’یہ پیزا اور ہینڈ گرینیڈ دونوں ڈیلیور کر سکتے ہیں‘: اسرائیلی مفادات کو نشانہ بنانے والے کم عمر لڑکوں پر مشتمل گروہ

اسرائیل، ایران، سویڈن

،تصویر کا ذریعہAlex Maxia/BBC

    • مصنف, الیکس ماژیا
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

پچھلے جمعرات کو اس 13 برس کے لڑکے کو اپنے سکول میں ہونا چاہیے تھا لیکن وہ اس وقت سویڈن کے شہر گوتھنبرگ کے ایک پولیس سٹیشن میں بیٹھا ہوا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس کم عمر لڑکے نے اسرائیلی ٹیکنالوجی فرم البیط سسٹمز کے باہر فائرنگ کی۔

پولیس کے ترجمان اوگسٹ برانڈٹ کا کہنا ہے کہ ’یہ بنیادی طور پر کارروائی کے وقت رنگے ہاتھوں پکڑا گیا تھا۔‘ انھوں نے تصدیق کی کہ پولیس اس معاملے کی تحقیقات ’اقدامِ قتل اور ہتھیار سے منسلک جُرم‘ کے طور پر کر رہی ہے۔

البیط سسٹمز کے باہر فائرنگ کے نتیجے میں کوئی زخمی نہیں ہوا اور اس حوالے سے بھی معلومات کم ہیں کہ آخر ایک کم عمر لڑکا ایک ایسی اسرائیلی کمپنی کے باہر فائرنگ کیوں کرے گا جو دفاع اور ہوم لینڈ سکیورٹی کے لیے سافٹ ویئرز پر کام کرتی ہے۔

لیکن یہ کوئی اس طرح کا اکیلا واقعہ نہیں بلکہ رواں برس ایسے متعدد واقعات اور بھی رونما ہوچکے ہیں۔

رواں مہینے کے شروع میں سویڈن اور اس کے پڑوسی ملک ڈنمارک میں اسرائیلی سفارتخانوں کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔

پہلے سٹاک ہوم میں اسرائیلی سفارتخانے کے باہر فائرنگ ہوئی اور پھر کوپن ہیگن میں اسرائیلی سفارتخانے کے قریب دو دستی بم پھٹنے کے بعد ایک 16 سالہ اور ایک 19 سالہ لڑکے کو گرفتار کیا گیا تھا۔

ان حملوں میں بھی کوئی جانی نقصان نہیں ہوا لیکن سویڈن کی سکیورٹی سروس ساپو نے فوراً کہا کہ ان واقعات میں ایران ملوث ہوسکتا ہے۔

ساپو کے ہیڈ آف آپریشنز فریڈرک ہالسٹروم کا کہنا ہے کہ ان واقعات میں ایران کا ملوث ہونا ہمارا ایک ’منطقی مفروضہ‘ ہے۔

کچھ مہینوں قبل ساپو نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ ایران سویڈن میں جرائم پیشہ گروہوں کے اراکین کو بھرتی کر رہا ہے تاکہ ملک میں اسرائیلی اور یہودی مفادات پر حملے کروا سکے۔

ایران کی وزارتِ خارجہ نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے انھیں ’بے بنیاد اور جانبدارانہ‘ قرار دیا تھا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ غلط معلومات اسرائیل کی جانب سے پھیلائی جا رہی ہیں۔

اسرائیلی مفادات پر حملوں سے جُڑے واقعات میں ملوث افراد میں سے کچھ کی عمر 13 یا 14 برس سے زیادہ نہیں۔

اسرائیل، ایران، سویڈن

،تصویر کا ذریعہAlex Maxia/BBC

سویڈن میں مقیم تفتیشی صحافی ڈیامینٹ سالیہو کہتے ہیں کہ ’سویڈن میں کم عمر افراد اسرائیلی کمپنیوں اور سفارتخانوں پر حملے کیوں کر رہے ہیں، یہ سمجھنے کے لیے ہمیں پہلے یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ سویڈن میں برسوں سے جرائم پیشہ گروہوں کے تنازعات چل رہے ہیں۔‘

فوکس ٹروٹ کا شمار سویڈن کے پُرتشدد ترین جرائم پیشہ گروہوں میں ہوتا ہے۔ یہ گروہ سویڈن میں اکثر اپنے مخالفین کے گھروں کے دروازوں پر حملوں، دھماکوں اور اجرتی قتل کے لیے کمر عمر لڑکوں کا استعمال کرتا ہے۔

یہ پُرتشدد واقعات 2023 میں اس وقت شروع ہوئے جب فوکس ٹروٹ کے سرغنہ راوا مجید کا اپنے سابق دوست اور رُمبا نامی گروہ کے سرغنہ اسماعِیل عبدو سے جھگڑا ہوا۔

جب گذشتہ برس ستمبر میں سٹاک ہوم کے شمال میں واقع علاقے اپسالا میں اسماعیل کی والدہ کو ان کے گھر میں قتل کیا گیا تو جرائم پیشہ گروہوں میں تصادم مزید بڑھ گیا۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

اس قتل میں ایک 15 سالہ اور ایک 19 سالہ لڑکا ملوث پایا گیا تھا۔

مجید ملک سے فرار ہو گئے اور ان کے خلاف نہ صرف بین الاقوامی وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے بلکہ انٹرپول نے بھی ان کے لیے ریڈ نوٹس جاری کردیا۔

مجید ایران میں عراقی کُرد والدین کے گھر پیدا ہوئے اور بچپن میں اپنے خاندان کے ساتھ سویڈن منتقل ہو گئے تھے۔

وہ سنہ 2018 میں سویڈن سے ترکی منتقل ہوئے اور گذشتہ برس وہاں سے ایران چلے گئے تھے۔

اسرائیلی انٹیلیجنس ایجنسی موساد کا دعویٰ ہے کہ مجید مہینوں سے ایران کے لیے کام کر رہے ہیں اور اس کی جانب سے حالیہ حملوں کی ذمہ داری بھی مجید اور اسماعِیل کے گروہوں پر عائد کی گئی۔

جب سویڈن کے کاؤنٹر انٹیلیجنس چیف ڈینیل سٹینلنگ نے کہا کہ ساپو ’تصدیق کر سکتا ہے کہ سویڈن میں جرائم پیشہ نیٹ ورکس ایران کی پراکسی کی حیثیت سے کام کرتے ہیں‘ تو ایران نے تہران میں سویڈن کے سفارت کار کو طلب کر کے اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔

سویڈن نے اسماعیل عبدو کی گرفتاری کے لیے بھی کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ وہ رواں برس مئی میں ترکی میں گرفتار ہوئے تھے لیکن بعد میں انھیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا۔

صحافی ڈیامینٹ سالیہو کہتے ہیں کہ تہران ان جرائم پیشہ گروہوں کو ’اپنی ریاست کے لیے جرائم کرنے‘ پر راضی کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

تاہم اسماعیل کا گروہ ایران کے ساتھ کام کرنے کی اطلاعات کی تردید کر چکا ہے۔

رواں برس شائع ہونے والی ایک پولیس رپورٹ کے مطابق سویڈن میں تقریباً 14 ہزار افراد براہ راست جرائم پیشہ گینگز کے ساتھ منسلک ہیں جبکہ 48 ہزار افراد ان لوگوں سے بالواسطہ منسلک ہیں۔

اسرائیل، ایران، سویڈن

،تصویر کا ذریعہGetty Images

گذشتہ ہفتے ٹی وی پر نشر ہونے والے ایک مباحثے میں سویڈن کے وزیر اعظم اولف کرسترسون نے کہا تھا کہ ’آج 13 اور 14 سال کے لڑکے جو بھیانگ جرائم کر رہے ہیں ان کی عمر 10 سال قبل تین یا چار برس تھی۔‘

اس مباحثے کے دوران سابق وزیر اعظم مگدالینا اینڈرسن کا کہنا تھا کہ جرائم پیشہ گینگز کو روکنے کے لیے نیا طریقہ کار اپنایا جائے،جبکہ موجودہ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’کسی حد تک سب سے بڑا مسئلہ خراب تفتیش کا ہے اور یہ سب امیگریشن کے معاملے سے جُڑا ہے۔‘

جرائم پیشہ گروہوں کے لیے کام کرنے والے مردوں کی ایک غیرواضح تعداد کا خاندانی پس منظر پناہ گزینوں سے جُڑا ہے لیکن صحافی ڈیامینٹ سالیہو کہتے ہیں کہ اب سویڈش خاندانوں کے بچے بھی ان جرائم پیشہ گروہوں میں تیزی سے داخل ہو رہے ہیں۔

لُنڈ یونیورسٹی سے منسلک ڈیوڈ سودڈل کہتے ہیں کہ ان جرائم پیشہ گروہوں پر نظر رکھنا مشکل ہوگیا ہے کیونکہ اب وہ آن لائن بھی موجود ہیں اور لوگوں کو مالی لالچ دے کر جرائم کی طرف راغب کر رہے ہیں۔

’جرائم میں ملوث لوگ اجرت پر کام کرتے ہیں، انھیں اپنی خدمات کے عوض پیسے ملتے ہیں۔ وہ پیزا یا ہینڈ گرینیڈ دونوں ڈیلیور کر سکتے ہیں۔‘

’یہ لوگ کوئی بہت زیادہ ٹیلنٹڈ نہیں، وہ کسی نفرت کی بنیاد یا تنازع کے زیرِ اثر پر کام نہیں کرتے۔ وہ صرف اپنا کام کر رہے ہیں۔ ‘

سویڈن کے معاشرے میں ہونے والی تبدیلیوں نے پولیس اور سیاستدانوں کو پریشان کر رکھا ہے۔

وزیرِ انصاف گُنر سٹرومر نے گذشتہ دنوں سویڈن کو درپیش تین خطرات کا ذکر کیا تھا: دہشتگردی، ریاستی اداکار اور منظم جرائم۔