انڈین فضائیہ نے اتر پردیش کی زیرِ تعمیر ’گنگا ایکسپریس وے‘ پر لینڈنگ کی مشق کیوں کی؟

    • مصنف, مرزا اے بی بیگ
    • عہدہ, بی بی سی اردو، دلی

انڈین فضائیہ (آئی اے ایف) نے شمالی ریاست اتر پردیش میں گذشتہ روز جمعے کو گنگا ایکسپریس وے پر فلائی پاسٹ اور جنگی طیاروں کی لینڈنگ کی مشق کی۔

انڈین ذرائع ابلاغ کے مطابق اس کا مقصد ایکسپریس وے کی جنگ کے دوران یا قومی بحران کے وقت ہنگامی ہوائی پٹی کے طور پر کام کرنے کی صلاحیت کا جائزہ لینا ہے۔

سوشل میڈیا پر اس حوالے سے جہاں بعض صارفین نے اترپردیش کی حکومت کو سراہا وہیں انڈیا اور پاکستان کے درمیان حالیہ کشیدگی کے حوالے سے بھی باتیں کی گئیں۔

انڈین خبررساں ادارے اے این آئی کے مطابق اترپردیش میں شاہجہاں پور کے پاس گنگا ایکسپریس وے پر موجود ہوائی پٹی ریاست کی چوتھی موٹر وے ہے جہاں طیاروں کو بوقت ضرورت اتارا جا سکتا ہے۔

دی ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق انڈین فضائیہ نے ملک بھر میں ایسی 28 شاہراہوں کی نشاندہی کی ہے جہاں ہوائی پٹی بنائی جا سکے تاکہ ہنگامی صورت حال میں ان کا استعمال ہو سکے۔

ان میں سے 12 مقامات پر بنی ہوائی پٹیوں کو انڈین فضائیہ نے قابل استعمال قرار دیا ہے اور ماضی میں ان میں سے بعضے پر ہوائی مشقیں بھی کی گئی ہیں۔

لیکن دارالحکومت دہلی سے ملحق میرٹھ سے پریاگ راج یعنی الہ آباد کے درمیان 594 کلو میٹر لمبی زیر تعمیر گنگا ایکسپریس وے پر شاہجہاں پور ضلعے کے سب ڈویژن جلال آباد میں پیرو گاؤں کے پاس ساڑھے تین کلومیٹر طویل پٹی کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہاں دن اور رات یعنی 24 گھنٹے جنگی طیاروں کے اترنے اور پرواز کرنے کی سہولت موجود ہے۔

اور ہنگامی صورت حال میں انڈیا کی تیاری کو پرکھنے کے لیے گذشتہ روز اس پر رفال سمیت انڈیا کے تمام تر جنگی طیاروں نے یا تو لینڈنگ کی یا پھر وہاں سے زمین چھوتے ہوئے گزرے۔

اس سے قبل گذشتہ سال جنوبی ریاست آندھر پردیش میں قومی شاہراہ (این ایچ -16) پر موجود ایمرجنسی لینڈنگ فیسیلیٹی( ای ایل ایف) پر سوکھوئی-30 اور ہاک جنگی طیاروں نے کامیابی کے ساتھ فلائی پاسٹ کیا جبکہ دوسرے طیاروں نے کامیابی کے ساتھ لینڈنگ کی۔

گنگا ایکسپریس وے پر مشق

گذشتہ روز گنگا ایکسپریس وے پر ہنگامی صورت حال کی جو مشق ہوئی اسے دیکھنے کے لیے انڈین فضائیہ کے اہلکاروں کے علاوہ بہت سے مقامی لوگ بھی موجود تھے۔

مشق میں فرانس سے حاصل کردہ جدید جنگی طیارہ رفال کے علاوہ مگ-29، سوکھوئی-30 ایم کے آئی، جيگوار، میراج-2000، سی-130 جے سوپر ہرکیولس، اور اے این-32 ٹرانسپورٹ طیارے اور ایم آئی-17 وی 5 ہیلی کاپٹر شامل تھے۔

ان طیاروں نے دن اور رات کی کارروائیوں کو چیک کرنے کے لیے ٹیک آف اور لینڈنگ دونوں مشقیں کیں۔

خبر رساں اداروں کے مطابق اترپردیش حکومت نے جمعرات کو اس بابت ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گيا کہ 'رفال، سوکھوئی-30 ایم کے آئی، مگ 29، میراج-2000، جیگوار، اے این-32، سی-130 جے، سوپر ہرکیولس اور ایم آئی-17 ہیلی کاپٹر جیسے جدید ترین طیاروں اور ہیلی کاپٹرز نے جنگی تیاریوں اور تباہی سے نمٹنے کی لائیو مشق کی۔

جائے وقوعہ پر موجود سینکڑوں تماشائیوں نے انجنوں کی گرج اور فضائی مشقوں کا مشاہدہ کیا۔ اس کے ساتھ ہی لائیو کمنٹری بھی پیش کی جا رہی تھی جو ہر طیارے کی تکنیکی صلاحیتوں اور ان کے سٹریٹجک کردار کے بارے معلومات فراہم کر رہی تھیں۔

’شاہراہوں پر ہوائی پٹی کی سہولت کوئی نئی بات نہیں‘

ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق انڈین فضائیہ کے ایک سینیئر افسر نے بتایا کہ 'پاکستانی فضائیہ نے 1965 اور 1971 کی جنگ میں ہمارے ایئر بیس کو نشانہ بناتے ہوئے ہمارے چند طیاروں کو تباہ کر دیا تھا۔

’ایسی ہنگامی صورت حال میں یہ ای ایل ایف موبائل ایئر ٹریفک اور راڈار کنٹرول کے ساتھ بغیر کسی خلل کے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ یہ رات میں عارضی روشنی میں بھی استعمال ہو سکتے ہیں۔‘

اسی طرح 2021 میں راجستھان میں بارمیر کے پاس پاکستان کی سرحد کے قریب این ایچ 925 اے پر ایک تین کلومیٹر لمبی ہوائی پٹی کا افتتاح کیا گیا تھا۔

ہم نے اس حوالے سے انڈیا کے عسکری امور کے ماہر راہل بیدی سے فون پر بات کی تو انھوں نے کہا کہ موجودہ صورت حال میں جہاں انڈیا اور پاکستان میں کشیدگی اپنے عروج پر ہے، اس کی کوئی عسکری اہمیت نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ 'اس کی پی آر اہمیت تو ہو سکتی ہے لیکن اس کی کوئی عسکری اہمیت نہیں ہے۔'

انھوں نے مزید کہا کہ 'انڈیا پچھلے کچھ سالوں میں کئی دوسرے مقامات پر ایسی مشقیں کر چکا ہے۔ در اصل اس قسم کی مشقیں اس لیے کی جاتی ہیں کہ ہنگامی صورت حال میں یہ دیکھا جا سکے کہ آپ کی شاہراہوں پر کیا کوئی ایسی مناسب جگہ ہے جہاں طیاروں کو اتارا جا سکے۔'

ایک سوال کے جواب میں راہل بیدی نے کہا کہ 'اس کی اہمیت اس لیے بھی نہیں کہ آپ وہاں بہت زیادہ کچھ نہیں کر سکتے ہیں، بہت ہوا تو آپ ایندھن بھر سکتے ہیں لیکن اس بنجر اور سنسان علاقے تک دوسری سہولیات پہنچانا یا وہاں اس طرح کا انفراسٹرکچر تیار کرنا جس سے کہ ان طیاروں پر ہتھیار لوڈ کیا جا سکے بہت مشکل اور دقت طلب ہے اور اس میں زمانے لگ جائیں گے۔'

بہر حال انھوں نے کہا کہ شاہراہوں پر ہوائی پٹی کی سہولت ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اس طرح کی سہولت پاکستان سمیت دنیا کے بہت سے ممالک کے پاس ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان، جرمنی، سویڈن، جنوبی کوریا، تائیوان، فن لینڈ، سوئٹزر لینڈ اور سنگاپور جیسے ممالک میں ایسی شاہراہیں موجود ہیں جہاں ہنگامی صورت حال میں طیاروں کی لینڈنگ کرائی جا سکتی ہے۔

ماضی میں پاکستانی فضائیہ کی موٹروے پر مشقیں

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سوشل میڈیا پر ایسے ویڈیوز شیئر کیے جا رہے ہیں جس میں پاکستان میں بھی موٹرویز پر طیاروں کو اتارنے اور فلائی پاسٹ کرنے کے مناظر ہیں۔

لیکن یہ تازہ مشقیں نہیں ہیں۔ پاکستان میں ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے ہر سال ایسی مشق ہوتی ہے اور اسے 'روڈ رن وے آپریشنز' کہا جاتا ہے۔

ان مشقوں کا بنیادی مقصد فضائیہ کے پاس موجود باقاعدہ رن ویز کے علاوہ مناسب ہموار قطعاتِ زمین پر کسی بھی ہنگامی صورتحال کے نتیجے میں طیاروں کو اتارنے، فضا میں واپس بلند کرنے، دوبارہ مسلح اور ایندھن بھرنے کی صلاحیت کو جانچنا ہوتا ہے۔

سنہ 2019 میں بی بی سی اردو کے نامہ نگار دانش حسین نے یہ جاننے کی کوشش کی تھی کہ ایسا کیوں کیا جاتا ہے۔

سابق ایئر مارشل مسعود اختر نے اس وقت بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہر قسم کے طیاروں بشمول جنگی جہازوں میں 'لوڈ کلاسیفیکیشن نمبرز' ہوتے ہیں اور باقاعدہ رن ویز کے علاوہ جنگی طیارے کی لینڈنگ اور ٹیک آف کے لیے کسی سطح کے انتخاب سے قبل ان نمبرز کو ملحوظِ خاطر رکھا جاتا ہے۔

'مکمل طور پر لوڈڈ (مسلح) ایک جنگی جہاز کا وزن تیس سے پچاس ہزار پاؤنڈ تک ہو سکتا ہے جبکہ ایئر بس کا وزن کم و بیش ایک لاکھ پاؤنڈ تک ہوتا ہے۔ طیارے کے لوڈ کلاسیفیکیشن نمبر کے حساب سے لینڈنگ اور ٹیک آف کی سطح کو اتنا ہی مضبوط، لمبا اور چوڑا ہونا چاہیے۔'

انھوں نے بتایا کہ عمومی طور پر طیارے کو لینڈنگ اور ٹیک آف کے لیے نو سے 10 ہزار فٹ (یا کم و بیش تین کلو میٹر) لمبی جبکہ 150 فٹ چوڑی سطح درکار ہوتی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ موجودہ رن ویز کے علاوہ پاکستان کی فضائیہ کے پاس موٹر وے ہی ایسی جگہ ہے جہاں یہ کام ہو سکتا ہے اور پاکستانی فضائیہ تقریباً گذشتہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے موٹر ویز کو اس قسم کی مشقوں کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ نہ صرف پاکستان بلکہ ہمسایہ ملک انڈیا اور دنیا کے دیگر ممالک میں بھی ایئر فورسز اس نوعیت کی مشقیں کرتی رہتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 'انڈیا میں یہ کام کم اور کافی دیر میں شروع ہوا تاہم پاکستان میں یہ باقاعدگی سے اور کافی عرصے سے ہو رہا ہے۔'

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق انڈیا نے پہلی مرتبہ جنگی طیارہ دلی کو آگرہ سے ملانے والی جمنا ایکسپریس وے پر اتارنے کی مشق مئی 2015 میں کی تھی جب میراج 2000 جنگی جہاز نے کامیابی سے اس سڑک پر لینڈنگ اور ٹیک آف کیا تھا۔