وینیزویلا کی تقدیر بدلنے والے تیل کی دریافت جسے ابتدا میں ’شیطان کی آنتوں میں سوراخ کرنے کی سزا‘ کہا گیا

    • مصنف, جان فرانسس الونسو
    • عہدہ, بی بی سی نیوز ورلڈ

’مسٹر بریک، مسٹر بریک۔۔۔‘

ٹھیک ایک صدی قبل یہ آوازیں آئل کمپنی ’شیل‘ کے ملازمین نے اپنے فورمین کی توجہ حاصل کرنے کے لیے دی تھیں۔ حیرت میں ڈوبی یہ آوازیں دراصل ایک ایسے واقعے کا اعلان تھیں جس نے جنوبی امریکہ کے ملک وینیزویلا کی قسمت بدل دی۔

یہ واقعہ تھا ایک وسیع تیل کے کنویں کی حادثاتی دریافت کا جس نے اس جنوبی امریکی ملک کو دنیا کے نقشے پر متعارف کروایا اور چند برسوں میں اس کی معاشی صورتحال کو بدل کر رکھ دیا۔

اس واقعے کے بارے میں بی بی سی نے مؤرخین، معاشی ماہرین اور تیل کے شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد سے بات کی۔ اگرچہ اس واقعے کے بارے میں زیادہ معلومات عام نہیں ہیں لیکن اس کے وینیزویلا اور دنیا پر گہرے اثرات مرتب ہوئے۔

’کالی بارش‘

14 دسمبر 1922 کی صبح ساڑھے چار بجے کا وقت تھا۔ کابیماس نامی قصبے کے قریب لا روزا کے رہائشی ایک زلزلے سے بیدار ہوئے۔ جس کے بعد اُن کو ایک زوردار دھماکے کی آواز آئی۔

اس وقت کی تحریروں سے اندازہ ہوتا ہے کہ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ یہ دھماکہ ان غیر ملکی افراد کے گروہ نے کیا ہو گا جو اُن کے علاقے میں گذشتہ کافی عرصے سے موجود تھے اور زمین میں گہرے گڑھے کھود رہے تھے۔

مگر جب وہ ان دھماکوں کی حقیقت معلوم کرنے کے لیے اپنے گھروں سے نکلے تو اُن کو معلوم ہوا کہ اس کی وجہ کچھ اور ہی تھی۔ انھوں نے کچھ ایسا دیکھا جو پہلے کسی نے نہیں دیکھا تھا۔ باہر بارش ہو رہی تھی لیکن آسمان سے پانی نہیں بلکہ کالے رنگ کا گاڑھا سا مائع برس رہا تھا۔

چند مقامی افراد نے غیر ملکی افراد کے فارم پر نظر دوڑائی تو ان کو ایک اور غیر معمولی چیز نظر آئی۔ وہاں 40 میٹر اونچا کالے رنگ کے پانی کا طاقتور چشمہ اُبل رہا تھا۔

رافائیل اریز ایک مؤرخ ہیں جنھوں نے ’آئل ان وینیزویلا: اے گلوبل ہسٹری‘ نامی کتاب تحریر کی ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ ’شیل کمپنی کے ملازمین کو اس تیل کے چشمے کو قابو میں لانے میں 10 دن لگے۔ ایک لاکھ بیرل خام تیل یوں ہی بہہ کر ضائع ہو گیا لیکن کنویں کے حجم کی نشان دہی ہو گئی۔‘

رافائیل کا ماننا ہے کہ ’باروسو ٹو‘ نامی اس کنویں کی وجہ سے روکر فیلر خاندان کی سٹینڈرڈ آئل کمپنی اور میلون خاندان کی گلف کمپنی نے بھی وینیزویلا کا رُخ کیا۔

تاہم مقامی لوگوں میں اس واقعے نے توہمات کو جنم دیا۔ کابیماس میں اب تک لوگ یاد کرتے ہیں کہ کس طرح ایک راہب نے اس واقعے کے بعد اسے ’شیطان کی آنتوں میں سوراخ کرنے کی سزا‘ قرار دیا تھا۔

دوسری جانب ایک مقامی گروہ نے شیل آئل کمپنی کے ملازمین سے کہا کہ اُن کو کنویں کے قریب حضرت میسح کی تصویر کے ساتھ ناچنے کی اجازت دی جائے تاکہ اس عجوبے (تیل کے کنویں) کو ابلنے سے روکنے کا معجزہ دکھایا جا سکے۔

اتفاقیہ حادثہ

معاشی امور کے ماہر فرانسسکو مونالڈی کہتے ہیں کہ ’باروسو ٹو جیسا واقعہ خواہش سے نہیں ہوتا، یہ ایک حادثہ تھا لیکن ایسا حادثہ جس نے وینیزویلا کو تیل کی دنیا کے نقشے پر نمایاں کر دیا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’یہ ایسا ہی واقعہ تھا جیسا 1901 میں امریکی ریاست ٹیکساس میں رونما ہوا تھا جس کے بعد امریکہ میں تیل کی دریافت کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ یہ خبر بھی دنیا میں آگ کی طرح پھیلی کہ وینیزویلا کے ایک قصبے میں ایک ایسا کنواں دریافت ہوا ہے جس سے تیل کے اخراج کو 45 کلومیٹر دور تک دیکھا گیا۔‘

لیکن یہ کیوں ہوا؟

سنہ 1922 میں شیل کمپنی نے لاس بیروسوس میں کھدائی کی لیکن ان کو زیادہ کامیابی نہیں ملی۔

تاہم جون میں جب چوتھے کنویں کی کھدائی ہو رہی تھی تو مشین ٹوٹ گئی۔ کئی ماہ یورپ سے مشین کے پارٹس کے انتظار میں کام رکا رہا۔

صحافی رافائیل ڈیاز نے ایک مضمون میں لکھا کہ ’اس دوران کنویں میں گیس اکھٹی ہوتی رہی کیوںکہ ڈرل میشن کو نکالا نہیں گیا تھا جس نے ایک پلگ کا کام کیا۔ جب دسمبر میں ڈرل کا کام دوبارہ شروع کیا گیا تو یہ گیس دھماکے سے باہر نکلی۔‘

تاہم اس واقعے سے پہلے ہی یہ تاثر زور پکڑ چکا تھا کہ وینیزویلا کی زمین میں ’کالا سونا‘ پایا جاتا ہے۔

اس واقعے سے آٹھ سال قبل شیل نے کچھ زمین حاصل کی تھی جبکہ ایک اور امریکی کمپنی بھی معدنیات کی دریافت کے لیے قسمت آزما چکی تھی۔

اسی کمپنی نے جیالوجسٹ رالف آرنلڈ کو یہ کام سونپا کہ وہ وینیزویلا کا دورہ کریں اور ہائیڈروکاربن کی موجودگی کی نشان دہی کریں۔

اریز لوکا کا کہنا ہے کہ اس ماہر کی تفتیش نے شکوک کو پختہ کر دیا تاہم اس دوران پہلی جنگ عظیم کے آغاز نے ڈرلنگ پر سرمایہ کاری کو متاثر کیا۔

سنہ 1918 میں پہلی جنگ عظیم اختتام پذیر ہوئی تو شیل نے رالف آرنلڈ کی رپورٹ کی مدد سے ماراکائیبو جھیل کے قریب معدنی ذخائر کی تلاش شروع کر دی۔

کچھ بھی پہلے جیسا نہیں رہا

ایگور ہرنینڈیز وینیزویلا کے ماہر معیشت ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ اس دریافت کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 1922 میں وینیزویلا سے اوسطا چھ ہزار بیرل خام تیل کی پیداوار ہوتی تھی۔

دوسری جانب باروسو ٹو سے تیل کی بے قابو بارش کے دس دن میں اندازاً 10 لاکھ بیرل تیل 740 ہیکٹرز پر پھیل کر ضائع ہو گیا۔

وینیزویلا کی سرکاری پیٹرولیم کمپنی کے سابق ڈائریکٹر ہوزے ٹورو ہارڈی کہتے ہیں کہ ’اگر ایسا واقعہ آج ہوتا تو اسے ایک سنجیدہ ماحولیاتی حادثہ سمجھا جاتا لیکن اس وقت یہ بے حساب مشہوری کے لیے استعمال ہوا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ 1922 میں تیل کی حادثاتی دریافت کے بعد اس علاقے کی صفائی میں چھ ماہ لگے۔

تاہم ان کے مطابق اس حادثے نے تیل انڈسٹری کی توجہ اور سرمایہ کاری کا رُخ وینیزویلا کی جانب موڑ دیا جس کے بعد ملک کی معاشی حالت بدلنا شروع ہو گئی۔

ہرنینڈیز ٹورو ہارڈی کے بیان کی حمایت کرتے ہیں اور حقائق بھی۔

برطانوی پروفیسر برائن مکبیتھ کے مطابق وینیزویلا میں امریکی سرمایہ کاری 1912 میں تین ملین امریکی ڈالر سے بڑھ کر 1930 تک 247 ملین امریکی ڈالر تک جا پہنچی۔

1920 سے 1940 کے درمیان وینیزویلا تیل کے شعبے میں امریکی سرمایہ کاری کی اولین منزل تھی۔

اس خطیر سرمایہ کاری کے نتیجے میں تیل کی پیداوار 1930 تک اوسطاً تین لاکھ 70 ہزار بیرل فی دن تک پہنچ گئی اور یہ رفتار اگلے 40 سال تک برقرار رہی۔

کالی بارش کے چھ سال بعد تیل وینیزویلا کی سب سے اہم برآمد اور ملک کی آمد کا اولین ذریعہ بن چکا تھا۔

نعمت یا زحمت؟

دہائیوں سے وینیزویلا کے معاشرے میں تیل بحث اور تنازعات کا موضوع رہا ہے جس کی وجہ اس کے فوائد اور نقصانات ہیں۔

ٹورو ہارڈی کہتے ہیں کہ ’بلو آؤٹ (خام تیل کے کنویں سے اُبل پڑنے) کے بعد جو کچھ ہوا وہ غیر معمولی تھا۔‘

’1920 اور 1980 کے درمیان لگاتار 60 برسوں میں وینیزویلا دنیا میں سب سے زیادہ تیزی سے ترقی کرنے والا ملک تھا، اور یہ صرف تیل کی صنعت کی وجہ سے تھا۔‘

ان کے مطابق ’1922 میں 80 فیصد آبادی ان پڑھ تھی لیکن پھر تعلیم کی مثال قائم کی گئی۔ وہ ملک جہاں کچے راستوں کے سوا کچھ نہیں تھا، جہاں لوگ دریا کے ذریعے سفر کرتے تھے، سڑکوں اور ہائی ویز عام ہو گئیں۔ ہسپتال، یونیورسٹیاں بن گئیں اور شہری آبادیوں نے جنم لینا شروع کیا۔‘

وینیزویلا کی سرکاری پیٹرولیم کمپنی کے سابق ڈائریکٹر کا ماننا ہے کہ اس حادثاتی دریافت سے دنیا نے بھی فائدہ اٹھایا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’باروسو ٹو کے بعد وینیزویلا کی تیل انڈسٹری نے دوسری جنگ عظیم کے آغاز کے بعد برطانیہ، امریکہ اور اتحادیوں کو جنگ میں استعمال ہونے والا 60 فیصد تیل فراہم کیا گیا۔‘

’وینیزویلا کے تیل کے بغیر نازی جرمنی کے خلاف جنگ جیتنے کے لیے اتحادیوں کو زیادہ انسانی جانیں دینا پڑتیں، زیادہ وقت اور وسائل لگتے۔ اس جنگ میں روس نے جانیں دیں، امریکہ نے اسلحہ دیا اور وینیزویلا نے تیل دیا۔‘

مونالڈی بھی اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ تیل ملک کے لیے فائدہ مند رہا۔ تاہم ان کے مطابق ایک صدی بعد بھی ملک کی سب سے اہم برآمد تیل ہی کا ہونا ایک ناکامی ہے کیوںکہ ’اس سے پتہ چلتا ہے کہ ہم دیگر صنعتوں کو ترقی دینے کے اہل نہیں ہیں۔‘

’وقت ختم ہو رہا ہے‘

جس دن وینیزویلا سے تیل برآمد ہوا، اسی دن سے چند افراد نے خبردار کرنا شروع کر دیا تھا کہ اسے درست طریقے سے استعمال کیا جائے کیوںکہ یہ ایک دن ختم ہو جائے گا۔ 1930 میں وینیزویلا کے مصنف اور دانشور آرٹورو اسلر پیئٹری نے بھی ایسی ہی تنبیہہ کی۔

آج یہ واضح ہے کہ زمین میں دبی اس وسیع دولت سے فائدہ اٹھانے کا وقت محدود ہے لیکن اس کی وجہ یہ نہیں کہ تیل ختم ہونے والا ہے۔

مونالڈی کا کہنا ہے کہ ’وینیزویلا کے پاس دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر رہ جائیں گے کیوںکہ ہم اسے نکال نہیں پا رہے اور دنیا میں توانائی کے شعبے میں جو تبدیلی آ رہی ہے، اس کا مطلب ہے کہ اس دولت کا بڑا حصہ زمین میں ہی دبا رہ جائے گا۔‘

ٹورو ہارڈی کہتے ہیں کہ ’ملک کے پاس تیل نکالنے کی جو صلاحیت 1998 میں تھی جب اوسطا 33 لاکھ بیرل فی دن نکل رہا تھا، اسے بحال کرنے کے لیے آئندہ آٹھ سال میں خطیر سرمایہ کاری درکار ہے۔‘

تاہم یہ سرمایہ کاری نجی شعبہ ہی فراہم کر سکتا ہے۔

اوپیک کی عالمی تنظیم کے مطابق اس وقت وینیزویلا روزانہ کی بنیاد پر چھ سے سات لاکھ بیرل تیل ہی نکال پا رہا ہے۔

مونالڈی خبردار کرتے ہیں کہ ’آئندہ صدی میں تیل تونائی کا سب سے اہم ذریعہ نہیں رہے گا اور اپنی دولت سے فائدہ اٹھانے کے لیے ملک کے پاس اب ایک صدی پہلے کی نسبت بہت کم وقت ہے۔‘