سمیع چوہدری کا کالم: ’کیا کرکٹ جے شاہ سے جیت پائے گی؟‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, سمیع چوہدری
- عہدہ, کرکٹ تجزیہ نگار
بالآخر اکیلے جے شاہ بھاری پڑ گئے اور ایشین کرکٹ کونسل کے باقی سب ارکان کی آرا ماند پڑ گئیں۔ مفادات کا ٹکراؤ اپنی جگہ، مگر جے شاہ کو اس سے قطعی فرق نہیں پڑتا کہ وہ بیک وقت بھارتی کرکٹ بورڈ کے سیکرٹری ہونے کے ساتھ ساتھ ایشین کرکٹ کونسل کے صدر بھی ہیں۔
امت شاہ بی جے پی کے اہم ترین ارکان میں سے ہیں۔ وہ نریندر مودی کی آنکھوں کا تارا ہیں اور ان کے وزیرِ داخلہ ہونے کے ساتھ ساتھ جے شاہ کے والدِ گرامی بھی ہیں۔
سو، جو پالیسی مودی سرکار سیاسی محاذ پر پاکستان کے ساتھ روا رکھتی ہے، جے شاہ کرکٹ تعلقات میں بھی اسی حکمتِ عملی کو فروغ دینے میں کوشاں رہتے ہیں۔
حالانکہ بی سی سی آئی سربراہ راجر بنی اور ان کے نائب راجیو شکلا چار ہی دن پہلے ذکا اشرف کی دعوت پر لاہور آئے مگر ان دونوں سے کہیں پہلے جے شاہ کو ملتان کے افتتاحی ایشیا کپ میچ کے لیے مدعو کیا گیا تھا لیکن حسبِ توقع انھوں نے پاکستان آنے سے انکار کر دیا۔
گزشتہ سنیچر کا پاکستان انڈیا مقابلہ بارش کی نذر ہونے کے بعد ایک بار پھر پی سی بی کی جانب سے یہ تجویز دہرائی گئی کہ ایونٹ کے باقی ماندہ میچز لاہور کے بہتر موسم میں منتقل کر دیے جائیں مگر جے شاہ نے اپنے ہی تصورات کی دنیا میں محو رہتے ہوئے، پاکستان کی معاشی صورت حال کا کچھ ایسا نقشہ کھینچا کہ یہاں تو ٹورنامنٹ کا انعقاد ہی ناممکن تھا۔
لیکں پاکستان سے مخاصمت کو برطرف رکھ کر، جے شاہ کے پاس ایک اور بھی موقع تھا کہ وہ دانش کا مظاہرہ کرتے ہوئے باقی ماندہ میچز خراب موسم کے دہانے پر کھڑے کولمبو کے بجائے ہیمبنٹوٹا منتقل کر سکتے تھے مگر ایک بار پھر جے شاہ سب پر بھاری پڑ گئے۔

،تصویر کا ذریعہTWITTER/JAY SHAH
اب معاملہ یہ ہے کہ سپر فور مرحلے کا پاکستان انڈیا میچ بھی نامہرباں موسم کی زد پر ہے اور اپنی پٹاری کھنگالتے ہوئے جے شاہ اس مسئلے کا حل ریزرو ڈے کی صورت میں نکال کر لائے ہیں۔
چونکہ اتوار کے روز کولمبو میں بارش کا امکان 90 فیصد تک ہے، سو میچ مکمل نہ ہو پانے کی صورت میں باقی ماندہ کھیل کے لیے سوموار کا دن بھی مختص کر دیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کسی بھی کثیرالقومی ٹورنامنٹ میں ایسی نظیر دستیاب نہیں ہو پاتی جہاں فائنل یا اہم ناک آؤٹ میچز کے سوا کسی اور مرحلے کے فقط ایک میچ کے لیے ریزرو ڈے رکھا گیا ہو جبکہ باقی شرکا کو ایسی سہولت میسر نہ ہو۔
گویا پاکستان اور انڈیا میچ کی تکمیل ہی ایشین کرکٹ کونسل کا حتمی ایجنڈا ٹھہرا اور سری لنکا، بنگلہ دیش کے میچز بھلے بارش سے متاثر ہوں، انھیں اپنا خسارہ خود ہی چُکانا ہو گا۔
اگرچہ سنیچر کے پاکستان انڈیا مقابلے میں پاکستان نے شروعات بہت عمدہ کی اور شاہین آفریدی نے انڈین ٹاپ آرڈر کو تگنی کا ناچ نچا چھوڑا مگر اسی میچ میں یہ بیچ کے اوورز تھے جہاں بابر اعظم نے دونوں کناروں سے سپنرز آزمانا شروع کیے اور محبوس انڈین بیٹنگ کو وقار کی بحالی کا آسان رستہ فراہم کر دیا۔ شومئی قسمت کہ وہ میچ مکمل ہی نہ ہو پایا وگرنہ وہ ہدف پاکستانی بیٹنگ کے لیے ایک کڑا امتحان ثابت ہو سکتا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بنگلہ دیش کے خلاف میچ میں پاکستان نے زیادہ متوازن الیون منتخب کی اور فہیم اشرف کی واپسی کی بدولت تینوں فاسٹ بولرز کے لیے بھی سانس بحال کرنے کی گنجائش پیدا ہوئی۔
فہیم اشرف رفتار کی کمی کو اپنی مہارت اور درستی سے پورا کرتے ہیں اور جب پے در پے 145 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سہمے ہوئے بلے باز انھیں آسان ہدف تصور کرتے ہیں تب وہ فہیم کی ورائٹی کے دام میں آ جاتے ہیں۔
پاکستانی پیس نے جس قدر بوجھ گزشتہ چند سال میں اٹھایا ہے، اس کا خمیازہ لا محالہ سپن کو ہی بھگتنا تھا اور فی الوقت پاکستانی سپن ڈیپارٹمنٹ حسبِ ماضی متاثر کن نہیں ہے مگر افتخار احمد اور سلمان آغا کو اگر کپتان کا اعتماد میسر آ جائے تو وہ بھی کسی باقاعدہ سپنر سے کم مفید نہیں رہتے۔
دوسری جانب روہت شرما کی ٹیم یہ سوچ رہی ہے کہ کل کے مقابلے میں ان کی حتمی الیون کس شکل میں نمودار ہو گی۔ کے ایل راہول انجری سے صحت یاب ہو چکے ہیں مگر سلیکشن کمیٹی کے لیے دردِ سر ہے کہ پچھلے میچ میں عمدہ اننگز کھیلنے والے ایشان کشن سے صرفِ نظر کیونکر کیا جائے۔
پچھلے میچ کے تلخ تجربات کے بعد یہاں انڈین ٹاپ آرڈر زیادہ محتاط رہے گا اور اگر پہلے پاور پلے میں انڈین وکٹیں کچھ محفوظ رہ گئیں تو انڈیا کے امکانات بڑھ جائیں گے، کیونکہ جسپریت بمراہ اگر صحیح ردھم میں واپس آ جاتے ہیں تو پاکستانی ٹاپ آرڈر اپنے انڈین حریف سے کہیں زیادہ متزلزل ثابت ہو سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جب پاکستان انڈیا میچ موسم کی نذر ہو جائے تو نقصان صرف شائقین ہی نہیں اٹھاتے، متعلقہ کرکٹ بورڈز، ایونٹ میزبان اور براڈکاسٹرز کی جیبوں پر بھی خوب بوجھ پڑتا ہے۔ یہاں اس نقصان سے بچنے کو جے شاہ نے ایک ریزرو ڈے رکھ کر یہ یقینی بنانے کی کوشش کی ہے کہ ان کے طے کردہ شیڈول کے رنگ میں مزید بھنگ نہ پڑے۔
تاحال اس ایشیا کپ کے سبھی فیصلوں میں جے شاہ ہی جیتتے آئے ہیں اور اگر پاکستان انڈیا میچ ریزرو ڈے کے باوجود مکمل ہونے سے محروم رہ جاتا ہے تو بھی جیت بھلے جے شاہ کی ہی ہو مگر یہ ہار کرکٹ کی ہو گی۔













