھمن گل کو آف کٹر سے چکما دیا اور ان کا کیچ کوور پر آغا سلمان نے پکڑا۔ شبھمن گل کی 58 رنز کی اننگز میں 10 چوکے شامل تھے اور وہ گذشتہ پاکستان-انڈیا میچ کے مقابلے کافی بہتر انداز میں کھیلے۔
ابھی وراٹ کوہلی اور کے ایل راہل کے درمیان 24 رنز کی شراکت ہی قائم ہوئی تھی کہ بارش کے باعث میچ روک دیا گیا۔ اس وقت تک انڈیا نے 24.1 اوورز میں دو وکٹوں کے نقصان پر 147 رنز بنائے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ڈی ایل ایس فارمولا کیا ہے؟
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
جب بھی کوئی کرکٹ میچ بارش سے متاثر ہوجائے تو ہم اکثر ڈکورتھ لوئس سٹرن میتھرڈ کے بارے میں سنتے ہیں۔
ریاضی دان ٹونی لوئس اور ان کے ساتھی فرینک ڈک ورتھ نے مل کر یہ نظام متعارف کرایا تھا جسے پہلی بار 1992 ورلڈ کپ میں استعمال کیا گیا۔ سنہ 2014 میں آسٹریلوی پروفیسر سٹیون سٹرن نے اس میں کچھ تبدیلیاں کیں اور تب سے یہ ڈک ورتھ لوئس سٹرن (ڈی ایل ایس) میتھرڈ کہلاتا ہے۔
آسان لفظوں میں یہ ریاضی کا ایک فارمولا ہے جو کسی بھی کرکٹ میچ میں بیٹنگ کرنے والی ٹیم کے بقیہ وسائل (وکٹوں اور اوورز) کے اعتبار سے ترمیم شدہ ہدف ترمیم کا تعین کرتا ہے۔ اس فارمولے کے تحت پلیئنگ کنڈیشنز میں رد و بدل کیا جاتا ہے، یعنی مقابلے میں شریک ایک یا دونوں ٹیموں کے لیے رنز اور اوورز میں کٹوتی کی جا سکتی ہے۔
یہ فارمولا اس بات پر محیط ہے کہ بیٹنگ کرنے والی ٹیم کے پاس دو قسم کے وسائل ہوتے ہیں، یعنی ون ڈے میچ میں 300 گیندیں اور 10 وکٹیں۔
جیسے جیسے اننگز آگے بڑھتی ہے، یہ دونوں وسائل کم ہوتے رہتے ہیں اور بالآخر صفر پر جا پہنچتے ہیں۔ اس کی ایک صورت یہ ہے کہ ٹیم تمام 300 گیندیں یا 50 اوورز تک بیٹنگ مکمل کر لے، یا پھر اپنی تمام 10 وکٹیں کھو دے۔
بارش کی وجہ سے اوورز یا رنز کم کرنا کوئی آسان بات نہیں۔ مثلاً اگر پہلے بیٹنگ کرنے والی ٹیم کی پہلے 25 اورز میں تمام 10 وکٹیں باقی ہیں تو وہ زیادہ جارحانہ انداز میں کھیلتے ہیں، برعکس اس کے کہ اگر ان کی پانچ وکٹیں گِر چکی ہوں۔
اسی طرح جب کسی بھی وجہ سے ایک بیٹنگ ٹیم اوورز کھو دیتی ہے تو انھیں اپنے پورے وسائل آزمانے کا موقع نہیں مل پاتا۔ لہٰذا کسی بھی رد و بدل کے لیے اِن دونوں وسائل کو مدنظر رکھنا ضروری ہے تاکہ دونوں ٹیموں کو اپنے یہ وسائل آزمانے کا برابر موقع مل سکے۔

،تصویر کا ذریعہICC
ڈک ورتھ لوئس کے تحت ترمیم شدہ اہداف کا تعین کیسے کیا جاتا ہے؟
یہ فارمولا کئی برسوں سے میچوں پر مطالعے کے بعد مرتب کیا گیا ہے تاکہ یہ طے کیا جاسکے کہ اگر کوئی میچ بارش سے رُک جاتا ہے تو میچ کا دورانیہ کم ہونے پر اوورز کی تعداد یا ہدف کا تعین کیسے کیا جائے گا۔
اس میں مندرجہ ذیل عوامل زیرِ غور آتے ہیں:
- کتنے اوورز کم ہوئے
- میچ کے کس مرحلے پر اوورز کم ہوئے
- جب میچ روکا گیا تو بیٹنگ سائیڈ کے پاس کتنی وکٹیں باقی تھیں
ڈی ایل ایس فارمولے کے تحت جو ٹیم پہلے بیٹنگ کرے اس کا پار سکور ہی مجموعی سکور سمجھا جاتا ہے۔ پار سکور سے مراد مجموعی رنز کی پیشگوئی ہے جو نیٹ رن ریٹ (ہر اوور میں اوسط رنز یا بیٹنگ کی رفتار) اور وکٹیں گِرنے سے ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سب سے اہم بات یہ ہے کہ میچ رُکنے کے وقت ایک ٹیم کا رن ریٹ کیا تھا اور اس نے اپنی کتنی وکٹیں گنوائیں۔
اس سسٹم میں یہ بات مدنظر نہیں رکھی جاتی کہ کون سے مخصوص بلے باز آؤٹ ہوچکے ہیں یا فی الحال کون سے بلے باز کھیل رہے ہیں یا ابھی کھیلنے آئیں گے۔
اگر پہلے بیٹنگ کرنے والی ٹیم یہ بات اپنے ذہن میں رکھے کہ بارش کے باعث میچ متاثر ہوسکتا ہے تو وہ اپنی وکٹیں بچا کر رکھتی ہے تاکہ اسے ڈی ایل ایس میتھرڈ کا زیادہ سے زیادہ فائدہ ہوسکے۔
یہ بھی اہم ہے کہ اننگز کے شروع میں اوورز کم ہونے کے برعکس اواخر میں اوورز کم ہونے سے میچ پر زیادہ فرق پڑتا ہے کیونکہ عام طور پر ٹیمیں اواخر میں زیادہ جارحانہ انداز میں کھیلتی ہیں۔
اس فارمولے کے تحت یہ یقینی بنایا جاتا ہے کہ جیتنے والی ٹیم کا نیٹ رن ریٹ صفر سے زیادہ ہو، اور ہارنے والی ٹیم سے زیادہ ہو۔
آئی سی سی کے مطابق بدلتی پلیئنگ کنڈیشنز کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر سال اس فارمولے پر نظرثانی کی جاتی ہے اور ہر دو سے تین سال میں اعداد و شمار بدلتے رہتے ہیں۔ 2018 میں یہ کہا گیا تھا کہ دوسرے نمبر پر بیٹنگ کرنے والی ٹیم کے جیتنے کا امکان ماضی کے برعکس قدرے بڑھ چکا ہے۔
آپ کو یاد ہوگا کہ 1992 کے ورلڈ کپ میچ میں جنوبی افریقہ کو اسی متنازع فارمولے کی وجہ سے انگلینڈ کے خلاف آخری گیند پر جیتنے کے لیے 21 رنز درکار تھے اور جنوبی افریقہ یہ میچ ہار گیا تھا۔ مگر آج استعمال ہونے والا ڈک ورتھ لوئس فارمولا اس قدر تبدیل ہوچکا ہے کہ آئی سی سی کا کہنا ہے کہ 2018 کے اعداد و شمار کے مطابق جنوبی افریقہ کو اس آخری گیند پر تین رنز درکار ہونا تھے۔
جہاں تک بات ریزرو ڈے کی ہے تو اس کا یوں تو اعداد و شمار کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن کرکٹ میں کنڈیشنز کا بہت عمل دخل ہے اور ایک دن جیسی کنڈیشنز ہوتی ہیں وہ اگلے روز یکسر مختلف ہو سکتی ہیں۔
سنہ 2019 کے ورلڈ کپ سیمی فائنل بھی ریزرو ڈے پر منتقل کیا گیا تھا اور اس کے باعث انڈیا کو مشکل کنڈیشنز میں کیوی بولرز کا مقابلہ کرنا پڑا تھا اور یہ میچ انڈیا ہار گیا تھا۔
دیکھنا یہ ہے کہ کل کولمبو میں کنڈیشنز انڈیا کو فیور کرتی ہیں یا پاکستان کو۔۔۔











