انڈیا کا وہ گاؤں جہاں جوتا پہننے، نہ ہی باہر کا کھانا کھانے جیسی رسومات ہیں

انڈیا
    • مصنف, تلسی پرساد ریڈی
    • عہدہ, بی بی سی نامہ نگار

اس گاؤں میں آپ جوتے نہیں پہن سکتے، یہاں کے باسی آپ کا کھانا نہیں کھاتے، اس طرح کے بہت سے رواج یہاں پائے جاتے ہیں۔

اس گاؤں میں ہر کوئی ننگے پاؤں رہتا ہے، کوئی جوتا نہیں پہنتا۔ یہاں تک کہ اگر انھیں گاؤں سے باہر بھی جانا ہو تو وہ ننگے پاؤں ہی جاتے ہیں۔ اگر اس گاؤں میں کوئی بیمار ہو جائے تو وہ ہسپتال نہیں جاتا، اگر انھیں کہیں باہر جانا پڑے یا کسی رشتہ دار کے گھر جانا پڑے تو وہ اپنے گھر سے باہر کا نہ کھانا کھاتے ہیں نہ ہی پانی پیتے ہیں۔

آپ سوچ رہے ہوں گے کہ کیا آج بھی ایسے گاؤں ہیں؟ جی ہاں، ایسا ہی ایک گاؤں انڈیا کی ریاست آندھرا پردیش میں تروپتی سے 50 کلومیٹر دور ہے۔ گاؤں کا نام ویمانا انڈلو ہے۔ گاؤں والے اسے ایک دیرینہ روایت قرار دیتے ہیں۔

گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ اگر ضلع مجسٹریٹ کو بھی گاؤں میں داخل ہونا پڑے تو انھیں بھی گاؤں کے باہر اپنے جوتے اتارنے پڑتے ہیں۔ گاؤں کے سربراہ اربابہ کا کہنا ہے کہ جب سے ہمارا قبیلہ اس گاؤں میں آباد ہوا ہے تب سے یہ رواج ہے۔

’جب ہم گاؤں سے باہر جاتے ہیں تو نہانے کے بعد ہی گھر میں دوبارہ داخل ہوتے ہیں اور پھر کھانا کھاتے ہیں۔ میں کئی بار گاؤں سے باہر جا چکا ہوں۔ ایک بار مجھے عدالتی کام کی وجہ سے پانچ دن گاؤں سے باہر رہنا پڑا۔ میں نے اس دوران جہاں ٹھہرا تھا وہاں کے کھانے کو ہاتھ تک نہیں لگایا۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’میں 47 سال سے عدالتی کاموں کے لیے باہر جا رہا ہوں، لیکن میں نے کبھی باہر کا پانی بھی نہیں پیا۔ گھر سے پانی لے کر آتا ہوں اور وہی پیتا ہوں۔ باہر کا پانی پینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، ہم باہر کا کھانا نہیں کھاتے، باہر کی کوئی چیز نہیں پیتے۔‘

انڈیا

ویمانا اندلو کا یہ گاؤں تروپتی ضلع کے پکالا منڈل کے علاقے میں ہے۔ اس گاؤں میں 25 مکانات ہیں جن کی آبادی 80 افراد پر مشتمل ہے۔ اس گاؤں میں کل 52 ووٹر ہیں۔ یہاں رہنے والوں میں سے صرف چند ایک نے اپنی گریجویشن مکمل کی ہے باقی سب زیادہ پڑھے لکھے نہیں ہیں۔ یہ لوگ زراعت پر انحصار کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ گاؤں میں ان سے ملنے آنے والے رشتہ داروں کو بھی ان رسم و رواج پر عمل کرنا پڑتا ہے۔

گاؤں آنے والے ایک رشتہ دار مہیش نے بتایا کہ اس کی بہن کی شادی اسی گاؤں میں ہوئی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’اس گاؤں کے سبھی لوگ میرے رشتہ دار لگتے ہیں۔ جب بھی ہم اس گاؤں میں آتے ہیں تو یہاں کے رسم و رواج پر عمل کرتے ہیں۔ جب ہم اس گاؤں آتے ہیں تو سب سے پہلے غسل کرتے ہیں اور پھر گھر میں داخل ہوتے ہیں۔‘

گاؤں کی دیگر رسومات

انڈیا
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

اس گاؤں کی رسومات میں جوتا نہ پہننے اور باہر کا کھانا نہ کھانے کے علاوہ اور بھی بہت سی عجیب رسومات ہیں۔

جیسا کہ اگر کسی عورت کو ماہواری یا حیض ہے تو اس دوران اس گاؤں میں داخل نہیں ہو سکتی۔ اسی طرح اگر کسی گاؤں والے گھر میں کوئی مرگ ہوئی ہے تو آپ وہاں نہیں جا سکتے۔‘

اس گاؤں کے لوگوں خود کو پالویکاری ذات سے تعلق رکھنے والا کہتے ہیں اور خود کو ڈوراورلو کا نام دیتے ہیں۔

آندھرا پردیش میں ان کو پسماندہ طبقے کے طور پر درجہ بند کیا جاتا ہے، اس گاؤں کے تمام لوگ ایک ہی نسب سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ اس گاؤں سے باہر صرف اپنی ذات والے لوگوں سے تعلق داری بناتے ہیں۔

وہ یہ تمام رسومات گاؤں کے قدیم مندر میں ادا کرتے ہیں۔ وہ گاؤں میں نرسمہا سوامی اور گنگاما کی پوجا بھی کرتے ہیں۔ یہ مانتے ہوئے کہ خدا ہر چیز کا خیال رکھتا ہے گاؤں والے بیماری کی صورت میں ہسپتال نہیں جاتے۔

گاؤں کے سربراہ ایربا بتاتے ہیں کہ اگر کوئی سانپ ہمیں کاٹ لے تو ہمیں یقین ہے کہ ہمارا خدا ہی اسے شفا دے گا۔

’ہم کسی ہسپتال نہیں جاتے۔ ہم سانپ کی پہاڑی کا طواف کرتے ہیں۔ ہم نیم کے درخت کا طواف کرتے ہیں۔ ہم ہسپتال نہیں جاتے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’ہمارا خدا ہی ہمارا خیال رکھتا ہے، جب ہم بیمار ہوتے ہیں، تو ہم مندر کا طواف کرتے ہیں۔ اگر ہم دو دن ایسا کرتے ہیں تو پھر سے صحت مند ہو جاتے ہیں۔ یہ ہماری روایت ہے۔‘

انڈیا
یہ بھی پڑھیے

گاؤں کے وہ بچے جو سکول جاتے ہیں وہ بھی جوتے نہیں پہنتے اور سکول میں دیا جانے والا دوپہر کا کھانا بھی نہیں کھاتے۔ اگر وہ گاؤں سے باہر کسی کو ہاتھ لگائیں تو نہانے کے بعد ہی گھر میں داخل ہوتے ہیں۔

سکول جانے والے بچے اپنے سکول کی طرف سے دیا جانے والا دوپہر کا کھانا نہیں کھاتے ہیں۔ وہ دوپہر کے کھانے کے لیے گھر آتے ہیں، کھانا کھاتے ہیں اور واپس سکول جاتے ہیں لیکن انھیں گھر سے باہر بٹھا کر کھانا کھلایا جاتا ہے اور شام کو جب بچے سکول سے آتے ہیں تو انھیں نہا کر گھر میں داخل ہونا پڑتا ہے۔ بچے بھی ان تمام روایات کی پیروی کرتے ہیں۔

قریبی گاؤں کی ایک خاتون بھویتا کہتی ہیں کہ وہ حاملہ خواتین کو ہسپتال بھی نہیں لے کر جاتے۔

ان کے گھر میں جو کچھ بھی ہوکسی باہر والے کو آنے کی اجازت نہیں دیتے۔

اس گاؤں میں دلت برادری کے لوگوں کو داخلے کی اجازت نہیں ہے۔ وہ دلت برادری کے لوگوں سے بات بھی نہیں کرتے۔ خواتین کو ماہواری کے دوران گاؤں سے باہر رہنا پڑتا ہے۔ ماہواری والی خواتین کو ہر مہینے کم از کم پانچ دن گاؤں سے باہر رکھا جاتا ہے۔

گاؤں والے میڈیا والوں کو بھی پسند نہیں کرتے۔ راشن ڈپو چلانے والے بابو ریڈی کا کہنا ہے کہ یہاں تک کہ اگر آنے والا شخص ایم آر او یا ایم ایل اے ہے، تو انھیں بھی گاؤں کے باہر اپنے جوتے اتارنے پڑتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’شیڈیولڈ ذات کے لوگوں کو گاؤں میں آنے کی اجازت نہیں ہے۔ وہ نہ تو ان سے بات کرتے ہیں اور نہ ہی انھیں چھوتے ہیں۔‘

انڈیا

بابو ریڈی کا کہنا ہے کہ ’انھوں نے حیض والی خواتین کے لیے گاؤں کے باہر ایک کمرہ بنایا ہے۔ انھیں دن رات ایک ہی کمرے میں رہنا پڑتا ہے۔ گاؤں کے لوگ تمام سرکاری سکیموں سے مستفید ہوتے ہیں۔ ہم انھیں ان کا ماہانہ راشن ان کے گھروں پر دیتے ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ وہ گاؤں میں ایک آگاہی کیمپ کا انعقاد کریں گے اور عوام میں تبدیلی لانے کی کوشش کریں گے۔