یوکرین کے صدر زیلنسکی کو کن محفوظ راستوں سے واشنگٹن پہنچایا گیا؟

زیلنسکی

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنزیلنسکی امریکی فضائیہ کے طیارے پر واشنگٹن پہنچے
    • مصنف, بین ٹوبیاس
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

جنگ زدہ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کو اپنے ملک سے امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی لانے کے لیے غیر معمولی اقدامات کیے گئے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس نازک موڑ پر یوکرین اور امریکہ کے درمیان تعلقات کس قدر اہم ہیں۔

روس نے زیلنسکی کے دورۂ امریکہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یوکرین اور امریکہ دونوں امن نہیں چاہتے۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے یوکرین کے لیے 1.85 ارب ڈالر فوجی امداد کا وعدہ کیا ہے جس میں روسی حملوں سے بچنے کے لیے جدید میزائل سسٹم شامل ہے۔

امریکہ میں روسی سفیر نے کہا کہ اس سے صورتحال مزید خراب ہوسکتی ہے اور اس کے بُرے نتائج ہوں گے۔

منگل کو صدر زیلنسکی نے مشرقی یوکرین میں صف اول کے فوجیوں سے ملاقات کرتے ساتھ ہی واشنگٹن ڈی سی کی جانب اپنا سفر شروع کر دیا۔ اطلاعات کے مطابق وہ بذریعہ ریل پولینڈ پہنچے اور پھر امریکی فضائیہ کے طیارے پر سوار ہوگئے۔

خیال ہے کہ زیلنسکی کو لے جانے والے فضائی قافلے میں مغربی فوجی اتحاد نیٹو کے ایک جاسوس طیارے کے ساتھ ساتھ ایف 15 جنگی طیارہ بھی تھا۔

رواں ہفتے کے آغاز سے ہی ان کے واشنگٹن دورے کی قیاس آرائیاں ہو رہی تھیں مگر بدھ کی صبح تک اس کی تصدیق نہیں کی گئی۔ بعد میں امریکی حکام نے حتمی طور پر بتایا کہ یوکرین کے سربراہ محفوظ راستے سے امریکہ کے دارالحکومت کی طرف گامزن ہیں۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

اس دورے کے حوالے سے کئی ماہ سے بات چیت چل رہی تھی۔ تاہم حتمی تیاریاں جلدی میں کی گئیں۔ 11 دسمبر کو دونوں صدور نے اس بارے میں گفتگو کی۔ پھر تین روز بعد زیلنسکی کو امریکہ آمد کی دعوت دی گئی۔

جیسے ہی ان کی جانب سے دورے کی تصدیق کی گئی تو حتمی منصوبے پر کام شروع ہوا۔

یہ حیران کن نہیں کہ صدر زیلنسکی کے سفر اور راستے سے متعلق سرکار کی طرف سے کوئی معلومات نہیں دی گئی تھی۔ پُرامن ماحول میں بھی کسی صدارتی دورے کی سکیورٹی سخت رکھی جاتی ہے۔ مگر اس بار تو جنگ جاری ہے جس میں انھیں کہیں زیادہ خطرات لاحق ہیں۔

یوکرین کی فضائی حدود میں روسی میزائلوں کا خطرہ ہونے کے باعث زیلنسکی نے یوکرین سے پولینڈ کا خفیہ سفر بذریعہ ریل کیا۔ بدھ کو انھیں ایک سرحدی گاؤں کے ریلوے سٹیشن پر دیکھا گیا تھا۔

پولینڈ کے مقامی میڈیا پر جاری کی گئی تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک قافلہ زیلنسکی کے ساتھ چل رہا ہے اور پس منظر میں نیلی اور زرد یوکرینی ٹرین ہے۔ سیاہ شیورولے گاڑیوں کا قافلہ اس گروہ کا منتظر تھا۔ یہ کار امریکی حکومت کے پسندیدہ ماڈلز میں سے ایک ہے۔

کئی مغربی رہنما اور اہلکار بذریعہ ریل یوکرینی دارالحکومت کیئو پہنچ کر زیلنسکی سے ملاقات کر چکے ہیں۔ لیکن روسی مداخلت کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ زیلنسکی خود بیرون ملک گئے۔

زیلنسکی

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن پولینڈ کے ٹرین سٹیشن میں یوکرینی صدر کو اپنے قافلے کے ہمراہ دیکھا گیا تھا

فلائٹ ڈیٹا سے معلوم ہوا کہ امریکی ایئر فورس کا بوئینگ سی 40 بی زیلنسکی کو واشنگٹن لے گیا۔ اس طیارے نے مغرب میں 80 کلومیٹر دور ژیشوف ایئرپورٹ سے اڑان بھری۔

یہ طیارہ شمال مغرب میں برطانیہ کی طرف گیا مگر بحیرہ شمال کی فضائی حدود میں داخلے سے قبل نیٹو کے جاسوس طیارے نے پورے خطے کو سکین کر لیا۔ خیال ہے کہ اس سمندر میں روسی آبدوزیں گشت کرتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

امریکہ کے ایک ایف 15 جنگی طیارے نے انگلینڈ سے اڑان بھری اور زیلنسکی کے سفر کی نگرانی کی۔

یوکرینی صدر کے ریل سفر اور پھر 10 گھنٹے قبل طیارے کے ٹیک آف کے بعد دوپہر کو یہ طیارہ واشنگٹن کے قریب اترا۔

واشنگٹن میں انھیں سیکرٹ سروس کی سکیورٹی دی گئی جیسا کہ ریاستی سربراہان کے دوروں پر ہوتا ہے۔ لیکن زیلنسکی، جن کا ملک روس سے جنگ لڑ رہا ہے، کے آمر پر امریکی سکیورٹی حکام نے کہیں زیادہ احتیاط برتی ہے۔

ایک سینیئر سکیورٹی اہلکار نے امریکی چینل اے بی سی کو بتایا کہ ’ہمیں پوری طرح معلوم ہے کہ روس کے اس ملک میں بھی اثاثے ہیں اور وہ کچھ کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ کیا خطرات ہیں۔‘

یوکرینی صدر کا دورہ محفوظ انداز میں گزرا۔ جمعرات کو زیلنسکی یورپ پہنچ گئے تھے۔ انھوں نے ٹیلی گرام پر پوسٹ لگائی کہ وہ پولینڈ میں اپنے ہم منصب آن زے دودا سے ملاقات کے لیے وہاں رُکے ہیں۔

اب وہ سرحد پار کر کے یوکرین واپس پہنچ گئے ہیں۔ لیکن امریکی سکیورٹی حکام صرف اس وقت سُکھ کا سانس لے سکیں گے جب وہ باحفاظت کیئو پہنچ جائیں گے۔

ایک اہلکار نے اے بی سی نیوز کو بتایا کہ ’پوتن اور کریملن کو معلوم ہے کہ انھیں اب گھر واپس پہنچنا ہے۔‘